تازہ ترین

عبادت

افسانہ

19 مارچ 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

ڈاکٹر شمس کمال انجم
وہ دونوں سگے بھائی تھے۔ دونوں کی عمر میں دو سال کا فرق تھا۔ دونوں ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرتے تھے اورانگشت شہادت وابہام کی طرح بچپن سے ساتھ ساتھ رہتے آئے تھے ۔ان کا معمول تھا کہ جمعہ کے دن وہ امور خانہ داری سے فراغت کے بعد تیار ہوتے اور اپنے گاؤں سے بیس کلو میٹر دور واقع شہر کی جامع مسجد میں جاکر نماز جمعہ کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ۔بڑے کا نام نظام الدین اور چھوٹے کا نجم الدین تھا۔ دونوں کی شکل وشباہت میں واضح فرق تھا۔ بڑے کا رنگ سانولاتھا اور سنتی ریش مبارک خضاب سے آراستہ تھی ۔ چہرہ کتابی تھا اور امتداد زمانہ کے اثرات سے آراستہ ۔ چھوٹے کا رنگ گورا، داڑھی سفید اور چہرہ قدرے گول اور متبسم ۔دونوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا بہت مشکل تھا کہ دونوں سگے بھائی ہیں۔ان کی شکلوں میں واضح فرق کی وجہ سے زیادہ تر لوگ سمجھتے تھے کہ دونوں بڑے گہرے دوست یا زیادہ سے زیادہ چچا زاد ہیں۔ صرف چند لوگوں کو ہی پتہ تھا کہ دونوں سگے بھائی ہیں۔دونوں نے کبھی کسی اسکول یامکتب کا رخ نہیں کیالیکن ان کے اندردین و مذہب سے محبت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔وہ علماء کی مجلسوں میں بیٹھنے کے بڑے حریص اور متمنی رہتے تھے۔ جب بھی معلوم ہوتا کہ کہیں کوئی مذہبی اجلاس ہے وہ ضرور اس میں شرکت کرتے بلکہ اس کے انتظام وانصرام میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لتے اور بڑے غور سے تقریروں کو سنتے۔ یہاں تک کہ انہیں دین کا بڑا گہرا علم ہوگیا۔جس گاؤں سے ان کا تعلق تھا اس کے مضافات میں ہر طرف شرک وبدعت کا غلغلہ تھا۔ بلکہ ان کا پورا دیار صحیح اسلام کی روشنی سے گویا محروم تھا۔ علمائے حقہ ندارد تھے۔ مدارس ومکاتب برائے نام اور بے نام تھے۔ مگر دونوں بھائیوں پر اللہ تعالی کا خاص فضل تھا۔ علماء کی مجلسوں اور ان کی کیسٹوں کو سن سن کر وہ آدھا عالم بن گئے تھے۔حقیقی دین سے وہ بخوبی آشنا ہوچکے تھے۔ ان کا سینہ توحید کی لازوال دولت سے مالا مال اور ان کا ذہن ودماغ شرک وبدعت کی قباحت وشناعت سے بیزار تھا۔دونوں نماز روزے کے بے حد پابند۔شریف متقی اور پرہیزگار تھے۔جمعہ کی نماز کے بعد وہ امام وخطیب سے ملنا نہیں بھولتے تھے۔ان سے بڑی عقیدت سے سلام کرتے حال چال پوچھتے اور پھر شہر سے روز مرہ کی ضرورت کا سامان لے کر گھر کو رخصت ہوجاتے۔
ایک دن دونوں ہی شام کا کھانا کھاکر بیٹھے ہوئے تھے کہ نجم الدین نے کہا:میں چاہتا ہوں کہ امام صاحب کو دعوت پر بلایا جائے۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے۔آپ نے تو میرے منہ کی بات کہہ دی۔نظام الدین نے کہا۔
اگلے جمعہ کو نماز کے بعددونوں امام صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے اپنا مدعا کہہ سنایا۔امام صاحب کو بھی ان سے بڑی محبت تھی۔ وہ جانتے تھے کہ دونوں بڑے متقی پرہیزگار اور شریف انسان ہیں۔ اس لیے انہوں نے خوشی خوشی ان کی دعوت قبول کرلی۔ اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر یہ حق ہے کہ جب دعوت دی جائے تو اسے قبول کرے۔ میں ضرور آپ کے یہاں آؤں گا۔
وہ دن دونوں کے لیے عید کی طرح تھا۔ان کے پاس وہ شخصیت تشریف لانے والی تھی جس سے وہ محبت کرتے تھے۔ وہ صبح سے سراپا انتظار تھے۔امام صاحب ان کے گھر تشریف لائے تو انہوں نے حسب استطاعت ان کی خوب خوب خاطر تواضع کی۔دینی ، سماجی، معاشی ، معاشرتی مسائل پر بھی انہوں نے امام صاحب سے خوب خوب استفادہ کیا۔امام صاحب حقوق والدین اور رشتوں کے پاس ولحاظ پر بات کر ہی رہے تھے کہ نظام الدین نے انہیں بتایا کہ بچپن سے لے کر شادی کے پندرہ سال تک ہم دونوں نے ہمیشہ ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھایا ہے۔ ہم دونوں کبھی ایک ووسرے سے الگ نہیں ہوئے۔ کیوں؟امام صاحب نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا؟
کیونکہ ہم دونوں بھائی ہیں۔ نظام الدین نے کہا۔
بھائی ہیں؟امام صاحب نے تاکیداًپوچھا۔
ہاں بھائی ہیں۔نظام الدین نے کہا۔
چچا زاد؟ امام صاحب نے پوچھا۔
نہیں۔ سگے بھائی۔ نظام الدین نے کہا۔
اچھا۔ آپ لوگوں کی شکلیں تو مختلف ہیں۔ مجھے تو یہ پتہ تھا کہ آپ دونوں ایک ہی گاؤںکے رہنے والے ہیں۔ بلکہ مجھے اندازہ تھا کہ آپ دونوںچچا زاد بھائی ہیں۔ میں آپ دونوں کو ہمیشہ ساتھ ساتھ دیکھتا بھی تھا مگر یہ بالکل اندازہ نہیں تھا کہ آپ دونوں سگے بھائی ہیں۔امام صاحب نے کہا۔
ہاں حضرت۔ ہم دونوں سگے بھائی ہیں۔میں اس سے دو سال بڑا ہوں یہ مجھ سے دو سال چھوٹا ہے۔ نظام الدین نے کہا۔
کتنے بھائی بہن ہیں آپ لوگ۔امام صاحب نے پوچھا۔
دو بھائی چار بہنیں۔ ایک بہن کا انتقال ہوگیا ہے اور تین ابھی زندہ ہیں۔ نظام الدین نے کہا۔
اور والد صاحب؟امام صاحب نے پوچھا۔
والد صاحب کا سات آٹھ برس قبل انتقال ہوگیا۔اتنا کہتے ہی نظام الدین آبدیدہ ہوگیا۔ اس کی آنکھیں ڈبڈباگئی تھیں۔امام صاحب نے نجم الدین کی طرف دیکھاتو وہ مسکراتے ہوئے اس طرح اثبات میں سر ہلا رہا تھا جیسے وہ نظام الدین کی باتوں کی تصدیق کررہا ہو۔
نظام الدین نے ڈبڈبائی آنکھوں سے بولنا شروع کیا۔ اس نے کہاحضرت! در اصل ہم لوگ بہت غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمارے والدکی پیدائش سے ایک دو ماہ قبل ان کے والد کاانتقال ہوگیاتھا۔ انہوں نے یتیمی کی چادر میں سانس لی۔ان کا نام امام الدین تھا۔ جب وہ سات آٹھ سال کے ہوئے تو ان کی ماں نے دوسری شادی کرلی۔ ان کے سوتیلے باپ نے انہیں گاؤں کے ایک صاحب ثروت انسان کے گھر میں بکریاں چرانے اور گھر کاکام کرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ وہ بکریاں لے کر پہاڑی پر چڑھ جایا کرتے تھے۔ انہیں اپنی یتیمی کا احساس تھا۔ غربت کی چادر سر پر تنی ہوئی تھی۔ بکریاں چرتی رہتی تھیں اور وہ راستے پر بیٹھ کرہرآنے جانے والے کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا کرتے تھے۔کچھ بچے بھی مدرسہ جاتے اور آتے وقت وہاں سے گزرتے تھے۔اس  وقت ہمارے دیار میں دور دور تک کہیں کوئی اسکول نہیں تھا۔ قریب کے ایک گاؤں میں ایک عربی مکتب ضرورتھا۔ جس میں قرب وجوار کے بچے پڑھنے جایا کرتے تھے۔ مدرسے کے بچے ادھر سے گذرتے تووہ ان سے روزانہ پوچھتے تمہارا اسکول کہاں ہے؟ کتنی دور ہے۔ کیا پڑھتے ہو۔ مدرسے میں کیا کیا پڑھایا جاتا ہے؟بچے حسب معمول جواب دیتے اور چلے جاتے۔ ان بچوں سے ان کی تھوڑی سی شناسائی بھی ہوگئی تھی۔ ایک دوسرے کے نام سے بھی وہ واقف ہوگئے تھے۔ جن بچوں سے وہ بات کرتے ان میں سے دو بھائی بھی تھے جو روزانہ وہاں سے گزرتے تھے۔ بڑا والا تیسرے درجے میں پڑھتا تھا تو چھوٹا والا پہلے درجے میں۔ چھوٹے والے کو ایک دن احساس ہوا جیسے امام الدین کو بھی پڑھنے کا شوق ہے۔ اس نے گھر میںاپنا پرانا قاعدہ اور یسرنا القرآن چپکے سے اپنے بستے میں ڈالا اور صبح کو امام الدین کے حوالے کرتے ہوئے کہا۔ یہ پتلی والی کتاب پہلے پڑھی جائے گی اور موٹی والی بعد میں۔چھوٹے والے بھائی نے یہ دونوں کتابیں چپکے سے اسے تھمائیں اوراپنے بھائی کے ساتھ اس طرح ہولیا کہ اسے پتہ ہی نہ چلا۔
ہمارے ابا نے ہمیں بتایا کہ جس دن انہیں یہ کتابیں ملی تھیں اس د ن جیسے انہیں نئی زندگی ملی تھی۔وہ کئی دنوں تک ان دوکتابوں کو چومتے رہے۔ آنکھوں سے لگاتے رہے۔ انھوں نے ان دونوں کتابوں کو اس طرح ہر آنکھ سے چھپاکر رکھا جیسے انہیں کوئی خزانہ مل گیاہو۔ الف بے، تے ، ثے کی شکلوں کو کئی دن تک گھورتے رہے۔ اس کے بعد ان کا معمول ہوگیا تھا کہ جب بھی ادھر سے کوئی پڑھا لکھا انسان گذرتا تو اسے روک کر پوچھتے یہ کیا لفظ ہے۔یہ کیا لکھاہے۔ اس طرح انھوں نے ایک مہینے میں چپکے چپکے پورا قاعدہ ختم کرلیا۔ اگلے تین ماہ میں انھوں نے یسرنا القرآن ختم کرلیا۔مالک کے گھر میں شام کو مسجد کے امام صاحب آتے اور ان کے بچوں کو دینیات پڑھاتے تھے۔ہمارے ابا انہیں دور سے دیکھتے رہتے تھے۔ ایک دن مالک نے انہیں بلایا اورکہا امام الدین تم بھی ان کے ساتھ بیٹھو اور قرآن پڑھنا سیکھو۔ابا نے مولانا صاحب سے پورا قرآن پڑھ لیا۔گاہے بگاہے وہ ان سے دینی مسائل کے بارے میں بھی پوچھتے ۔ مسئلے مسائل جاننے کی کوشش کرتے۔اسلام کیا ہے۔ ایمان کیا ہے۔ نماز روزہ حج زکاۃوغیرہ ارکان اسلام کے بارے میں واقفیت حاصل کرتے۔ انہیں پڑھنے کا اور دینی معلومات حاصل کرنے کا بہت شوق تھا۔ انہیں اگر معلوم ہوتا کہ کہیں کسی گاؤںمیں کوئی جلسہ ہے۔ علمائے کرام تشریف لارہے ہیں تو وہ اس میں حاضر ہوتے اور ان کے بیانات سنتے۔ ان کو اللہ تعالی نے غضب کا حافظہ دیا ہوا تھا۔ کبھی کوئی بات بھولتے ہی نہ تھے۔ علمائے کرام سے سنی ہوئی ایک ایک بات انہیں پتھر کی لکیر کی طرح ازبر تھی۔ آہستہ آہستہ انہوں نے پورا قرآن بھی حفظ کرلیا تھا۔ نماز روزے کی بیحد پاپندی کرتے تھے۔سب سے اخلاق سے پیش آتے اور سب سے محبت سے ملتے۔ نماز کے وقت بکریوں کو اللہ کے حوالے کرکے مسجد میں پہنچ جاتے اور جماعت سے نماز پڑھتے۔ ایک دن گاؤں کی مسجدکے امام چپکے سے گھر چلے گئے۔ ظہر کی نماز میںامام صاحب نہیں آئے۔ لوگوں نے پوچھا نماز کون پڑھائے گا۔ امام صاحب توابھی آئے نہیں۔ کچھ دیر انتظار کے بعد لوگوں نے امام الدین کو امام بنادیا۔ عصر میں بھی انھوں نے نماز پڑھائی۔ مغرب کی نماز بھی انھوں نے ہی پڑھائی۔ مغرب میں ان کا مالک بھی نماز میں حاضر تھا۔ ان کی قرات سن کران کا مالک حیران تھا۔شام کو انہیں اپنے پاس بلایا اور کہا آج سے آپ کونہ بکریاں چرانے کی ضرورت ہے نہ گھر کا کام کاج کرنے کی۔آج سے آپ مسجد میںامامت کریں گے۔ اب ہمارے والد صاحب بکریاں چراتے چراتے امام بن گئے تھے۔جمعہ کے دن خطبہ بھی دینے لگے تھے۔ تقریر بھی کیا کرتے تھے۔
پچیس برس کے ہوئے تو گاؤں کے لوگوں نے انہیں کے مقتدی خیرات میاں کی بیٹی سے ان کی شادی کرادی۔دو سال کے بعد میری ولادت ہوئی ۔ اس کے بعد نجم الدین کی ۔ ہم نے ہوش سنبھالا تو ابا کو مسجد کی امامت وخطابت کرتے ہی دیکھا۔ان کا معمول تھا کہ سونے سے قبل سورۂ یس، سورۂ حشر، سورۃ الملک ، سورۂ قاف، چاروں قل، سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں وغیرہ سورتیں پڑھ کر سویا کرتے تھے۔ جمعہ کو سورۂ کہف پڑھنے کا اہتمام کرتے تھے۔ رات میں تین بجے اٹھ جاتے۔ تہجد پڑھتے۔ مسجد میں جاکر نماز فجرپڑھاتے اور پھرواپس آکر تہجد کی جگہ بیٹھ جاتے اور صبح نو بجے تک ذکر واذکارکرتے۔ قرآن کریم پڑھتے۔ دعائیں پڑھتے اور مختلف وظیفوں کا اہتمام کرتے۔رمضان کے آخری عشرے میں پوری پابندی سے اعتکاف کرتے۔اعتکاف کی نیت سے مسجد میں داخل ہوتے اور پھر روئے زمین کو اس طرح بھول جاتے جیسے انہیں دنیا کی کسی چیز سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔چاند رات سے قبل قضائے حاجت کے علاوہ کسی اور ضرورت کے لیے مسجد سے باہر قدم نہیں نکالتے ۔
تہجد ان کی زندگی کا معمول تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ پورے چالیس سال تک کسی دن ان کی تہجد قضا ہوئی ہو۔ایک دن انہوں نے مجھے بھی جگایا۔ میں نے وضو کیا اور ان کے ساتھ مسجد گیا۔ رات کے تین چار بج رہے ہوں گے۔گھپ اندھیرا تھا۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب ہمارے گھر بجلی کی کرنوں سے منور نہیں ہوئے تھے۔ ہم مٹی کے دیے جلاتے تھے۔انہوں نے مسجد کے ستونوں سے لٹکے ہوئے دیوں کو دیا سلائی سے روشن کیا۔ وہ دیے تھے کہ ٹمٹماتے چراغ۔مگر ان میں جو نور تھا وہ لاثانی تھا۔ روحانی تھا۔ لافانی تھا۔تینوں ستونوں کو دیکھ کر ایسالگ رہا تھا جیسے آسمان پر تارے معلق ہوں۔ ان کی ٹمٹماتی روشنی سے مکمل اجالا تو نہیں ہوا تھا لیکن ایسا محسوس ہورہا تھا کہ رات کے پہلو میں پوشیدہ تمام اسراریکے بعد دیگرے منکشف ہورہے ہوں۔ میں انہیں خیالات میںگم تھا کہ ادھر سے ابا کی تلاوت کی آواز آئی۔ مجھے محسوس ہورہا تھا جیسے میرانرم ونازک دل ان آیتوں کی شبنم میں نہا رہا ہو۔ایسالگ رہا تھا کہ دنیا کہیں گم ہوگئی ہے۔ اگر میرے ارد گرد کوئی شے تھی تو وہ یہ آوازتھی اور اس آواز میں لپٹی ہوئی نور کی وہ آیتیں جنہیں ابا پڑھ رہے تھے اورجیسے وہ مجھ سے کہہ رہے تھے کہ نظام الدین تجھے ان آیتوں کی زندگی بھر لاج رکھنی ہے۔ دعوت الٰہی کے اس پیغام کو لے کر زندگی بھر جینا ہے۔ ابا نے ہم لوگوں کو پڑھایا لکھایا نہیں ۔ ہم نے بھی انہی کی طرح کبھی مدرسہ نہیں دیکھا لیکن اس وقت مجھے لگ رہا تھا جیسے ایک ایک آیت مجھے سمجھ میں آرہی ہو۔ اس کا مفہوم میرے ذہن کے گوشوں میں نازل ہو رہا ہو۔اتر رہا ہو۔
نظام الدین نے کہا:حضرت! ایک دن کا واقعہ ہے ابا کسی ضرورت کے تحت پہلی بار کہیں گھر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ کافی عرصے کے بعد آج وہ گھر میں نہیں تھے۔رات کے تین بج رہے تھے۔ ہم نے محسوس کیا جیسے ابا اٹھے ہوں۔ وضو کیے ہوں۔ اور اسی جگہ پر بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہوں جہاں وہ روزانہ تہجد پڑھا کرتے تھے۔ہمیں ان کی نماز اور ذکر واذکار کی آواز صاف صاف سنائی دے رہی تھی۔ دوسرے دن بھی ایسا ہی ہوا۔ ہمیں تہجد کے وقت ان کے اٹھنے وضو کرنے اور نماز پڑھنے کی آواز آئی۔دوسرے دن بھی جب ایسا ہی ہوا تو ہم لوگ ڈر گئے۔ ہم نے اپنے چچانواب الدین کو بلایا جو پاس ہی میں رہتے تھے اور بال بچے والے تھے۔ تیسری رات انہوں نے بھی وہی حرکتیں سنیں جنہیں ہم لوگ سن رہے تھے۔وہ اٹھے اور کھڑکی سے کمرے میں جھانکاتو ان کی آنکھ کھلی کی کھلی رہ گئی۔ انھوں نے دیکھا مصلے پر ایک شخص بیٹھا ہوا ہے جس کی شکل اباسے یکسر مختلف ہے۔ سفید سنتی ریش۔صاف شفاف زرق برق لباس۔سر پر عمامہ، ہاتھ میں تسبیح۔ آنکھیں بند اور تسبیح وتہلیل میں خشوع خضوع کے ساتھ مصروف۔ خوب صورت۔ پررونق، پروقار ۔ما نو کوئی فرشتہ۔
 ابانے مصلے کے حجم سے تھوڑی سی بڑی سائز کی ایک لکڑی بنوائی ہوئی تھی۔ اس پر وہ مینڈھے کی کھال کا دباغت دیا ہوا مصلی رکھتے اور اس پر تہجدپڑھتے تھے۔لہٰذا نواب چاچا نے ان کے مصلے والی لکڑی اور مصلے کو اٹھاکر اسی کمرے کے ایک کونے میںرکھ دیا۔اگلی شب جب ہم لوگ سوئے تو صبح تقریبا تین بجے کے قریب جیسے ہم سب لوگوں کو کسی نے ہماری چارپائی سے اٹھاکر پٹخ دیا ہو۔ اس کے بعد ہم لوگوں کو نیند نہیں آئی۔نماز فجر پڑھی۔ ذکر واذکار کے بعد صبح کو ہم نے اس لکڑی کو اسی جگہ واپس رکھ دیا۔ادھر والدہ کی طبیعت بھی خراب ہوگئی تھی۔ ان کو شدید بخار ہوگیاتھا۔ لہٰذاہم نے نجم الدین کو ابا کے پاس بھیجا۔وہ جاکر انہیں بلالایا اور انہیں سارا ماجرا سنایاگیا۔وہ بہت ناراض ہوئے اور کہا کہ تم لوگوں کو اسے چھیڑنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ انہوں ایک گلاس پانی منگایا ، اس پر دم کیا۔ والدہ کو پلایااور وہ ٹھیک ہوگئیں۔
نظام الدین نے ہنستے ہوئے کہا:ابا ہمیں فجر کے وقت مصلے پر سے جگایا کرتے تھے۔ اگر ہم لوگ نہیں اٹھتے تو ہمارا نام لے لے کر زور سے ڈانٹتے اور کہتے نظام الدین اٹھو۔ نجم الدین اٹھو ورنہ شیطان منہ میں پیشاب کرکے چلا جائے گا۔ہم نے انہیں دیکھ دیکھ کر نماز روزے کی پابندی شروع کی۔ اس کے بعد میں اور نجم الدین دونوں سعودی عرب چلے گئے۔ہم وہاں کئی برس رہے۔ہمیں وہاں بہت اچھا ماحول میسر آیا۔ پڑھے لکھے لوگ میسر آئے۔ علماء کی صحبتوںمیں بیٹھنے کا موقع نصیب ہوا۔ ان کے مواعظ سنے اور دینی معلومات کا وافر خزانہ ہمیں میسر آیا۔ہم دونوں چھٹیوں میں گھر آئے ہوئے تھے۔ ابا نے مجھے ایک دن بلایا اور کہا میرے ساتھ چلو۔ والدہ کا انتقال ہوچکاتھا۔ وہ مجھے ان کی قبر کے پاس لے گئے اور کہا۔ یہ جگہ دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہاہاں؟ کیوں؟ کہا یہیں مجھے دفن کرنا۔ میں نے کہا آپ ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں۔ ابا نے کہا ہر شخص کو مرنا ہے۔ مجھے بھی۔ میں ابھی مرنا نہیں چاہتا مگر موت تو برحق ہے نا۔ اگر میرا رب مجھے اپنے پاس بلا لے تو مجھے یہیں دفن کرنا۔میں اس کے بعد سعودی عرب واپس چلا گیا۔ نجم الدین یہیں تھا۔ اس کی چھٹیاں ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں۔ دو مہینے کے بعد نجم الدین کا ایک خط ملا جس میں لکھا تھا:
’’بھائی آج ہم لوگ یتیم ہوگئے۔ ابا ہمیں چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی کے پاس چلے گئے۔ ہم نے انہیں اسی جگہ دفن کیا ہے جہاں وہ چاہتے تھے۔ ہوا یوں کہ وہ تہجد کے لیے اٹھے تھے۔ ایک ہاتھ میں ٹارچ اور ایک ہاتھ میں لوٹا تھا۔ وضو کے لیے جارہے تھے۔ان کو راستے کا صحیح اندازہ نہیں ہوا اور الٹی طرف قدم بڑھادیا اور چھت سے نیچے گرگئے۔ سر کے پچھلے حصے میںدماغ میں چوٹ لگی اور ان کی روح قفص عنصری سے اسی وقت پرواز کرگئی۔ ان کے ہاتھ میں ٹارچ اور لوٹا اسی طرح ان کی گرفت ہی میں رہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘
اتنے میں عصر کی اذان کی آواز آئی۔ امام صاحب نے نظام الدین اور نجم الدین کی طرف دیکھا تو وہ دونوں انگشت شہادت سے اپنی آبدیدہ آنکھوں کو صاف کررہے تھے۔نظام الدین نے کہا اس کے بعد میں ہمیشہ کے لیے گھر آگیا نہ خود سعودی عرب گیانہ نجم الدین کو جانے دیا۔
امام صاحب نے کہا چلو نماز کے لیے چلتے ہیں۔ نماز بعد ان کی قبر کی زیارت کے لیے چلیں گے اور ان کے لیے دعا کریں گے کہ اللہ تعالی ان کی تمام عبادتوں کوشرف قبولیت سے نوازے۔ان کے درجات کو بلند کرے اور ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
 
صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری جموں وکشمیر
9086180380