تازہ ترین

ادب کیا ہے؟

افسانہ

12 مارچ 2017 (00 : 01 AM)   
(      )

مدثر شمیم راتھر
یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ’’ادب‘‘کیا ہے ؟ لیکن اس کا جواب دینے سے پہلے اگر میںآپ سے یہ سوال کروں کہ ’’زندگی‘‘ کیا ہے آپ کے پاس اس کا کیا جواب ہوگا ؟اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جو جواب بھی آپ دیں گے۔ وہ جامع نہیں ہوگا ۔ اس میں صرف وہ زاویہ ہوگا، جس سے خود آپ نے زندگی کو دیکھا ہے یا دیکھ رہے ہیں ۔ ضروری نہیں ہے کہ دوسرا بھی اس سے اتفاق کرے یا آپ کے جواب سے مطمئن ہو جائے۔ یہ سوال بھی کہ ادب کیا ہے ؟ اسی نوعیت کاہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ خود ادب بھی ’’زندگی‘‘ کے اظہار کا نام ہے ۔ ادب چونکہ لفظوں کی ترتیب و تنظیم سے وجود میں آتا ہے اور ان لفظوں میں جذبہ و فکر بھی شامل ہوتے ہیں ۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کی لفظوں کے ذریعے جذبے ، احساس یا فکر و خیال کے اظہار کو ادب کہتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی تعریف ہے جس میں کم و بیش ہر وہ بات جس سے کسی جذبے، احساس یا فکر کا اظہار ہوتا ہے اور جو منہ یا قلم سے نکلے ادب کہلائیگی۔ لیکن میری طرح یہ آپ بھی جانتے ہیں کہ ہر وہ بات ، جو منہ سے نکلتی ہے یا ہر وہ بات جو قلم سے ادا ہوتی ہے، ادب نہیں ہے ۔ عام طور پر اخبار کے کالم یا اداریئے ادب نہیں کہلاتے۔ حالانکہ ان میں الفاظ بھی ہوتے ہیں اور اثر و تاثیر کی قوت بھی ہوتی ہے ۔ 
ادب کے سلسلے میں یہ بات ذہن نشین رکھنا ضروری ہے۔ کہ ادب زندگی میں کسی چیز کا ’’بدل‘‘ نہیں ہے اور اگر اس کی حیثیت کسی اور چیز کے بدل کی ہے تو وہ پھر ادب نہیں ہے۔ ادب ایسا ’’اظہار ‘‘ ہے جو زندگی کا شعور و ادراک حاصل کرنے کیلئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔ ادب میں انسان کے تخیلی تجربے کو اُبھارنے کی ایسی زبردست قوت ہوتی ہے کہ پڑھنے والا اس تجربے کا ادراک کر لیتا ہے ۔ ادب کے ذریعے ہم زندگی کا شعور حاصل کرتے ہیں ۔ یہ ادب کا خاص منصب ہے ۔ ادیب ایک ایسا انسان ہے جس میں ادراک کی صلاحیت بھی ہوتی ہے اور اس کے اظہار کی قوت بھی ۔ اس کے ادراک و اظہار میں داخلی و خارجی وسعت اور تہ داری ہوتی ہے ۔ 
ادب زندگی میں نئے معنی تلاش کرنے کا نام ہے اور اسی لیے ادب کو زندگی کے شعور سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی شعور کے ذریعے ہم بدلتے رہتے ہیں ۔ ہم وہ نہیں رہتے ، جو اس وقت ہیں اور اسی سے ہمارے اندر قوتِ عمل پیدا ہوتی ہے ۔ زندگی کے ایسے تجربے جن سے ہمیں بھی واسطہ نہیں پڑا، ادب کے ذریعے براہ راست ہمارے تجربے بن جاتے ہیں ۔ جو ہمیں اور ہمارے اندازِ فکر کو بدل دیتے ہیں ۔ 
ادب جن دُنیائوں میں ہمیں لے جاتا ہے وہ حقیقی دنیا سے زیادہ حقیقی ہوتے ہیں ۔ پروستؔ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ’’ ہماری اصل زندگی ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہے ادب کا کام یہ ہے کہ وہ اُسے ہمارے سامنے لے آئے ۔ اور اس طرح ہمیں خود ہم سے واقف کرا دے ۔‘‘
غالب ؔ ، سر سید ؔ ، حالی ؔ اور اقبال ؔ نے اپنی تحریروں سے ہمیں خود ہم سے واقف کرا کر اس طور پر بدلا ہے کہ ہم نے گویا نیا جنم لیا ۔ ادب یہی کام کرتا ہے ۔ اردو ادب کے میدان میں جن ادیبوں نے اپنا لوہا منوا کر اردو ادب کی آبیاری اور اسے انفرادیت عطا کرنے میں اہم کام اور اہم رول ادا کیا ہے ان میںاوپر لکھے گئے ادیبوں کے نام چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ 
اس ساری بحث کو سامنے رکھ کر جب ہم خود سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ آخر ہمیں یہ سوال کہ ’’ادب کیا ہے ‘‘، پوچھنے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ تو ہمارا باطن میں چھپئے ہوئے اُس چور سے آمنا سامنا ہوتا ہے ، جو ہمیں سائنس کے زیر اثر ، ادب میں خالص افادیت کی تلاش پر اُکسا رہا ہے ۔ یہ سوال ہم اس لیے کرتے ہیں کہ ہماری چُھپی ہوئی خواہش اب یہ ہے کہ ادب کا کام تو زندگی میں معنی تلاش کرنا اور ان کا رشتہ ماضی سے قائم کر کے مستقبل سے جوڑ دینا ہے ۔ ادب کا حوالہ تو خود زندگی ہے اور وہ اُسے ہی آگے بڑھاتا ہے ۔ ادب تو انسانی تجربے کے مکمل علم و آگاہی کا نام ہے ۔ اب وہ انسان جو نہ صرف اس کے اظہار پر قدرت رکھتا ہے بلکہ جس کا اظہار سچا بھی ہے اور حسین بھی ، مکمل بھی ہے اور موثر و مثبت بھی ۔ اسی لیے ادب تنقیدِ حیات ہے اور زندگی کے گہرے پانی میں ڈوب کر سُراغِ زندگی پانے کا نام ہے ۔ بقولِ اقبال ؒ  ؎
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سُراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا   نہ بن  اپنا تو بن 
 
رابطہ:سرہامہ ،  بجبہاڈہ ،  اسلام آباد
فون نمبر : 9797052494 ای میل:  mudasir2041@gmail.com