تازہ ترین

بے نام کہانی کا آخری ورق

افسانہ

12 مارچ 2017 (00 : 01 AM)   
(      )

نور شاہ
اپنے شہر کی کہانی تو ہم صدیوںسے سُنتے آئے ہیں ،پڑھتے آئے ہیں اور لکھتے بھی آئے ہیں لیکن آج اس کہانی کا ایک نیا رُخ، ایک نیا پہلو ،ایک نئے انداز کے ساتھ میرے ذہن میں کروٹیں بدل رہا ہے۔ میری سوچوں میں بدلائو لا رہا ہے۔ شاید اسی لئے میں اپنے آپ کو اپنے وجود سے دور رکھنا چاہتا ہوں۔ اپنی آنکھیں بند کر کے خاموشی کے جنگل میںگم ہونا چاہتا ہوں تاکہ کچھ بھی نہ دیکھ سکوں۔ کچھ بھی نہ سن سکوں کچھ بھی نہ پڑھ سکوں ۔۔۔ پھر سوچتا ہوں بھلا آنکھیں بند کرنے سے کیا دل کی روشنی بُجھ سکتی ہے؟!
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مدتوں چل پھر کر بھی ہم منزل کو چُھو نہیں سکتے اور کبھی منزل خود ہی سفر طے کر کے آواز دیتی ہے!
آج کی کہانی کا تعلق نہ تو اس شہر کی رنگا رنگی اور خوبصورتی سے ہے اور نہ ہی سفیدے کے قطاروں میںبکھرے ہوئے راستوں سے ہے۔ نہ تو پہاڑوں کے دامن میں بل کھاتے ہوئے چشموں کے ٹھنڈے یخ پانی سے ہے اور نہ ہی رنگ برنگے پھولوں سے ڈھکے ہوئے مرغزاروں میں ایسی کہانی کا پس نظر چھپا ہوا ہے۔ البتہ شہر کی کہانی کا یہ ورق ۔۔۔ آج کا یہ نیا ورق بڑا ہی معلوماتی ہے اور میں بڑی سنجیدگی اور گہرائی کے ساتھ ان معلومات کی تہہ میں اُترنا چاہتا ہوں اور جاننا چاہتا ہوں کہ ایک مختصر سی اخباری خبر نے مجھے بھی اس قدر بے چین کیوں کر رکھا ہے کیوں ایک انجانی ذہنی کوفت میں مبتلا کر رکھا ہے اور یہ خبر کیوں میرا سکون چھینے جا رہی ہے۔۔!
اس شہر کی کہانی میں کُتوں کو کیوں اس قدر اہمیت دی جارہی ہے؟
ایک اخباری خبر کے مطابق ہمارے شہر میں کتوں کی مجموعی تعداد میں پچاس فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ چند برس قبل ان کتوں کی تعداد پچاس ہزار کے قریب تھی، پھر سیلاب نے ایک بھر پور تباہی مچادی۔ کُتے بھی انسانوں کی طرح سیلاب کی تباہ کاریوںسے بچ نہ سکے۔ سیلاب میں مرنے والے کتوں کی تعداد پانچ ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے اور اس کے بعد کچھ کتے اپنی موت آپ مرگئے اور کچھ سرکاری زہر کھا پی کر ابدی نیند سوگئے۔ اب جو کتے زندہ سلامت ہیں اور شہر میں جہاں کہیں بھی گھوم پھر رہے ہیں، سرکار ان کو ٹھکانے لگانے کے لئے ایک نئے پروجیکٹ پر کام کر رہی ہے۔ اعداد و شمار اکھٹے کئے جارہے ہیں اور عنقریب ہی ایک منصوبہ بند طریقے سے اس پروجیکٹ کو عملی صورت دی جارہی ہے اور اس طرح کتوں کی تعداد میں کمی آنے سے انسانوںکو تحفظ حاصل ہوگا۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ تحفظ دینے کی یہ کہانی کب اور کس موڑ پر سمٹ کر رہ جائے گی اور کن اوراق میں گم ہوجائے گی۔۔۔ میرا کیا؟ ان کتوں سے میرا کیا واسطہ، کیا تعلق اور اخباری خبر میں اس قدر دلچسپی کیوں؟! لیکن کچھ تو ہے۔ ضرور کچھ ہے ۔شاید اسی لئے پریشانیوں نے مجھے گھیر کر رکھا ہے ۔میرے ذہنی تنائو نے میری سوچوں کی بے حس کر دیا ہے۔ میں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بھی دیکھ نہیںسکتا، میں سوچنے کی سکت رکھتے ہوئے بھی بول نہیں سکتا۔۔۔۔ اس خبر کی تہہ میں میں شاید انسانی وجود کو لرزتے لڑھکتے دیکھ رہا ہوں۔ پُرانے نئے مکانوں میں اُداسی کا بسیرا دیکھ رہا ہوں، سہمے ہوئے مکین دیکھ رہا ہوں،رفاقتوں اور محبتوں سے دور ہوتی ہوئی زندگی دیکھ رہا ہوں، زمین کی کھردری چادر پر بیٹھی ہوئی انسانی زندگی کو اپنی بقاء کے لئے لڑتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔۔۔ ہاں یہ سچ ہے اور میں اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ اس خبر کی تہہ میں مجھے گولہ بارود کی بُوکا احساس ہو رہا ہے۔ جدھر دیکھتا ہوں لہو ہی لہو نظر آرہا ہے۔ بینائی سے محروم کھلی کھلی آنکھیں نظر آرہی ہیں۔۔۔۔۔ یہ میں کیسی آگ دیکھ رہا ہوں جو برہنہ ہوکر محصور قص ہے اور گلشن گلشن میرے شہر کے ہر ہر لمحے میں کربناک و حشت طاری کرنے میں مصروف ہے۔ میرے دریائے جہلم کی روانی اب کسی کہانی کو دہرانے جارہی ہے۔ میرے ڈل جھیل کے کنول کیوں مرُجھا رہے ہیں۔ میرے پری محل کی پریاں پریوں جیسے نغمے گاتے گاتے کیوں خاموش ہوگئی ہیں!
جانے ہمارے سہانے اور سنہرے خواب ہی کیوں ڈسنے لگے ہیں!
کتوں کی خبر تو ایک اخباری خبر تھی۔ خبروں کا کیا ہے۔ خبر پڑھ لی اور اخبار بے معنی ہوگیا لیکن جو خبر میرے ذہن میں آہستہ آہستہ رک رک کر راستہ بنا رہی ہے اور میری سوچوں کو ہموار کر رہی ہے، دعا کرتا ہوں کہ وہ سچائی کا روپ اپنا کر کسی اخبار کی زینت نہ بنے۔ اسی لئے اپنی بات کہتے ہوئے ڈرسا لگ رہا ہے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ذرد پتوں کے خزان زدہ موسم میں یا سپید موسم کے برفانی تودوں میں سب کچھ ایک جیسا دکھائی دیتا ہے ۔۔۔ یک رنگی۔۔۔ کُتے اور انسان میں بھی!!
لل دید کالونی ، گوری پورہ لنک روڑ ,راول پورہ سرینگر
رابطہ؛9906771363