تازہ ترین

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!

اے غارِ حرا! رشکِ جناں مشکِ عنبریں

19 مئی 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

ش م احمد
  نورو نکہت میں ڈھلے کاشانۂ نبوتؐ میں چند خوش نصیب ساعتیں گزارکر اور مسجدالحرام کے کتب خانےمیں کچھ لطف و سرود بھرے لمحات بِتا نے کے بعد شوق کا پنچھی اس آرزوئے ناتمام سے تڑپ اُٹھا اے کاش خوشبوؤں میں ڈوبے اُن گلی کوچوں کے بوسے لوںجن پر بنی  ٔ محترم صلی ا للہ علیہ وسلم کے پائے مبارک پڑے اور جن کی آغوش میں ولادت با سعادت سے لے کر بعداز رضاعت تک آپ  ؐ کا معصومانہ ویتیمانہ بچپن گزرا، حلف الفضول کے معاہدے میں ذوق وشوق سے شرکت ہوئی ، محنتانہ کے عوض اہل ِمکہ کے چوپایوں کا چرواہا بنے ، اُم المومنین حضرت خدیجہؓ کے ساتھ رشتۂ تزویج میں بندھ کردنیا کا پہلا اور آخری خوب صورت ترین دولہا بنے، حجر اسود کو کعبہ شریف میں نصب کر نے کا امن پرور انہ کام کیا ، غارِ حرا میں خلوت نشین ہوکر اللہ سے مدتوں راز ونیاز میں مشغول رہے ، بعثت کے بعد آپؐ کی جلوتیں اور خلوتیں وحی ٔ الہٰی کاپرتو ہوئیں اورتکالیف و مصائب کا لامتناہی دور بھی شروع ہو ا،۔انہی رہ گزروں سے جان نثار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کی آمدورفت ہوتی ۔ شو ق کے پنچھی کا خواب یہ بھی تھا کہ ہیچ مند اپنے دل کے سمندر کو دو آبشاروں کی صورت میں آنکھوں سے بہا بہاکر ان گلی کوچوں کی خاکِ معطر ومطہر کی دُھول سے ملانے کی سعادت عظمیٰ حاصل کرے مگریہاں تو نور بستی کا حلیہ سارے کاسارا مکمل طوربدل چکا ہے بلکہ مسلسل بدلتا جا رہاہے۔ بعض ز ائرین متلاشی نگاہوں اور محبانہ اشتیاق کے ساتھ خیرالقرون کے اسلامیانِ مکہ کے ان نقش ہائے اول کے لئے یہاں آتے ہیں اورسنی سنائی باتوں پر اعتماد کر تے ہیں کہ یہاں سابقون الاول کے اس حضرت کامسکن تھا، وہاں اُس جناب کا نشمین تھالیکن کسی ایک کے پاس ثقہ معلومات نہیں بلکہ محض ظن و تخمین اور قیاسوں کے طومار ہیں ۔ دل ہی دل خیال کیا کہ وادی ٔ نور میں متواتر بدلاؤ کے پیچھے اللہ کی مشیت اور مرضی شامل حال نہ ہوتی تو اس قریہ ٔ دل نوازکی اُکھاڑ پچھاڑ قطعی نہ ہوئی ہوتی۔جس رب تعالیٰ نے کعبہ شریف کو ہزارہا برس کے طویل سفر میں اپنے پورے قد کے ساتھ جلال وجمال کا پیکر بنائے ایستادہ رکھا، اسے بے انتہا وحشت و دہشت ک درمیان محفوظ ومامون رکھا، سجدہ ریزیوں سے مزین کئے رکھا، دعا مناجات کے گہنوںسے آراستہ کئے رکھا، قربانیوں کی آماج گاہ بنائے رکھا، بارشوں ، آندھیوں ، گرمیوں ، سردیوں، آتش زنیوں کے مضرات اور جنگ وجدل کی بدلیوں کے باوجود کعبہ کوامن کا سائبان اور مکہ کو بلدالامین بنائے رکھا، اس خدائے بزرگ و بر تر کے لئے اینٹ گارے سے بنی اس نوربیز بستی کا ہر ذرہ ٔ تاباں اصحاب ِ کہف کی مانند ایک ہی ندائے کن فکاں سے قیامت تک محفوظ رکھنا کچھ بھی مشکل نہ تھا ۔ بہرصورت آج ایک ایک کر کے وہ سارے مکان ہماری نگاہوں سے اوجھل ہیں مگر مقام شکر ہے کہ ان کے عظیم المر تبت مکینوں صورتیںا ور سیرتیں مستندتواریخ کے محافظ خانے میں من وعن موجود ہیںکہ ہم کسی بھی برگزید ہ صحابیؓ اور اولوالعزم ہستی کی مبارک زندگی اور کارہائے نمایاں کی باریک سے باریک تر معلومات بتمام و کمال حاصل کر سکتے ہیں ۔ صحابہ تو صحابہ ؓ اگر آج ہم یہ جاننے کا اشتیاق رکھتے ہوں کہ پہلی صدی ہجری میں شام کے عیسائی طبیب عبدالرحمن نے مکہ معظمہ میں کوہ ِ صفا سے متصل مسجد حرام کے کس مینار کے سائے میں اپنا مطب کھولا تھا، تو اس جگہ کی نشاندہی شاید ہی کرسکیں گے مگر تاریخ کے مرقعے اسی شخص کے بارے میں ہماری نگاہوں کے سامنے جملہ معلومات واشگاف کرتے ہیں کہ کعبہ مقدسہ سے اتنا قرب ہونے کے باوجود یہ عیسائی المذہب شخص دولت اسلام سے اتنامحروم رہا کہ اس کا کفر مکہ میں ضرب المثل بنا۔ تاریخ یہ امرواقع ہمارے ذہن نشین کرتی ہے کہ اہل کتاب ہونے کے ناطے اس کو مسجد حرام کے احاطے میں کام دھندا کر نے کی اجازت ملنا، اسلامی رواداری اور کشادہ دلی کا جیتا جاگتاثبوت ہے ۔ شامی الاصل ایک مسیحی معالج اپنی طبابت کعبتہ اللہ کی ہمسائیگی میں چلانے کی بھر پور آزادی پاگیا، لیکن کیا آج کسی مسلمان کاوٹیکن تو ودر امریکہ میں ایسا خندہ پیشانی سے استقبال ممکن ہے؟ اسی عبدالرحمن کے بارے میں تاریخ بتلا تی ہے کہ یہ خود عیسائی رہا اور عیسائی ہی مرا مگر مسلمانوں کے ساتھ مستقل اٹھک بیٹھک کے سبب اس کی ساری اولادیں مسلمان ہوئیں کیونکہ اور چیزوں کے علاوہ  اس عیسائی باپ کی حوصلہ افزائی سے اس کے بچے دائرہ اسلام میں آگئے ۔ یہ انہیں لکھنے اور قرآن وفقہ سیکھنے کی ترغیب دلاکر نصیحتیں کرتا کہ ادب سیکھو اور مسلمانوں میں جو نیک کردار ہستیاں ہیں،اُن کی صحبت اختیار کرو ۔ نصرانی عبدالرحمن کے بچوں میں ہی عظیم المرتبت محدث داؤد بھی شامل تھے جن کے سبب اس نے اپنی کنیت ابوداؤد رکھی ۔ اس کے ہونہار نو مسلم فرزندنے اسلامیات بالخصوص علم الحد یث میں کمال کا درک حاصل کیا ۔ مکہ کی بر گزیدہ علمی شخصیات ان کے اساتذہ میں شامل تھیں ، جب کہ امام شافعیؒ اور عبداللہ بن المبارک ؒ ان کے شاگردوں میں تھے۔ ( ملاحظہ ہو’’تدوین ِحدیث ‘‘ مصنفہ مناظر احسن گیلانی)۔ آج ہم حرم مکہ کے چپہ چپہ کی خاک چھان کر بھی سفیان بن عینیہ کی اُس درس گاہ کا محل وقوع پا نہیں سکتے جس میں امام احمد بن حنبلؒ زیر ِتعلیم تھے ،البتہ تاریخِ اسلام کا ایک سنہری صفحہ ہمیں ضرور بتائے گا کہ ایک دن امام صاحب خلاف ِ معمول مدرسہ سے غیر حاضر رہ کر اپنے ڈیرے میں چھپے بیٹھے رہے ۔ امام کے ہم درسوں کو اپنے ذہین وفطین ساتھی کی غیر حاضری پر تعجب ہو ا کیونکہ ان کی عدم موجودگی میں مجلس ِدرس سُونی سُونی رہی ۔ وہ ان کے یہاں پہنچ گئے تو پتہ چلا کہ امام احمدؒ کے سارے کپڑے چوری ہوگئے ہیں اور جیب میں ایک دیلہ بھی نہیں کہ نیا لباس خرید سکیں۔ ایک ہم درس ساتھی علی بن الجہم نے کپڑے خریدنے کے لئے کچھ اشرفیاں یہ کہہ کر پیش کیں کہ ہدیتہ لیں یاقرضاً قبول فرمائیں ۔ امام صاحب کی خوددار طبیعت کو یہ گوارہ نہ ہوا ور اشرفیاں لینے سے انکار کیا۔ ساتھی نے کہا چلئے میرے لئے کتابت کر دیجئے گا جس کے لئے یہ پیشگی معاوضہ ہے۔ اس شرط پر یہ رقم نے امام نے قبول کر لی ۔ اُن کے ہاتھوں کتابت شدہ یہ مخطوطہ بعد میں علی بن الجہم نے تبر ک کے طور اپنے پاس ہمیشہ رکھا۔ آج ہمیں تاریخ کے جھروکوں میں ان عظیم الشان شخصیتوں کی جھلکیاں مل سکتی ہیں مگر یہ سرگزشتیں مکہ معظمہ کی کن جگہوں پر وقوع پذیر ہوئیں،اس کے جغرافیہ کا کوئی اَتہ پتہ نہیں چل سکتا ۔اس کے علی الرغم اللہ جل شانہ کو مکہ شریف کے جن مقدسات اور یادگار زیارتوں کو ابدالآباد تک من وعن محفوظ رکھنا مطلوب ہے، وہ سب اس وقت بھی بغیر کسی معمولی تغیر وتبدل کے موجود ہیں۔ ارضِ مقدس کی یہ زیارتیں عمرہ اور حج کے دوران زائرین بصد شوق دیکھ کر انہیں اپنی عقیدتوں اور محبتوں کے گلدستے پیش کر تے ہیں ۔ ہمیں بھی ان روح پرور زیارات سے اپنے قلب ونگاہ کی آسودگی کا زریںموقع ملا۔
  مقررہ دن کو پروگرام کے مطابق ہم نے ٹورآپرویٹر کی ہدایت پر نماز فجر کے بعد ہم نے سویرے سویرے چائے ناشتہ کیااور باوضو ہوکرزیارات پر روانہ ہوئے۔ ہوٹل کے باہر کھڑی ایک آرام دہ گاڑی میں ہمارا گروپ سوار ہوا۔ ہمارے ہمراہ ملتان پاکستان کے فصیح ارود بولنے والا ایک پیشہ ور گائیڈ تھا۔ اس نے پبلک ایڈریس سسٹم آن کر کے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ سے زائرین کا انتہائی پُر تپاک خیر مقدم کر کے کہا کہ ہم دوران ِ سفر اپنی زبانیں تسبیحات وتہلیات اور دعاؤں سے تر رکھیں ۔ مکہ معظمہ کی چیدہ چیدہ زیارات میںسر فہرست غارِ حرا تھی ۔ جونہی گائیڈ نے ہمیں ایک پہاڑ کی طرف متوجہ کر کے مطلع کیا کہ یہ جبل ِنور ہے اور یہ اونٹ کی کوہان نما چوٹی غارِ حرا ہے،اس کا استقبال درود و اذکار سے کیجئے تو میرا دل جیسے بیٹھ گیا ۔ اللہ اللہ کتنی بڑی سعادت مل رہی ہے کہ میں اپنے سامنے ابتدائی جلوہ گاہِ وحی دیکھ رہاہوں۔ ہماری گاڑی جبل نور کے دامن میں ایک جگہ رُک گئی جہاں پہلے سے ہی زائرین کی بسیں اور چھوٹی گاڑیاں پارک تھیں۔ زائرین میں مختلف ملکوں ، قومیتوں رنگوں ، نسلوںاور زبانوں والے لوگ شامل تھے،سب کے سب دیدہ ہائے شوق و احترام میں سرتاپاڈوب کر غارِ حرا کو سلام وتہنیت پیش کررہے تھے۔ جبل نور جتنا بلندو بالا ہے، اُس سے اربوں کھربوں گنا معظم ومکرم وہ خاکِ پائے رسول ؐ ہے جس نے اس خوش قسمت پہاڑ کو مَس کرنے کا شرف دیا۔ مسجد حرام کے شمال مشرق میں واقع غار ِحرا سطح سمندر سے ۲۱ ۶ میٹر اور سطح زمین سے۲۸۱ میٹر بلندی پر واقع ہے ۔ میں نے دیکھا کہ بعض محبت زائرین غار ِحرا کی نزدیکی جھلک پانے کے لئے اوپر چڑھ رہے تھے۔ ہم نے اپنے گائڈ سے سنا کہ یہ لوگ نماز فجر کے فوراً بعد حرم سے نکل کر غارِ حرا سے بغل گیر ہونے کے لئے اوپر چڑھ رہے ہیں۔ ہمیں دامن ِ کوہ سے یہ لوگ چونٹیوں کے برابر دِ کھ رہے تھے ، ان کے اشتیاق اور جذبے کو سلام کہ ایک گھنٹے سے زائد خطرناک پہاڑی سفر کو بڑی بڑی چٹانوں کے پیچ وخم ، نشیب و فراز اور چڑھائیوں کو ہانپتے ہانپتے طے کر رہے تھے ۔  ظاہر ہے کہ بر سر موقع سعودی حکومت کے اس تحریری انتباہ کو بھی یہ نظر انداز کر چکے تھے کہ زائرین کا اوپر چڑھنا خطرے سے خالی نہیں ۔ ان خوش قسمت زائرین پر وارفتگی کا یہ عالم تھا کہ کسی چیز کی پرواہ اور نہ پاؤں پھسل جانے کا غم تھا ۔ مجھے یاد آرہاہے کہ میرے ایک مشفق دوست نشاط سری نگر کے شیخ مشتاق احمدنے بھی ایک بار جبل نور چڑھ کر غارِ حرا کی زیارت کا شرف حاصل کیا اور وہ بھی ا س حال میں کہ انہیں کمر میں شدیددرد تھا مگر اپنے شوقِ دیدار کو محبت النبی ؐ کے پر لگاکر وہ اوپر آہی گئے اور پھر نیچے بسلامت واپس آگئے، نہ جسمانی تھکان اور نہ ذہنی مشقت ان کے اٹل ارادے کی تکمیل میں حائل ہوسکے ۔مشتاق صاحب کے بقول ان کے کمر کا درد بھی بفضل تعالیٰ اسی روز سے بالکل ختم ہوکررہا۔ براہِ کرم قارئین اس واقعے کا حوالہ دینے سے یہ مطلب اخذ نہ کریں کہ ناچیز اُنہیں اپنی کوئی جسمانی تکلیف دور کر نے کے لئے یہ پُر مشقت سفر اختیار کر نے کی ترغیب دے رہاہے،قطعاًنہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ مکہ معظمہ کی پاک و مقدس سرزمین کا چپہ چپہ اجابت ِ دعا کا مرکز ہے۔ یہاں قلوب کے امراض اورا بدان کی بیماریاں سب کا فور ہوجاتی ہیں ، یہاں مانگنے کا سلیقہ آئے نہ آئے اللہ وحدہ لاشریک کا دامن ِاستغفار پکڑ کر دعائیں مانگتے رہئے، آنسو بہابہاکر مانگئے، جذبوں کی ہمہ وقت گر می سے گڑ گڑا کر مانگئے ، کعبے کے روبرو اشک وآہ بن کر دعا گو ہوجایئے ، اپنے لئے یا اپنوں کے لئے دعا مانگنا کوئی کمال نہیں ، کمال تو تب ہے جب آپ غیروں کے لئے بھی ا للہ کے حضور خلوص و محبت سے دعائیں مانگیں ، حتیٰ کہ اگر قاتل و دشمن، حاس وکینہ توز یاد آئیں تو اُن کے لئے دعائے خیر مانگیں، ان کی ہدایت اور اس سے عافیت طلبی کے لئے دست بدعا ہوجائیے۔ا للہ کو مانگنے کی یہی ادائیں پسند ہیں ۔
 راقم ا لسطور سے نرم مزاجی کے پیکر اور شرافت کے پتلے وادی کے قد آور شاعر و ادیب اور توحید باری کے نغمہ خوان پر وفیسر مرغوبؔ بانہالی نے ا یک موقع پر فرمایا کہ یہ بیت اللہ میں دعا کی شرفِ قبولیت کا ہی اثر ہے کہ پیرانہ سالی میں بھی ا نہیں آنکھوں پہ چشمہ لگاکر قرآن خوانی یا مطالعے کے لئے عینک نہیں چڑھانی پڑتی ہے۔ یہ اللہ کا فضل و کرم ہے ۔ پاکستان کے مشہور ومعروف جیدعالم ِ دین ، بے باک مبلغ ، بے بدل مصنف و محقق علامہ احسان الہٰی ظہیر شہید( جنہوں نے قادیانیت پر اعلیٰ پایہ تحقیق پر مبنی ایک کتاب لکھ کر عقیدہ ٔ ختم نبوت کے دفاع میں اپنا وہ تو شۂ آخرت جمع کیا جس پر مسلمانانِ عالم عش عش کرتے ہیں، علامہ کو سو سے زائد مر تبہ کعبتہ اللہ جانے کی سعادت نصیب ہوئی اور بالآخرایک تبلیغی جلسے میں بم دھماکے میں شہید ہو کر حیات ِ جاوادںپاگئے) ۔وہ لکھتے ہیں کہ مدینہ یونیورسٹی میں اپنی طالب علمی کے دوران انہیں ایک بار درد ِگردہ کی شدید شکایت ہوئی کہ شفاخانے میں داخل کیا گیا۔ وہاں طبی جانچ پڑتال کے بعد گردے کی پتھری جراحتی عمل سے نکالنے کا فیصلہ ہوا۔ علامہ احسان شہید بہت پریشان ہوئے اور چاہا کہ اگر آپرویشن ہی کر وانا ہے تو بہتر ہے اپنے وطن پاکستان لوٹ کر یہ کام کیا جائے مگر ڈاکٹروں نے اس پتلی حالت میں سفر کی اجازت سے سختی سے منع کیا ۔ درداور علالت سے نڈھال علامہ کو یکایک سوجھی کیوں نہ امراض کے اصل مستشفیٰ یعنی بیت اللہ کا رُخ کر کے بارگاہ ِ الہٰیہ سے شفائے عاجلہ کا پروانہ حاصل کیا جائے۔ انہوں نے مصم طور قصد کیا شافع الامرض کادامن ہی پکڑوں گا چاہے جو ہو سو ہو ۔ وہ اپنے دوساتھیوں کو بصد مشکل اس پر آمادہ کرسکے۔ آوپریشن سے ایک روز قبل ہی بیمار اور تیمادار دیوار  ہسپتال کی دیوارپھاند کر بھاگ کھڑے ہوئے کیونکہ سیدھے گیٹ سے احسان شہید کو نکل باہر آنے کی قطعی اجازت نہیں مل سکتی تھی۔ ا پنے ساتھیوں کے ہمراہ نیم مردہ حالت میں وہ جوں توں مدینہ شریفسے ٹیکسی میںسوار ہوکر مکہ معظمہ روانہ ہوئے۔ شدید نقاہت اور درد سے کراہتے ہوئے علامہ رات کو کعبہ مشرفہ پہنچ گئے، طواف کیا اور لوگوں کے اژدھام کو چیر کر ملتزم سے چمٹتے ہوئے دعا کی :’’ الہٰی! موت ہی آنی ہے تو تیرے در پہ کیوں نہ آئے؟ پردیسی مسافراور بیمار، وطن سے دور، گھروالوں سے دور ، مولیٰ تیرے سوا کوئی پرسان حال بھی نہیں‘‘ اسی حالت میں کچھ دیر رہ کر علامہ کو پہلی بار پیا س محسوس ہوئی، ساتھیوں نے زمزم کی صراحی حاضر کی ۔انہوں نے یہ آب ِ شفا نوش کیا تو پل بھر میں ہاتھ دُرست کر نے کی خواہش پیدا ہوئی ۔ جلدی جلدی حرم سے با ہرآکر طہارت خانہ سے فراغت لی کہ آدھ انچ موٹی پتھری خلاص ہوئی اور علامہ ایسے ہوگئے جیسے ایک لمحہ پہلے تک کوئی تکلیف کوئی عارضہ انہیںلاحق ہی نہ تھا ۔ ساتھی شفاء کی برق رفتاری پر حیران وششد رہ گئے ۔ ایسے ہزارہا ایمان افروز واقعات یہاں ہر وقت رونما ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً گزشتہ سال حج پر آنے سے قبل ایک انڈونیشائی نابینا خاتون نے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ ! ایک بار مجھے اپنی آنکھوں سے کعبہ کا دیدار کرنے کا شرف بخش۔ وہ بیت اللہ پہنچ گئی تو اجابت ِدعا کے صدقے اس کی بینائی یکایک لوٹ آئی۔ معروف مزاحمتی قائد اعظم انقلابی راوی ہیں کہ کشمیر کے ایک معروف ڈاکٹر علوی صاحب نے ایک موقع پر اسلامک اسٹیڈی سرکل کے اجتماع میں دوران ِ درس کہا کہ سعودیہ میں دوران ِ ملازمت ایک بارغار حرا کی زیارت کے شوق سے گھر سے نکلا، فرج سے پانی کی بوتل ساتھ لائی۔ یہاں اوپر چڑھتے ہوئے پیاس محسوس ہوئی توکچھ پانی پیا اور کچھ موقع پر ہی گرگیا ، فوراً ایک چوہا بل سے نکل کر اس پانی کو پی گیا۔ یہ واقعہ اللہ کی رازقیت اللہ کا مظہر ہی نہیں تھا بلکہ  اپنی مخلوقات کی حاجتیں کس طرح پوری کر تا ہے ، یہ منظر اس کا آنکھوں دیکھا حال تھاہے۔
 ( بقیہ اگلے جمعہ ایڈیشن میں ملاحظہ فرمائیں، ان شاء اللہ)