تازہ ترین

میر واعظ عمر کی ایک یادگارتقریر

کشمیر درد کا قصہ ہے کشمیر کرب کا افسانہ

22 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

راوی: سیدالرحمن شمس
 نوٹ : یہ تحریرہاوڑ یونیورسٹی امریکہ میں پاکستان ہاوڑ فورم(PHF) کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام سے حریت چیرمین جناب میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کا ویڈیو لنک کے ذریعہ خطاب کا متن پر مشتمل ہے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
 دوستو!
سب سے پہلے میں Pakistan Havard Forum  (PHF)کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے مجھے  اس موقر ومحترم مجمع ٔ سامعین کے سامنے اپنے خیالات کے اظہار کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ واقعی مجھے آپ کے سامنے بیٹھ کر آپ سے تبادلۂ خیال کرنے اور سیاسی معاملات پر اپنا نقطہ نگاہ پیش کرنے میں بڑی مسرت ہوتی لیکن چونکہ میں گزشتہ ایک مہینے سے اپنی رہائش گاہ واقع سری نگر میں نظربند کر دیا گیا ہوں ،ا س لئے آپ سے بذریعہ ویڈیو لنک مخاطب ہو نے کا شرف پارہوں۔ میرے اوپر بے جا قدغنیں اور پابندیاں عائد کرنا حکومت کا معمول بن چکا ہے ۔ پچھلے 27؍سال سے حکومت تمام مسلمہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کو بالائے طاق رکھ کر من مانے طریقے سے میری گرفتاری اور خانہ نظر بندی کاسلسلہ جا ری رکھے ہوئی ہے ،یہاں تک کہ کئی سال سے نماز عیدین ادا کرنے سے بھی روکا جاتا ہوں۔ میرا پاسپورٹ کئی سال سے بند ہے اور اس طرح مجھے عالمی برادری تک پہنچنے سے بہ جبرروکا جا رہا ہے۔ حکومت ہند کی طرف سے اسی طرح کا ناروا سلوک جملہ مزاحمتی قیادت اور کارکنان سے روا رکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ قیادت کشمیر کی موجودہ سیاسی پوزیشن کو تسلیم نہیں کرتی اور دیرینہ حل طلب مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق ،جس میں کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ کے مطابق حل کر نے کی خواہاں ہے۔ سات لاکھ سے زائد بھارتی ا فواج خطہ ارض کشمیر پر قبضہ قائم رکھے ہوئی ہیں اور یہاں کے عوام کو ان کی مرضی کے خلاف ساتھ رکھنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے جس سے کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوجی جمائو والا علاقہ بن گیا ہے۔ AFSPA، PSA، DAAجیسے کالے قوانین کے تحت بغیر کسی جوابدہی  اور مواخذہ کے ان فوجیوں کو عوام پر کوئی بھی ظلم ڈھانے کیلئے کھلی چھوٹ دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں پچھلے ستر سال میں عموماً اور پچھلی تین دہائیوں سے خصوصاً کشمیر میں کئی ایک مر تبہ قتل عام صرف اس وجہ سے ہوئے کیونکہ کشمیری لوگ برملا طور حصول خود ارادیت کیلئے آواز اٹھاتے رہے۔ 
 کشمیر میںایک لاکھ سے زائد افراد کو اب تک شہید کر دیا گیا ہے، دسیوں ہزار کو دوران ِحراست لاپتہ کر دیا گیا ہے ۔ ہزاروں کی تعداد میں افراد کو سخت ترین تعذیب( ٹارچر )سے گزارا گیا۔ بے شمار انسانوں کوبینائی سے محروم کیا گیا ، خواتین کی بے حرمتی اور آبرو ریزی کی گئی اور آج بھی ہزاروں کی تعداد میں کشمیری پابند سلاسل ہیں ۔اتنا ہی نہیں یہاں کے قدرتی وسائل اور معیشت کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔ 
دوستو! سرکاری فورسز کے ذریعے ڈرانا دھمکانا اور بے عزتی سے گزارنا عام کشمیر ی کی زندگی کا روز مرہ کا معمول بن گیا ہے۔ کشمیر پر جابرانہ قبضے کی ایک زندہ مثال تمام طرح کے ظلم و ستم یہاں پر رائج ہیں اور پرامن طریقے سے اظہارِ مزاحمت اور احتجاج کیلئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور حکومت کی طرف سے دھمکی آمیز اعلانا ت روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں ۔ باہری دنیاسے مواصلاتی رابطوں کو بیشتر اوقات منقطع کیا جاتا ہے تاکہ باہری دنیا تک یہاں کے حالات نہ پہنچ سکیں ۔ بھارت کا زیادہ تر میڈیا بھارتی حکومت کی پروپیگنڈہ مشینری بن چکا ہے۔ بھارت نے کشمیری عوام کے خلاف عملی طور پر اعلان جنگ کیا ہو اہے ۔ 2008، 2010ئکے زبردست عوامی احتجاج اور 2016ئکے موسم گرما کی عوامی شورش کو ظالمانہ جبر و تشدد سے کچلنے کی کوشش کی گئی ۔ 2016ئمیں اس سلسلے میں تمام حدیں پار کی گئیں ، صرف چار ماہ میں 120؍نہتے شہریوں کو جن میں بیشتر بچے اور نوجوان تھے کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ 15؍ہزار کو زخمی کیا گیا جن میں کئی افراد کے اعضا ء مکمل طور بے کار ہو گئے ۔ ایک ہزار سے زائد افراد کو پیلٹ فائر کے ذریعے جزوی یا مکمل طور پر بینائی سے محروم کر دیا گیا جب کہ بیس ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر دیا گیا ۔ یہ ظلم و ستم روز مرہ بنیادوں پر جاری ہے۔ بے جا گرفتاریاںاور جوانوں پر تشدد سرکار کی پالیسی کا حصہ ہے تاکہ عوام کو اپنے حق سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جائے۔ 
1947سے مسلسل جاری اس تمام ظلم و جبر کے نتیجے میں آج ہماری چوتھی نسل اس آتشیں ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے۔ ایسے ماحول میں پل کر یہ نسل اپنے حق کے حصول کیلئے بے تابی سے باہر نکل کر مطالبہ کرتی ہے اور جواب میں گولیاں اور ناقابل یقین تشدد پا تی ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے پڑھے لکھے نوجوان مسلح جدوجہد پر بھی آمادہ ہو جاتے ہیں ۔ یہ دونوں صورتیں ہمارے لئے گہری تشویش کا باعث ہیں کیونکہ ہم اس طرح اپنی نوجوان نسل کو کھو رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں یہاں ہمیں ایک بار اوربھارتی پارلیمان کے لئے ضمنی انتخابات کے نام نہاد عمل سے گزارا گیا ، پولنگ کے روز فورسز نے8 نوجوانوں کو شہید( یہ تعداد یہ سطور لکھنے تک9  ہوگئی ہے )جب کہ سینکڑوں کو زخمی کردیا، کیونکہ نوجوان اس نام نہاد انتخابی عمل کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔ 7؍فیصد سے کم شرح پولنگ نے بھارت کے جابرانہ قبضہ کو اعلانیہ طور مسترد کردیا۔ اگر چہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 1951اور 1959کی قراردادوں میں کشمیر میں حکومت سازی کیلئے کسی بھی انتخابات کو کشمیر کے سیاسی تنازعہ پر اثر انداز ہونے سے مبرا رکھا ہے کیونکہ یہ مسئلہ ایک آزادانہ رائے شماری کے تابع رکھا گیا ہے تاہم حکومت ہندوستان یہاں کے انتخابات کو اپنے حق میں رائے عامہ کے اظہار کے طور پر پیش کر کے بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرتی آرہی ہے اور آج عوام کے مکمل بائیکاٹ نے اس غبارے کی ہوا نکال دی۔ 
دوستو! جیسا کہ آپ بخوبی واقف ہیں کہ مسئلہ کشمیر بنیادی طور یہاں کے عوام کے حق خودارادیت کا مسئلہ ہے ہماری جدوجہد کی بنیاد حصول انصاف و عزت وآبرو ہے۔ ہم ایک ایسے ملک میںجو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا آیا ہے، کے مسلسل تشدد اور جارحیت کا شکار ہیں اور جو تمام ظلم و جبر کے ہتھکنڈے استعمال کر کے ہمارے بنیادی حق، حق خودارادیت سے ہمیں دستبردار کرانا چاہتا ہے اس مسئلے کو حل کرنے اور ہماری سیاسی امنگوں اور خواہشات کی تکمیل کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ ایک بھرپور کردار ادا کرکے جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ کئے گئے دعدوں کو جس میں ایک آزادانہ استصواب رائے کا طریقہ درج ہے یا پھر اس مسئلے کے بنیادی فریقین کشمیری عوام ، بھارت اور پاکستان کے ما بین مذاکرات کے ذریعے حل کرانے کے لئے اقدامات کرے۔ 
حکومت ہندوستان اس مسئلے کے منصفانہ حل میں مکمل عدم دلچسپی کا مظا ہر ہ کر رہی ہے اور اس امر پر بضد ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے ۔ پچھلے ستر سال سے ہم ایک مسلسل جدوجہد کے عمل سے گزر رہے ہیں اور یہ عمل جاری ہے ۔ پاکستان اس تنازعہ کے فریق ہونے کی حیثیت سے ہماری جائز جدوجہد کو اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی سطح پر مدد کرتا آیا ہے۔ نیز حکومت ہندوستان سے اس مسئلے کے یہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیلئے مذاکرات کی میز پر آنے کیلئے کہہ رہا ہے لیکن ہندوستان کاطرز عمل ہمیشہ منفی رہا ہے ۔حکومت ہندوستان ہماری دیرینہ جدجہد کو دہشت گردی سے جوڑ کر اس کو بے جواز اور غیر منصفانہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ 9/11کے اسلام فوبیا ماحول میں یہ جواز وہ بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کیلئے اسے پر کشش محسوس ہوا ،جب کہ اس کی یہ فسانہ تراشی حقیقت سے کوسوں دور ہے ۔ کشمیر ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہونے کے سبب حکومت ہندوستان کی یہ کوشش ہے کہ کشمیریوں کو دہشت گرد اور تشدد پسند ثابت کیا جائے۔ ہم کشمیری انتہائی مشکلات اور مصائب کے شکار ہیں ۔ہماری زندگی اور ہمارا مستقبل دائو پر لگا ہوا ہے ، یہاں پر ایک دھماکہ خیز صورتحال پیدا ہو گئی ہے ، سیاسی منظر نامہ انتہائی غیر مستحکم ہے اور بین الاقوامی برادری کی بروقت مداخلت کے بغیر یہاں انتہائی خطرناک اور تباہ کن نتائج کا برآمد ہونا یقینی نظر آتا ہے ۔ 
 مر سلہ : کل جماعتی حریت کانفرنس جموں وکشمیر۔ سری نگر