تازہ ترین

دوسری سیڑھی

افسانہ

29 جنوری 2017 (00 : 01 AM)   
(      )

شاہدہ شاہین
 پانچ سالوں پر محیط ایک طویل عرصہ غریب الوطنی میں گزارنے کے بعدبالآخرڈاکٹر طاہر مجید کااپنے وطن ہو آنے کا دیرینہ خواب حقیقت میں تبدیل ہو گیا،خلافِ توقع اُس کی چھٹی منظور ہوگئی۔یہ خبر پاتے ہی اسے اس مقام کی ہر شئے ہیچ اور بے معنی نظر آنے لگی تھی اور انتظار کے آخری پل کاٹنا بے حد دشوارگزار ثابت ہو نے لگا۔۔۔۔۔۔ اپنے گاؤں کے کھیتوں کی سوندھی مہک کا تصورابھی سے بے قرار کئے دے رہا تھا۔اس کے برعکس گاؤں جانے کا سن کر غزالہ کی روح فنا ہوگئی۔ اُف !وہ غیر مہذب ماحول ،ناخواندہ و پچھڑے لوگوں کے درمیان وقت کیسے گزرے گا ! ننھے اظہر کو بہلانانہ جانے کس قدر مشکل ثابت ہوگا۔اس کی دانست میں خواہ مخواہ چھٹیوں کا ستیاناس ہو کر رہ گیاتھا۔
ڈاکٹر طاہر شکاگوکے ایک اسپتال میں صدر شعبہ کے عہدے پر فائز تھا۔ڈاکٹر غزالہ بھی اُسی اسپتال کے دوسرے شعبے میں تعینات تھی۔ ایک اونچاعہدہ ،کامیاب و بے حداعلیٰ طرزِ زندگی کے باوجودطاہرہمیشہ اپنی زندگی میں ایک خلاسا محسوس کرتا تھا۔ 
اس کے آبا واجداد ایک طویل اراضی کے مالک ،گاؤں کے خوشحال کسان تھے جن کا واحد ذریعہ معاش زراعت تھا۔ پردیس کے اجنبی ماحول میں اسے اپنے گاؤں کی صاف ستھری تازہ ہوا، ندی نالے ، ہرے بھرے کھیت، کوئل کی درد بھری کوک ،سورج کی پہلی کرن کے ساتھ فضاؤں میں گونج اُٹھنے والی پرندوںکی چہچہاہٹ، سب کچھ بہت یاد آیا کرتے تھے۔وہ فطری طور پر گاؤں کی سیدھی سادی زندگی کا دلدادہ ، غریب و نا خواندہ گاؤں والوں کے لئے ایک بے حد حساس دل رکھنے والانوجوان تھا۔اُن کی بہبودی کے لئے کچھ کردکھانے کا جذبہ بچپن سے اس کے ذہن میں جاگزیں رہا تھا ۔
زمانہ طالبِ علمی میں جب چھٹیوں کے دوران گاؤں آنا ہوتاتویہاںکے ناخواندہ اور پچھڑے لوگوں کے دقتوں سے بھرے ہوئے شب و روزکاشہرکے مہذب اور روشن خیال لوگوںکی سہولتوں سے پُرطرزِ زندگی کے سا تھ موازنہ کرکے دل گرفتہ ہوجاتا۔ گاؤں سے جہالت کے اندھیرے مٹانے اور گاؤں واسیوں کے معیارِ زندگی کو اونچا اُٹھا نے کی شدید خواہش دل میںانگڑائیاں لینے لگتی۔ لِہٰذااس دور دراز گاؤں میںاعلیٰ طبی امدادفراہم کرنے کی نہج پر ایک بڑا سا اسپتال کھولنے کی ٹھان لی نیز مفلس نو جوانوں کے لئے ایک تکنیکی ادارہ قائم کرنا بھی اُس کے دیرینہ منصوبوں میں شامل رہا۔
میڈیکل کورس ختم ہوتے ہی اسے ایک امریکن یونیورسٹی میں فیلوشپ مل گئی ۔اپنی صلاحیتوں کو مزید جِلا بخشنے کے مقصد سے آج سے تقریباََ چار سال پہلے یہاںچلا آیا تھا۔ اسے اکیلا بھیجنا نامناسب گردانتے ہوئے ماںنے اُس کی شادی کی بات چلائی توبے اختیار اُس کے لبوں پر غزالہ کا نام آگیا۔ اُسے احساس تھا کہ ایک متوسط طبقے سے متعلق اُس کی کلاس فیلو غزالہ اُس میں دلچسپی رکھتی ہے۔ سرسری طور پراُس کا تذکرہ سنتے ہی ماں پیچھے ہی پڑ گئی آخر کار اُس کا پتہ ٹھکا نا اُگلواکر پلا چھوڑا۔  
جلد ہی غزالہ کے ساتھ اُس کی شادی ہو گئی اور دونوںامریکہ آگئے۔اِس ملک کے عیش و آرام اور مصنوعی خوبصورتی گاؤں کے قدرتی حسن کی یادوں کو مزید تازہ کردیتی تھی۔ویسے غزالہ یہاںبے حد مطمئن تھی۔شادی کے بعد اس پر یہ عقدہ کھلا تھاکہ وہ کالج کے زمانے میں اُس سے متاثرضرورتھی لیکن دونوں کی سوچ میں زمین وآسمان کا فرق تھا۔ طاہر جانتا تھا کہ غزالہ شہر کی پیداوار ہے ،بھلا کسی پچھڑے ہوئے گاؤں کے رنج و مسائل سے اسے کیونکردلچسپی یا ہمدردی ہو سکتی ہے ۔پھر بھی خدمت ِ خلق، ہمدردی ، رحم ومہربانی جیسے مطہّر جذبات، جو ایک ہر دلعزیز معالج کے مطلوبہ اوصاف ہوتے ہیں، آیااس کے دل کو چھو کر بھی نہیں گزرے ۔۔۔۔۔۔ بہرحال اسے جلد ہی احساس ہو گیا کہ ان کے مابین ذہنی ہم آہنگی کا فقدان ہے اورغزالہ کواپنی تعلیم اور صلاحیتوں کے ذریعے اہلِ وطن کو مستفید کرنے سے کہیںزیادہ ڈھیر سارا پیسہ بنانے اوراعلیٰ طرزِ زندگی اپنانے میں دلچسپی ہے۔ اس کے جنون شوق کو ملاحظہ کر کے اکثر یہ گمان گزرتا کہ لطیف جذبات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے صرف ایک سیڑھی کے طور پراُس کا استعمال تونہیں کیا گیا !
بد قسمتی سے وہ دونوںندی کے دو کناروں کے مانندتھے جوساتھ تو چلتے ہیں پر آپس میںکبھی نہیں ملتے ۔بہرحال ایک دوسرے کی رفاقت میں شب و روز بیتنے لگے۔  مصروفیت کے باوجود دونوں نے سبھی سیاحی مقامات کی سیر کرڈالی۔ کچھ عرصہ بعداس کی فیلو شپ ختم ہوئی تووہیں ایک اچھے سے اسپتال میں نوکری کی آفر ملی۔گواس نے غزالہ کے اصرار پر نوکری قبول کرلی ، اپنے فرائض کو انجام دیتے ہوئے ہمیشہ محسوس ہوتا کہ یہ اُس کی منزل نہیں ہے۔ جی چاہتا کہ پُھرر سے اُڑ کر وہاں پہنچ جائے جہاں اُس کی زیادہ ضرورت تھی، اُس کے اپنے آنکھوں میں انتظار کی شمع جلائے اُس کی راہ دیکھ رہے تھے۔ ان کے پیاربھرے اصرار پرہی تو عارضی طور پریہاں چلا آیا تھا۔
اپنے احساسات غزالہ کے ساتھ بانٹنے سے اس نے ہمیشہ گریز کیا تھاکیونکہ پتا تھا کہ وہ اُس کی ہنسی اُڑا تے ہو ئے کہے گی ۔۔۔۔۔
’’ تم پاگل تو نہیں ہو گئے جو اِس جنتِ ارضی کو چھوڑ کراُس اُجاڑ گاؤں واپس جانے کی سوچ رہے ہو ۔ ‘‘
پچھلی بار اُس کی زبان سے ملک واپس جاکر اپنے آبائی گاؤں میں بودوباش اختیار کرنے کا تذکرہ سنتے ہی تنک کر بولی تھی۔’’کیا اِسی دن کے لئے ہم نے آنکھوں میں تیل ڈال کر دن رات محنت کر کے پڑھائی کی تھی۔ غنیمت سمجھو کہ قسمت ہمیں یہاں لے آئی ۔لوگ ترستے ہیں ایسا موقع پانے کے لئے ۔ ایسا کوئی چانس پانے کے انتظار میں ایک  عمر گنوا دیتے ہیں پھر بھی ناکام رہ جاتے ہیں۔خوب اچھی طرح سن لو! کسی قیمت پر اِس مقام کو خیر باد کہہ کر چلے جا نے کا ارادہ میرا نہیں ہے۔ ‘‘
غزالہ اس ملک کی مستقل شہریت حاصل کرنے کے لئے کوشاں تھی۔ اسے بھی ادراک تھا کہ اس ملک کا شہری ہونے کا اعزاز پانا انتہائی رشک آمیزامر ہے جویوں ہی کسی ایرے غیرے کو حاصل نہیں ہو جاتا۔ لیکن اس کمبخت دل کا کیا کرتا جو گاؤںچھوڑ کہیں اوررمنے پرآمادہ نہیں تھا۔ عالمِ بے بسی میںاکثر خود کو گاؤں والوں کا مجرم گردانتے ہوئے اپنا محاسبہ کرنے لگتا۔ایک عام انسان کی طرح اُس کی دنیامحض بیوی بچے میں سمٹ کر رہ گئی اوراُن کو ایک محفوظ مستقبل فراہم کرنا اُس کی زندگی کا نصب العین بن کررہ گیا تھا۔ اسکول ، کالج اوراسپتال کی بنیاد ، خواندگی پر مبنی مہم گاؤں بھرمیںچلانے کا عزم، نوجوان پیڑھی کو آگے بڑھنے کا حوصلہ فراہم کرنے کا منصوبہ ، سب کچھ قصہ پارینہ ہوچکے تھے ۔
اِس بار بھی غزالہ چاہتی تھی کہ چھٹیاںکسی خوبصورت سے مقام پر گزاری جائیںمگراسے مجبوراََخاموش رہ جانا پڑا کیونکہ کچھ عرصہ پہلے طاہر کے والد چل بسے تھے ،اس نے ماں کی دلجوئی کی خاطر ہر قیمت پروطن ہو آنے کی ٹھان لی تھی۔
اپنے ملک کے داخلی حالات کو ملاحظہ کرکے اس پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔۔۔۔۔ملک کی سرکار سخت بحران کا شکار ہے ۔ایک معقول طبیب کی غیر موجودگی میں ملک بھر کے دیہی علاقوں کے طبی مراکزکی حالت بد سے بد ترین ہو رہی ہے۔ خصوصاََ جب کوئی وبا پھوٹ پڑتی ہے تو حالات دوچند ہوجاتے ہیں ۔بے چارے دیہاتیوں کو مجبوراََ شہر کا رخ کرنا پڑتا ہے اور مریض کی صحت بحال کرکے گھر واپس لانے تک ان کا دیوالیہ نکل چکا ہوتا ہے۔
اپنے ملک کے نوجوانوں کی تکنیکی تربیت وتعلیم پر سرکار کے ذریعے فی کس لاکھوں بلکہ کروڑوں روپیہ خرچ کئے جانے کے باوجود بیشتر طالبِ علم اپنی تعلیم مکمل ہو تے ہی ایک امید افزاء میدانِ عمل کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے کا سپنا پلکوں پر سجائے بیٹھے ہیںاوربے چاری سرکارنت نئے قانون لاگو کرکے ان کو زبردستی روکے رکھنے پر مجبور ہے کیونکہ سرکار کے سامنے ایک بہت اہم سوال کسی زہریلے ناگ کی ماننداپنا پھن پھیلائے کھڑا ہے کہ دور افتادہ گاؤں کے سرکاری طبی مراکز میں معالج بھلا کیونکرمہیا کروائے جائیں جبکہ ہر دوسراماہر طبیب ایک خوش آئندزندگی اور سنہرے مستقبل کی جستجو میںملک سے باہر جانے پر اڑا ہوا ہے۔
آئے دن اخبار وں کی بڑی بڑی سرخیوں میں دیکھنے کو ملتاکہ گاؤں میں معالجوں کی قلت کودور کرنے اور دور دراز گاؤں کے باشندوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کی نہج پر سرکار کے ذریعے قانونی سطح پر گوناگوںترامیم کی جارہی ہیں۔ہر ایک میڈیکل گریجویٹ کے لئے کسی دوردراز اور پچھڑے گاؤں میں کم از کم دو سال طبی خدمات فراہم کرنا لازمی قرار د یا جارہا ہے ۔ فرض کی کوتاہی کو ملک سے غداری گردانتے ہوئے اس کی پاداش میں بھاری جرمانہ عائد کیا جارہاہے ۔یہ بھی خبر گرم تھی کہ کڑے قانون لاگو کرنے کے با وجود بیشتر طبیب پچھڑے ہوئے قریوں میں اپنی خدمات دستیاب کروانے پر آمادہ نہیں ہیں۔
تعلیمی ادارے جب تجارتی مراکز بن جاتے ہیں تو اخلاقی اقداراور انسانیت کا روپوش ہوجاناکوئی تعجب خیز امرنہیں ہے ۔گینیز ریکارڈس کے مطابق میڈیکل کورس کو دنیا کا سب سے دشوار اورکٹھن کورس کا درجہ ملاہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس میں داخلہ پانے سے لے کر کورس مکمل کرنے تک کا عمل گویا کوہ تراش کر نہر نکال لانے کے مترادف ہوتا ہے جو ہرکس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہوتی۔نیز انتہائی تقدس کے حامل اس پیشے میں انسانی زندگیوں کو تحفظ اور راحت فراہم کرنے کا دار ومدار معالج کی لیاقت ،ہنر،اہلیت ،خلوص اور ایمانداری پرمنحصرہوتا ہے۔لیکن افسوس ،داخلی امتحان میں نااہل ثابت ہونے کے باوجودکچھ طالب علم صرف اپنے شوق کی خاطراستطاعت سے کہیں زیادہ رقم ادا کرکے نجی تکنیکی اداروں میں بہ آسانی داخلہ حاصل کرلیتے ہیں اوراکثراسی حکمتِ عملی پر عمل کرتے ہوئے سند پاکرایک تصدیق شدہ معالج کہلوانے میں عارمحسوس نہیںکرتے ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ان نجی اداروں کو قانون کی پشت پناہی حاصل ہے یعنی ہمارے ملک کے قانون میں ایسی گنجائش رکھی گئی ہے جس میں ہنر مند مگربے مایہ طالب علموںکی حق تلفی کے ماسوا انسانی زندگیوں کے تحفظ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پیسے کی طاقت کو اہمیت فراہم کی گئی ہے جس کے ذریعے خصوصی طور پر کچھ مقامی اورزیادہ تر غیر ملکی سرمایہ داروں کے بچوں فائدے میں رہتے ہیں ۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب اس بے اندازہ رقم کا سیکڑوں گنا واپس حاصل کرنا ہی نصب العین ٹھہراتوخدمتِ خلق کو بیگار تصور کرتے ہوئے محض چندلاکھ روپیوں کا جرمانہ ادا کرکے اپنی جان چھڑا لینا ان کے لئے کونسی بڑی بات ہے۔ 
اس نے سوچا۔’’ اس سنگین حقیقت سے بھی روگردانی نہیںکی جا سکتی کہ اکثردور افتادہ گاؤں کے سرکاری طبی مراکز اعلیٰ تکنیکی سہولیات تو درکنار،ادنٰی سی بنیادی اور واجبی ضروریات سے بھی یکسر محروم ہیںجس کے فقدان میں ماہرطبیب اپنی لیاقت سے مکمل استفادہ نہیں کر پاتے ۔چنانچہ جیسے ہی کوئی زرین موقع دستیاب ہوتا ہے ایک سر سبز میدانِ عمل کی جستجو میں سرکار کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اُڑنچھو ہو جاتے ہیں۔ اولاََ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے سرکار کو ترقی یافتہ بیرونی ممالک کے طبی مراکز کے اعلیٰ معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے ،نیز حفظانِ صحت کے اصولوں کے ماتحت اپنے گاؤں کے طبی مراکز میں تبدیلی لانااشد ضروری ہے۔  
بہرحال اُسے اپنے خوابوں کو عملی جامہ پہنانا تھا۔آپ اپنے ضمیر سے کئے گئے کچھ وعدوں کو پورا کرناتھا۔ علاوہ ازیں نوجوان پیڑھی کے لئے مشعلِ راہ بننا تھا۔ ابو اُس کی راہ دیکھتے دیکھتے دنیا سے چل بسے تھے ۔ان کے بغیر ماں کس قدرتنہا اور اُداس لگتی تھی۔۔۔۔۔۔ نہ جانے اُس کی غیر موجودگی میں ماں بابا نے کس طرح دن گزارے ہوں گے۔ گھر کے ہر کمرے میں اُن تینوں کی وہ ساری تصاویر آویزاں تھیں جو ولایت سے بھیجی گئی تھیں ۔ ولادت کے فوراََ بعدننھے منے اظہرکی تصویر ،گھٹنوں گھٹنوں رینگتے ہوئے،پھرننھے ننھے قدموں سے دوڑتے ہوئے ۔۔۔۔۔ا ن ساری تصویروں پر ماں بابا کے آنسوؤں کے سوکھے ہوئے نشانات صاف نظر آتے تھے۔نہ جانے کتنی بار اُنہوں نے پوتے کی تصویر پر ہاتھ پھیر تے ہوئے اُسے چوم کر اپنے بے قرار دل کو تسلی مہیا کرنے کی ناکام کوشش کی ہوگی۔۔۔۔۔۔
اُسے بڑی خفت محسوس ہوئی ۔ بادلِ نخواستہ ہی سہی لیکن وہ خودبھی تو اسی زمرے میں شامل ہو گیا تھاجواپنے آبائی وطن کو نظر انداز کرتے ہوئے دیارِ غیر میںاپنی خدمات مہیاکروانے کے لئے کوشاں ہیں۔بالآخر اُس نے اپنی ماں اورمادرِ وطن دونوں کو تنہا اور بے آسرا چھوڑ کر واپس چلے جانے کے ارادے کواپنے دل سے نکال پھینکا۔ اُس کی رائے میں دگرگوں حالات پرقابو پا نے کے لئے نجی سطح پر کچھ ضروری اقدامات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا تھا،یعنی گاؤں میں ایک معیاری اسپتال کے علاوہ مناسب قیام گاہیں بھی تعمیر ہو جائیں تو معروف وماہر شہری معالجوں کو اپنی خدمات میسر کروانے میں شاید ہی اعتراض ہو۔  
گاؤں پہنچنے کے اگلے دن غزالہ اپنے سہیلیوں اور رشتے داروں سے ملنے کے لئے میکے چلی گئی تھی۔گاؤں میںیہ دو د ن بھی اُس نے بڑی مشکل سے گزارے تھے۔ جاتے ہوئے کہہ گئی تھی کہ اگر بچے سے ملاقات کرنی ہو توازخود شہرچلاآئے یا پھر روانگی کے وقت ہوائی اڈے پر ملاقات ہو گی۔طاہر ششدر سا اُسے دیکھتا رہ گیاتھا۔
چھٹیاں آدھی سے زیادہ بیت گئیں ۔گاؤں کی ترو تازہ ،مانوس آب و ہوا اور پر خلوص لوگوں کے درمیان اُسے تنہائی کا بالکل احساس نہیں ہوا ۔اس کی آمد سے گاؤں والے بہت خوش تھے، ان کا مسیحا جو لوٹ آیا تھا۔اس گاؤں کی حالت بالکل نہیں بدلی تھی۔ یہاںنہ اب تک کوئی معیاری اسکول قائم ہوا تھا اور نہ اسپتال کی حالت میں بہتری آئی تھی۔
غزالہ اپنی سہیلیوں اور رشتہ داروں میں اس قدر محوہو گئی کہ اسے فون تک نہیں کیا تھا۔ پچھلی بار صرف یہ بتانے کے لئے کال کیا تھا کہ اظہر اُسے بہت مس کر رہا ہے ۔ جب ان کے لوٹنے کی تاریخ سر پر آگئی تو یاددہانی کے لئے فون کیا، اُس نے صرف ہوں ہاںکر کے فون رکھ دیاکیونکہ اسے پتاتھا کہ غزالہ اُس کے فیصلے کا خیر مقدم نہیں کرے گی۔                        
طاہراپنے دیرینہ خوابوں کو حقیقت کا جامہ پہنانے میں لگ گیا۔ ماں کے ہاتھوں اسپتال کی عمارت کے تعمیری کام کاسنگِ بنیاد رکھا گیا ۔اس نے زیر تعمیر عمارت کے ایک چھوٹے سے کمرے میں عارضی طور پر کلینک کھول لی تھی اورباقاعدہ مریضوں کو دیکھنے لگاتھا۔اِس دوران ماں اچانک چل بسی ۔اسے دکھ تو بہت ہوا نیز اطمینان بھی میسر ہوا کہ ماں کی آخری گھڑی میں اُس کے پاس تھا اور وہ اُس کا ہاتھ تھامے دنیا سے رخصت ہوئی تھی۔ اپنے ابوکی یاد اُسے ہمیشہ شرمندہ کردیتی تھی۔ سنا تھاکہ بیٹے اور پوتے کے انتظار میں آخری گھڑی تک دروازے پر نظریں جمائے اُن کا دم نکلا تھا۔ بیٹے کو دیکھنے کی آس میں اُن کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں۔
ماں کے آخری رسوم ادا کرنے کے لئے غزالہ کو گاؤں آنا پڑا ۔ فرصت پاکر اُس نے غزالہ پر اپنی بات واضح کردی ۔ اُس کا منصوبہ سنتے ہی وہ ہتھے سے اُکھڑ گئی۔ پاگل ، کریزی ، بے وقوف اوربھی نہ جانے کیا کیا کہہ ڈالا۔ انجام کار اس نے کہہ دیا کہ وہ بچے کو لے کرواپس جارہی ہے اگر اُسے اپنی فیملی پیاری ہے تو پیچھے چلا آئے ۔
طاہر بخوبی جانتا تھاکہ غزالہ جیسے مادہ پرست انسان اپنے مقاصدکی راہ میں کبھی سمجھوتا نہیں کرتے چاہے اس کے لئے کوئی بڑی قربا نی کیوں نہ دینی پڑے۔ پھر بھی دل میںایک موہوم سی اُمید بندھی تھی کہ غیر ملک میں تنہائی سے اکتاکر یا کم از کم اپنے بچے کے معصوم جذبات کا خیال کرکے اُس کی دنیا میں واپس چلی آئے گی ۔اگرسچ مچ ایسا ہو گیا تو اِس گاؤں کی ہَیئت ہی تبدیل ہو جائے گی۔ غزالہ اس کے کام میںنہ صرف معاون و مددگار ثابت ہوگی بلکہ عورتوں کے مخصوص روگوں کی تشخیص کا بھی معقول انتظام ہو جائے گا ۔ اس نے محسوس کیا تھاکہ اکثر دیہاتی عورتیں مارے شرم و حجاب کے ایک مرد ڈاکٹر کے پاس آنے سے کتراتی تھیں۔                                                                             
   وہ اپنے کام میں اس قدر محو ہوگیا کہ احساس ہی نہیں ہوا ،دن ،ہفتے، مہینوں میں تبدیل ہو گئے لیکن اُدھر سے کوئی ردّ ِ عمل ظاہر نہیں کیاجا رہا تھا۔ اچانک ایک دن غزالہ کے ذریعے دستخط شدہ خلع نامہ موصول ہوا۔ صاف ظاہر تھا کہ مزید ترقی کی منزلیں سر کرنے کے لئے اُسے ایک دوسری سیڑھی مل گئی تھی۔     
                                                    َََّّّّّّّّّّّّّّّ                                                                                                                                                                                                                    
رابطہ؛shahidashaheen1119@gmail.com