تازہ ترین

ٹرمپ جنونیت کا مجسمہ

16 دسمبر 2017 (00 : 01 AM)   
(      )

جی ایم عباس
اسرائیل دنیا کا ایک ایسا متنازعہ یہودی اکثریت والا ملک ہے جو انگریزوں کی عیاری ومکاری سے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت فلسطین کو تقسیم کرکے معرض وجود میں لایاگیا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعددسمبر 1917 کے دوران انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کرکے یہودیوں کو یہاں آباد ہونے کی عام اجازت دے دی۔یہود و نصاریٰ کی رچائی گئی بدترین سازش کے تحت نومبر 1947 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دھاندلی کر کے یروشلم کو فلسطین اور عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کردیا۔ جب 14 مئی 1948  میں یہودیوں نے اسرائیل کے قیام عمل میں لایا تو پہلی عرب - اسرائیل جنگ چھڑ گئی۔اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل اپنے طاقت کے بل بوتے اور امریکیوں کے سپورٹ سے تقریباً 78 فی صد فلسطینی رقبے پر قابض ہوگیا۔تیسری عرب - اسرائیل جنگ جون 1967 میں ہوئی اور اسرائیل ظلم، جارحیت اور استبداد سے بیت المقدس پر مسلط ہوا۔یوں مسلمانوں کا قبلہ اوّل یہودیوں کے قبضے میں آگیا ۔ القدس (یروشلم) فلسطین کا شہر ہے اور فلسطین کا تسلیم شدہ دارلخلافہ بھی ہے۔ مسلمانوں ، یہودیوں اور مسیحیوں تینوں مذاہب کے نزدیک یہ بہت مقدس مقام ہے اوران کی مذہبی روایات اس شہر سے وابستہ ہیں۔اسرائیل تقریباً 85 لاکھ نفوس کی آبادی والا ایسا ملک ہے جو بحیرہ ٔروم کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے۔اسرائیل کا معاشی مرکز تل ابیب ہے جب کہ سب سے زیادہ آبادی اور صدر مقام یروشلم کو جابرانہ طور پر بنایا ہے۔تاہم آج تک بین الاقوامی طور پر یروشلم کو اسرائیل کا حصہ تسلیم نہیں کیا گیا ۔اب امریکی تاریخ کے متنازعہ ترین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مسلم مخالف پالسیوں کے طور یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنا ایک نیا تنازعہ بنا ہے۔مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق ٹرمپ کے شرمناک اعلان کے خلاف حسب توقع عالمی سطح پر بالخصوص مسلم اقوام میں زبردست ناراضگی پھیل گئی۔اقوام متحدہ سمیت عرب لیگ اور OIC کے ہنگامی اجلاسوں کے بیچ عرب و عجم میں مسلمانوں اور دیگر امن پسند لوگوں نے سڑکوں پر احتجاج کیا اور ٹڑمپ پلان کے خلاف سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگرتیس نے یروشلم پر اسرائیلی جارحیت اور حاکمیت کے حوالے سے ٹرمپ کے اقدام کو سختی سے مسترد کیا ۔ سعودی عرب کے شاہی بیان میں امریکی صدر کے فیصلے کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیا گیا،جب کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی صدر کے اعلان کو ناقابل قبول اور شرم ناک بتا یا۔یورپی یونین نے بھی صدر ٹرمپ کے اس احمقانہ فیصلے کو افسوس ناک قرار دیا ۔ اس بیچ مسلم دنیا کے نڈر مسلمان رہنما ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے ٹرمپ پلان کے خلاف احتجاجاً اسرائیل کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے امریکی صدر کے اعلان کو سختی سے مسترد کیا۔پاکستان سمیت دنیا کے دیگر مسلم اقوام نے بھی صدر ٹرمپ کے اس غیرذمہ دارنہ بیان پر برہمی کا اظہار کیا ۔ صدر ٹرمپ اسرائیلی جارحیت اور وحشیانہ پن کا ساتھ دے کر نہتے فلسطینیوں کو بالخصوص اور مسلمانوں کو زچ کر نے میں جنونیت کی حد یں پار کر رہے ہیں ۔ ایسے میں مسلمانوں کو بالخصوص مسلم حکمرانوں کو ہوش کے ناخون لینے چاہیے۔ وہ کب تک امریکہ کے سامنے دامنِ احتیاج پھیلاتے رہیں گے ؟ قرآن شریف کی سورہ آل عمران آیت 28میں اللّہ تعالیٰ واضح الفاظ میں مسلمانوں کو خبردار کر تاہے:  کفار کو (ظاہراً و باطناً)اپنا دوست مت بنالیں۔ سورہ المائدہ آیت 51میں ایک بار پھر خبردار کیا کہ: تم یہود و نصاریٰ کو دوست مت بنانا۔ یہ بھی فرمایا کہ مسلمانوں میں جو شخص ان کے ساتھ دوستی کرے گا ، وہ ان ہی میں سے ہوگا۔ مشکوٰۃ شریف کےباب الظلم ص 436میں رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص ظالم کو ظالم سمجھتے ہوئے بھی اس کا ساتھ دے وہ اسلام سے نکل گیا‘‘۔اگر مسلمان گمراہی سے بچتے ہوئے قرآن اور سنت رسول مقبول صلی اللّہ علیہ وسلم کے عین مطابق زندگی گزاریں تو کیا مجال کہ اغیار کی جارحیت اور ان کے مذموم ارادے مسلمانوں پر جاری رہیں۔یہ مسلمانوں کو اپنی ہی بداعمالیوں کی سزا اور دین اسلام سے دوری کا نتیجہ ہے کہ غاصب اور جابر حکمران ہم پر مسلط ہورہے ہیں ۔جب جب کلمہ خوانوں میں بداعمالیاں رواج پا تی رہیں تو اس کانتیجہ عذاب الہٰی کی صورت میں نکلتا رہا اور خدائی عذاب کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں ۔ 
رابطہ 9797082756
 بوٹینگو - زینہ گیر - سوپور