تازہ ترین

مزاحمتی و مذہبی جماعتوں کا کولگام کے نوجوان کی ہلاکت پر شدید ردعمل

خون خرابہ روکنے کیلئے عوام کی امنگوں کا احترام ضروری:گیلانی

21 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
 
سرینگر//حریت (گ)،تحریک حریت، نیشنل فرنٹ،مسلم کانفرنس ، محاذ آزادی ،ینگ مینز لیگ ،انٹرنیشنل فورم فار جسٹس ، تحریک استقامت ،جمعیت اہلحدیث اورعوامی مجلس عمل نے زونگل پورہ کولگام کے نوجوان کے جاں بحق ہونے پررنج وغم کا اظہار کیا ہے۔مذکورہ نوجوان 9مئی کو پارلیمانی الیکشن کے دن بارسو گاندربل میں شدید زخمی ہوا تھا۔حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی نے اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکمرانوں کو اب جموں کشمیر میں الیکشن منعقد کرانے کے سلسلے کو ختم کرکے سنجیدگی سے اس تنازعے کے حل کی فکر کرنی چاہئے اور مزید خون خرابے کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ اس خطے کے لوگوں کی امنگوں اور آرزوو¿ں کا احترام کیا جائے اور انہیں اپنے مستقبل کے تعین کا موقع فراہم کیا جائے۔اپنے ایک بیان میں گیلانی نے 25مئی کو جنوبی کشمیر میں منعقد کرائے جارہے ضمنی انتخاب کو منسوخ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مزید انسانی زندگیوں کے اتلاف کا باعث بنے گا اور اس کے انعقاد پر بضد رہنے سے حالات زیادہ خراب اور زیادہ سنگین ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ گیلانی نے زنگل پورہ کولگام کے مزدور پیشہ نوجوان مظفر احمد میر کے لواحقین کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ” بھارت کی ضد ایک ایک کرکے ہمارے گھروں کے چراغ بُجھارہی ہے اور ہماری ماو¿ں کی کوکھ خالی کررہی ہے۔ صبح کوئی شخص اپنے گھر سے نکلتا ہے تو پھر اس کے واپس لوٹنے کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی ہے“۔ گیلانی نے کہا کہ بھارت کی اس اکڑ نے کشمیریوں کی نفسیات پر بھی اثر ڈالا ہے اور وہ اب ’کرو یا مرو‘ کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم تاریخ کے ہر دور میں امن پسند اور محبت کرنے والی قوم ثابت ہوئی ہے اور وہ یگانگت اور ہم آہنگی میں یقین رکھتی ہے، البتہ بھارت نے ان کی امن کی زبان پر کان نہیں دھرا ہے اور وہ پچھلے 70سال سے انہیں دھونس اور دباو¿ سے خاموش کرانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔گیلانی نے البتہ اس بات پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا کہ بھارت اپنی تمام تر طاقت کے باوجود کشمیریوں کا جذبہ¿ آزادی دبانے میں ناکام ہوگیا ہے اور آج جو کشمیر کی صورتحال ہے، اس نے دلی کے پالیسی سازوں کو ششدر کردیا ہے ۔ تحریک حریت کے جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی نے مظفر احمد میر کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے ” بھارت کی غلامی میں ہماری کوئی بھی چیز محفوظ نہیں ہے، چاہے وہ عزت ہویا عصمت ، جان ومال ہویا تہذیب و تمدن اور وہ چاہے ہماری دینی شناخت ہو“۔ایک بیان میںصحرائی نے کہا کہ جدوجہد کرنا ہمارے وجود کیلئے ہی ضروری نہیں ہے بلکہ اس کے بغیر کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔ صحرائی کی قیادت میں ایک وفدنے زنگل پورہ کولگام مظفر احمد میر کے گھر گیا اور لواحقین کے ساتھ تعزیت اور اظہارِ ہمدردی کیا۔ وفد میں الطاف احمد شاہ، محمد یوسف مجاہد، فاروق احمد شاہ اور محمد امین شامل تھے۔اس موقع پرتعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے صحرائی نے کہا کہ مظفر احمد میر ایک تحریکی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور موجودہ جدوجہد میں اس کے خاندان کو مسلسل عذاب وعتاب کا شکار بنایا جاتا رہا جس کی وجہ سے مرحوم کو اپنے آبائی گاو¿ں سے ہجرت کرکے گاندربل میں سکونت اختیار کرنی پڑی اور وہاں محنت مزدوری کرکے اپنے لیے روزی روٹی کماتا تھا۔انہوں نے کہا کہ حق پرست لوگوں کو ہی یہ مرتبہ نصیب ہوتا ہے کیونکہ ان کی تمنا بھی یہی ہوتی ہے کہ ان کا انجام حق پر ہو۔ تحریک حریت جنرل سیکریٹری نے فورسز کی طرف سے جاری ظلم وجبرکی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پوری وادی میں حیوانیت کا مظاہرہ کرکے نہتے اور ادھ کھلے پھولوں کو اپنے آہنی بوٹوں تلے روند ڈالا تاکہ قوم کو ان کی حق پر مبنی جدوجہد سے دستبردار کیا جاسکے۔اس دوران صحرائی نے زنگل پورہ کے ہی نذیر احمد لون صدر تحصیل تحریک حریت کے برادر کے انتقال پر ان سے تعزیت اور ہمدردی کی اور مرحوم کی جنت نشینی کے لئے دعا کی ۔ نیشنل فرنٹ چیئر مین نعیم احمد خان نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مظفر کی ہلاکت نے پوری قوم کے دل چھلنی کردئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مظفر احمد اور سجاد حسین جیسے نوجوانوں کی ہلاکتوں سے ساری وادی غم میں ڈوب گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف وادی ہی نہیں بلکہ جموں صوبہ کے اکثر خطوں میں بھی عوام ظلم و جور کے مہیب سایوں میںجی رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو لیکر تشویش کا اظہار کیا کہ پورے متنازعہ خطے کے اندر نوجوان نسل کو جسمانی طور معذور اور ذہنی طور مفلوج بنانے کی خطرناک کاروائیاں شدو مد سے جاری ہےں اور بھارت و اس کے مقامی حواری ہماری نوجوان نسل کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں ۔مسلم کانفرنس کے ایک دھڑے کے چیئرمین شبیر احمد ڈار، محاذ آزادی کے ایک دھڑے کے صدرمحمد اقبال میر ،ینگ مینز لیگ چیئرمین امتیاز احمد ریشی،انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے چیئرمین محمد احسن اونتو اور تحریک استقامت کے چیئرمین غلام نبی وار نے مظفر احمد میر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے قتل نا حق سے تعبیر کیا ۔جمعیت اہلحدیث نے کہا ہے کہ جہاں ساری وادی پھر ایک مرتبہ غم میں ڈوب گئی ہے وہیں ایک بے بس کنبہ کے واحد کفیل کی زندگی کا چراغ گل ہونے کے ساتھ ساتھ اس خاندان پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ گئے۔ بیان کے مطابق نہ صرف وادی بلکہ جموں صوبہ کے اکثر خطوں میں بھی عوام ظلم و جور کے مہیب سایوں میںجی رہے ہیں۔ عوامی مجلس عمل نے مظفر احمد کے والدین اور گھر والوں کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ۔تنظیم کاایک وفد قائمقام جنرل سیکریٹری جی این زکی کی قیادت میں زنگل پورہ کولگام گیا ۔ا س موقعہ پر تنظیم کے ضلع کولگام کے صدر عبدالسلام کھانڈے اور مقامی تنظیمی عہدیداران بھی موجود تھے ۔جی این زکی نے مظفر احمد کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے لواحقین اور پسماندگان کی ڈھارس بندھائی ۔انہوں نے کہا کہ فورسز کو کالے قوانین کی آڑ میں نہتے کشمیریوں کی قتل و غارت کی کھلی چھوٹ حاصل ہے تاہم ظلم و تشدد سے کسی قوم کی تحریک آزادی کو دبایا نہیں جاسکتا اور نہ مبنی برحق جدوجہد میں مصروف کشمیری قوم کو بے پناہ فوجی جماﺅ کے بل پر اپنی جائز جدوجہد سے دست بردار کیا جاسکتا ہے ۔