تازہ ترین

افسانچے

2 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

عذرا بنت گلزار ضیاءؔ

عشق

’’عادل! عشق بڑا ہی پیچیدہ معاملہ ہے۔جب آپ کے نزدیک دُنیا کی ہر چیز کی قیمت زیرو ہو جائے اور صرف اپنے محبوب کو پانے کی چاہت ہوتو اُسے عشق کہتے ہے۔۔۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو جان لینا چاہیے کہ عشق کمزور اورلا چار ہے۔‘‘اُس کے کہے ہو ئے اِن الفاظ کو سمجھنے سے میں قاصر تھا لیکن یہ عشق کی گہرائی میرے سامنے تب کھلی ،جب کانپتے ہاتھوں سے خون میں لت پت کفن کواپنے دوست کے چہرے کا آخری دیدارکرنے کیلئے اُٹھایا۔ 
 

لفافہ

’’وقت بہت کم ہے۔۔۔بہت کم ۔۔۔یوں سمجھ لئجیے کہ ندیم کچھ مہینوں کا مہمان ہے۔‘‘ڈاکٹر کے یہ الفاظ مسلسل شاکرہ کے کانوں میں گونج رہے تھے۔اپنے شوہرسے جدائی کا تصور ہی اُس کے وجود کو ریزہ ریزہ کرنے کے لئے کا فی تھا۔ٹیبل پر پڑے لفافے کو خوف زدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔دل اُداسی کے دریا میں غوطہ زن ، آنکھیں اشک باراور لب تھر تھرا رہے تھے۔اُسے اِس بات کا اندازہ ہو چکا تھا کہ اُس کے دل میں جس درد کے طوفان نے جنم لیا ہے، وہ عارضی نہیں دائمی ہے۔جب تک اُ س کی دھڑکنیں رواں دواں ہیں تب تک اِسی درد کی طغیانیاں اُس کے دل کو چیرتی رہیں گی۔
’’شاکرہ!۔۔۔شاکرہ!۔۔۔اوہ میرے خدا!‘‘ دوسرے کمرے سے ندیم کی کراہتی ہوئی آوازیں آنے لگیں ۔زندگی کا اذیت ناک پہلو دکھانے سے پہلے ، اپنے بندے کو آزمانے سے پہلے اللہ اِنسان کے اندر برداشت کی قوت پیدا کرتا ہے۔ جبھی تو اِنسان نہ جانے کتنے بڑے بڑے رنج و غم ہنستے ہنستے سہ جاتا ہے۔شاکرہ میں بھی وہ ہمت آچکی تھی کہ آنے والی مصیبتوں سے مقابلہ کرسکے ۔ندیم کی آواز پر وہ فوراََاُٹھ کھڑی ہوئی،اپنا حلیہ درست کیا اور ٹیبل پر پڑے لفافے کو تھام کر ندیم کے پاس چلی آئی۔
’’کیا ہوا ندیم؟ تم ٹھیک تو ہو؟‘‘ وہ اُس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگی۔ ندیم اُس کی آنکھوں میں چھپے غم کو دیکھ کر اپنا سارا دردفراموش کر کے بے ساختہ بول پڑا’’تم عورتوں کا مسئلہ کیا ہے۔۔۔اللہ کی مرضی کو جلد از جلد قبول کیوں نہیں کر سکتی؟‘‘  شاکرہ کا کلیجہ منہ کو آنے لگا ،وہ اپنے آنسووں کے سیلاب پر قابو پانے میں ناکام رہ گئی۔اس کا ہر بہتا آنسو ندیم پر کرب کا تازیانہ بن کر گر رہا تھا ۔اللہ کی مرضی کیلئے وہ خود کو مجرم گردانتا ۔
شاکرہ اپنے آنسو پوچھ کر لفافہ اُس کی طرف بڑھا کرکہنے لگی’’اتنا آساں نہیں ہوتا ندیم!۔۔۔‘‘ندیم اُس لفافے سے کاغذ کو نکالتے ہوئے اُس سے پوچھنے لگا’’ویسے کیا ہے یہ؟‘‘  
’’رپورٹز‘‘ وہ بے باک بول پڑی اور ندیم کے چہرے کی جانب اِس طرح نظریں جماکر بیٹھ گئی جیسے وہ اِس لمحے کو زندگی بھر کے لئے اپنی آنکھوں میں محفوظ کر لینا چاہتی تھی۔۔۔ جیسے اُس لمحے سے بڑ ھ کر اُس کیلئے کچھ اور نہ تھا۔۔۔ جیسے یہ لمحہ اُس کے لئے زندگی بھر کا سہارا بننے والا تھا۔
لفافہ کھلا تو ندیم کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹوں نے جنم لیا اور اُس کی دھڑکنیں آنے والی خوشیوں کا استقبال کرنے کے لئے جھوم اُٹھیں۔ وہ شاکرہ کی اور دیکھ کر بولا ’’اللہ نے چار سال بعد ہمیں اولاد کی نعمت سے نوازا ہے اور تم اِس بات پر بھی اِس طرح آنسو بہا رہی ہو جیسے آسمان سے کوئی آفت نازل ہوئی ہو۔۔۔تم عورتیں بھی نا!۔۔۔۔‘‘
 

شریک ِحیات

دفتر سے نکلتے وقت میں نے اُن کی عمر اور طبیعت کاخیال کر کے کہا ’’سر!لگتا ہے شدید بارش ہونے والی ہے۔۔۔میں آپ کو گھر چھوڑ دوں؟‘‘ اُنہوں نے پیار سے میرے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا’’بیٹا !۔۔۔اب لفظ گھر میں وہ تاثیرکہاں جو میرے پیروں کو اچانک اُٹھ کھڑاہو نے کا حوصلہ دے اورمیرے ذہن کو اِس میٹھے سے احساس میں بھگودے کہ گھر پر کوئی بے صبری سے میرا انتظار کر رہی ہو گی۔۔۔میری منتظر رہنے والی تو چلی گئی۔۔۔میری پیاری شریکِ حیات تو چلی گئی۔۔۔اب اتنی جلدی گھر جا کے کیا کروں گا۔‘‘اُن کی باتوں سے مجھے احساس ہوا کہ جیسے اُنہیں اپنے وجود کے ہونے کا احساس صرف اُن کی شریکِ حیات دلاتی تھی۔  
 
 
 
 
 طالبہ شعبہ اُردو کشمیر یونیورسٹی،bintegulzaar@gmail.com