تازہ ترین

’’مٹی کی صدا ‘‘

19 مارچ 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

پرویز مانوس
تمہیں کچھ یاد ہے اک دن !
سبھی رشتوں کو ٹھوکر مار کر نکلے تھے تم گھر سے
کئی اُمید کے ٹکڑے کُچل کر پاؤں کے نیچے
کسی کا پیار ٹُھکرا کر شہر کو لوٹ آئے تھے
کئی جذبات پگڈنڈی پہ بیٹھے آج تک یونہی
تُمہی کو یاد کرتے ہیں ، تمہاری راہ تکتے ہیں
تمہارے گاؤں کی خوشبو ، تمہارے کھیت کی مٹی
نہ جانے کیوں ترستی ہے تمہیں اک بار چھونے کو
کبھی اپنے بزرگوں کا تمہیں احساس ہوتا ہے
جنہیں تم چھوڑ آئے ہو تڑپنے کے لئے تنہا
جو اُنگلی تھام کر چلنا تمہیں اک دن سکھاتے تھے
تمہاری آہ  پر  کتنے  ہی جانے دُکھ اُٹھاتے تھے
وہی جھُریوں بھرے چہرے تمہیں آواز دیتے ہیں
صُبح سے شام تک ہاتھوں میں اپنے لے کے موبائل
ترستے کان ہیں اُن کے کبھی تم کال کر بیٹھو
مگر تم کو کہاں فُر صت کہ سونے کے جزیرے سے
پلٹ کر اُس طرف دیکھو! 
جہاں بچپن گُزارا تھا، جہاں احباب رہتے تھے
جہاں گُلک میں سِکے ڈال کر تم چھنچھناتے تھے
جہاں میدان میں تھے کھیلتے گِلی ڈنڈا مِل کر
جہاں کچے مکاں روح کو عجب فرحت بخشتے تھے
جہاں آنگن کُھلے تھے ،دل کُھلے تھے ، سرحدیں نہ تھیں
جہاں پر دل لُبھاتے تھے چناروں کے گھنے سائے
جہاں پر چوکڑی سجتی تھی گاؤں کے بزرگوں کی
جہاں حُقے کی نَے  دن کی تھکاوٹ دُور کرتی تھی
جہاں پر ہل چلایا تھا کبھی ذرخیز مٹی میں
جہاں  گھنگھرو بجا کر جھومتے تھے بیل کھیتوں میں
جہاں الہڑ حسینائیں کبھی پنگھٹ پہ آتی تھیں
جہاں مٹکے کو کنکر مار کر تم پھوڑ دیتے تھے
جہاں تڑکے سُریلے گیت کوئل گنگناتی تھی
جہاں سرسُوں مہکتی تھی ، جہاں فصلیں لہکتی تھیں
تمہاری بے رُخی پہ وقت بھی افسوس کرتا ہے
تمہیں اُن سے شکایت ہے، جنہیں تم بھول بیٹھے ہو
ذرا سوچو کبھی تم نے دو میٹھے بول بولے ہیں
محبت اُن میں بانٹی ہے ؟ یا آنسو اُن کے پونچھے ہیں ؟
تمہارے گاؤں کی مٹی تمہیں اتنا ہی کہتی ہے
پرائے شہر میں آکر محبت ڈھونڈھنے والو!
محبت اُن سے ملتی ہے ، جنہیں تم بھی محبت دو
ہزاروں کوششیں کر لو مگر اتنا سمجھ لینا
قبولے گی نہیں ہرگز تمہیں یہ شہر کی مٹی
ابھی کچھ شہر  میں باقی تمہارا آب و دانہ ہے
 
میری آغوش میں آخر تمہیں اک دن سمانا ہے
میری آغوش میں آخر تمہیں اک دن سمانا ہے
 
 
 
نٹی پورہ سرینگر ،موبائل:  9419463487