تازہ ترین

خوش حال ازدواجی زندگی کاراز

شوہر کی اطاعت

18 مئی 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

مُبینہ رمضان
اللہ کی تخلیق کردہ اس کائنات میں انسان ایک مسافر ہے جو زندگی کا مختصر سفر طے کررہا ہے اسی سفر میں اسلام ایک منزل ہے اور اس سفر جو ہر ایک انسان کے لئے لازمی ہے کہ ہر قسم کی زادراہ ساتھ ہو۔ نیز اپنی منزل کے راستے اور ٹھکانے سے بھی اچھی طرح آشنا ہو۔ یقینا جو مسافر اپنی منزل سے ہمکنار نہیں ہوسکتا ہے، ایسے مسافر کی تمام حیات بے راہ اور بے ڈھنگ گذرتی ہے۔
اسلام ایک مذہب ہی نہیں بلکہ مکمل نظام حیات (دین) کا نام ہے۔ جس دین نے بنی نوع انسان کو ہر ایک جہالت کے اندھیرے بندھنوں سے آزاد کیا اور  روشنیوں کی طرف رہنمائی کی۔ ایسا ناممکن ہے کہ رب کائنات نے انسان کو تخلیق کر کے اسکے متاع و زندگی کے سامان نہ سنواریں ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ نے حیات انسانی کی ہر گوشہ کی رہنمائی کا سامان فراہم کیا۔ چونکہ اسی کاروان حیات میں ازدواجی زندگی ایک منفرد اور اہم مرحلہ ہے جس کے لئے اسلامی تعلیمات اور احادیث و قرآنی آیات احسن طریقے سے زوجین کو مخاطب کر کے رہنمائی کرتا ہے اور بہت ہی سادہ اسلوب سے زندگی گذارنے کے ہُنربھی واضح کرتے ہیں۔افراد خانہ کے ساتھ حُسن سلوک، اور دیگر خانگی ذمہ داریوں کے ساتھ اسلامی تعلیمات میں ازدواجی زندگی کے لیے عورتوں کو ہر حال میں اپنے شوہروں کی اطاعت و فرمانبرداری کی بے حد تلقین کی گئی ہیں۔ بہنیں یہ بات دل کے گوشوں سے ذہن نشین کریں کہ شوہر ہی ایک عورت کے لئے جنت بھی ہے اور دوزخ بھی۔ اسلام نے ایسے تمام چور دروازوں پر قبل از وقت ہی قفل چڑھائے ہیں جن سے اس مقدس رشتے کو شک یا کسی بھی فتنہ کی ہوا بھی لگنے کا اندیشہ ہو۔ جیسے کہ یہ بات واضح ہے کہ اسی رشتہ میں جُڑ کر ایک خاندان کی بنیاد کا قیام عمل میں آتا ہے اور آگے یہی خاندان درخت کی شاخوں کی طرح پھیل کے معاشرہ کو تشکیل پاتا ہے۔ اسی لئے حیات انسانی میں اس رشتہ کو ایک اہم منفرد مقام حاصل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے دونوں (مرد و عورت) کی فطرت کو مدنظر رکھ کر تخلیق کیا ہے اور مرد کو گھر کا قوام اور ذمہ دار ہی نہیں بلکہ مسئول بنایا ہے لیکن اسکے ساتھ ہی عورت کو اس گھر کی سربراہ اور تمام معاملات کی بھی ذمہ داربنایا گیا ہے۔اسی لئے عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ ذمہ داریاں ادا کرنے اور شوہروں کی اطاعت میں کوئی بھی کوتاہی نہ برتیں ۔فرمایا گیا ہے نیک بیویاں شوہروں کی فرمانبردار ہوتی ہیں اور شوہر غیر حاضری میں بھی اسکی آبرو اور ہر امانت کی حفاظت کرتی ہیں‘‘۔لیکن اکثر بہنیں امانت کا خیال کم رکھتی ہیں۔یہ بات عام طور پر دیکھنے میں آتی ہیں کہ اکثر بہنیں اپنی سہیلیوں اور ہم جولیوں کے ساتھ بہت کھُل کر باتیں کرتی ہیں یا اکثر اپنے میکے میں باتوں کو ظاہر کرتی ہیں جو اچھی عادت نہیں ہے۔ شوہر والیاں کبھی بھول کر بھی اپنے قریبی دوست سے بھی اپنے شوہر کی شکایت نہ کریں۔ اگر وہ کرینگے بھی تو اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ خیانت ہوجائے گی اسلئے شوہر کے ساتھ تمام معاملات راز ہوتے ہیں اور ہر بات امانت ہوتی ہیں جو دوسروں کے پاس کبھی بھی کھولنی نہیں چاہئیے اور شکر گذاری  سے شوہر کے ساتھ پیش آناچاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقدس رشتے کو بے حدحسین الفاظ میں واضح کیا گیااور فرمایا ہے ’’ تم اُنکے لباس ہو وار وہ تمہارے لباس ہیں‘‘۔(القرآن)
اس آیت پر غور کرنی والی بہنیں خود سمجھ سکتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زوجین کو لباس سے تشبیہ دی ہے۔ اور یہ لباس ہمدردی، محبت، شفقت، امانت داری، وفاداری، خدمت گذاری، تقویٰ و پرہیزگاری کی تاروں سے جُڑا ہُوا ہو اور اعتماد سے مزین ہو تو مستقبل میں اسی رشتہ سے مثبت نتائج برآمدہونگے۔ لیکن اگر اس رشتے میں اس کے برعکس لوازمات شامل کئے جائینگے تو پھر اُسکے نتائج بھی ہمارے سامنے ویسے ہی آئینگے کہ کتنے ہی رشتے صرف نصف یا کچھ ہی فی صدجڑا ہوتا ہے اور اکثر رشتے تو شاک نازک پر بنے آشیانوں کی طرح ہوتے ہیں جن کو غلط فہمیوں کے ہوا کا ایک ہی جھونکا گِرانے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ اس لئے بہنیں غور کریں کہ یہ رشتہ خونی رشتہ نہیں ہوتا ہے بلکہ اسکی اہم بنیاد اعتماد ہے اگر یہ بنیاد مضبوط ہے تو ہر حال میں سکون ہے۔
اسلام نے عورت کو پھر سے آیات قرآنی کے ذریعے رُتبہ بلند کیا جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا زوجہ اپنے شوہر کے لئے تسکین حیات ہے۔اور عورت تسکین حیات ہی نہیں بلکہ نصف انسانیت ہیں۔ نیک بیوی کو شوہر کے لئے تسکین کا ذریعہ،شریک حیات،  سکون زیست، ہوم منسٹر، گھر کی ملکہ ہی نہیں بلکہ مرد حضرات کی گھروں کی دہلیز سے بھی اسکو تعبیر کیا گیا ہیں۔ کہ اگر گھر کی دہلیز صحیح ہو تو گھر کا اندرون بھی احسن ہوگا۔ اور اگر اُسی میں بے سلوکی ہو تو اندر بھی خیر کی اُمید نہیں۔ نیک بیوی اپنے شوہر کے لئے سکون حیات ہوتی ہیں تاکہ شوہر دن بھر کسی نفسیاتی پریشانی(Psychological Stress) کے بغیر حلال روزی کمانے میں پہل کرے اور لگن سے کام کرے۔ گھر واپسی کے اوقات ایک بیوی کے لئے مخصوص ہوں کہ وہ دلچسپی سے شوہر کے ہر مزاج کی باریک بینی سے خبر رکھیں۔ اور اُن کے آتے وقت استقبال کرے اور اُن کے مزاج پسند کے موافق ہر چیز چُن لیں۔ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن محصن کی پھوپھی سے آپ ؐ نے فرمایا، اپنے شوہر کے ساتھ کیسی ہو ؟اُس عورت نے کہا:  یا رسول اللہ ﷺ میں اُس پر کوئی الزام نہیں لگائی البتہ میں اس سے عاجز ہوں۔ آپؐنے فرمایا۔ شوہر کے ساتھ اپنے تعلقات کی کوتاہی پر غور کرو( جہاں کوتاہی ہے اصلاح کرو) کیونکہ شوہر تمہارے لئے باعث جنت اور دوزخ ہے‘‘۔ لیکن زوجین کے متوازن تعلقات کو برقرار رکھنے کے لئے آپ ؐ نے یہ تعلیمات بھی فرمائی کہ سب سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ بہتر ہو‘‘۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ گھروں میں اکثر اُلجھنیں اور گھریلو جھگڑے چھوٹے چھوٹے معاملات یا باتوں سے جنم لیتے ہیں اور تجزیہ کے بعد یہ بات سامنے آتی ہیں کہ بہت کم جھگڑے کسی ٹھوس وجہ سے ہوتے ہیں جبکہ اکثر ماں کی غلط تربیت یا غلط فہمی یا عدم سنجیدگی کی بناء پر ہوتے ہیں۔ والدین خاصکر مائیں اس بات کو سمجھ لیں کہ شادی کے بعد بیٹی کے معاملات میں تانک جھانک حد سے زیادہ نہ کرے اور صرف خیر خواہی کا مشورہ دیں۔ نیز بیٹی بھی اب بیاہی ہے اور شوہر کے ساتھ از سر تو باب حیات شروع کرنے والی ہیں تو اُسے اس معاملے میں تھوڑا سنجیدہ ہونا ہے اور غلط فہمیوں سے دور رہنا ہے۔ چونکہ سسرال میں ایک بہو کا یہ مرحلہ بہت ہی دشوار اور نازک ہوتا ہے لیکن نیک خاتون سنجیدگی اور دانش مندی اور ہمت سے کام لیں تو سب وقت گذرنے کے ساتھ آسان ہوجائے گا۔اسلئے بہنیں شوہر کے رشتوں کو غیر معمولی اہمیت دیں اور بذات خود شوہر کی ترجیحات ، پسند، ناپسند، مزاج، سلیقہ وغیرہ دوسروں پر مقدم کر لیں۔ توقعات کی بنیاد پر اگر کبھی رشتے میں ناگواری بھی ہو اور گھر میں دیگر افراد یا خود شوہر بھی اونچی آواز میں بولے یا ڈانٹیں تو اِسے زیادہ اہمیت نہ دیں اور ہر عمل کو مثبت پہلو سے دیکھیں اور سوچیں۔ جن رشتوں سے آپ توجہ اور شفقت کی طلب رکھتی ہیں وہاں سے کبھی غیر مطلوب بھی آئے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ آپ صفر شفقت حاصل کررہی ہیں۔ چاہے کوئی بھی فرد ہو انسان تو انسان ہے سلیقہ شعاری، زبان درازی یا غلط فہمی یہ ساری خصلتیں تو انسانوں میں ہوتی ہیں انسان فرشتہ تو نہیں۔ اسلئے بہنیں ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ اگر مخاطب کچھ بھی بولیں ہمارے خاموش رہنے سے بہت سے مسئلے خود حل ہوجائینگے اور بہنوں کا درجہ بڑھ جائے گا اگروہ اس وقت صبر سے کام لیں۔حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق  ؓ کی شادی حضرت زبیرؓ سے ہوئی تھی۔ حضرت اَسماء ؓکے گھر ایک غریب سوداگر آیا اور کہا کہ اپنے سایہ دیوار کے نیچے مجھ کو سودا بیچنے کی اجازت دیجئے تو وہ عجیب کشمکش میں مبتلا ہوئیں، فیاض اور کشادہ دلی سے اجازت دینا چاہتیں لیکن شوہر کی اجازت کے بغیر اِجازت نہیں دے سکتی تھیں ۔ بولیں اگر میں اِجازت دوں اور زبیر انکار کرے تو مشکل ہوگی تو اُس غریب کو مشورہ دیا کہ حضرت زبیر ؓ کی موجودگی میں آنا اور سوال کرنا۔ تو اُس نے ایسا ہی کیا اور کہا یا اُم عبداللہ ’’میں محتاج ہوں اور آپ کی دیوار کے سائے میں کچھ سودا بیچنا چاہتا ہوں۔ بولیں تم کو مدینہ میں میرا ہی گھر ملا ؟حضرت زبیر ؓنے کہا تمہارا کیا بگڑ تا ہے جو ایک محتاج کو خرید و فروخت سے روکتی ہو؟وہ تو یہی چاہتی تھیں اور اجازت دیدی تو غور کریں کہ کسی وقت حکمت اور صبر ہی معاملات حل کرتے ہیں۔
شوہر کے معاملات میں چند قیمتی نسخے یہی ہیں کہ بیوی شوہر کے سامنے ہمیشہ جازب نظر بنی رہے۔ شوہر کو ہر وقت مطالبات نہ ٹھونکیں بلکہ موقع و محل کے لحاظ سے اپنی بات کریں۔ گھر کے ہُنر سیکھیں اور ہر کام احسن طریقے سے انجام دیں۔ شوہر سے کبھی بھی جھوٹ نہ بولیں اور اُن کے مشورے کے بغیر کوئی کام نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بہترین زندگی اور بہترین آخرت کے لئے رہنمائی فرمائے۔ (آمین)
  نوٹ :مضمون نگار ’’جامعہ اسلامیہ َمہدُالمسلمات‘‘ کی ناظمہ اور ایک سماجی تنظیم’’ انصار النساء ‘‘کی سربراہ ہے ۔ 
رابطہ کیلئے mubram@yahoo.co.in or 7298516701)