تازہ ترین

دھنوں میں طبی سہولیات کا فقدان

سب ہیلتھ سنٹرقائم کرنے کامطالبہ

21 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

طارق ابرار
جموں//اگرچہ حکومت دیہی علاقوں میں طبی خدما ت کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے لیکن اس کے باوجود تمام تردیہی علاقہ جات تک محکمہ صحت کی رسائی ممکن نہیں ہوسکی ہے۔ اکیسویں صدی جسے کمپیوٹر اورٹیکنالوجی کادورکہاجاتاہے میںربھی یاست جموں وکشمیرکے بے شمارایسے دیہی علاقہ جات ہیں جہاں آج تک طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث لوگوں کو سخت پریشانیوں کاسامناکرناپڑرہاہے۔تحصیل بھلوال اوربلاک متھوارکے کیری گائوں میں اگرچہ پرائمری ہیلتھ سنٹر قائم کیاگیاہے لیکن اس کی تعمیرمکمل ہونے کے باوجوداس کوباقاعدہ قابل نہیں بنایاگیاہے ۔کیری کے قریبی دیہات کے لوگوں کیلئے پی ایچ سی کاقیام کافی خوش آئند بات ہے لیکن کیری سے 8 ۔10 کلومیٹرکے فاصلے پرواقع گائوں دھنوں میں کوئی بھی سب ہیلتھ سنٹر قائم نہیں کیاگیا ہے جس کی وجہ سے متعلقہ گائوں کے لوگوں کومعمولی علاج ومعالجہ کی خاطر دس کلومیٹرکے قریب کی مسافت طے کرکے کیری پی ایچ سی آناپڑتاہے۔ دھنوں کے لوگوں نے متعددبار حکومت سے مانگ کی ہے کہ دھنوں جوکہ ہزاروں نفوس پرمشتمل آبادی پرمشتمل ہے میں سب ہیلتھ سنٹر قائم کیاجائے لیکن متعلقہ حکام نے اس جائز عوامی مطالبہ کی طرف سنجیدگی کامظاہرہ نہیں کیاہے۔ دھنوں کے معززشہریوں نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ دھنوں کے لوگوں کو معمولی علاج ومعالجہ کیلئے پی ایچ سی کیری یاپھر اکھنور آناپڑتاہے جوکہ مریضوں کیلئے باعث اذیت وپریشانی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگرمحکمہ صحت کی طرف سے دھنوں میں سب ہیلتھ سنٹر قائم کیاجاتاہے تولوگوں کوطبی سہولیات کیلئے دسیوں میل سفرکرنے کی  پریشانیو ں سے نجات مل جائے گی ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ گائوں کی بیشترآبادی کاپیشہ زمینداری ہے اورکھیتوں میں کام کرتے ہوئے اکثر کسانوں کو سانپ ۔بچھوکے ڈسنے کاخطرہ رہتاہے ۔اس کے علاوہ برسات کے دنوں میں بھی اکثرسانپ بچھوباہرنکل آتے ہیں اوراگرکسی شخص کو سانپ یابچھوکاٹ لے تواسے دس کلومیٹرکی مسافت طے کرکے پی ایچ سی کیری یاپھر اکھنور جاناپڑتاہے اوراتنے طویل سفرکے دوران مریض کی جان جانے کاخطرہ ہوتاہے ۔ مقامی لوگوں نے حکومت بالخصو ص وزیر صحت بالی بھگت اور رکن اسمبلی نگروٹہ سے اپیل کی ہے کہ دھنوں میں سب ہیلتھ سنٹرقائم کرکے لوگوں کی دیرینہ مانگ کوپوراکیاجائے تاکہ لوگوں کو طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث پریشانیوں کاازالہ ہوسکے۔