تازہ ترین

حصار

کہانی

19 مارچ 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

رحیم رہبرؔ
وہ لکیروں میں گُم تھی۔۔۔ وہ خوبصورت حسینہ۔ پھول جیسی شرمیلی، گول گول آنکھیں ابروُ کمان جیسی۔۔۔ چاند جیسا چہرہ۔۔۔ سنہرے بال۔۔۔ رسیلے گُلابی ہونٹ۔ غرض میں کینواس پر حسن کا ایک نیا اتہاس رقم کرنا چاہتا تھا۔وہ سمندر کی مانند مغرور تھی۔ سمندر کی طوفانی لہروں سے کھیلنا اُس کا مشغلہ تھا۔ سمندر سے اُس کا گہرا تعلق تھا۔ میری لاکھ گوشش کے باوجود بھی وہ فریم سے باہر نہیں آئی!۔
’’ میں ایک مُصور ہوں، میری ہر تخلیق حُسن میں ہی پنپتی ہے۔ مُجھے اُس حسینہ کی تلاش ہے جو میرے گراف کی لکیروں میں کہیں قید ہے۔ میں کینواس پر اُس کی مُکتی چاہتا ہوں۔ مُجھے انتظار ہے اُس گھڑی کا، جب وہ شہکار تخلیق کینواس پر اُبھر کر آئے گی اور میرا مشن مکمل ہوگا۔‘‘ میں نے اُس انجان حسینہ سے کہا جو سمندر کے ساحل پر لہروں کو گھور رہی تھی۔۔۔ 
’’یہ حُسن میں تیری راہوں پہ قربان کرنے کے لئے تیار ہوں، پر تمہیں میری ایک شرط ماننی ہوگی!‘‘
’’مُجھے قبول ہے‘‘ میں انہماک سے بولا۔
’’ اس سمندر کو گٹھری میں باندھ کر مُجھے پیش کرو‘‘
میرے لئے یہ ’کرو یا مرو‘ والا معاملہ تھا۔ لہٰذا ا میں نے ایسا ہی کیا۔ سمندر کو گٹھری میں باندھ کر حسینہ کو پیش کیا۔ حسینہ نے مُسکراتے ہوئے گٹھری قبول کی۔ وہ گٹھری کولیکر اُس جگہ چلی گئی جہاں پہ میرا مصوری کے سامان، اِیزل، کینواس، رنگ وغیرہ پہلے سے ہی موجود تھے۔ حسینہ نے گٹھری کھول دی شانت سمندر تپتی ریت پر بکھر گیا۔ حسینہ نے اب سمندر اوڑھ لیا۔ سمندر کی لہریں بار بار اُس کے جسم کو چومتی تھیں۔۔۔ ایک بڑی لہر نے حسینہ کے سر کا ڈوپٹہ کھول دیا۔
میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ اُس کے سر پر بال نہیں تھے!!
’’تعجب ہورہا ہے! ؟‘‘ میں آہستہ سے بولا۔
’’ میں راہبہ ہُوں۔ اس لئے سارے بال کٹوائے ۔ میں نے سنیاس لیا ہے۔‘‘ وہ مُسکراتے ہوئے بولی۔
راہبہ سمندر اوڑھ کر خُود سمندر بن گئی۔ بدن سمندر، سمندر بدن! ہر دن رنگ بدلتے سمندر کے گہرے اندھیرے میں وہ چِلا چِلا کر مُجھے پکار نے لگی۔۔۔
’’ مُجھ میں سما جا ۔۔۔ تمہارا مشن مکمل ہوگا۔‘‘
میرے اِدراک کے در یچے وا ہوئے۔ پل بھر میں میں نے خُود کو سمندر کی گود میں پایا۔ وہاں رنگوں کی بہتات تھی۔ سفید، سیاہ، سرُخ، زرد، نیلا، پیلاوغیرہ قوس قزح کے سات رنگوں سے پرے ہر رنگ پرُ کشش اور چمکیلا تھا۔ رنگوں میں میری نگاہیںرنگ گئیں۔؟
میں نے فوراََ برتن ہاتھ میں لے لیا اور لکیروں میں رنگ بھرنے لگا۔ دھیرے دھیرے وہ حسینہ جسکی مُدت سے مجھے تلاش تھی لکیروں کا حِصار توڈ کر کینواس پہ نمودار ہوئی۔ وہ شہکار تخلیق میری صناعی کا بے مِثال نمونہ ہے۔ جو میرے صَنم کدہ کی زینت بنی ہوئی ہے۱۱
رابطہ:آزاد کالونی پیٹھ کانہامہ ، ماگام کشمیر،9906534724