تازہ ترین

توبہ و استغفار

بیمارامت کا موثر علاج

21 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

محمد یوسف مکرو۔۔۔ آرونی اسلام آباد
بیماری ایک فطری ہے۔ بیماری انفرادی سطح پر بھی ہوتی ہے اور اجتماعی سطح پر بھی۔ انسان جسما نی بیما ری میں مبتلا ہو تا ہے تو کر ب و تکلیف اس کا وظیفہ ٔ حیات بن جاتا ہے۔ بعینٖہ انسانی معاشرہ بھی بیما ری میں مبتلا ہوجاتاہے ۔ اس صورت میں انسانی اور اخلاقی اقدار مغلوب اور اوصاف رذیلہ وخصائل خبیثہ غالب ہو کر انسانی معاشرے کو انسان نما درندوں کا معاشرہ بنا ڈالتا ہے کہ سلیم الفطرت انسانو ں اور اوصافِ حمیدہ سے مزین افراد کا جینا دوبھر کر کے رکھ دیتی ہیں۔اس کا نظا رہ آج کل ہر سوکیا جا رہا ہے۔ بہر کیف انسانی جسم اور انسانی معاشرہ کی طرح انسانی روح بھی بیما ری کا شکار ہو جا تی ہے جس کا سماج  میں برا اثر مر تب ہو نا طے ہوتا ہے۔ صغیرہ وکبیرہ گناہ یا اثم و عدوان انسانی روح کی بیماریاں ہیں۔ پیغمبر اعظم ؐ کے اس فرمان عالیہ کہ’’ ہر بیما ری کی دوا ہے‘‘ کے مطا بق کو ئی بھی بیما ری لا علاج نہیں ہوتی۔ آپ ؐ ہی کافرمان ہے توبہ و استغفار گنا ہوں کی دواہے۔ حقیقت واضح ہو جا تی ہے کہ گنا ہ انسانی روح کی بیما ری ہے اور استغفار اس بیما ری کی دوا ہے۔انسانی معاشرہ میں ظلم و جبر اور قتل و غارت گری کا مو جو دہ جا نکاہ منظر انسانی روح کے بیما ر ہو نے پر دلالت کرتاہے ۔ انسانی روح قرون اولیٰ کے انسانو ں کی طرح صحت مند ہو تو عد ل وانصاف اور امن و آشتی انسانی سما ج کا مقدر بن جاتی ہے ۔ اس تعلق سے مو جو دہ گھمبیر حا لات متقاضی ہیں کہ اُمت مر حو مہ بلا تاخیر تو بہ استغفار کو اپنا وظیفہ حیات بنائے ۔ اسی میں ہما ری سرفرازی و سربلندی کا رازمضمرہے کیو نکہ تو بہ و استغفار شیو ہ پیغمبری ہے۔ آپ ؐ معصوم عن الخطاء تھے کیو نکہ انبیاء و رُسل ؑ نو ع انسانی کا خلاصہ اور انسانیت کی معراج پر براجمان ہو تے ہیںاور آپ ؐ کا تو کہنے ہی کیا ! آپؐ تو سرور کائنا ت ہی نہیں امام الانبیاء ؑ بھی ہیں، باوجود اس کے آپ صلعم کا فرمان عالیہ ہے کہ’’اے لو گو!اللہ سے اپنے گنا ہوں کی معافی چا ہویعنی استغفار کرواور اللہ کی طرف پلٹو، مجھے دیکھو،میں دن میں سو سو با ر اللہ سے مغفرت کی دعا کر تا ہوں(مسلم)۔ سبحان اللہ آپ ؐ کا یو میہ سو سو با ر تو بہ و استغفار میں محواورہماری حیاتِ مستعار کا ایک ایک لمحہ تو بہ و استغفار سے خالی رہے، کتنی کم نصیبی ہے ؟ قران کریم جو عالم انسانیت کے لئے آخری ہدایت نا مہ ہے، میں اللہ کا مبارک فرما ن ہے کہ،’’اور ہم قران سے وہ کچھ نازل کرتے ہیں جو شفاء اوررحمت ہے اہل ایما ن کے حق میں‘‘ (بنی اسرائیل)۔ واضح ہو اکہ قران تمام بیما ریو ں کی دواہے۔ وہ چا ہئے انفرادی سطح کی بیماریاں ہوں یا اجتما عی سطح کی، جسما نی بیما ریا ں ہوںیا روحانی بیما ریاں۔۔۔شرط صرف ایک ہے اور صرف ایک کہ یقین کا مل (ایمان)کے ساتھ اس کی طرف رجوع کیا جائے اور بس۔ پیا سا دریا کی طرف رجوع کر تا ہے، اسی طرح پیاسی انسانیت کوبہر حال آب حیات کے مصدر و منبع ’’القران‘‘کی طرف دیر یا سویر رجوع کر لینا ہی ہوگا، جبھی تو نو ع انسانی کی تما م بیما ریاں جیسے غرورو استکبار، گھمنڈ ، تعصب، حسد ، فرقہ واریت ، دہشت گردی، ظلم و جبرا ور استحصال، نا انصافی، بد امنی روئے زمین سے رفع ہو جا ئے گی۔ انسانی معاشرہ پر انسانی اقدار کا بو ل با لا ہو گا۔ انسانی معاشرہ جنت نظیر بن جائے گااور تھکی ما ندی انسانیت کے لئے یہ عارضی پڑاؤسکو ن کا باعث بن جائے گا۔ انسانی دنیا کے لئے گویا توبہ واستغفار صلائے عام بھی ہے اور قران کریم کی طرف سے مژدہ ٔجا نفزا بھی۔۔
سرکشی نے کر دئے دھندلے نقوش بند گی 
آؤسجدہ میں گریں ، لو ح جبین تازہ کریں
حفیظ جا لندھری 
رابطہ9906603748