تازہ ترین

سہ طلاق کا شور

اصل نشانہ مسلم پرسنل لاء

21 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

مرزا انوارالحق بیگ
کئی برس سے ملک میں تین طلاق کے نام پر بحث و مباحثے کا جوماحول بنا یا جا رہا ہے، اس کامقصود اصلاً شریعت کو نشانہ بنانا ، مسلم پرسنل لا کا مذاق اڑانا، مسلم خوتین کی مظلومیت کا رونا روکر ہمدردی کے لبادے میں مسلمانوں کو دینی وسماجی طور تتر بتر کرنا ہے۔ بظاہر بڑی معصومیت کے ساتھ تین طلاق کا مسئلہ اچھالاجا رہا ہے کہ صاف محسوس ہوتا ہے کہ طلاق کے اختیار کو سلب کرکے مسلمانوں کے حوالے سے عدالت کو یہ پاور سونپ دینے کی منصوبہ بند کو شش کی جارہی ہے۔اگر ایسا ہوا تو مسلمان بھی غیر مسلم برادران وطن کی طرح تنسیخ نکا ح یا طلاق لینے کے لئے سالہاسال عدالتوں کے چکر کاٹنے اور مقدمے بازی میں اپنا جان و مال کھپا کر بھی ناکا م رہیں گے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ بر سر اقتدار طبقہ کو اچانک مسلمانوں کے سہ طلاق سے’’ نفرت‘‘ اور مسلم خواتین سے ’’ہمدردی کیوںکر پیدا ہو گئی ؟ جب کہ یہ مسلم آبادی کو  بیخ وبن سے اکھاڑنے علانیہ مقصد و منشا ء رکھتاہے ؟ حکمران ٹولہ اس کے ذریعے پرسنل لا میں مداخلت کرکے یکساں سول کوڈ کے لئے راہ ہموار کر نے کی نیت رکھتا ہے ۔ نا دان ہیں وہ جو اسے تین طلاق کا مسئلہ سمجھ رہے ہیںاور غیر ضروری بحث و مباحثے میں سر پھٹول کر رہے ہیں۔ غیر مسلم منہ زوروں کی کیا بات کریں ، ہمیں ان بعض’’ مسلمانوں‘‘ کے اس موضوع پرروشِ کلام سے افسوس کے ساتھ ساتھ ہنسی بھی آتی ہے کہ ایک نشست میں دی گئی تین طلاقیں تین ہوتی ہیں یا ایک؟ جو اختلاف مسلمانوں کے زریں دور یا ایک ہزار سالہ دورِ عروج میں بھی  بڑا مسئلہ یا زحمت نہ بن سکا، وہی مسئلہ آج مسلمانوں کی محکومی و مظلومی کے دور میں اولین اہمیت کیوں حاصل کر گیا ؟ایسے عائلی مسائل جن  میں علمائے فقہ کے مابین چند ایک جزوی اختلافات ہیں، قرن اولیٰ سے زیر بحث چلے آرہے ہیں۔ اچانک یہ مسئلہ مسلمانوں کے لئے کیوں کراتنا بڑا مسئلہ بنایا دیا گیا جس کو لے کر خوب بحث و مجادلہ کیا جارہاہے ۔ اجتہادی معاملات میں صحابہ ؓ،ائمہ، فقہاء اور محدثین کے درمیان کسی شرعی مسئلے میں فقہی اختلافات اُمت کے لئے رحمت بتائے ئے گئے ہیں، انھیں ہمارے نقلی خیر خواہ زحمت بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ 
  کامل انصاف کے ساتھ تعدد ازدواج یا ایک سے زیادہ بیویاں کر ناقرآن و سنت سے ثابت ہے اور اس سلسلے میں کہیں بھی قرآن و سنت میں بھی ذرہ برابر بھی اختلاف نہیں ۔ اس لئے نام نہاد تین طلاق کے بحث کی آڑ میں تعدد ازواج پر بھی پابندی لگانے کی ناکام کوشش کر نا خود بتا رہاہے کہ اصل نیت کیا ہے۔ جب تعدد ازدواج کے سلسلے میں امت کے درمیان کسی بھی قسم کا کو ئی اختلاف نہیں ہے تو پھر قرآن و سنت پر براہ راست حملے بولنے پر ہماری مجرمانہ غفلت ناقابل معافی جرم ہے ۔ قرآن نے ایک سے ز یادہ نکاح کے لئے جو عدل کی شرط لگائی ہے، کیا ہمارے کرم فرماؤں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ بحیثیت مجموعی مسلمان عدل کی شرط کو پورا کرنے سے قاصر ہیں یا کوئی اور وجوہ ہیں؟ کہیں ’’ خیرخواہوں‘‘ کا  اصل مسئلہ یہ تو نہیں کہ جس طرح مغرب ومشرق کے غیر مسلم سماجوں میں علی ا لاعلان دوسری شادی کے بجائے چوری چھپے گند مچانے اور رنڈی خانے بنانے کی چھوٹ ہے ،اُسے مسلمانوں میں رواج دیا جائے ،تو ان لوگوں کی گندی سوچ اور زہر ناکی پر واویلا کے سوا ور کیا کیا جاسکے؟ 
 تین طلاق اور تعدد ازدواج کے خلاف ریاستی سطح پر تشہیری مہم اور عدالتوں میں مقدمہ بازیوں کے بہت دور رس اور مہلک اثرات  پڑ نے والے ہیں۔ ایک مرتبہ کسی عدالت نے شاہ بالو مقدمہ کی طرح کوئی خلاف ِ شر یعہ فیصلہ سنا دیا تو ظاہر ہے کہ بر سر اقتدار طبقہ اسے  اپنے اوچھے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر کے ملکی اقلیتوں کو تہس نہس ہی نہ کرے گا بلکہ ان پر شدھی کا نیا ایڈیشن آزمائے گی ۔ وہ بیف پر سرکاری پابندی کی طرح اس کا غلط اور ناجائز استعمال کر کے قتل و فساد کا نیا سلسلہ شروع کرنے سے بھی دریغ نہ کر ے گا۔ عدالتی فیصلہ آنے کے بعد کیاماضی میں شاہ بانو مقدمے کی طرح موجودہ بے دست وپا مسلمان عدالتی فیصلہ بدلوانے کی طاقت رکھتے ہیں؟ ماضی کی طرح کیا مسلمان سرکار پر اس قدر دبائو بنا سکتے ہیں کہ حکومت خود مجبور ہو جا ئے اور عدالت کے فیصلے کے خلاف پارلیمنٹ میں ممبران کی بھاری اکثریت سے قانون بناکر فتویٔ عدل کو رد کر وادے ؟ کیاہندو،مسلم، سکھ، عیسائی یا ملک کے مختلف قبائل  کے پرسنل لاء اس سے محفوظ رہ پائیں گے؟ یقینی طور یکساں سول کوڈ جو کہ مابعد آزادی اقلیتوں کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار ہے، کے لئے یہی چور دروازہ استعمال کیا جائے گا۔
 (anwarulhaqbaig@gmail.com)