تازہ ترین

اُستاد کی فریادSSA

شاید کہ اُتر جائے تیرے دِل میں میری بات

22 مارچ 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

شاہیؔ شبیر
دُنیا کے ہر قوم و سماج میں اساتذہ کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، کیونکہ ہر قوم و سماج ان ہی کی کاوشوں سے مہذب بن جاتا ہے اور وقار حاصل کرتا ہے۔ قوموں کے آگے لے جانے اور ترقی کی نئی راہیں تلاش کرنے میں اساتذہ کا اہم  کردار  ہوتا ہے۔ اس لئے ہر زمانے میں اِ ن قوم کے معماروں کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اساتذہ نے ہمیشہ اپنا خونِ صرف کرکے دوسروں کے سینوں کو علم کے نور سے منور کیا یہ دُنیا  جو آج زبردست ترقی کی راہ پر ہے اور ستاروں پر کمند ڈال رہا ہے اس میں کسی نہ کسی طرح اساتذہ کا خونِ جگر شامل ہے۔ ہمارے یہاں اساتذہ کے ساتھ ناروا سلوک روا  رکھا جارہاہے، ہمارے اربابِ اقتدار ہم بے نواؤں کو بار بار پس پشت ڈال دیا ، ہمارے حقوق سلب کئے، طرح طرح کے حیلوں سے ہماری تذلیل کی گئی ، ہمارے نام آڈر پر آڈر نکالنے سے کس طرح ذہنی اذیت  ہمیںدی گئی اور کس طرح ہم کو مختلف آزمائشوں میں ڈالا گیا،و ہ ایک ناقابل بیان داستان ہے ۔ہم بھی مختلف آمرانہ حکم ناموں کے خلاف سینہ سپر ہوگئے جس میں اﷲ تعالیٰ نے ہمیں سُرخ روئی عطا کی لیکن حکام کی غفلت شعاری سے ہم ایسی پر یشانیوں میں مبتلا ہیں جن کا دور دور تک کوئی حل دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ SSA  اساتذہ کی تنخواہ  چھے چھے، آٹھ آٹھ مہینوں تک بند پڑتی ہے، اس دردِ سر میں ہم پچھلے چار برسوں سے مسلسل مبتلا ہیں۔کیا ہم نے اسی لئے بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کیں کہ ٹیچر لائین میں روزگار ملنے کے بعد بھی کسمپرسی کی زندگی گذاریں، غریبی اور تنگ دستی سے ہمارا مستقل پالاپڑے، ہمارے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑیں ، دوائیوں کے لئے ہماے پاس پیسہ نہ ہو، گھریلو اخراجات کے لئے ہماری گردنیں قرض میں ڈوبی ہوں، ہمارے بال بچے، مناں باپ ،بھائی بہن مفلسی کی زندگی گزارنے پر  مجبور ہو ں۔ نہ جانے ہم سے اتنا بھید بھاؤ کیوں ہورہاہے ؟ ہم سے سو تیلے پن کا مظاہرہ کیوں کیا جا رہا ہے؟ ہم نے بارہا حکومت کا در وازہ کھٹکھٹایا ، بارہا دھرنے دئے، بھوک ہڑتالیں کیں ، ہمارا خون سڑکوں پر بھی بہا، مگر ہمار ے درد کا کوئی مداوا نہ ہو ا۔ حکومت کے پاس ہمارا جیسا سیدھا سادھا مسئلہ کچھ بھی نہیں ہوتا ، اگر یہ چاہے تو ایک دم میں اس کاحل نکالے، لیکن نہ جانے ہمارے حاکموں کے کان پر جوں تک کیوں نہیں رینگتی؟ ان کے ایوانوں تک ہماری آواز کیوں نہیں پہنچتی؟ یا تو وہ ہم کو اپنے قد کا ٹھ کے مقابلے میں کمزور سمجھتے ہیں یا وہ اپنے عیش و آرام میں اتنے گم ہیں کہ ہمارے تئیں اپنی منصبی ذمہ دارایاں نبھانے سے پلو جاڑتے ہیں۔ خود سات پکوانوں کے ساتھ کھانے والے یہ حضرات بھول جاتے ہیں کہ کوئی ایس ایس اے ٹیچر اپنے اہل خانہ سمیت بھوکوں تو نہیں مر رہا ہوگا۔
 حکومتی اکابرین نے ہم سے بڑے بڑے کام لئے، الیکشن ڈیوٹی ہم نے دی، B.L.O  ڈیوٹی ہم نے دی ، مردم شماری ہم نے کی، مختلف محکموں کے کام ہم نے بخوبی انجام دئے ، پھر بھی ہم سے سرد مہری کایہ حال کہ تنخواہیں رکی پڑی رہیں، اس کو بد قسمتی ہی سے تعبیر کیا جائے گا۔ حالانکہ جو اسکول بند پڑے تھے ان کے زنگ آلودہ تالے توڑ کر ہم نے ان کو دوبارہ کھولا۔ اسکولی طلبہ و طالبات کا رول ہم نے بڑھایا۔ موسمی رکاوٹ یا حالات کی نامساعدت میں بھی ہم نے جان ہتھیلی پر رکھ کر اسکولوں کا کام کاج چلایا لیکن بڑے ایوانوں میں بیٹھنے والے افسروں اور حکمرانوں کو کبھی بھی یہ خیال نہیں آیا کہ زندگی گذارنے کے لئے ہمیں بھی وقت پر محنتانہ دینے کی ا شد ضرورت ہے۔کاش اُن کو یہ پتہ ہوتا کہ ہم وہ محلوق نہیں جوبنا کھائیں پئیں جی سکیں ۔ ہم بھی انسان ہیں، انسان کے پاس پیٹ ہوتا ہے، بھوک ہو توصرف روٹی سے مٹتی ہے ۔جب بھی ارباب ِ اقتدار کے کانوں میں ہماری یہ آواز پہنچی تو یہ رٹارٹایاجملہ کہہ کرکہ ایک ہفتہ میں سارا مسلٔہ ٹھیک ہوگا ہمین ٹرخایا گیا۔ منسٹر صاحب، ڈائرکٹرصاحب اور سیکرٹری صاحب نے بارہا ریڈیو کے ذریعے ہمارا دل رکھنے والی بات دہرائی کہ ایک دو ہفتے میں سارا مسلٔہ ٹھیک ہوگا۔ کبھی حصہ داری کا بہانا بناتے ہیں کہ مرکز نے اپنا حصہ نہ چھوڑا ، ریاست کا حصہ پڑا ہے، یا ریاست نے چھوڑا اور مرکز کا نہیں آیا۔ اگر ایک بار بھی حکومت نے سنجیدگی سے اس پیچیدہ مسئلے کو مرکز سے اُٹھایا ہوتا تو آج یہ نوبت نہیں آتی کہ ہم دربدر وخاک بسر ہوتے۔ ہم اتنے تنگ آ چکے ہیں کہ لفظوں میں اظہار نہیں کر سکتے۔ سوال یہ ہے کہ اُن اسا تذہ سے کس طر ح اپنے فرائض سے انصاف کی توقع کی جاسکتی ہے جن کی تنخواہیں مہنیوں بند پڑی ہوں؟ جن کے حالاتِ زندگی مالی پریشانیوں سے دگرگوں ہوں ؟ وہ بھلا اسکول میں کس طرح اچھے ڈھنگ سے کام کر پائیںگے؟ اس  صورت حال میں ہمارے اسکولوں میں زیر تعلیم غریب طلبہ وطالبات بھی براہِ راست متاثر ہوتے ہیں ۔ اس سارے مسئلے کی ذمہ دار حکومت اور وہ افسر شاہی ہے جس نے ہمیں جان بوجھ کر ذہنی بیمار بناڈالا ہے۔ گھر سے اسکول تک ہم کو کن کن قرض داروں سے واسطہ پڑتا ہے، وہ ہم ہی جانتے ہیں ۔ کبھی کبھی ہم کو چوری چھپے اسکول جانا پڑتا ہے۔ آنے والے وقت میں اب ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت اور افسر شاہی ہم پر ترس کھاکرا ور رحم کرکے ہماری رُکی پڑی تنخواہ واگذار کرے گی، یہ لوگ ہمارے حل طلب مسلے کا مستقل بنیادوں پر سنجیدہ ازالہ کرکے ہمیں ذہنی کو فتوں اور الجھنوں سے نجات دے گی ۔ ورنہ نظیر ؔ اکبر آبادی کی یہ حق بیانی ہم پر صادق آئے گی   ؎
وہ جو غریب غربا کے بچے پڑھاتے ہیں
ان کی عمر بھی نہیں جاتی ہے مفلسی
رابطہ:   چھانہ نو پورہ ۔ بیروہ ۔بڈگام
9858771148
shahishabir788@gmail.com