تازہ ترین

حکمران ہو تو کیسا؟

ضمیر زندہ عدل میں یکتا۔۔۔قسط 2

21 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

بشارت بشیر
بہرحال کسی بھی معاشرے کی صالحیت وطہارت وپاکیزگی کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے حکمران وعلماء بگڑنے سے خود کو بہ صد دل وجاںبچالیں کہ ان دوطبقوںکا بگاڑ اقوام میں پہلے ایک ہیجان پیداکردیتاہے اور پھر یہی ہیجان اسے عبرتناک تباہی کی جانب لے جاتاہے ۔ حضرت امام غزالیؒ عالمگیر فساد ، اخلاقی انحطاط اوردینی تنزل کا ذمہ دار اسی بگاڑ کو قرار دیتے ہیں اور حضرت عبداللہ بن مبارکؒحضرت غزالی سے دو سوبرس قبل ان ہی دو موقر طبقوںکے بگڑنے کو دین کے بگاڑ سے تعبیر کرتے رہے ۔وھل افسد الدین الا الملوک ۔ و احبارسوء و ر ھبانھا والی یہ ذمہ داری ہے کہ جہاں وہ اپنی رعایاکی مادی ترقی کے لئے کوشاں رہیں، وہاں اس کی روحانی اور اخلاقی تربیت اور کردار سازی ان کی پہلی ترجیح ہو ۔ معاشرے میں شراورگناہ کے پنپنے کے ہر راستے کو بند کرنے اور ہر اس بد کارانہ کاوش پر قدغن لگانے کی صلاحیت وقوت اُن میں بدرجۂ اتم موجود ہو جوانسانی سماج میں انارکی، انتشار اور فساد بپا کرنے کا موجب بنے …اور یہی مسلم حکمرانوں کا طرۂ امتیاز رہاہے مگر وا حسرتا! آج حکمرانوں کی سرپرستی اور داد ودہش میں ہی فحاشی و بدیاں پنپ رہی ہیں،رقص و سرور کا دور دورہ ہے ، مرد وزن کے بے محابا اختلاط کو دُرست ثابت کرنے کے لئے وقت کے ’’افلاطون‘‘ بھونڈے دلائل کا توپ خانہ اور’’ مساوات ‘‘ کاڈنڈہ لئے بیٹھے ہیں ۔ یہاں تک کہ بعض ہوٹلوں ، رقص گاہوں ، تعلیمی مراکز، دانش کدوں اور تفریح گاہوں میں دامنِ عفت حیاء تار تار ہورہی ہے اور حکمران اونچی کرسیوں پر بیٹھ کر ’’تہذیب وثقافت‘‘ کے فروغ کے نام پر منعقد ہ بے ہودہ تقاریب سے لطف اندوز ہوکر  غلط کار عناصر پردادِ تحسین کے ڈونگرے برسارہے ہیں اور صالحین کا نفس ناطقہ بند پڑا ہے ۔ یہ نافہم حکمرانوں کا قصور ہیں یا ان کو نصیحت و فہمائش کی بے ضرر حکمت عملی سے سے راہِ راست پر نہ لانے والے علماء اور اصلاح کارووں کا گناہ؟ اس مسئلے کے بارے میںآپ خوداپنے دل اور دماغ سے فتویٰ مانگئے ۔ ہم میں شاید بہت کم لوگوں کے دل میں یہ بات بس گئی ہے کہ ہم وقت وقت پہ ہرکسی بے اعتدال امیر کے بے خوف مامورین بن کر آپ انپے گھر میں لوٹ مار کر کے خزانہ عامرہ کونچوڑ رہے ہیں ، سرکاری محصولات میں ڈنڈی ماری کر تے ہیں ، اقرباء نوازی اور حق تلفی کا کھلا مظاہرہ کر تے ہیں ، ایک دوسرے کے لئے بری نیت اور گناہ گارانہ عزائم کا بوجھ آٹھوں پہر ڈھوتے رہتے ہیں ، رشوت ستانی اور سفارشی کلچر سے میرٹ اورا ستحقاق کی گرد ن مروڑ تے جارہے ہیں اوردوسرے قسم کے اخلاقی عیوب کے شکار بنے ہوئے ہیں ۔ ان برائیوں کا سارا ملبہ دونوں حا کم اور محکوم کے سریکساں جاتا ہے ۔ یوں ہم اجتماعی طورنادانستہ طور اس عذابِ خداوندی کو دعوت دے رہے ہیں جسے ہم میں سے بعض کندہ ٔناتراش’’ ترقی اور روشن خیالی‘‘ سمجھ رہے ہیں ۔یہی سب سے بڑی ہلاکت اور بھیانک تنزل ثابت ہوگا    ؎
ہمارے دور میں لفظوں نے کھودیا مفہوم
عروج بن کے کھڑے ہیں زوال جتنے ہیں 
یہ بات بھی واضح رہے کہ قائد یا حکمران بے حد متحمل مزاج، بالغ نظر، پُوقار ، متانت کا حامل ،سنجیدہ ذہن ،دور بین نگاہ، عالی ظرف اور مزاج شناس ہو…اس میں ہر ایک کی سننے اور ہر کس وناکس کو اپنے ساتھ چلانے کا ہر گن موجود ہو…وہ اپنے ساتھیوں او رشناسائوں او رماتحت ومامورین پر بلاوجہ شک کرنے والا نہیں بلکہ اعتماد وبھروسہ کرنے والا ہو ، وہ ہرایک کو اپنے ساتھ ورکنگ ریلیشن قائم رکھنے کے فن سے واقف ہو ۔ایسا نہ ہو کہ کسی ساتھی یا مخالف نے ذرا سااختلاف کا اظہار کیا ،اُسے دشمن سمجھ کر درخوداعتناء نہ سمجھ بیٹھا ۔ وہ چلا گیا تو حکمران یا قائد یہ سمجھ کے پائوں پسارے سوتارہے ہماری بلا سے ایک گیا تو دس آجائیں گے ۔ یہ نا پختہ سوچ بھی اس کی حکمرانی کی صفت کو غارت و تباہ کرکے رکھ دیتی ہے اور نتیجتاًاس کے ساتھ بہت سارے ہونے کے باوجود کوئی اس کانہیں ہوتا۔ اسلامی تاریخ کی عبقری شخصیت حضرت امیر معاویہؓ سے اُن کی کامیابی سیاست کا راز جب پوچھا گیا تو انہوں نے اسے اپنی فہم و ذکا اور عقل و دانش کا کرشمہ قرار نہیں دیا بلکہ جواب میں کتنے مختصر الفاظ میں ایک جامع کتاب کا مغز پیش کر کے حکمران کویہ درس زریں دیا کہ میری کامیابی کا راز بس اس بات میں پوشیدہ ہے کہ اگر دور کے کسی بدوی کے ساتھ بھی میرا تعلق ورشتہ کچے دھاگے کا بھی قائم ہو …اور وہ بدوی پھر صحرابیاباں کی جانب بھاگ جائے ، میں اس کے پیچھے دوڑوں گا اور اس کچے دھاگے کے رشتہ کو توڑنے نہیں دوں گا ۔ 
کسی قائدیا حکمراں کی نگاہ اس بات پربھی لگی رہنی چاہئے کہ اس کے اِرد گرد جولوگ حلقہ بنائے بیٹھے ہیں وہ اسے ملکی ،ریاستی اور عوامی مسائل کے حوالے سے دانستہ یا نادانستہ طورگمراہ تو نہیں کررہے ہیں ۔وہ اس کی ہر اچھی بُری بات پر واہ واہ تو نہیں کررہے ہیں ۔اصل میں یہی وہ ابن الوقت اور چاپلوس لوگ ہوتے ہیں جو کسی حکومت یا ادارے کے زوال کا باعث بن جاتے ہیں ، ان ہی خوشامدی لوگوں کی زہرناکیوں اور ہرزہ سرائیوںکو بھانپتے ہوئے اسلام نے ان کے منہ میں خاک تک بھرنے کی تنبیہ فرمائی …یہ طبقہ یقیناً کسی حکمران یا قائد ونظم کا سب سے بڑا داخلی حریف ہوتاہے…یہ لوگ سلاطین وحکمرانوں کی ایسی بے جا تعریفوں اور قصیدہ خوانیوں میں زمین وآسمان کے قلابے ملاتے ہیں اور ان کے ہر گھناؤنے یا غلط کام کو درست ثابت کرنے کے لئے  psychophansy کے پیرائے میںہزار ہا تاویلیں کر نے میں اپنی بے حد چرب زبانی کا استعمال کرجاتے ہیں ۔نتیجتاً حکمران بگڑ جاتے ہیں ،ان کا نفس پھول جاتاہے ، ان کا پندا ر ٹوٹنے کا نام نہیں لیتا، وہ اصل حقائق اور زمینی خبروں بے خبر رہ کر فضاؤں میں اڑتے پھرتے ہیں ، یہاں تک کہ ان کی نیّاڈوب جاتی ہے ۔
اس حوالہ سے پرانے سلطان کی کوئی داستان رقم نہیں کر وں گا بلکہ مملکت خداداد پاکستان کے ایک سابق سربراہ (گورنرجنرل)غلام محمد اور اس کے خوشامدی ساتھیوں کے حوالہ سے یہ بات حوالۂ قلم کرنا مناسب رہے گا ، اس خیال سے   ع  شایدکہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات ۔ 
قدرت اللہ شہاب نے لکھاہے کہ ایک بار وہ (مرحو م غلام محمد)اپنے دوتین دوستوں کو ساتھ لے کر ہواخوری کے لئے نکلے ۔مجھے بھی اگلی سیٹ پر بٹھالیا ۔ ان دنوں کراچی میں غالباً پہلی آٹھ دس منزلہ عمارت ’’قمر ہائوس‘‘ کے نام سے تعمیر ہورہی تھی ،جب ہم اس کے قریب سے گزرے تو مسٹر غلام محمد کے یہ پوچھنے پر کہ یہ عمارت کون بنا رہے ہیں ، ایک دوست نے دست بستہ عرض کی کہ ’’حضور کے اقبال سے بن رہی ہے ‘‘ ۔ لکھتے ہیں کہ کچھ لوگ اس وقت ایک مسجد سے مغرب کی نماز پڑھ کر نکل رہے تھے تو دوسرا دوست گورنرجنرل کی جانب مخاطب ہوا ’’حضور کے اقبال سے آج کل مسجدیں خوب آباد ہیں ۔اتنے نمازی پہلے کبھی نہ ہوتے تھے ،یہ سب آپ کی برکت ہے ‘‘۔پھر قدرت اللہ نے خوب کہاہے کہ ’’اس ’’برکت‘‘کانزول برسوں بعد آج تک جاری ہے ‘‘ ۔ چڑھتے سورج کے یہ پجاری جب تک غلام محمد حاکم رہے ،سائے کی طرح اُن کے گرد منڈلاتے رہے ۔ حکومت چھن گئی تو پھر اُن کی خیر خبر پوچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ یہ کتنی دُرست بات بیان کی گئی ہے کہ خوشامد کی قینچی عقل وفہم کے پرکاٹ کے انسان کے ذہن کو پرواز سے محروم کردیتی ہے ۔خوشامدیوں میں گھرا ہوا انسان شیر کے قوام میں پھنسی ہوئی مکھی کی طرح بے بس اور معذورہوتاہے ۔ رفتہ رفتہ حواس معطل ہوجاتے ہیں او روہ وہی کچھ دیکھتا ،سونگھتا ،سنتا ،محسوس کرتا اور بولتاہے جو خوشامدی کیڑے کو کون کی طرح گھاس کے وجود میں پلتے رہتے ہیں۔جس کسی سربراہ مملکت کی کرسی کو خوشامد کا دیمک لگ جائے وہ پائیدار نہیں ہوتی ، اس کے فیصلے ناقص اوررائے دوسرے لوگوں کے قبضہ میں چلی جاتی ہے۔حاصل کلام یہ کہ کسی بھی سربراہ حکومت اور ذمہ دار ادارہ کو سب سے پہلے اس سنگین خطرہے اور ان دوست نما دشمنوں سے بچائو کی تدابیر کرنی چاہئے،گرچہ یہ بہت سنگین اور دشوار مرحلہ ہے ۔
 قرآنی تعلیمات کی یہ روح بھی سامنے رہے کہ حکمران علم سے بھی بہرور ہو اور جسمانی اعتبار سے بھی چاق وچوبند …وسیع معنی میں دیکھ لیا جائے تو وہ دنیا کے حالات سے واقف اور ہرآنے والے خطرے کو بھانپ کر دفاعی پیش بندی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتاہواور اس کے قوی بھی مضبوط ومستعد ہوں ۔مبادا اُس کی ثقاہت وکمزوری اہم فیصلے لینے میں حائل ،فریادیوں کی صدائیں سننے میں رکاوٹ اورمسائل کے حل میں اڑچن ثابت ہو۔ وہ اپنی رعایا کے جان ومال کا محافظ اور بیت المال کاا مین ہوتاہے ۔ وہ نہ تو کسی کے ہاتھ خزانہ کے ایک آدھ دیلے کی خیانت برداشت کرے اور نہ خود اس کا مرتکب ہو۔ اس سلسلے میں حضرت یوسف علیہ السلام کی حکمرانی وقیادت کا ایک مخصوص شعبہ ہمارے لئے گویا قرآن کی فراہم کردہ شاہ کلید ہے ۔حضور سرورکائنات کا ارشاد حضرت معقل بن یسارؓ کی روایت سے ہم تک پہنچاہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی شخص کو رعایا کا والی بنائے ، وہ اس حال میں مرے کہ اس سے کسی بددیانتی کا ارتکاب ہو اہو تو اس پر اللہ کی جنت حرام ہے ۔اس آئینے میں ہمارے تمام حکمران اور ان کے فیصلوں مین اہم کردار ادا کر نے والے اپنے کو خوب دیکھ لیں کہ آئینہ اصل صورت دکھائے گا ۔ حکمرانوں کے اوصاف میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ تند خُو اور سخت گیر نہ ہوں بلکہ خاکساری ،نرمی اور شفقت ،مروّت اورمحبت ورافت کے پیکر بنے پھر تے ہوں ۔یہی بات اس حدیث نبوی ؐ میں یوں بیان کی گئی ہے ۔’’بدترین حکمران وہ ہیں جو سخت گیرہوں ، تم ان میں شامل نہ ہو ۔ اور ان سے بچ کے رہو‘‘۔
یہاں ان عظیم ترین حکمرانوں اورخلفاء کے اندازِ حکمرانی اور خلق خدا سے محبت و مروّت اور دوست دشمن سے یکساں سلوک کے واقعات کو حوالہ قلم کرنے کا کام ہاتھ میں لوں جن کے دورِ حکمرانی کو دیکھ کر اب بھی فلک عش عش کررہا ہے ،تو یہ زریں داستان کہیں رُکنے کا نام بھی نہ لے گی ۔ حکمران واقعی کامیاب حکمرانی کے متمنی ہوں تو انہیں خود پیغمبر کریمؐ کی حیات طیبہ کا بحیثیت سربراہِ ریاست سنجیدہ مطالعہ کرناہوگا اور پھر اس سسٹم کو دیکھنا ہوگاجو خلافت راشدہ کے نام سے موسوم ہے اور پھر ان بہت سارے عادل وحق پسند حکمرانوں کے طرزِ حکومت وسلطنت کا جائزہ لینا ہوگا جو گرچہ خلفاء میں شامل نہ تھے مگر بہت حد تک انہی کا حکمرانی کا انداز اپناتے رہے ۔حضرت ابوبکرصدیقؓ کو دیکھ لیجئے کہ بہت رقیق القلب لیکن اس قدر مضبوط حکمراں کہ انتہائی نازک اوقات میں ایسے جرأت مندانہ فیصلے فرمائے کہ بڑے بڑے شیردل کلیجہ تھام کے بیٹھ گئے ۔ہاں! وہی ابوبکرصدیق ؓ کہ حضور جزیرہ نما عرب میں جس انقلاب کی تکمیل فرماگئے تھے ،اُن کے اڑھائی سالہ خلافت کے دوران اس کے از سر نو استحکام کا عمل بہ تمام وکمال پورا ہوااور بقول حضرت شیخ احمد سرہندی ؒ کہ مقام صدیقیؓ درحقیقت مقام نبوت ؐکا پَرتو کہئے یا سایہ ہے ۔دوسری جانب دیکھئے تو حضرت عمرؓبن خطاب سر یر آرائے خلافت ہوتے ہیں توخلق خدا کی خدمت ،اس کی روحانی واخلاقی تربیت اور سنتوں کی حفاظت پر ایسے کمربستہ ہوجاتے ہیں کہ شاید ہی کوئی رات چین سے سوئے ہوں ۔ شجاع وجری ایسا کہ قیصر وکسریٰ نام سن کر ہی پسینہ پسینہ ہوجاتیںلیکن خوفِ خدا ایسا کہ مجمع عام میں ایک کرتے کو زیب تن دیکھ کر لوگ ہدف ِتنقید بناتے ہیں کہ غنیمت کے مال میں سے ہم میں سے ہر ایک کو جو چادر مل گئی تھی اس سے تو کرتا نہیں بنتا ، یہ لمبا کرتا آپ لائے تو کہاں سے ؟بیٹا صفائی دیتاہے میں نے ابو کو اپنے حصہ کی چادربھی دی ہے جس سے ان کا کرتہ بن پایاہے تو یہ درویش عادل اعلان کرتاہے ’’لوگو! اب سنوگے نا میری بات ؟‘‘ اب سنیں گے اور اطاعت کریں گے، کی صدائے خلوص ہرجانب سے سنائی دی ۔ کیا آج بھی دنیا کے کسی حصے میں کسی مسلم حکمران میں اس قدر سخت تنقید برداشت کرنے کی ہمت ہے ؟ اصل میں تو ان قدسی نفوس کے دل میں آخر ت کی بازپرس کا وہ تصور تھا، جو انہیں ہر آن لرزہ براندام رکھتا تھا ۔اس لئے وہ کسی بھی معاملے میں صفائی دینے میں کوئی عارمحسوس نہیں کرتے تھے ۔ حضرت عثمانؓ ایک بڑے سرمایہ دار …لیکن دنیا سے بے رغبتی اس حدتک کہ ایثار اور خدمت خلق اللہ کے جذبے کے تحت وقت وقت پر اپنی بے شمار دولت لٹاتے رہے ۔ حضرت علیؓ کو دیکھئے اپنی خلافت کے زمانے میں قاضی کی عدالت میں پیش ہوتے ہیں ، دعویٰ اس لئے خارج ہوتاہے کہ گواہیاں بیٹے اور غلام کی ہیں اور عدالت ان دونوں کی گواہیاں قبول نہیں کرتی کیونکہ بیٹا تو بیٹا اور غلام تو بہرحال غلام ہے ۔ دعویٰ خارج کیا جاتاہے ۔ پھر اس خلیفہ کی فقیدالمثال مومنانہ شان دیکھئے ، فرحاں وشاداں فیصلہ تسلیم کرلیتے ہیں ۔، پھر نہ جج کی برطرفی کا حکم ہوتاہے اور نہ اس کے خلاف سازشیں اور نہ تبادلے کی بہانہ سازیاں۔ حکمران اس عظیم خلیفہ کو بھی دیکھ لیں جو خلافت سے پہلے دن میں تین تین دفعہ اپنی پوشاک بدل لیتاہے ۔ کسی سڑک وگلی سے گزرتا تو لوگ دیر تک اُس کی خوشبو سے محظوظ ہوتے ۔ وہ جس کا مسکن مدینہ کے ایک قصر میں تھا او رجس کے والد کے محلات مصر وشام ، عراق اوریمن میں بھی تھے ۔ ہاں یہ حضرت عمر ؓ کے نواسے جناب عمر بن عبدالعزیزؒ کی مبارک ذات تھی ، خلیفہ چنے گئے اب فاقے لگ گئے ، غذا بس جَو کی روٹی اور روغن زیتون تھا، سواریاں اور محلات چھوڑ دیئے اور خلق خدا کی خدمت میں اس انداز سے جٹ گئے کہ خود اپنی ذات تک کو بھی بھول گئے ۔
یقیناً آج کی دنیا بھی جنت نظیر بن سکتی ہے ،اگر حکمرانوں او رقائدین امراء اور عوام وخواص کے ذہن میں یہ بات رچ بس جائے جو قرآن نے اپنے بلیغ انداز میں کہی ہے ’’اصل زندگی کاگھرتودارِ آخرت ہے ،کاش یہ لوگ جانتے ‘‘۔ ( سورہ عنکبوت)
آہ !وہ بھی کیا وقت تھا کہ حکمران اپنے انجام سے ڈرتے تھے ۔ سلمان بن عبدالملک مدینہ منورہ آیا تو تلاش کسی صحابی ٔ رسولؐ کی ہوئی ۔حضرت ابوحازمؓ  تشریف لائے ۔سلیمان نے نصیحت ومشورہ کی درخواست کی تو آب زر سے لکھنے کے قابل ابوحازم کا یہ مشورہ آج بھی حکام کے لئے سرمۂ بصیرت وبصارت ثابت ہوسکتاہے کہ جو اس نے سلمان کو یہ کہہ کر دیا کہ ’’سلمان اللہ تعالیٰ کا خوف کرو کہ وہ تمہیں ایسی جگہ نہ دیکھے جہاں سے اس نے روکا ہے …اور تمہیں ایسا کام کرتے نہ دیکھے جسے اس نے ممنوع قرار دیاہے‘‘۔ ابو حازمؓ نے تو سمندر کو کوزے میں بند کرلیاہے ۔ہے کوئی صاحب اقتدار جواس سے فرمودۂ حق سے سبق لے اور ابدی انعام واکرام کا حق دار بن جا ئے ؟؟؟؟
فون نمبر9419080306
( ختم شد )