تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

19 مئی 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

مفتی نذیر احمد قاسمی
اولاد اور زوجہ کاخرچہ کی تمام ذمہ داری شوہرپر
س:- کیا عورت کی خودکمائی ہوئی جائداد شوہر کے نام پر رکھنی جائز ہے کہ نہیں ۔ اگر دونوں میاں بیوی کماتے ہوں تو بچوں کے بنیادی ضروریات پوراکرنا کس کا فرض بنتاہے ؟
ارجمند اقبال…سرینگر
جواب:-اولاد کے تمام خرچے باپ پرلازم ہوتے ہیں چاہے زوجہ یعنی بچوں کی ماں کے پاس کافی جائیداد اور رقم ہو ۔ اورچاہے وہ خود بھی کماتی ہولیکن بچوں کانفقہ شریعت اسلامیہ نے بھی اور قانون میں بچو ں کے باپ پر ہی لازم ہے ۔اگریہ باپ مالی وسعت کے باوجود ادائیگی میں کوتاہی کرے تو یہ اولاد کی حق تلفی کرنے والا قرارپائے گا اور اگر باپ اپنی مالی وسعت کے بقدر خرچ کررہاہے مگر آج کے بہت سارے خرچے وہ ہیں جو صرف مقابلہ آرائی اور تنافس (Competition)کی وجہ سے برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ وہ خرچے اگرباپ نہ کرے تو وہ نہ گنہگارہوگا اور نہ ہی حقوق العباد کے ضائع کرنے والا قرار پائے گا ۔
زوجہ کومجبورکرنا کہ وہ اپنی کمائی بچوں پر یا گھر پر ضرور کرے۔یہ شرعاً بھی غلط ہے ، غیرت کے بھی خلاف ہے اور عقل واخلاق سے بھی غلط ہے۔لیکن اگر کوئی خاتون اپنی خوشی ورضامندی سے اپنے گھریا اپنے بچوں پر اپنی آمدنی صرف کرے تو اُس میں نہ کوئی حرج ہے نہ یہ کوئی غیرشرعی چیزہے ۔کمائی ہوی آمدنی بہرحال کہیں نہ کہیں تو خرچ ہونی ہی ہے ۔ اگر اپنی اولاد پر خرچ ہو تو کیا مضائقہ ہے ۔
زوجہ کی کمائی پر شوہر کا کوئی حق نہیں ہے اور اگر شوہر زوجہ کو مجبورکرے کہ وہ اپنی کمائی ہوئی جائیداد کوشوہر کے نام پر ہی اندراج کرائے تو یہ سراسر غلط ہے اور عورت اگر اس کا انکار کرے تو شوہرجبر نہیںکرسکتااور عورت کا انکاربھی نہ غیر شرعی ہے نہ غیراخلاقی ہے۔لیکن اگرعورت برتر اخلاق کا مظاہرہ کر اور دُوراندیشی ،وسعت ظرفی ،دریادلی کامظاہرہ کرے ۔ اپنا اوراپنے بچوں کا مستقبل بچانے کے لئے اگر وہ جائیداد بچوں کے نام پر اندراج کرائے ،شوہر کی بے جا ضد کوصرف اپنی اور بچوں کی زندگی کو تلخیوں سے بچانے کے لئے قبول کرے اور جائیداد اُسی کے نام اندراج ہوجائے تو اس میں دینی ، دینوی طرح طرح کے فائدے ہوں گے ۔ سوچئے اگر یہ جائیداد عورت کے نام پر رہی تو آگے اس کا حق اولاد کا ہی ہوگا اور اگر جائیداد باپ کے نام پر رہی تو بھی یہ آئندہ اولاد ہی کا حق ہوگا۔لیکن شوہر کو بھی یہ بات ٹھنڈے دل سے سوچناچاہئے کہ اُس کے بچوں کی ماں نے آج تک اُس کے بچوں پر کتنا خرچ کیا اور یہ سب بہرحال اُس کا احسان،جس کا اعتراف نہ کرنا ناشکری ہے اور آگے یہ سوچیں کہ اگر کمائی زوجہ کی ہے تو یہ غلط اصرار کیسے دُرست ہوگاکہ یہ جائیداد شوہرکے نام پر اندراج ہو۔وہ ٹھنڈے دل سے یہ بھی سوچے کہ اگر وہ جائیداد زوجہ کے نام پر ہی اندراج ہو تو بھی آئندہ یہ اُس کے بچوں کا ہی حق ہوگا۔اس لئے اپنے گھرکوتلخیوں سے بچانے اور اپنی زوجہ وبچوں کو ذہنی وجسمانی سکون دینے کے لئے دُوراندیشی اوروسعت قلبی کا روّیہ اپنائے او رزوجہ پر بے جااصرار نہ کیا جائے ۔
خلاصہ یہ کہ زوجہ کی کمائی زوجہ کی ہے ۔ اگر وہ اپنی خوشی ورضامندی سے بچوں یا گھر پراپنی آمدنی صرف کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔اگر وہ خرچ نہ کرے تو شوہر کاجبر کرناغیرشرعی ہے۔
عورت اگراپنی رضامندی سے اپنی کمائی اپنے شوہر کے نام رکھے تو شرعاًاس میں کوئی حرج نہیں ۔ اگر وہ خوشی سے اس پر آمادہ نہ ہو تو اصرار وجبر کرنا غیر شرعی ہے ۔بچوں کا باپ اور ماں اگر دونوں کماتے ہوں تو بھی بچوں کا تمام تر خرچہ بچوں کے باپ پر لازم ہوگا۔ اگر ماں اپنی اپنی آمدنی میں سے اپنے بچوں پر خرچ کرے تو یہ بھی کوئی غیرشرعی نہیں ہے ۔٭٭
بیع توڑنے کا طریقہ
سوال:- زمین ،باغ ،مکان ،دکان وغیرہ کے متعلق جب خرید وفروخت ہوتی ہے تو عام طور پر پہلے ایک مختصررقم دی جاتی ہے اس رقم کو یہاں کے عرف میں ’’سائی‘‘ کہتے ہیں ۔ بعد میں اگر سودا برقرار رہتاہے تو یہ ’’سائی‘‘ اصل قیمت میں شامل رہتی ہے اور اگر سودے پر کوئی نزاع پیدا ہوتا ہے تو پھراس ادائیگی ٔ سائی کے بارے میں بھی جھگڑا ہوتاہے ۔ اگر انکار سودا خریدنے والے نے کردیا تو عام طور پر اس کو ’’سائی‘‘ واپس کرنے سے انکار کیا جاتاہے اور اس ’’سائی‘‘ کا حقدار جائیداد کے مالک کو قرار دیا جاتاہے ۔ 
اب ہمارا سوال یہ ہے کہ سودا ہوجانے کے بعد اس کا انکارکرناکیساہے ؟ بات پکی کرنے کے بعد سوداتوڑنے کا حق ہے یا نہیں؟ اگر سودا لینے کا انکارخریدار کی طرف سے پایا گیا تو کیا ’’سائی ‘‘ کو اس کوواپس لینے کا حق ہے یا نہیں ؟ یاد رہے اس ’’سائی‘‘ کو اُردو میں بیعانہ اور ایڈوانس بھی کہتے ہیں ۔ اس کے متعلق شرعی حکم لکھئے ۔
عبدالعزیز خان … سرینگر 
جواب:-زمین،مکان،باغ یا اس طرح کی کسی بھی جائیداد کے متعلق دوافراد کے درمیان جب معاملہ طے ہوجائے ، بات پکی ہوگئی اور قیمت کی ادائیگی کے لئے تاریخ اوروقت طے ہوجائے اور پھر کچھ رقم بطوربیعانہ کے دے دی گئی اس رقم کو کشمیر کے عرف عام میں ’’سائی‘‘ کہتے ہیں ۔اگر آگے مالک یا خریدار نے اس بارے میں معذرت کردی اور یہ کہاکہ میں یہ پراپرٹی اب خریدنے کے لئے تیار نہیں تو شرعی طور پریہ بیع توڑنے کا اختیار ہی کسی کو نہیں ہوتا۔ اس لئے اگر خریدارنے اس بیع کوتوڑ دیا توشرعی طور پر یہ بیع اُس وقت تک ٹوٹ ہی نہیں سکتی جب تک پراپرٹی کا مالک بھی بیع ختم کرنے پر راضی نہ ہوجائے ۔یہ ایسا ہی ہے جیسے ناکح اور منکوحہ کا نکاح ہوجانے کے بعد اب کوئی فریق یکطرفہ طور پر نکاح کو ختم کرے ۔ تو جیسے عقد نکاح ختم نہیں ہوسکتا اسی طرح شرعاً عقدبیع بھی ختم نہیں ہوسکتا۔لیکن جب خریدار نے معاملہ ختم کرنے کی ٹھان لی اور مالک جائیداد نے بھی مجبوراً یہ تسلیم کرلیا کہ میں بھی اب یہ سوداختم کرتاہوں تو اُس صورت میں جو رقم پہلے لی گئی ہے وہ واپس کرنا لازم ہے ۔ اس رقم کو عام زبان میں بیعانہ ،کشمیر عرف میں ’’سائی ‘‘ کہتے ہیں۔اس سلسلے میں حدیث ہے کہ حضرت نبی کریم علیہ السلام نے بیع عربان سے منع فرمایا ہے ۔ عربان یہ ہے کہ کوی شخص مثلاً سود دینا اس میں اس جانور خریدے۔ پھر دوتین دینار یہ کہہ کردے کہ اگر میں جانور نہ خریدسکا تو یہ دونوں دینار تمہارے ہی ہوں گے ۔(ابن ماجہ)
حضرت شاہ ولی اللہ نے لکھا پیشگی دی گئی رقم اگر سودا نہ کرسکنے کی صورت میں واپس نہ کی تو یہ قمار(جوا)کی وجہ سے بھی ناجائز ہے ۔
فتاویٰ محمودیہ میں ہے :
خریدار کو بیعانہ کی رقم واپس نہ کرنا اور بائع کا خود یہ رقم رکھنا جائز نہیں۔
غورکیا جائے کہ جس چیز کا عوض یہ رقم ہے وہ چیز توبائع کے پاس ہی ہے۔ تو یہ رقم وہ کس چیز کے بدلے میں رکھے گا اور کیسے یہ جائز ہوگی۔
بہرحال ایڈوانس کہئے یا بیعانہ یاسائی یہ سودا ٹوٹنے کی صورت میں واپس کرنا لازم ہے ۔lll
خودکشی کرنا سخت ترین حرام
س:۱- خودکشی کرنا کتنا سنگین جرم ہے ؟
س:۲-اگرخدانخواستہ کسی نے ایسا ناپاک عمل کرلیا تو اس کی نمازِ جنازہ پڑھانے کی کیا صورت ہوگی ؟
س:۳- ایک غریب آدمی ، جس کی ماہانہ آمدنی نہایت ہی مختصر یعنی دو تین ہزار روپے ہو اورسرکارکی طرف سے جنگل سے لکڑی (بالن) کاٹنے کی اجازت نہ ہو، تیل خاکی اور رسوئی گیس کی مناسب دستیابی بھی میسر نہ ہو، کیا اس کے لئے چوری سے بجلی کا استعمال کرنادُرست ہے؟
س:۴- میں محکمہ بجلی کا ملازم ہوں ۔ سرکار کے ساتھ زبردست وفاداری دکھانے کے لئے لوگوں کے گھروں کو چیکنگ کرتاہوںاوراپنے گھرمیں بجلی کا بے تحاشہ استعمال کرتاہوں ۔کیا کل کو مجھے بارگاہِ خداوندی میں اس بارے میں پوچھ ہوگی ؟
ایم جمال…کشمیر
جواب:۱-خودکشی کرناسخت ترین حرام کام ہے ۔ حدیب میں ہے کہ جس شخص نے خودکشی کی وہ قیامت تک اُسی عذاب میں مبتلارہے جس سے اُس نے خودکشی کی ہو۔غزوہ خیبر میں حضرت نبی کریم علیہ السلام نے ایک شخص کے متعلق ارشاد فرمایا کہ یہ جہنم میں جائے گا ۔ حالانکہ وہ شخص بڑے بڑے کارنامے انجام دے رہاتھا۔ اس لئے صحابہؓ کو یہ سن کر بہت حیرانی ہوئی کہ اس شخص کے جہنمی ہونے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ۔ چنانچہ ایک صحابیؓ نے اُس شخص کی صورتحال جاننے کے لئے اس کا پیچھا کرنا شروع کیا۔ اُس کو ایک معمولی زخم لگ گیا ۔ اس پر اُس شخص نے اپنی تلوار سے خودکشی کرلی ۔ وہ صحابیؓ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ فلاں شخص کے متعلق آپؐ نے فرمایا تھاکہ وہ جہنم میں جائے گا ۔ میں گواہی دیتاہوں کہ آپؐ اللہ کے بچے رسول ہیں ۔میں نے آپ کا ارشاد سچ ہوتے ہوئے دیکھ لیا۔ اُس شخص نے خودکشی کرلی۔ (بخاری، خیبرکابیان)\
حضرت خبّابؓ بن الارت ایک عظیم صحابی تھے ۔پیٹ کی ایک سخت تکلیف میں مبتلا تھے ۔ سالہا سال یہ تکلیف جھیلتے رہے اور باربار وہ دربارِ رسالتؐ میں حاضر ہوکر عرض کرتے تھے کہ مجھے خودکشی کی اجازت عنایت ہو۔ مگر حضرت نبی کریم علیہ السلام نے ہمیشہ سختی سے منع کیا۔ اس لئے یہ بات طے ہے کہ خودکشی حرام ہے اور خود کشی کرنے والا یقیناً جہنم میں جائے گا۔ یہ وہ بدترین جُرم ہے کہ اس کے بعد توبہ و استغفار کا موقعہ بھی نہیں رہتا۔
جواب:۲- خودکشی کرنے والے کو بغیر جنازے کے دفن کرنا جائز نہیں ہے ۔اس لئے اُس کے گھر والوں اور رشتہ داروں پر لازم ہے کہ وہ اُس کا جنازہ ضرورپڑھیں ۔
جواب:۳-چوری کی بجلی استعمال کرنا جائز نہیںچاہے غربت کی وجہ سے چوری کی جائے یا کسی اور وجہ سے ۔
جواب:۴- جس محکمہ میں ملازمت کی وجہ سے جس کام کی ڈیوٹی ہے اُس کو پورا کرنا ضروری ہے اور خود بھی قانون کی پابندی لازم ہے۔ دوسروں کی چیکنگ دُرست ہے مگرخود بجلی کا بے تحاشہ استعمال حرام ہے ۔اس لئے محکمہ بجلی کے قانون کوجیسے دوسروں کے لئے نافذ کرناضروری ہے ویسے ہی اپنے لئے بھی اُس پر عمل کرنا لازم ہے ۔ 
یہ بدترین خیانت ہے کہ خود تو قانون کی خلاف ورزی کریں او ردوسروں پر وہی قانون لاگو کریں۔ جس محکمہ کی تنخواہ لی جائے اُس محکمہ کے قانون کو اپنے اوپر نافذ نہ کرنا خیانت بھی ہے اور قانون توڑکربجلی یا کسی اور چیز کا استعمال حرام بھی ہے ۔lll
 
 صدر مفتی دارالافتاء 
دارالعلوم رحیمہ بانڈی پورہ