تازہ ترین

اروناچل کے نام تبدیل کرنے کا معاملہ

بھارت کا شدید ردعمل،علاقہ ہمارا حصہ: نائیڈو

21 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
 نئی دہلی //بھارت نے چین کے اس فیصلے پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ چین کے اس فیصلے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اروناچل پردیش بھارت کی ریاست ہے چین کی نہیں۔ مرکزی وزیرونکیا نائیڈو نے کہا کہ اروناچل پردیش کی ایک ایک انچ بھارت کی ہے،بھلے ہی چین نام تبدیل کرے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔انکا کہنا تھا کہ یہ اس طرح ہے کہ آپ ہمسائیہ کا نام بدل دیں۔واضح رہے کہ چین نے اپنی جنوبی سرحد پر ارونا چل پردیش کے کئی علاقوں کے نام تبدیل کر دیئے ہیں۔ منگل کوکیا گیا یہ اعلان بظاہر تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لاما کے ان علاقوں میں دورہ کرنے کے ردِعمل میں کیا گیا ہے۔رواں ماہ 81 سالہ دلائی لاما نے بھارت کے شمال مشرقی دور افتادہ علاقے اروناچل پردیش کا دورہ کیا تھا۔چین کا کہنا ہے کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر منفی اثر پڑا ہے اور انہوں نے بھارت کو چینی مفادات کو نقصان پہنچانے سے خبردار کیا۔چین کے اس اقدام کے بعد بھارت نے ابھی تک ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔تاہم بھارت کا موقف ہے کہ دلائی لاما کا دورہ صرف مذہبی وجوہات کے لیے منعقد کیا گیا۔ انہوں نے اس ریاست کے 1983، 1997، 2003 میں دو مرتبہ، اور 2009 میں سرکاری دورے کیے ہیں۔چینی کا کہنا ہے کہ چین نے جنوبی تبت میں 6 مقامات کے نام کو سٹینڈارڈ بنا دیا ہے جو کہ چینی علاقے ہیں مگر ان میں سے کچھ کو ابھی انڈیا کنٹرول کر رہا ہے۔چین نے یہ اعلان دلائی لاما کا ایک ہفتہ طویل دورہ ختم ہونے کے ایک روز بعد کیا ہے۔چین نے کہا ہے کہ چھ مقامات کا نام وہی رکھا گیا ہے کہ کئی دہائیوں قبل انکے نام تھے اور تاریخ کے اوراق میں بھی یہی نام درج ہیں۔چین نے قدیم نقشے کا بھی حوالہ دیا جس کے مطابق اروناچل پر اسکا دعویٰ مناسب قرار دینے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔یہ پہلی بار ہے کہ چین نے متنازع علاقے میں کسی مقام کا نام تبدیل کیا ہو۔یاد رہے کہ حال ہی میں انڈیا نے تائید کی تھی اس کا یہ موقف برقرار ہے کہ تبت چین کا حصہ ہے۔