تازہ ترین

ادبی کنج جموں کابھیم رائو امبیڈکراور پدم دیوسنگھ کوخراج

21 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
 جموںّ// بھارتی آئینِ جمہوُریہ کے معمار بھارت رتن ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے127ویں یومِ ولادت (14اپریل) اور ڈوگری زبان کے معروف البیلے گلو کار وگیٖت شاعر پدم دیو سنگھ نردوش ؔ کے جنم دِن (13اپریل ) کے موقعہ پر سرکردہ کثیر اللثانی ادبی تنظیم  ’ادبی کنج جے اینڈکے جموں ‘ کے زیرِ اہتمام اِس کے ادبی مرکزکڈ زی سکول تالاب تِلّو جموّں میں ایک سُر مئی ادبی خراجِ عقیدت و ادبی نِشست کا اہتمام ہوا۔ جِس میں ریاست کے مختلف حِصّوں سے مختلف زبانوں کے قلمکاروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اِس خصوُصی نِشست کی صدارت کے فرائض ادبی کُنج جموّں کے چئیر مین آرشؔ اوم دلموترہ سرکردہ صحافی ادیب و شاعر نے سر انجام دِئے۔اِس نشست کی نظامت کے فرائض اِس بار ادبی کُنج کے سرکردہ ادبی رُکن بِشن داس خاکؔ نے انجام دِئے۔اِس موقعہ پر خالقِ آئین ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کوخراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے صدرِ تنظیم شام طالبؔ اور چئیرمین آرشؔ دلموترہ ودیگر مقررّین نے اپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ بابا صاحب ایک بلند پایہ کے دانشور ،سماج سُدھارک، ادیب اور معرکہ کے سیاستدان تھے۔ آپ ساری عُمرپسماندہ ودبے کُچلے طبقات کی فلاح و بہبوُد کے لئے سرگرم عمل رہے۔آپ نے بھارت میں دبے کُچلے سماج کو تعلیمی زیور سے آراستہ کرنے کے لئئے ہر ممکن کوِشش کی۔ِاِس دوُر کے دوُسرے حِصّے میںگیٖتوں کے بنجارے گلو کار شاعر پدم دیو سنگھ نِردوش کو یاد کرتے ہوئے اُن کی ادبی زندگی کے دوستانہ ماحول کو دوہرایا گیا۔اِس موقعے پرآپ کے اُستاد ڈوگری کے ناموَر غزل شاعر وید پال دیٖپ کے ساتھ جُڑے دلچسپ واقعات کو بھی دہرایا گیا۔ آپ ہماری ریاست کے ایسے ڈوگری شاعرہیں جنھوں نے ڈوگرہ لوگوں کے دِلوں میںاپنی شاعری کے ذریعے ایک خاص مقام حاصل کر لِیا ۔ اِس نِشست کے نثری دوُر میںایک پُر مغز اُردوُ پیپر ’ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر ور ہم‘ آرش اوم دلموترہ نے پیش کِیا ۔جبکہ ایک ڈوگری پیپر ’ گیٖتیں دا بنجارہ‘ شام طالبؔ نے پیش کِیا۔آج کے شعری دوَر کاآغاز پدم دیو سنگھ نِردوش کے ایک معروُف ڈوگری گیٖت ’ بگ بگ او چناہں دِئیا پانیاں‘ سے ہُوا ۔ جِسے گلو کار شاعر وید ؔ اُپل نے پیش کِیا۔اِس شعری دوَر میں بیشتر شعراء نے اپنے دیگر کلام کے ساتھمختلف زبانوں میں ڈاکٹر امبیڈکر اور نِردوش کی شخصیّت کے مختلف پہلوؤں پر اپنی نظمیں اور گیٖت بھی پیش کِئے۔ چند شعراء حضرات کے اِسمائے گرامی آرشؔ اوم دلموترہ ،انجینئر جگدیش چندر شرما،سنتوش شاہ نادان، عبدالجبّار بٹ ،ملک فیصلؔ،فوزیہ مُغل ضِیاؔ،بِشن داس خاکؔ، محمّد باقرصباؔ، معصوُم ؔکِشتواڑی ، رام پال ڈوگرہ پالیؔ، سنجیو کُمار، راج کمل، راجیو کُمار، رومیش راہیؔ، راکیش ترِپت ؔ، وِنود کاتب، راز ؔریاض سوہل ،راجن شمسؔ، اجے کُمار، ایس کے گُپتا پاگلؔ، منظور ؔبڈانہ، ایم ایل گنجوؔ، فرصل اور شام طالبؔ تھے۔ اِسی دوَر میں ماہ اپریل کے طرحی مِصرع ’ مِلے نہ پھوُل تو کانٹوں سے دوستی کرلی ‘پر طرحی غزلیں بھی پیش کی گئیں۔ نِشست کے آ خر میںتنظیم کے صدر شام طالبؔ نے شُکریہ کی تحریک پیش کی۔