تازہ ترین

افسانچے

19 مارچ 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

سہیل سالمؔ
 چابی 
 
 ’’اُف کس قدرشدید سردی ہے‘‘۔۔۔۔آج تو گویا راستہ ہی نہیں کٹ رہا تھا۔اوپر سے گاڑی میں حد سے زیادہ بھیڑ تھی،میں اپنی سانسوں سے ہاتھوں کو گرمی بخش رہا تھا کہ اچانک مجھے oven میں رکھی ہوئی بریانی یاد آئی۔اتنی سردی میں گرم بریانی کا تصور نہایت خوش کن تھا۔گھر جاتے ہی سب سے پہلے گرم پانی سے خوب منہ ہاتھ دھوئوں گا۔پھر بریانی کھائوں گا،اس کے بعدگرم گرم قہوہ بھی پیوں گا۔۔میں بچوں کی طرح سوچ سوچ کر مسکرارہا تھاکہ گاڑی کو اپنے گھر کے دروازے پر رکتاپاکر اترنے لگا۔۔۔۔ ارے ! یہ کیا دروازے پر تو تالا لگا ہوا ہے۔۔۔۔تالے پر نظر پڑتے ہی صبح کو سُنی ہوئی ماں کی ہدایت یاد آنی لگیں۔۔۔۔۔
’’ اف اللہ  !میں نے چابی رکھی ہی نہیں  ‘‘۔ میں بے بسی سے دروازے کو گھور رہا تھا۔اندر میری پسندیدہ بریانی ،گرم پانی،قہوہ وغیرہ سب کچھ موجودتھا۔میرا نرم بستر تھا، جس پر میں لمبی نیند سونے کی خواہش کرہا تھا، لیکن میرے پاس ’’چابی ‘‘نہیں تھی۔چابی، میں نے زیر لب دہرایا اور دنگ سا رہ گیا۔چابی واقعی میرے پاس نہیں تھی، ہاں ! اس کا اہتمام ہی کب کیا تھامیں نے  ؟بہت ساری چھوٹی بڑی نیکیاںاور ڈھیرسارا حسن اخلاق ،میرے لیے میری جنت میں بہت کچھ تھا لیکن چابی  ؟مجھے ایک دم سے اپنی دن بھر کی مصروفیات یاد آنے لگیں، جن میں نماز کہیں نہیں تھی۔۔۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوں جو’’میری جنت‘‘ہے لیکن میں اس کے اندر نہیں جاسکتا ،ایک عجیب سی محرومی کا احساس میرے اندر جاگا اور ساتھ ہی کہیں جذبۂ شکر بھی کہ اگر آج میں گھر کی چابی نہ بھولتا،تو جنت کی چابی کی اہمیت کا احساس پھر نہ جانے کب ہوتا ۔۔۔۔             
 
راحت
ماں کے چہلم کی رسلم کے لئے دونوں بھائیوں کو اپنے اپنے مالک سے پانچ پانچ ہزار روپے مل گئے تھے،اس لیے کسی پریشانی کا منہ نہیں دیکھناپڑاتھا ان کو۔۔۔۔ماں کے کمرے میں پڑی وہیل چیئراب بیکار ہوچکی تھی۔اطہر نے اظہر کو  مشورہ دیا کہ وہیل چیئر بیچ دی جائے اور احباب کا 
حساب بے باق کردیا جائے۔ اس نے معلوم کر لیاتھا کو چیئر دوتین ہزار میں بک سکتی تھی۔۔۔۔اظہر کافی دیرتک گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھا رہا بڑے بھائی کے سامنے،،، بہت کچھ سوچا اس نے۔۔۔ماں کی یاد کے ساتھ دیر تک آنکھ مچولی کھیلتا رہا وہ،،،،اطہر منتظر تھا کہ اظہر ہاں کہے تو 
وہ وہیل چیئر بیچنے کا کوئی جگاڑ کرے۔۔۔۔کافی دیر تک اظہر نے کوئی جواب نہ دیا تو اطہر نے پوچھا ۔۔’’کس سوچ میں پڑے ہو اظہر؟‘‘
اظہر نے سر اٹھا کر پر نم آنکھوں سے بڑے بھائی کی طرف دیکھا اور کہا۔۔۔بھیا، دس مہینے تک ماں اس چیئر پر بیٹھ کر محسوس کرتی رہی ہے کہ وہ اپاہج نہیں ہے۔اپنے احباب کا آدھا قرض ہم اتار چکے ہیں۔ محنت مزدوری کر کے باقی کا آدھا بھی اتاردیں گے لیکن میرا ضمیر نہیں مان رہا ہے اس چیئر کو بیچنے کے لئے۔۔۔
’’کرنا کیا ہے اس چیئر کا اب؟‘‘  
’’ بھیا میں چاہتا ہوں کہ ہم یہ چیئر کسی اپاہج ویلفیر سو سائٹی کو خیرات کردیں۔کوئی مفلوج بچہ اس چیئر پر بیٹھ کرچلے گا تو ماں کی روح کو اتنا سکوں ملے گا ،جتنی راحت اس کو آپ کو یا مجھے گود کھلاتے ہوئے ملی ہوگی۔۔۔‘‘
 
بزنس پارٹنر
 دانش بنگلے پر نیا رنگ کروارہا تھا۔۔۔انشورنس کی رقم ملتے ہی اس نے بنگلے کا قرض ادا کرکے اس کے کاغذات واپس لے لیے تھے۔۔
اب وہ بنگلہ اُس کا تھا۔۔نہ صرف وہ بنگلہ بلکہ دس کروڑ روپے اور تین گاڑیاں بھی۔۔۔۔
اچانک وہاں ایک رکشا آکر رکا۔۔۔اس میں سے صبا اُتری اور بولی۔۔۔۔’’اوہو ،نیا رنگ وروغن ہورہا ہے؟‘‘۔۔۔دانش
چونک پڑا کیونکہ اس نے یہ جملہ انگریزی میں اداکیا تھا۔۔۔’’حیران مت ہوجائو‘‘۔۔۔اس نے کہا۔۔۔’’میں نے بھی انگلش لینگویج کا کورس کر رکھا ہے اور انگلش اچھی طرح سمجھتی اور جانتی بھی ہوں۔تم اور میڈیم جو باتیں کرتے تھے میں سب کچھ سمجھتی تھی۔تم کیا سمجھتے ہو،تم یہ سب کچھ اکیلے ہڑپ کرجائو گے‘‘۔۔۔۔۔
نہیں،تم بھی میرے ساتھ ہی ہڑپ کروگی۔۔۔دانش مسکرایا اور بولا۔۔’’آج سے تم میری بزنس پارٹنرہو‘‘۔۔۔