تازہ ترین

محکمہ تعلیم کے حکام سے چند گزارشات

میری آواز سنو

20 مئی 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

جی ایم عباس زینہ گیری
اس بات سے سبھی لوگ واقف ہیں کہ تعلیم کا مقصد لکھنے پڑھنے تک ہی محدود نہیں ہے یا چند کتب ، مضامین اور فنون میں طلبہ کی مہارت پیدا کردینے تک محدود رکھنے سے تعلیم کا مقصد فوت ہوجاتا ہے. ہمارے معاشرہ میں عموماً تعلیم برائے معاش ہی تعلیم کا بنیادی مقصد بنایا گیا ہے یا کچھ لوگ تعلیم کے مقصد کو تعلیم برائے علمیت ہی کے قائل نظر آتے ہیں لیکن یہ تعلیم کا بنیادی اور جامع مقصد نہیں ہے بلکہ اس میں اگر مزید وسعت دی جائے تو تعلیم کے مقاصد میں یہ رجحانات ہوتے ہیں کہ بچہ بڑا ہوکر مملکت کا اچھا شہری بنے اور اپنے حقیقی مالک کا صالح بندہ بنے. یعنی تعلیم کے ذریعے طلبہ کی شخصیت کے تمام پہلوؤں (ذہنی و جسمانی ، عملی و اخلاقی ، جذباتی و روحانی) کی ہم آہنگ نشوونما اور متوازن ارتقا ہیں. امام غزالی علیہ رحمہ "احیاء العلوم " میں تعلیم کے مقصد کے بارے میں رقمطراز ہے ."تعلیم کا مقصد یہی نہیں ہونا چاہئے کہ نوجوان کے علم کی پیاس کو بجھا دے بلکہ اس کے ساتھ  ہی اس میں اخلاقی کردار اور اجتماعی زندگی کے اوصاف نکھارنے کا احساس بھی پیدا کردے". علامہ ابن خلدون "مقدمہ تاریخ " میں تعلیم کے مقصد کے بارے میں لکھتے ہیں "تعلیم کا اولین مقصد غور و فکر کو کام میں لاکر انسان کو حقائق سے روشناس کرانا ہے تاکہ وہ حقیقت سے آشنا ہو کر علم نفسی حاصل کرکے بہتر سے بہتر زندگی گزار سیکھے ". آج کے ترقی یافتہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں یہ جامع اصلاحات اور جدید تبدیلیاں ناگزیر بنتی ہیں ۔ یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ محض امتحانات پاس کرنا تعلیم کا اصل مقصد نہیں ہے ، لیکن صاف و شفاف امتحانات کے انعقاد سے ہی طلبہ کی ذہنیت اور قابلیت کے درمیان فرق کرنا ممکن ہوتا ہے۔ اس مقصد کی پیروی کرتے ہوئے ریاستی محکمہ تعلیم سے وابستہ محکمہ سٹیٹ انسٹیچوٹ آف ایجوکیشن (SIE) نے باضابطہ فیصلہ کیا کہ امسال یعنی 2017 سے سرکاری و غیرسرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم 5th سے 9th کلاسوں تک کے ششماہی (T-1) اور سالانہ (T-2) امتحانات cluster level پر منعقد کئے جائیں گے اور اس حوالے سے SIE کی طرف سے باضابطہ circular بھی اجراء کیا گیا ہے۔ توقعات کے مطابق محکمہ تعلیم کے اس فیصلے پر غیر سرکاری اسکولوں کے منتظمین نے سخت برہمی اور ناراضگی کا اظہار کیا اور محکمہ پر الزام لگایا کہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کشمیری طلباء کو جدید تعلیم سے دور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں جو کتابیں یا نصاب پڑھایا جاتا ہے ، وہ سرکاری تعلیمی اداروں میں رائج نہیں ہے ۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں میں کیا نصاب پڑھایا جاتا ہے کیونکہ محکمہ تعلیم نے وقت وقت پر پرائویٹ اسکولوں کے منتظمین کے نام مخلتف circulars اجراکرکے انہیں قواعد وضوابط پر پابندی اور عمل آوری کرکے اپنے اداروں میں کم سے کم پانچویں جماعت سے اوپر وہی نصاب رائج کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں جو سرکاری تعلیمی اداروں میں رائج ہیں ، لیکن ٹسوے بہانا کرکے محکمہ تعلیم کے یہ سرکیولرز کاغذی گھوڑے ہی ثابت ہوتے رہے ۔ اب جبکہ محکمہ تعلیم نے اپنے منصوبے کے تحت تعلیمی اداروں کو ایک ہی ڈگر پر لانے کی کوششیں شروع کیں ، تو پرائویٹ اسکولوں کے منتظمین اور تنظمیں اس پر برہمی اور خفگی کا اظہار کرنے لگیں۔ ایک طرف تو پرائیویٹ اسکولوں کے منتظمین کا برہم ہونا یقیناً بجا ہے کیونکہ اب تو کسی بھی صورت میں انہیں کم سے کم پانچویں جماعت سے ہی سرکاری اسکولوں میں رائج نصاب syllabus کو ہی اپنے اداروں میں پڑھانا لازمی ہوگا ۔چونکہ سرکاری انتظامیہ اور محکمہ تعلیم پرائیویٹ اسکولوں کی من مانی ، اجارہ داری اور یک طرفہ نظام کو قابو میں نہیں لاسکتی تھی، اب پانچویں سے نویں جماعت تک SIE کے تحت امتحانات لینے کے فیصلے سے نجی تعلیمی اداروں اور سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ میں تفاوت دور ہوگی۔ ظاہر ہے نظام میں جب تک بنیادی تبدیلیاں نہ کی جائیں اور جامع اصلاحات نہ لائیں جائیں اس کے تحت پروان چڑھنے والی نسلوں سے بحیثیت مجموعی کسی خیر کی توقع عبث ہے۔ محکمہ تعلیم کی طرف سے یہ ایک اَحسن اقدام ہے کیونکہ سرکاری اسکولوں میں نظام تعلیم کو سدھارنے اور انہیں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے متوازی لانے کی اس کوشش سے عوامی حلقوں میں کافی پزیرائی ہورہی ہیں۔ مزید برآں اسے غریب خانوادوں سے تعلق رکھنے والے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ میں مقابلے کی نئی جہت ابھر آئے گی .۔دوسری طرف عوامی حلقوں میں سرکار کے اس فیصلے کو جلدبازی میں لیا گیا فیصلہ گردانا جاتا ہے کیونکہ نومبر 2016 سے نئے تعلیمی سیشن کے لئے طلبہ نے نجی تعلیم اداروں میں U-1 اور U-2 کے سیلیبس کو مکمل کیا ہیں اور جو درسی کتابیں سرکار نے prescribe کی ہیں وہ ان سے بے خبر ہیں. یہ معصوم اور انکے والدین کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ اسکولوں کے متظمین عجیب مخمصے میں پھنسے ہیں کہ اب کیسے وہ سرکاری prescribed syllabus کو نئے سرے سے اسکولوں میں پڑھائیں گے. یہ کہنا حق پر مبنی بات ہوگی کہ اگر سرکار اور محکمہ تعلیم کا ایسا ہی plan تھا تو کم سے کم موجودہ تعلیمی سیشن کے آغاز یعنی نومبر 2016 میں ہی یہ circular اجراء کرنا چاہئے تھا جس کے تحت پانچویں سے نویں جماعت تک کے امتحانات SIE کے زیر نگرانی کلسٹر لیول پر منعقد ہوں گے ۔ حالانکہ محکمہ تعلیم نے اس منصوبے کی عمل آوری تعلیمی سیشن 2016-2015 سے ہی کرنی تھی لیکن جولائی 2016 کی شورش (unrest) کی وجہ سے محکمہ تعلیم نے ایک circular اجراء کرکے اس منصوبے کو امسال یعنی تعلیمی سیشن 2017-2016 پر نافذ کرنے کے احکامات صادر کئے تھے . اب ضرورت اس امر کی ہے کہ طلبہ کے بہتر مستقبل کا خیال رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کئے جائیں جن سے نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ ان پریشانیوں سے محفوظ رہیں اور ان کا کیرئیر متاثر نہ ہو جائے ۔محکمہ تعلیم اور ممتظمین کو ہمیشہ یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ تعلیم بچے کے لئے ہے نہ کہ بچہ تعلیم کے لئے.تعلیمی نظام میں جامع اصلاحات اور کوششیں بچے کو مختلف حیثیتوں سے فائدہ پہنچانے کے لئے ہوں نہ کہ بچے کو تعلیم پر قربان کرنے کے لئے. اور یہ بات بھی پیش نظر ہونی چاہیے کم سے کم مڈل کلاسوں تک حتی الامکان تعلیم سب بچوں (سرکاری و نجی تعلیمی اداروں) کے لئے عام ہو اور  ایک جیسا نصاب تعلیم رائج ہو تاکہ اس سے معاشرہ میں امیر و غریب سب کے لئے یکساں نظام تعلیم قائم ہوجائے اور بچوں کی نفسیات متاثر نہ ہوجائے گی ۔ محکمہ تعلیم میں کام کررہے اساتذہ برادری کم سے کم پرائمری کلاسوں تک اپنے جگر گوشوں کو سرکاری اداروں میں ہی پڑھائیں۔ ایسی کونسی کمی سرکاری تعلیمی اداروں میں ہے جس کی وجہ سے سرکاری اساتذہ اپنے لخت ہائے جگر کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں داخلہ لیتے ہیں؟ یہ سوال کم و بیش سماج کا ہر فرد سرکاری استاد محترم سے پوچھنا چاہتا ہے ؟ کیا اس حوالے سے محکمہ تعلیم کے ارباب اقتدار کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ؟ اگر محکمہ تعلیم میں کام کر رہے تمام کارکنان اساتذہ سے لے کر افسران بالا تک ہر ایک اپنے بچوں کو کم سے کم پرائمری لیول تک سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھائیں گے تو یقیناً تعلیم و تعلم میں زبردست انقلاب آئے گا۔ تعلیمی اداروں میں کامیابی کی شرائط میں بنیادی شرط یہ ہے کہ اداروں کے منتظمین اور محکمہ تعلیم کے ذمہداران کے درمیان ارتباط باہمی اور مضبوط تعاون ہو. نجی تعلیمی اداروں کے ذمہداران محکمہ تعلیم کے ساتھ مکمل تعاون کریں . مڈل سطح تک رائج نصاب طلبہ کی نفسیات کو مدنظر رکھ ہی ماہرین تعلیم نے ترتیب دیا ہیں . ہم بھی اسی پیشے وابستہ ہے . ہم نے سرکاری سکولوں میں رائج نصاب میں کوئی کمی نہیں پائی. ہاں ! نجی تعلیمی ادارے اپنے نصاب کا مزید اضافہ کرکے کچھ اور مذہبی یا سائنس وغیرہ کتب کو optional بنیادوں پر اپنے اداروں میں متعارف کرائیں تو یہ بہتر اقدام ہوگا . لیکن سرکاری اسکولوں میں رائج نصاب کو بالکل ہی نظرانداز کرنا معاشرہ میں عدم مساوات کو جنم دیتا ہے۔ اس لئے نظام تعلیم سے وابستہ تمام افراد اور جماعتیں اصلاح حال کی طرف توجہ دیں۔ یہی وقت کا تقاضا ہے.
رابط       9797082756 
ای میل mdabas101@gmail.com
 
بوٹینگو... زینہ گیر ... سوپور