تازہ ترین

ازدواجی زندگی کی بہاریں

جنت جیسی خوشیوں کے ا نمول اصول

18 مئی 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

اشفاق پرواز۔۔۔ کنزر ٹنگمرگ کشمیر
شادی شدہ زندگی کے مسائل میاں بیوی کے پیچھے ہمیشہ لگے رہتے ہیں اور یہ ایک فطری بات ہے کہ مزاجوں کے تفاوت ، طبائع کا اختلاف اورپسندو ناپسند کی تفریق سے ازدواجی زندگی میں مسئلے خود رو پودوں کی طرح پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔انہیں ہم کیسے کم کریں ،اس پر کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے اور کچھ کرنے کی حاجت ہے۔  اس حوالے سے کچھ مجرب اصولوں کی جان قارئیں کی توجہ مبذول کرانا چاہتاہوں ۔ مرد سارا دن گھر سے باہر ہوتا ہے لیکن گھر کے اندر آتے ہی اپنی شریک حیات پر نظر پڑے جو ممکن ہوکسی کام میں مشغول ہو یا شوہر کی منتظر ہو، دونوں صورتوں اگر مرد مسکراہٹ کے ساتھ دور سے ہی سلام کر دے تو دونوں کا ذہنی تناؤ نصف سے زیادہ دور ہو کے رہتا ہے ۔ایسے میں مرد کو اہلیہ کا انتظار کرنے کے بجاے خود ہی پاس جا کے مسکرا کے  اس کاحال چال پوچھنا چاہیے۔ گھر کے کام اور بچوں کی مصروفیت میں آپ کا واپس لوٹتے ہی پیار سے حال احوال دریافت کرنا مرد کی آدھی تھکن دور کر دے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کا شانہ ٔ نبوت لوٹ آتے تھے  تواپنی زوجہ محترمہ کو پیار بھری نگاہوں سے دیکھتے تھے ۔ آپ اس سنت پر عمل کریں تو گھر جنت کا نمونہ بنے گا ۔گھر لوٹ کر نہا دھو کر کپڑے تبدیل کر لینا، ہلکی سی عطر بھی ملنا کہ آس پاس سے گزرنے والوں کو ایک خوشگوار احساس ہوتا رہے۔ یہ بھی گھر میں خوشیاں لانے کا باعث ثابت ہوگا۔سگریٹ نوشی کرنے والے اپنے منہ سے نکلنے والی بدبو کا خصوصی خیال رکھیں ۔سوچیں کہ لہسن اور پیاز جیسی چیزیں کھا کر خداے تعالیٰ نے مسجد میں جانے کو ناپسند فرمایا ہے تاکہ ان کی بو باقی نمازیوں کو ناگوار نہ گذرے تو سگریٹ کی بدبو بیوی کو کس قدر ناگوار گزرتی ہوگی ۔ اندازہ کیجئے۔اول تو اس بری عادت کو چھوڑنے کی کوشش کریں، دوسرا یہ کہ اپنے منہ کی صفائی کا خیال رکھیں ۔
محبت کو اظہار اور تجدید اظہار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ گھر آتے ہوے کبھی پھول یا اس کی پسندیدہ چاکلیٹ یا پھر اس کی پسند کی کوئی اور چیز لیتے آئیں۔ دن بھر اپنی بیوی کو ہلکا پھلکا ٹیکسٹ مسیج بھیج دیں ۔ جیسے :Are you busy, I have something important I  forgot to tell you, you mean a lot to me , thanks for loving  me, Take your best care.  اسی طرح چپکے سے سرہانے کے نیچے اس کے لیے کوئی پیار بھرا مسیج رکھ دیںجو اس The most important thing a father can do for his children is   to love their mother.  
بچوں کی بہترین تربیت کا پہلا قدم یہ ہے کہ ان کی ماں کو عزت اور محبت دیں۔جہاں وہ غلطی کرے ،پیار سے سمجھادیں ۔ اس کی غلطی پر اس کے گھر والوں کو برا بھلا نہ کہیں۔بچوں کے سامنے اگر آپ اپنی بیوی کی بے عزتی کریں گے، بچے لا شعوری طور پریا آپ کی سائڈ پر ہوجائیں گے اور اماں کی بات سننا ماننا چھوڑ دیں گے یا ان کی مکمل ہمدردی ماں کی طرف ہوگی (جس کے عمومی طور زیادہ امکانات ہوتے ہیں)اور آپ اپنا وہ مقام کھو دیں گے جو ایک بچے کے دل میں آپ کا ہونا چاہیے۔ آپ اپنی اولاد کے سپر ہیرو سے ولن کے مقام پر آجائیں گے۔بچے سہم جائیں گے،دوستوں میں اپنا اعتماد کھو بیٹھیں گے ،پڑھائی لکھائی بھی متاثر ہوگی۔ اس کا ایک اور بہت بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ یہی بچے کل کو عورت ذات خصوصاً اپنی بہن بیوی تک کی عزت نہیں کر سکیں گے ۔ ان کے پلے یہی پڑے گا کہ عورت کے ساتھ برا سلوک کیا جانا چاہیے ۔ ایک تحقیق کے مطابق قریباً  ۷۸ فی صد مرد اپنی بیویوں کو ہراساں کرتے ہیں ،انہوں نے اپنے بچپن میں اپنے باپ کو اپنی ماں سے یہی سلوک کرتے دیکھا ہوتا ہے۔آپ غور کریں کہ آپ کے آج کے عمل سے کس طرح آپ کی نسلیں متاثر ہوںگی ۔ میں یہ بات دل سے مانتا ہوں کہ جو رزق اور جتنی محبت اللہ نے میرے نصیب میں لکھی ہے ، اتنی ہی ملے گی، اس سے نہ کم نہ زیادہ ۔ یہی بات میںصنف نازک کو سمجھنی چاہیے جو شکایات کرتی ہیں کہ شوہر اپنے گھر والوں پر سارا پیسہ لٹا دیتا ہے اور ہماری باری پر بچت اور قناعت یاد آجا تی ہے ۔ یہاں سارے شوہر یاد رکھیں کہ آپ اپنی بیوی کے کفیل ہیں ۔ اسے ہر مہینے کچھ رقم پاکٹ منی کے طور پر دیں جس کے بارے میں ا س سے کوئی سوال جواب نہ کریں ۔ وہ چاہے تو اپنے گھر والوں کے لئے کچھ لے ، چاہے تو صدقہ کرے، بچوں کو دیں ، ذاتی ضروریات پر خرچیں یا پھر چاہے تو اپنے پاس پس انداز کرلے۔ اگر وہ خود کماتی ہے تو پھر پاکٹ منی کے بجائےکبھی سیر وسیاحت اور کبھی کھا نا کھلانے کے لئے  باہر لے جائیں ، یا کسی ایسے کام اورمصروفیت  میں رکھیں کہ اس کی طبیعت خوش ہو۔ آئے روز بہت ساری بہنوں سے ہم سب سنتے رہتے ہیں کہ کس طرح ان کے شوہر کی ساری توجہ اور محبت کا سارا مر کز اس کے اپنے گھروالے بنے ہیں اور بیوی کا کام بس گھر سنبھالنا ، بچے پالنا ور کھانا پکاناہے ۔اس پر ہر حساس شخص کا دل ضروربہت دُکھتا ہے کیونکہ میزان کے دونوں پلڑے متوازن ہوں تو بات بنے گی۔ بے شک ان بہنوں کو یہ کر نا چاہیے کہ اپنی شکایت کا اظہار بہت ہی دل نشین انداز میں صرف شوہر سے کرنی چاہیے نہ کہ میکے والوں سے ۔ اس کے علاوہ انہیں صبر، محبت اور دُعا کادامن کبھی نہ چھوڑنا چاہیے کہ محبت اور خلوص سے وہ ایک نہ ایک دن اپنے شوہر کا دل جیت لے کر رہیں گی ۔ 
عورت اپنا گھر، اپنے پیارے رشتے ، اپنے دوست احباب ، حتیٰ کہ اپنی پسند و نا پسند بھی چھوڑ کر اپنے شریک حیات کو اپناتی ہے ۔ وہ اپنے تمام رشتوں کا پیار اسی میں ڈھونڈتی ہے ۔ کبھی اسے اُبو کی طرح سینے سے لگا لیں ، کبھی امی کی طرح محبت بھری ڈانٹ ، کبھی دوستوں کی طرح چھوٹی سی بات پر بے تحاشا ہنسی مذاق کریں۔ یہ سب شوہر کی بنیادی ذمہ داری ہے جس سے شادی شدہ زندگی میں مسرتیں گھر کر تی ہیں ۔ بیوی ہمیشہ اپنی جسمانی ، جذباتی، معاشی ، معاشرتی ضروریات کے لئے شوہر کی محتاج  ہوتی ہے چاہے وہ خود کتنے اعلیٰ مقام پر ہو ۔ یہ فطرت کا ناقابل تبدل نظام ہے ۔ کچھ شوہر اپنی بیویوں کی مالی ضروریات تو خوشی خوشی پوری کرلیتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے عقد  نکاح میں کوئی پتھر نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا انسان ہے جسے پیسے اور پوشاک کے علاوہ بھی کچھ اور ضروریات ہیں ۔ اس لئے شوہر کے ساتھ ساتھ مردکو بیوی کا ایک اچھا دوست بننا چاہیے ۔ کسی بھی انسان کو آگے بڑھنے کے لئے تعریف وتوصیف اور حوصلہ افزائی درکار ہوتی ہے۔ کوئی بیوی اس سے مستثنیٰ نہیں ۔ وہ کہیں جانے کو تیار ہو تو اس کی تعریف کر دیں ، اچھا کھانا بناے تو کھلے دل سے واہ واہ کہہ دیں اور کھانے میں کوئی جانے انجانے گڑبڑ ہو تو منہ نہ نوچیں بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ کہیں کہ من نہیں کرتا کچھ کھانے کو۔ وہ آپ کے  جو چھوٹے بڑے کام سارا دن کرتی رہتی ہے ، ان پر اس کی حوصلہ افزائی بھی کریں اور احسان مندی جتائیں ۔ آپ کا صرف ایک تیکھا جملہ ’’تم سارا دن کرتی ہی کیا ہو؟ ‘‘ اس کی روح و جان جلا دیتا ہے ۔ اپنی بیوی کو ہمیشہ محبت سے سمجھائیں لیکن دوسری عورتوں کی مثالیں دے کر نہیں بلکہ حسن اخلاق سے ۔ عورتوں کی مخصوص فطرت کو زیر نظر رکھ کر کسی کے ح ودسری خاتون کے حسن، اچھائیوں اور عقلمندی کی زیادہ تعریفیں بیگم کے سامنے کبھی نہ کریں ۔اس کا موازنہ نہ تو خود کسی اور کے ساتھ کریں نہ ہی اسے جتائیں ۔ الغرض سب باتوں کی ایک بات کہ بیوی کو اپنایئے ، انسان سمجھئے، عزت دیجئے ، پیار دیجئے اور کہیں کوئی کوتاہی سرزد ہو تو اس کی دیگر اچھائیوں کو فراموش نہ کریں۔ ضروریات کے حوالے سے ، احساسات کے حوالے سے ، عادات و اطوار کے حوالے سے اس کے مزاج کو سمجھ لینے میں کوئی بھول نہ کیجئے۔ یہ سب ہوا تو ہر گھر میاں بیوی اور بچوں بچیوں کے لئے جنت کا نمونہ اورازدواجی زندگی محبت اور عزت کی سیسہ پلائی دیوار بنے گی کہ جس کوئی زلزلہ یا شیطان کی ضرب بھی دراڑ نہ ڈا ل سکے۔
ishfaqparwaz.ip@gmail.com