تازہ ترین

’’جن سینا‘‘ دیوانے کی بڑ

تمہارے پارسا دیکھے چلو اب رند دیکھیں گے

1 مئی 2017 (00 : 01 AM)   
(      )

عبدالرافع رسول۔۔۔اسلام آباد
یہ ایک ناقال فہم رعونت اور افلاس تدبر کا واضح ثبوت ہے کہ بجائے اس کے اربابِ اقتدار کشمیر مسئلہ کا حل معرض ِ التواء میں نہ ڈال کر کوئی اچھی شروعات کر تے، بھگوا تنظیموں کے کٹر پنتھی نیتا ؤں کو کھلا کراب کشمیر کے برہم نوجوانوں اور نارض طلبہ وطالبات کے خلاف ’’جن سینا ‘‘ جتھے بناکر وادی بھیج دینے کے اعلانات کرائے جا نے لگے ہیں ۔ ان زعفرانیوں سے کوئی پوچھے کہ کیا کشمیر میں برسر پیکار 10؍لاکھ بھارتی فورسز کم پڑے ہیں جو ایک مندر کے مہنت پجاری سادھوارون پوری کو اعلان کر نا پڑاکہ وہ وادی کشمیرمیںبھارتی فوج، پولیس اور سی آر پی ا یف پرپتھرائوکرنے والے کشمیری نوجوانوں کو ’’چھٹی کا دودھ یاد دلانے ‘‘ کیلئے پجاریوں اور شردھالوؤں پرمشتمل رضاکارملیشیا ’’جن سینا‘‘کشمیربھیج دے گا ۔ کانپور کے بڑے مندر’’سدھا ناتھ‘‘ کے پجاری سادھوبال یوگی ارون پوری نے مبینہ طور 13,000 عقیدت مندوںپر مشتمل اپنی رضاکارفوج تیارکی ہوئی ہے ۔پجاری جی کا دعویٰ ہے کہ سادھوئوں کی یہ سینا کشمیرمیں تعینات بھارتی فوج، نیم فوکی دستوں اور پولیس کے دوش بدوش کشمیرکے ان ناراض وبرہم نوجوانوں کے خلاف دوبدو لڑائی لڑے گی جوپتھرپھینک پھینک کروردی پوشوں کو بے دست وپا کرچکے ہیں ۔ اس اعلان سے یہ تاثر مل رہاہے گویا لاکھوں نفری پر مشتمل وردی پوش کشمیر میں خود کو ذہنی تناؤ میں ہیںاور حالات کو قابو میں لانے میں ناکام ہوئے ہیں ۔ حالانکہ سچ یہ بھی ہے کہ کشمیرمیں اپنی تعیناتی سے فوجی ا ور نیم فوجی اہل کار نفسیاتی دباؤ میں آکر کبھی یا تو اپنے افسروں اور ساتھیوںپر دھاوا بول رہے ہیں ،کبھی خود اپنا کام تما م کر رہے ہیں ۔ مذکورہ پجاری کاکہناہے کہ بقول اس کے اس نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اس مشن کے حوالے سے کہا ہے کہ سدھا ناتھ مندر کی اس رضاکار فوج ’’جن سینا‘‘ کو کشمیر جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہاں پر یہ بھارتی کی ریگولر فوج اور نیم فوجی دستوں کو پتھروں کا نشانہ بنانے والے کشمیری نوجوانوںکو سبق سکھائے ۔ اب چشم فلک کو یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ سینا کشمیر میں سیکورٹی کے حصا ر میں داخل ہوکر مرلی منوہر جوشی کی طرح بڑے طمطراق سے لال چوک سری نگر میں ترنگا لہرا نے کا کمال کر ے گی تاکہ واپس وطن لوٹ کر فتح کشمیر کر نے پر بلیاں اچھلے یا کشمیر میں کون خرابہ کر کے یہاں کے وسیع قبرستانوں کچھ اور قبریں جوڑ کرا پنی’’ ویرتا‘‘ کا جشن منائے گی ۔
  حق بات یہ ہے کہ 1990 ء سے مسلسل جبر وتشدد کی آندھیوں کے ماحول میں آنکھ کھولنے والی کشمیر کی تیسری نسل خون آشام حالات میں پلی بڑھی اور تیغوں کے سائے میں جوان ہوئی ہے ۔ ان حالات میں اہل کشمیر سے دودوہاتھ لڑنے کے لئے کشمیر میں افسپا کا نفاذ اس وقت کے وزیراداخلہ کی حیثیت سے مفتی محمد سعید کروایا جس کے نتیجے ابھی تک ایک لاکھ سے زائد انسان حیات ِ جاوداں پاکر شہیدمقبروں اور بے نام قبروں میں ابدی نیند سوئے ہوئے ہیں۔ کشمیر میں سات لاکھ فوج ،نیم فوجی دستے اور پولیس کی بھاری نفری کے علاوہ اخوان اور سیاسی بازی گروں کا ستائیس سال سے مشترکہ مشن یہی رہا کہ کسی طرح کشمیر کی تحریک مزاحمت کو طاقت کے فولادی ہاتھوں سے کچلا جائے ، بد ترین انسانی حقوق کی پامالیوں کا خوف اور خواتین کی بے حرمتی کا ڈر دلوں میں بٹھا بٹھاکر کشمیر کو واپس دلی کے قدموں میں ڈالا جائے ، کشمیری قوم کو آزادی مانگنے اور عزت وآبرو سے جینے کی خواہش پر وہ کڑی سزا دی جائے کہ اس کی آئندہ کی نسلیں یاد کریں گی تو سر جھکائے غلامی ا ور ذلت کو قبول کرنے میں اپنی عافیت سمجھیں۔ یہی وہ مشن کشمیر ہے جس کی آبیاری کے لئے جگموہن، گریش چندرسکسینہ، کرشناراؤ سمیت ڈاکٹر فاروق عبداللہ، مفتی محمد سعید ، غلام نبی آزاد، عمر عبداللہ اور اب محبوبہ مفتی کے سر عاریتاً وزارتوں کا سہرا باندھا جاتارہا۔ اسی پس منظر میں کشمیر۹۰ء تا ۲۰۱۷ء ایک دہشت زدہ کم نصیب خطہ ، زمین ِبے آئین اور غیر یقینی حالات کی موجوں میں ہچکولے کھاتا ہوا علاقہ بنا رہا ہے اور یہاں گن گرج، ظلم وستم ، پکڑ دھکڑ، آتش زنیوں اور مستورات کی سرچادریں چھینے جانے کے اسی قابل نفرین ماحول میں پیدا ہونے والی کشمیرکی نئی نسل نے اپنی ہر صبح کو بطور صبحِ کربلا دیکھاا ور ہر شام کو شام غریباں پایا۔اس کی ذہنی ساخت اور نفسیاتی کیفیات اسی فضا کی پرورش وپرداخت کی رہین ِ منت ہے ۔ یہ نسل واضح طور پر بے خوف ہے، موت کے ڈر ، ہر قسم کے دھونس اور دبائو سے آزاد وبالاتر ہے، اسے یہ غم نہیں کہ اگلے لمحے اس کی زندگی کو کن حالات کے ساتھ سابقہ پیش آنے والا ہے، یہ نسل بے خوف وخطر اپنے لئے جینے کے امکانات ڈھونڈنے کے لئے موت کی آنکھوں سے آنکھں ملا کر بات کر نے سے بھی نہیں ڈرتی نہ ماقابلہ آرائی سے گریزاں ہے۔ ظاہر ہے اس نسل کی بے خوفی کے پیچھے اصل راز یہ ہے کہ ا س نے بچپن سے لے کر آج تک ماردھاڑ ، اذیت پسندی، ستم رسیدگی ،مجروح و مضروب قلوب ، آہوں اور آنسوؤں کا تسلسل اور تباہ حال کشمیر میں سرکاری بندوق کی دھماچوکڑیاں دیکھی ہیں۔ کشمیرکی اس نوجوان نسل نے آج تک اپنے چہار سو نہ صرف قبرستان ہی قبرستان آباد ہوتے دیکھے ہیں بلکہ روزانہ خون آ غشتہ لاشیں آسودہ ٔخا ک ہوتی دیکھیں۔کشمیرکی اس نوجوان نسل نے آتش و آہن اور خاک و خون کے ماحول کو اپنی آنکھوں سے پروان چڑھتے دیکھا اور آج بھی  یہ خون کے دریاؤں کومسلسل عبور کررہی ہے۔مبصرین بہت پہلے کہہ چکے تھے کہ جب کشمیری کی نسل نوکے صبر کے لبریز سمندر کا بند ٹوٹ جائے گا تو وہ ریت کے تمام گروندھے بہا لے جائے گا   ؎
ادھر آستم گر آہنر آزمائیں
تو تیر آزما، ہم جگر آزمائیں
دلی کی طرف سے کشمیرکی اس نوجوان نسل کے لوح ذہن سے آزادی کا تصور خوف ودہشت اور تہذیبی جارحیت کے وسائل سے محو کرنے کے لیے جتن پر جتن کئے مگر نہ اس کا آپرویشن سدبھاؤنا اور وطن کی سیر جیسا تماشہ اس نوجوان کو ا پنے آپ سے غافل کرسکا، نہ اس کے سامنے شاہ فیصل اور زائرہ کو رول ماڈل بنانے کی منصوبہ بند کا وشیں کوئی اثر دکھا سکیں۔ اس کے سامنے طفیل متو سے لے کر انشاء اور اقراء بشیر تک پھیلے پھول چہروں کے مصائب اور کہانیاں بن رہی ہیں اور وہ انہی میں کھویا ہو اہے ۔ کشمیر کی نوجوان نسل کو اپنی ملّی شناخت ،صلاح و فلاح اور عدل وآدمیت کے گلستان سے نکال کرخالص زعفرانیت کے رنگ میں رنگنے کی نا کام تگ و دو بھی پہلے این سی پھر پی ڈی پی کے ہاتھوں کی گئی مگر بے سود ۔ کشمیرکی اس ناراض نوجوان نسل کو اپنے کشمیر کی جڑوں سے اکھاڑنے کے لئے مختلف فلسفہ بگارے گئے اوراُسے خاموشی سے طاقت کے سامنے سر بسجود ہونے سکھانے کی کوششیں بھی کی گئیں مگر لاحاصل۔ ایک موقع پروادی کشمیر اسے گاندھیائی فلسفے کے پاٹھ سے اپنے قومی کاز سے منحرف کر نے کی سعی لاحاصل کی گئی لیکن اس کے باوجود اس نے اس دیرینہ ٹکراؤ  اور آویزش پر سوچنا نہ چھوڑا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ وقت کے چوٹی کے کانگریسی لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح کا نبھاہ گاندھی جی کے ساتھ نہ ہوسکا؟ کیوں برطانوی سامراج سے نجات حاصل کرنے والے دونوں قوموں کے یہ دوبڑے لیڈر متحدہ ہندوستان کو اکٹھے ہو کر تعمیر نہ کر سکے ؟کیوں بڑے پیمانے پر ہندوستان کے مسلمانوں نے جان ومال کی مثالی قربانیاں پیش کر کے ایک الگ مملکت کاقیام عمل میں لایا؟ کشمیرکی نئی نسل یہ بھی سوچتی ہے کہ برہان مظفر نے بندوق کا مقابلہ بندوق سے کیا مگر ان کے بھائی خالد مظفر کا ’’جرم ‘‘ آخرتھا کیا کہ فوج نے ان کو شہید کیا ؟ آسیہ اور نیلوفر کے قاتلوں کی پردہ پوشی کیوں کی گئی ؟ ۸ ؍ جولائی کو اگر برہان مظفر کے جان بحق ہونے پر کشمیر میں سوگواری کی لہر دوڑ گئی تو اس کو توڑنے کے لئے کیوں ایک سو سے زائد کشمیری نوجوانوں کو موت کی نیند سلادای گیا ؟ کیوں پیلٹ حملوں سے ہزاروں کی بینائیاں چھین لی گئیں ؟ کیوں ہزاروں نوجوانوں کو جیلوں اور تعذیب خانوں میں ٹھونس دیا گیا ؟این آئی ٹی سے لے کر ہندوارہ چوک تک کیوں کشمیریوں کو پامال کر نے کے لئے محبوبہ مفتی کی وزارت اعلیٰ کے شروع میں ہی زخموں کی سوغات ہمیں ملی ؟ انہی سوالوں کا جواب اسے کبھی سنگ  بدست اور کبھی سربکف ہونے پر مجبورکرتاہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے علی الرغم اگر بالفرض ’’جن سینا‘‘ کے جنونی کشمیر میں وارد ہوئی تو کشمیر کے نوجوان کے عزم اور جذبہ ٔ مقاومت ومزاحمت کو اور فولادی باندے گا ۔ یہ نوشتہ ٔ دیوار ہے ۔
بھارتی نیتاؤںکی طرف سے بارہا کشمیر کے نوجوانوں سے کہا گیا کہ کشمیر کی آزادی کا مطالبہ اب قصّہ پارینہ بن چکا ہے، دنیا ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور آزادی کی تلاش میں سر گرداں رہ کشمیر کو نوجوان ترقی کی اس دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائے گا۔اسے طاقت کی زبانی پیغام دینے کی ناکام کوشش کی گئی کہ تمہاری دو پیڑیاں بھارت سے آزادی حاصل نہ کر سکیں توتم کہاں سے حاصل کرپائو گے۔اس لئے تمہیں آزادی کی سوچ ترک کر کے ہمارے قومی دھارے میں آنا ہوگا  بھلے ہی تمہارا حشر دادری کے اخلاق احمد اور ہریانہ کے پہلو خان جیسا کیا جائے۔ اُسے یہ بھی باور کرایا جاتا رہا کہ آج تک آزادی کے مطالبے پر کشمیری مسلمانوں کو کفن دفن کے سوا کچھ نہیں مل سکا۔غرض بسیار طریقوں سے کشمیری نوجوان کے اصل خواب ۔۔۔ کشمیر حل ۔۔۔ کو شرمندہ ٔتعبیر نہ ہونے دینے کے لئے اسے خوف زدہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن اس سب کے باوجود وقت آنے پر کشمیر کی نئی نسل پوری بے باکی کے ساتھ مطالبہ آزادی کے عہد پر قائم ودائم ہے اور حریت خواہی کے اس جذبے کو اپنی دو نسلوں کو وارثتاً منتقل کرچکا ہے اور سردھڑ کی بازی لگاکر اپنے خواب کوشرمندہ تعبیرکرنے کے لئے سڑکوں پر نکل آیا ہے۔وہ سیاسی دلا لوں کے مکرو فنِ خواجگی سے اپنی بیزاری ، نفرت اوربغاوت کا ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کر چکاہے۔ کشمیرکی یہ شیر دل نسل گولیوں کے سامنے اپناسینہ تان کرفورسز کا مقابلہ نہتے ہوکر بھی پامردی سے کررہی ہے ۔ یہ نوجوان جابجا خون میں نہلار ہے ہیں لیکن کیا مجال اپنا حوصلہ یا ہمت ہار نے پر تیار ہو ۔ بہر کیف جھڑپ والی جگہوں پر محاصرہ کر نے والی فورسز کاخودکفن بردوش ہوکر پتھراؤ کرنے کا سیاسی مفہوم سمجھنے میں دلی کو اب کی بار کوئی چوک نہ کر تے ہوئے بہتر یہی ہے کہ کشمیر قضیہ کا کوئی مذاکراتی حل ڈھونڈنے کی راہ اپنائے ۔
 ا س میںدورائے نہیںدلی کے منصوبہ ساز اور کشمیر ایکسپرٹ کشمیر کی ا س بے خوف نسل کے نشو ونما پرسرپیٹ رہے ہیںاور اپنے شب و روز ایک کر کے سر جوڑے بیٹھے ہوئے ہیں کہ اس جوش وجذبے کاآخرکیاکیاجائے۔ اس سلسلے میں طلبہ ایجی ٹیشن نے جلتی پر تیل کا کام دیا ۔ دلی کے حکمران  یہ سمجھنے سے اب بھی قاصر ہیں کہ اسکولی اور کالج بچوں کے دوش بدوش طالبات بھی اب کیونکر فورسز اور پولیس پر سنگ بازی پر اُتر آئی ہے ۔افسوس ان لوگوں نے کشمیر کا زکے تناظر میں اس نئی صورت حال کو سمجھنے کی بجائے جہاں غیر سرکاری سطح پر ’’جن سینا ‘‘ کا  تصور دیا، وہاں سرکاری سطح پر مزید آئی آر پی بٹالین جن میں ایک خواتین بٹالین بنانے کا عندیہ دیا جیسے کشمیر کی آتشیں صورت حال محض امن وقانون کا مسئلہ ہو کیونکہ انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا،اس لئے وہ اپنے ترکش سے تمام آزمودہ تیرپھینک رہے ہیں۔ اس نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بھی پابندی عائد کر کے ا پنی ناکامی کا شتہار دیا۔ بایں ہمہ دردِانسانیت رکھنے والے بھارت کے کئی دانشوردلی کواپنامخلصانہ مشورہ دیتے رہے ہیں کہ وہ کشمیر کے بارے میں ہوش کے ناخن لے ۔ انسانی حقوق کے معروف علمبردارگوتم نولکھاسے لے کر معروف مصنفہ ارون دتی رائے تک کئی سنجیدہ فکر دانشور دلی کے حکمرانوں اوربھارتی پالیسی سازوں سے بار بار برملاکہتے رہے ہیں کہ کشمیریوں کو اپناسیاسی مستقبل طے کر نے کا موقع دے کر اس پنگا سے اپنی پنڈ چھڑاؤ۔ کشمیرسے متعلق اس قسم کی مثبت سوچ اور اپروچ اپناکر اگرچہ یہ لوگ برسوں سے بھارتی قیادت کو آئینہ دکھانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن شومئی قسمت کہ بھارت کے نیتا ووٹ بنک سیاست کے جنجال میں پھنس کر کوئی تازہ دم پیش قدمی کر نے پر آمادہ نہیں۔ ادھر کشمیر کی تیسری پیڑی کا اپنے گھروں ، سکولوں، کالجوں اور جامعات سے باہر کر آ کر غم وغصہ ظاہر کر نا بتاتاہے کہ بھارت کے لیے کشمیر میں اصل نوشتہ ٔدیوار کیا ہے۔ بھارتی قیادت کو ضرور فرصت کے چند لمحات نکال کراسے ٹھنڈے دل دوماغ سے پڑھ لینا چاہیے تا کہ اسے صاف معلوم ہو کہ کشمیر میںنابدی آندھی، جن سینا، ظلم وبربرّیت ، قتل وخون ،آگ زنیاں اور سیاسی دالالوں کی ریشہ دوانیاںاصل مرض کاعلاج نہیں کیونکہ اس سب کے باوجود اہل کشمیر کو اپنے اختیار کردہ سیاسی موقف سے ایک انچ بھی نہیںہٹایا جا سکتا۔ المختصر!کشمیرکی یہ ناراض وبرہم نوجوان نسل اگر آٹھ لاکھ فوج کا نہتے ہوکر مقابلہ کررہی ہے تو ’’جن سینا‘‘ کس کھیت کی مولی ہے؟ دانائی اور سیاسی بصیرت وتدبر اسی میں ہے کہ مظا  لم ومصائب کی پالیسی اور تخریب کارانہ وجارحانہ سوچ کوتر کرک کرکے حل طلب کشمیر مسئلے کا حقیقت پسندانہ نپٹارا کیاجائے ۔  
ٌٌ*****