تازہ ترین

بانڈی پورہ ضلع ترقیاتی بورڈ کی میٹنگ سرینگر میں منعقد

۔ 105.53 کروڑ روپے کے سالانہ منصوبہ کو منظوری

21 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
 سرینگر// انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر مولوی عمران رضا انصاری کی صدارت میںبانڈی پورہ ضلع ترقیاتی بورڈ میٹنگ منعقد ہوئی جس میں سال2017-18 کے لئے اتفاقِ رائے سے105.53 کروڑ روپے کے کیپکس بجٹ کو منظوری دی گئی۔نائب سپیکر قانون ساز اسمبلی نذیر احمد گریزی، ارکان اسمبلی محمد اکبر لون، عثمان مجید، ضلع ترقیاتی کمشنر سجاد حُسین، مختلف محکموں کے سربراہاں اور ضلع افسر بھی میٹنگ میں موجود تھے۔میٹنگ میں ضلع ترقیاتی کمشنر نے ضلع میں گذشتہ مالی سال کے دوران عملائے گئے ترقیاتی کاموں کاخلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے برس کے دوران50.43 کروڑ روپے میں سے46.48 کروڑ روپے صرف کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے برس کے دوران ضلع میں23.21 کروڑ روپے کی لاگت سے9 سڑک پروجیکٹ مکمل کئے گئے۔ اس کے علاوہ پی ایم جی ایس وائی کے تحت52.39 کلو میٹر مسافت والے13 پروجیکٹ بھی مکمل کئے گئے۔مختلف شعبوں کی حصولیابیوں کا جائیزہ لیتے ہوئے وزیر موصوف نے افسروں اور عمل آوری ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کے لئے مزید تندہی اور لگن کے ساتھ کام کریں۔ وزیر موصوف نے متعلقہ حکام سے کہا کہ وہ تعمیرات عامہ ، صحت، تعلیم، پی ڈی ڈی، بغبانی، زراعت اور دیہی ترقی کے شعبوں کی طرف خصوصی توجہ دیں۔میٹنگ میں ارکان اسمبلی نے اپنے اپنے علاقوں کے مسائل اُجاگر کئے۔وزیر جو ضلع ترقیاتی بورڈ بانڈی پورہ کے چیئرمین بھی ہیں، نے ضلع ترقیاتی کمشنر کو ہدایت دی کہ وہ جاری ترقیاتی پروجیکٹوں کے کام پر برابر نظر گذر رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ پروجیکٹ مقررہ مدت کے اندر اندر مکمل کئے جائیں۔
 

بورڈ میٹنگ سرینگر میں کرنے پر عوام برہم

کہا حکمرانوں کو خستہ حال سڑکوں پر سفر کرگوارا نہ ہوا

بانڈی پورہ //عازم جان //بانڈی پورہ ضلع کی سالانہ بورڈ میٹنگ ایک بار پھر ضلع سے باہر سرینگر کے بینکٹ ہال میں منعقد کئے جانے پر ضلع کے عوام نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے بانڈی پورہ عوام کے ساتھ بھونڈا مذاق سے تعبیر کیا ہے۔ اگرچہ ضلع بانڈی پورہ میں کثیر رقم سے ضلع کے منی سیکریٹریٹ میں عالی شان ممیٹنگ ہال تعمیر کیا گیا ہے اور بورڈ میٹنگ سے قبل ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ سجاد حسین گنائی کی قیادت میں ضلع سطح کی جائزہ مٹنگ بھی منعقد کی گئی ۔ اس سے بھی قبل بھی بانڈی پورہ کی ڈیولمنٹ بورڈ میٹنگ 4 مرتبہ گاندربل اور سرینگر میں منعقد ہوئی جبکہ جب بانڈی پورہ کے یہ تین تحصیل بارہ مولا ضلع کے ساتھ منسلک تھے تو1997 میں چترنار بانڈی پورہ کے مقام پر ضلع ڈیولمنٹ بورڈ مٹنگ منعقد ہوتی تھی۔بانڈی پورہ کے سرکردہ تاجر سابقہ میونسپل کمیٹی کے چیئرمین غلام محی الدین میر نے بورڈ میٹنگ کوسرینگر منتقل کرنے کے سلسلے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانڈی پورہ کی بورڈمیٹنگ کو دوسرے ضلع میں منتقل کرنا بانڈی پورہ عوام کے ساتھ کھلواڑ ہے اور منتخب نمائندوں پر سوالیہ نشان ہے ۔انہوں نے کہا کہ بانڈی پورہ ضلع کو مجموعی طور پر پسماندہ رکھا گیا ہے جن نمائندوں کو چنا وہ بھی کھرے نہیں اترے ہیں ۔سرینگر بانڈی پورہ خستہ حال شاہراہ سرکار اور منتخب نمائندوں کی ناکامی کیتصویر ہے ۔ بانڈی پورہ ٹریڈرس فیڈریشن کے صدر شمشاد احمد نے کہا کہ بانڈی پورہ کی بورڈ میٹنگ سرینگر منتقلکرنا عوام کے ساتھ ایک مذاق ہے ۔انہوں نے کہاکہ بورڈ میٹنگ اس لئے شفٹ کی گئی ہے کیونکہ بانڈی پورہ سرینگر ناگفتہ بہ سڑک کےذریعے اعلی افسران اور وزراءوایم ایل اے کو میٹنگ میں شامل ہونے کے لیے تکلیف پہنچتی ہے اسی لئے سرینگر میں ہی بورڈمیٹنگ منعقد کرنے میں عافیت سمجھی گئی ہے ۔