تازہ ترین

کمزور طلبہ کیوں ٹھکرائیں؟

مشکلوں کا دیجئے آسان حل

28 نومبر 2017 (00 : 01 AM)   
(      )

مصباحی شبیر ۔۔۔ دراس کرگل
 ہاتھ میں ایک بھاری بھر کم کلہاڑی لئے ،تھکی ماندی معصومیت ، میلے کچیلے کپڑے زیب ِتن ، پسینے میں شرابور بدن نوجوان لڑکابہ مشکل سترہ اٹھارہ سال عمرکا ہوگا ۔میں اس کے قریب سے گزرا تو ا س کاحال چال پوچھا تو بتایا یہ عالی شان مکان میرے چاچا کا ہے، جناب ان کی لکڑی پھاڑ رہا ہوں ، انہی کے گھر کا کام کاج کرکے زندگی گزرتی ہے۔ پریوار کے متعلق پوچھا تو بتایا والدین کا بچپن میں ہی انتقال ہوگیا تھا۔پڑھائی لکھائی کاسوال کیا تو بتایا چاچا جی نے اسکول ضرور بھیجا تھا لیکن میں پڑھائی میں بہت کمزور تھا بس پاس بھر ہوتا اور کسی طرح آٹھویں تک پڑھا ،پھر سکول چھوڑ دیا ۔میں نے پوچھا چاچاجی نے تعلیم چھڑوادی ؟ بتانے لگا نہیں صاحب ایسا نہیں ہے، وہ بہت اچھے آدمی ہیں۔ اُنہوں نے پڑھانے کی بہت کوشش کی غلطی میری تھی ۔  میرا اگلا سوال تھاکیا تعلیم کیوں چھوڑی ؟ اس نے اصل کہانی شروع کی جسے سن کر میں بہت دکھی ہوں ۔کہا: صاحب ! اسکول میں ایک اُردو نام کا مضمون ہوتا ہے۔ میں اسی میں بہت کمزور تھا ،اُردو استاد صاحب بہت قابل تھے، انہیں میری کمزوری راس نہ آئی ، ایک دن مجھے اتنا مارا کہ میں بے ہوش ہوگیا، جب ہوش آیا تو خود کو اسپتال میں دراز پایا ،کافی گھبراہٹ ہوئی ،بس وہ دن اور آج کادن ، اسکول نام ہی سے نفرت سی ہوگئی ، ڈر لگتا ہے اب مجھے تعلیم سے ، آپ ہی بتائیں میں اردو میں کمزور تھا تو اس میں میرا کیا قصور تھا ؟ قدرت کے کئے کا میں کیا کرسکتا ؟کیا مجھے مار کر کچھ حاصل ہو سکتا ؟ یہی کہتے کہتے وہ شدت سے رونے لگا ۔ میں نے کہا :رو مت بیٹا ،میں پاس کے ہی اسکول میں ماسٹر ہوں، تیرا نیا ایڈمیشن کراؤں گا ، آرام سے آگے پڑھ لینا َ ۔کہنے لگا: صاحب! آپ کے اسکول میں صرف قابل بچوں کے لئے جگہ ہے ،مجھ جیسے غبی وہاں کس کام کے ؟ میں نے کہا :نہیں بیٹا !ایسی بات نہیں ہے ،ہمارے سسٹم میں آپ جیسے طلباء کے لئے بہت جگہ ہے ، تعلیمی ماہرین نے بہت ساری اسکمیں بنائی ہیں ۔ لڑکا ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا :معاف کیجئے صاحب! میں پڑھا لکھا تو نہیں لیکن اتنی سی عقل ہے کہ اپنا بھلا جان سکوں، سب اسکمیں صرف دکھاوا ہیں، ویسے بھی ہمیں سکیم کی نہیں تعلیم کی ضرورت ہے جو صرف استاد ہی دے سکتا ہے ، مگر کوئی بھی استاد مجھ جیسے کمزور بچوں کوبرداشت نہیں کرتا ، صرف مار پیٹائی ہی ہمارے نصیب میں ہوتی ہے، کیا کسی استاد کے خود کے بچے کمزور ہوں ہیں تو وہ مار کھاتے ہیں ؟ مار صرف ان بچوں کو پڑتی ہے جن کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہو ۔ میں نے بیچ میںہی اس کی کاٹ لی اور کہا بیٹا ! تم اسکول تو آجائو ۔ وہ پھر کہنے لگا معاف کرنا حضور !میرے جیسے بچوں کا علاج یہ نہیں کہ آپ ہمارے لئے اسکمیں بنائو ، ہمارا علاج صرف مخلص استاد ہے جو ہم سے پیار کرے ،ہمارے درد کو سمجھے، کہاں سے لائیں گے آپ ایسا استاد؟آپ کے پاس ایسا کوئی سسٹم نہیں جو استاد کی ہمدردی اور صبر کو چیک کرے ۔میں لا جواب اور سوالوں کا ایک بوجھ کو لئے اپنے راستہ ناپنے پر مجبور ہوا ۔
9469734681