تازہ ترین

پیامِ قرآن : اساسِ بندگی نصابِ زندگی

19 مئی 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

امتیازعبدالقادر،بارہمولہ
 
 قرآن کریم کاپیغام آفاقی،ابدی اورلازوال ہے۔قرآن کا مخاطبعالم وجاہل ،مردوزن،حاکم ومحکوم یکساں طورہیں ۔اس میں معاشرت ،معیشت ،سیاست ، تہذیب، تعلیم ،تدریس غرض ہرایک کے لئے ہدایت کاملہ ہے ۔ اسے نازل کر نے والا اللہ سے ہم سے مخاطب ہے:’’یہ کتاب جوہم نے تم پرنازل کی ہے،بڑی بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوںپرغورکریںاوراہل عقل نصیحت حاصل کریں۔‘‘(ص ۲۹)قرآن کریم موثر ذریعۂ انذار ہے ۔یہ اللہ کی طرف سے اس کے بندوں کے لئے آخری ہدایت نامہ ہے۔نمازمیں یک طرفہ مکالمہ جوہم اپنے رب ذوالجلال سے کرتے ہیں،قرآن کی آیات اللہ کی طرف سے اس مکالمے کااپنے بندوں کوجواب ہے لیکن شومی ِقسمت سے اب قرآن کو ہماری سوسائٹی میں وہ مقام ومرتبہ حاصل نہیں جو قرون اولیٰ میں اسے حاصل تھا ۔وہ لوگ سمجھتے تھے کہ کائنات ایک راز ہے اور جو کتاب اس راز کو کھولتی ہے وہ قرآن ہے ۔کتاب الٰہی کے بغیر کوئی شخص حیات و کائنات کے معمّے کو حل نہیں کرسکتا ۔قرآن سلطنت ِ الٰہی کا لفظی مشاہدہ ہے ۔ایک چھپا ہوا طاقتور ارادہ جو اس کائنات میں ہر طرف کام کر رہا ہے ۔قرآن کے صفحات میں وہ ہم کو بالکل محسوس طور پر نظر آتا ہے ۔وہ ما بعد الطبیعی حقیقتیں جن کو آدمی سر کی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا اور نہ ہاتھوں سے چھو کر معلوم کرسکتا ہے ،یہ کتاب ان کے بارے میں ہمیں قطعی خبر دیتی ہے ۔صرف خبر ہی نہیں دیتی بلکہ لفظوں کے ذریعہ اتنے حیرت انگیز طریقہ پر ان کا مرقعہ کھینچتی ہے کہ غیب بالکل مشہود ہونے لگتا ہے ۔یہ کتاب ہم کو صرف یہی نہیں بتاتی کہ ’’اللہ ہے ‘‘ بلکہ وہ حیرت انگیز طور پر ایک مدّبر کائنات کا زندہ تصور سامنے لاکر رکھی دیتی ہے ۔وہ آخرت کے بارے میں صرف اطلاع نہیں دیتی بلکہ اس ہولناک دن کی اتنی کامیاب منظر کشی کرتی ہے کہ وہ دن بالکل نگاہوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے۔قرآن دعوت اسلامی کی جدوجہد کی سرگزشت ہے ۔اللہ تعالیٰ قدیم ترین زمانہ سے انسانوں کے لئے حقیقت کا علم اپنے پیغمبروں کے ذریعہ بھیجتا رہا ۔ساتویں صدی عیسوی میں رب کی مشیت ہوئی کہ روئے زمین پر بسنے والوں کے لئے حقیقت کا مکمل و منضبط علم اوراللہ کا پسندیدہ دستور حیات دیا جائے، جس کی بنیاد پر باقاعدہ ایک اسلامی سوسائٹی تعمیر ہوتاکہ وہ قیامت تک تمام نسلِ انسانی کے لئے روشنی اور نمونہ کا کام دے سکے ۔اسی مقصد کے تحت اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد صل ا للہ علیہ و سلم کو عرب میں مبعوث فرمایا اور آپؐ پر اسلام کا پیغام پوری دنیائے انسانیت تک پہنچانے کی ذمہ داری سپرد کی گئی اور جو لوگ اس پیغام قبول کریں ،ان کے ذمہ یہ کام سپرد ہوا کہ وہ تمام دنیا میں پھیل کر قرآن کے قاصد ونامہ بر بنیں ۔وہ دعوت حق جو آخری نبی  ؐکے ذریعے عرب میں اٹھی قرآن اس کا معتبر ترین ریکارڑ ہے ۔یہ ان خدائی ہدایات واحکامات کا مجموعہ ہے جو اسلامی تحریک کی رہنمائی کے لئے مختلف اوقات میں بھیجے گئے ۔ کتاب اللہ تاریخ نہیں ہے بلکہ خدا کا وہ مستقل  بالذات فرمان ہے ،جو تاریخ اسلام کی ضروریات اور تقاضوں کے سانچے میں ڈھال کر بوساطت پیغمبر آخر الزماں صلعم اہل اسلام کو دیا گیا ، بدلے میں وہ ان کا عملی نمونہ اور فعلی پیکر بنے ۔ یہ وہ مستقل فرمان الہیٰہ ہے جس کی روشنی میں ہر دور کے انسان کی سعادت و شقاوت کا فیصلہ ہونے والا ہے ۔
دنیا میں اربوں کی تعداد میں کتابیں چھپ کر شائع ہو رہی ہیں ۔ایک ایک فن پر کتابیں ہیں اور آدمی ساری عمر ان کا مطالعہ کرتا ہے ،مگر قرآن ایک ایسی کتاب ہے کہ دنیا میں تمام کتابوں کا مطالعہ بھی آدمی کو اس سے بے نیاز نہیں کرسکتا ۔حقیقت یہ ہے کہ دوسری کتابوں کے مطالعہ سے کوئی شخص صحیح معنوں میں اسی وقت مستفید ہوسکتا ہے ،جب اسے قرآن کے ذریعہ وہ علم و بصیرت حاصل ہو جو ہر معاملہ میں اللہ کی مرضی ومشیت تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے ۔بحری جہازوں کے لئے ناپیدار کنار سمندروں میں قطب نما کی ضرورت ہوتی ہے ،اسی طرح زندگی کے الجھے ہوئے مسائل کو صحیح فکر وعمل سے حل کر نے  اور زندگی کی گتھیاں سلجھانے کے لئے انسان کو ہمیشہ وحی الٰہی سے رہبری کی ضرورت رہی اورجو اس دائمی روشنی سے بہرہ مند ہوا وہ ہر طوفان میں اپنی زندگی کی کشتی پار اُتار لے گا لیکن جو اس مہربان روشنی سے محروم ہوا وہ مسائلِ زندگی کے گرداب میں اُلجھ کر رہ گیا ۔قرآن ہم کو اشارہ دیتا ہے کہ کائنات کا خزانہ کہاں ہے ۔وہ ہمارے ہاتھ میں اس مضبوط رسّی کا سِرا دیتا ہے جس کا کسی حال میں ٹوٹنا مقدر نہیں اور جس کے سوا در حقیقت دنیا میں مسلمان کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں ۔قرآن ہم کو بتاتا ہے کہ اس کائنات میں حقیقی سہارا صرف ایک اللہ کا ہے ،اسی کے ذریعے دلوں کو سکون اور ذہنوں کو تخلیقیت کی جلّاملتی ہے ،اسی میں عروج کا راز مضمر ہے ،اسی کو چھوڑ کر زوال حقیقت کا روپ دھارلیتا ہے ۔یہی وہ سب سے مضبوط رسی ہے جو مختلف انسانوں، قوموں اور ملکوں کو باہم  دگر رشتہ ٔ اخوت میںجوڑتی ہے ،یہی نازک مواقع پر ہماری دستگیری اور مشکل کشا ئی کی ضامن ہے ۔عزت اس قوم کے لئے جو اس کا سہارا پکڑے اور جو اس کو چھوڑ دے ،اس کے لئے ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں ۔قرآن خدا ئے واحد کی کتاب ہے ۔وہ ایک واسطہ ہے جس کے ذریعے اللہ اپنے بندوں سے ہم کلام ہوتا ہے ۔وہ دنیا میں خدا کا محسوس نمائندہ ہے ۔قرآن سے تعلق ہی اللہ سے تعلق کا مظہر ہے ۔
ادارہ فلاح الدارین یہی سبق اپنی متوسلین کے ساتھ ساتھ قوم کو بھی یاد دلانا چاہتا ہے ۔اس ضمن ادارہ ۱۱؍مئی سے ۲۱ مئی ۲۰۱۷ء ’رجوع الی القرآن ‘‘ مہم منعقد کررہا ہے۔بارہمولہ کشمیرکے حدود میںقرآن حکیم سے تعلق مزید استوارکرنے کیلئے مختلف پروگرامزمنعقد ہوئے ،جن میں قرآن ریڈرشپ کمپئن قابل ذکر ہے،اس کے تحت ہزاروں اہا لیانِ بارہمولہ جن میں طلباء وطالبات،پیر وجوان ،ملازمین،اساتذہ صاحبان ،چھاپڑی فروشوں، مزدور وکسان نے ایک فارم بھرکے قرآن سے اپنے تعلق کے بارے میں جان کاری فراہم کی۔بنات الزہرہ بارہمولہ کشمیرکے تعاون سے لڑکیوں میں’’مبادی ٔتدبرقرآن ‘‘کے موضوع پردوروزہ ورک شاپ ہوئی جس میںسوسے زائد کالج میںزیرتعلیم ہماری بہنوںنے شرکت کی۔ 'How Qura'n Establishes the Civilization'کے عنوان کے تحت ایک سمینار منعقد ہوا۔اس میں بارہمولہ کے چنیدہ افراد نے شرکت کی۔مہمان مقررین میںمحمودالرشید(Opinion editor G.K) ،معروف شاہ (کالم نویس )اور ڈاکٹرغلام قادرلون نے اپنے زریں خیالات کااظہار کیا۔مزدورطبقہ میں بھی قرآن کے حوالہ سے ایک پروگرام ڈاکٹرغلام قادرلون صاحب نے دیا۔علاوہ ازیں ہزاروں کی تعدادمیںفہم قرآن کے حوالے سے کتابیںتقسیم کی گئیں ۔گھر گھر اوردردررجوع الی القرآن کاچرچا ہوا۔کچھ پروگرام ابھی تشنہ تکمیل ہیں جو۲۱ مئی تک مکمل ہوں گے۔اس بات پر ہمارا خاصا زور رہا کہ قرآن کا مطالعہ کرنے کی ضرورت صرف اس لئے نہیں ہے کہ اس کے ذریعے آدمی اپنے رب کے احکامات معلوم کرتا ہے بلکہ دنیا کی زندگی میں اللہ سے قریب اور بندگی کی راہ پر انسان کو استوار رکھنے کا دارومدار بھی اسی پر ہے ۔قرآن میں بندہ اپنے رب سے ملاقات کرتا ہے ۔قرآن میں اس کے وعدوں اور بشارتوں کو دیکھتا ہے ۔جب انسان کو یہ احساس دامن گیر ہو ہے کہ وسیع کائنات کے اندر وہ ایک بے سہارا وجود ہے تو قرآن اس کے لئے منزل کا نشان بن کر ظاہر ہوتا ہے ۔قرآن کو محض پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ اس کے معانیوں اور مطالبات کی اَتھاہ سمندر میں غوطہ زنی بھی ضروری ہے ۔قرآ ن سے جب تک غیر معمولی شغف نہ ہو ، اس کے سارے فوائد حاصل نہیں ہوسکتے ۔قرآن کا مرکزی موضوع انسان ہے ،اس ناطے اس کا مخاطب بھی انسان ہے ۔افسوس کہ قرآن طاقِ نسیاں کی نذر ہوچکا ہے ،خداراسے خود اپنی بھلائی کے لئے دل مضطر کی تسکین کا سامان بنائیں ۔ فسخ نزاعات کے لئے اسے قسموں کی ڈھال نہ بنائیں بلکہ اس کے احکامات پر عمل پیرا ہوکر اس حیات بخش الکتاب سے فائڈہ اٹھایئے ۔قرآن ایک زندہ کتاب ہے ، زندگی کے نشیب و فراز میں اس سے زندہ و جاویدرہنمائی طلب کریں اور یا د رکھئے کہ یہ شعر فکر اقبال کا نچوڑ ہی نہیں بلکہ اسلام کا مختصر تعارف بھی ہے   ؎
گرتومی خواہی مسلمان زیستن
نیست ممکن جُزبقرآں زیستن
(اقبال)