تازہ ترین

بابا اور بیٹی

افسانہ

12 مارچ 2017 (00 : 01 AM)   
(      )

اے۔ مجید وانی
بابابابا کی رٹ لگائے لڑکی پارک کے مین گیٹ سے تیز تیز قدموں سے باہر جانے کی کوشش کر رہی تھی ۔اپنا داہنا ہاتھ ہلاتے ہوئے  وہ ’’ممی بابا زندہ ہے، ممی با با زندہ ہے‘‘ کہتے ہوئے وہ گیٹ سے نکل کر سڑک کی دوسری طرف غائب ہو گئی۔
یہ مئی کے مہینے کی ایک گرم دوپہر تھی ۔ میں کھانا کھا کر کچھ دیر ٹہلنے کیلئے سامنے والے پارک کی اور چل پڑتا اور اندر ایک دیودار کے پیڑ کے نیچے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اسی اثنا ء میں مجھ سے تھوڑی دور میرے سامنے والے ایک خالی بینچ پر ایک جواں سال لڑکی آکر بیٹھ گئی۔ وہ شکل و صورت سے کسی شریف گھرانے کی لگ رہی تھی۔ کچھ پریشان سی تھی ،بال بکھرے  تھے   لیکن سر پر دوپٹہ تھا، جسے وہ کھبی سر سے سرکا کر گردن کے گرد لپیٹ لیتی اور کبھی اپنے ہاتھوں میں رسی بنا کر لٹکا لیتی تھی۔اس کے ہونٹ ہل رہے تھے۔لگتا تھا کہ وہ کچھ بڑ بڑا رہی تھی اور اس کی آنکھیں دور خلائوں میں کسی خاص چیز کو تلاش کر رہی تھیں۔
پارک میں گرمی کے سبب اکا دکا لوگ ہی موجود تھے۔ کچھ نوجوان جوڑے خلوت میں بیٹھے اپنے مستقبل کے خواب سجانے میں لگے تھے اور پارک کے دوسرے سرے پر کچھ عورتیں ایک دوسرے کو اپنی اپنی رام کہانیاں سنانے میں مشغول تھیں۔اچانک بینچ پر بیٹھی لڑکی اُٹھی اور میری طرف آکر ایک پولیس والے کی طرح مجھ سے پوچھنے لگی۔
کیا آپ بھی میرے بابا کے دفتر میں کام کرتے ہیں؟
کیا آپ بھی میرے بابا کی طرح اپنی بیٹی کے صبح سکول جانے سے پہلے دفتر جاتے ہو اور شام کو اس کے سکول سے آنے کے بعد گھر آتے ہو؟
کیا آپ بھی میرے بابا کی طرح دفتر سے گھر آکر پر گھریلو کاموں میں جٹ جاتے ہو؟
لڑکی کی آنکھوں سے ساون بھادوں جاری تھا اور میں ہونقوں کی طرح اسکے چہرے پر اپنی نگائیں جمائے سوچ رہا تھا کہ شائد اسکی دماغی حالت ٹھیک نہیں۔میں نے بے حس و حرکت پڑا پیڑ کے سہارے اٹھ بیٹھا اور وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتی اور ’’ ممی! بابا زندہ ہے‘‘ کہتے ہوئے پارک سے نو دو گیارہ ہو گئی۔
جبھی میرے پیچھے کیاریوں میں کام کر رہے مالی کی آواز کانوں میں گونجی۔
صاحب جی ! یہ لڑکی پچھلے ایک سال سے اسی طرح آکرلوگوں سے بس یہی سوالات پوچھ کر پھر پارک سے نکل جاتی ہے۔
 اس کا کچھ اتہ پتہ کسی کو معلوم بھی ہے یا نہیں؟ میں نے مالی سے پوچھا ۔
ہاں صاحب ! مالی مغموم صورت بنا کر بولا۔ یہ لڑکی میرے ہی ساتھ والے محلے میں رہتی ہے ، اس کا باپ کوئی اوسط درجے کا ملازم  تھا اور ایک روز دفتر سے گھر لوٹتے وہ سڑک پر گولی کا شکار ہو ا، تب سے ہی اس کی یہ اکلوتی بیٹی اپنا دماغی توازن کھو چکی ہے اور روز پارک میں آکر وہ لوگوں سے اپنے باپ کے متعلق ایسے ہی سوالات پوچھ کر شاید اپنے دل کو راحت پہنچانے کی کوشش کر تی ہے۔
۔مالی سگریٹ کا ایک لمبا کش لیتے اور منہ سے دھواں چھوڑتے ہوئے بولا۔
صاحب ! میںاکثر سوچتا رہتا ہوں کہ جس طرح یہ لڑکی اس پارک میں آکر روز اپنے باپ کو تلاشتی رہتی ہے، کیا پتہ کسی اور پارک میں کوئی باپ اسی طرح کسی کھوئی ہوئی بیٹی کی جدائی میں جل بن مچھلی کی طرح تڑپتا ہوگا!!
مالی کی یہ بات تیر کی ماند میرے دل میں پیو ست ہوگئی، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا، دماغ پر جیسے کوئی ہتھوڑا مار گیا اور میرے پائوں میرے جسم کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہی نہ ہے اور پھر میں اس وقت اپنے ہوش و حواس میں واپس آیا جب مالی  ہاتھ میں گلاس لئے مجھے پانی پلانے کی کوشش کر رہا تھا۔
صاحب! آپ ٹھیک ہیں!کیسی طبعیت ہے اب ؟، کیا محسوس کر رہے ہیں اب؟
مالی گھبرائے ہوئے انداز میں مجھ سے سوال پہ سوال کرتا رہا۔
ایک دو گھونٹ پانی پی کر میں اٹھ بیٹھا اور بیمار سی آواز میں مالی سے بولا،
 کیا تم مجھے میرے گھر تک چھوڑوگے؟ میرا گھر بس پارک کے ساتھ ہی ہے؟
’’کیوں نہیں صاحب! ضرور ، مالی بولا‘‘۔ ’’اٹھیئے اور آرام سے میرے ساتھ چلئے ‘‘
 اور میں مالی کا سہارا لئے پھر اپنے گھر کی طرف چل پڑا ۔
 ’’صاحب جی! بے ہوش ہونے سے پہلے آپ یہ’ گلشن گلشن‘ کیا کہہ رہے تھے؟
چلتے چلتے اچانک مالی نے مجھ سے پوچھا ۔
 ’’کیا تم جانتے ہو، دنیا کا سب سے بڑا بوجھ کیا ہے؟ ‘‘ میں نے مالی کی بات کاٹتے ہوئے اس سے پوچھا۔
’’نہیں صاحب ! مجھے اس بات کا کوئی اندازہ نہیں ہے‘‘۔ مالی نے جواب دیا‘‘۔
’’ بوڑھے باپ کے کندھوں پر اپنے جوان بیٹے کا جنازہ دنیا کا سب سے بڑا اور بھاری بوجھ ہے‘‘۔میں بولا۔ گلشن میری اٹھارہ سالہ بیٹی جو ظالموں کی گولی کا شکار اس وقت بنی جب وہ اپنے گھر کے آنگن میں بیٹھی دسویں جماعت کے امتحان کی تیاری کر رہی تھی‘‘۔
یہ سن کر مالی کے چہرے پر زبردست اداسی چھا گئی اور مجھ سے ہمدردی جتا کر وہ پھر بوجھل قدموں سے پارک کی طرف واپس لوٹا اور میں بھی آہستہ آہستہ گھر کے صحن کو عبور کرکے اپنے کمرے میں پہنچ کر اور پلنگ پر دراز ہوکر کمرے کی چھت گھورتے پتہ نہیں پھر کب نیندکی آغوش میں چلا گیا
 
رابطہ؛احمد نگر، سرینگر، 9697334305