تازہ ترین

2 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

 
اصولوں کا کسی ظالم سے یوں سودا نہ ہو جائے
ہمارے ہاتھ سے انسانیت رسوا نہ ہو جائے
تلاطم خیز موجیں خود پتہ دے دیں کناروں کا
جو میرا ناخدا طوفان کا حصہ نہ ہو جائے
بتانِ آرزو، مسجود ہیں، معبود ہیں ہر جا
کہیں میری عبادت کا یہی قصہ نہ ہو جائے
یہ بد اعمالیاں، جور و جفا، فتنے شواہد ہیں
قیامت وقت سے پہلے کہیں برپا نہ ہو جائے
الہی پھونک دے اک بار پھر سے روح تو اپنی
کہیں شہکار تیرا خاک کا پتلا نہ ہو جائے
یہی تشکیک ہے باعث تری ایماں سے دوری کا
کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے
 
ذوالفقار نقوی
رابطہ؛مینڈر ، پونچھ ،9797580748
 
ہائے یہ کس پہ اعتبار کیا 
ہجر کی شب کو یادگار کیا
معتبر ہو چکا ہے  اب دشمن 
دوستوں میں کسے شمار کیا
بولتا ہے گلے میں  بلبل کے 
کس طرح خود کو  آشکار کیا
ہم نے کھولی دکان شیشے کی 
شہروالوں نے سنگسار کیا
رقصِ آتش کیا بہاروں میں 
برف زاروں کو داغدار  کیا
چاندنی سو گئی  درختوں پر 
شب کی شاخوں کو  مشکبار کیا
جس جگہ رک گئے تھے اہلِ جنون 
اس جگہ ہم نے انتظار کیا 
 
اشرف عادل 
کشمیر یونیورسٹی،حضرت بل سرینگر کشمیر 
موبائل نمبر؛9906540315
 
جو محبت میں جان دیتا ہے
اُس کو مولا جہان دیتا ہے
پھول جیسے یہ ہاتھ ہیں اِن میں
کون تیروکمان دیتا ہے
وہ اگر کچھ زمین بھی دے گا
پر کہاں آسمان دیتا ہے
زندگی دی اگر ہمیں پھر کیوں
ساتھ میں امتحان دیتا ہے
خوف طاری ہے لامکانی کا
کب مجھے اک مکان دیتا ہے
دل ہو مائل جسے سُن کر
کون ایسی اذان دیتا ہے
دھوپ کیسے اُسے ستائے گی
تو جسے سائبان دیتا ہے
کس سے پوچھوں قصور ہے کس کا
کون سچا بیان دیتا ہے
میں دکھاتا ہوں آئینہ جس کو
کیوں وہ بندوق تان دیتا ہے
کون رسوا کرے یہاں اُس کو
تو جسے آن بان دیتا ہے
اور ہوگا مقام اُردو کا
آج راحتؔ زبان دیتا ہے
 
رؤف راحت
roufrahat@gmail.com
 
الگ دنیا تمہاری ہے الگ دنیا ہماری ہے
تمہیں ہے جیتنے کا غم ہمیں تو ہار پیاری ہے
کہیں رہبر بنے رہزن کہیں اپنے ہوئے دشمن
کسی کو کب کسی کا غم، عجب دنیا تمہاری ہے
فلک پر اب چمکتے ہیں کہاں تارے مقدر کے
ہماری زندگی دیکھو لڑی قسمت کی ماری ہے
یہاں پیار و محبت کھوگئے اپنی حقیقت ہیں
جفائیں کررہے سب، وفائیں سب پہ بھاری ہیں
بڑی غفلت میں جیتے ہیں، نہیں سمجھے تیری قوت
بنا آواز لاٹھی ہے تمہاری ضرب کاری ہے
میں بھی اولادِ آدم ہوں حوّا کے تم بھی ہوبچے
اکیلا میں نہیں جگ میں یہ دنیا ہی ہماری ہے
نہ مال و زر کی حسرت ہے نہ چاہت شان و شوکت کی
میری دیوانگی ثاقبؔ میری میراث ساری ہے
 
ثاقبؔ فہیم
زاورہ، شوپیان، موبائل نمبر؛9596502688
 
ایسا نہیں کہ وہ مجھے پہچانتے نہیں 
لیکن وہ کوئی بات مری مانتے نہیں 
مل جائے گا وہ جو بھی لکھا ہے نصیب میں 
در در کی خاک اس لئے ہم چھانتے نہیں 
کیا کہئے درمیاں میں ہیں یہ کیسی دوریاں 
وہ جانتے ہیں پھر بھی مجھے جانتے نہیں
جس کو تمہارے نام سے نسبت نہیں کوئی 
ہم اُس گلی کی خاک کبھی چھانتے نہیں  
رُوبینہ ؔ جو گراں ہو کسی دل پہ بے سبب 
ہم دل میں ایسی بات کوئی ٹھانتے نہیں
 
روبینہ میر
ڈی سی کالونی راجوری،رابطہ:9469177786
 
آج سمجھا ہو ں زمانے کا چلن تیرے بعد
کیسے اُجڑا ہے اُمیدوںکا چمن تیرے بعد
ایک بس تو ہی  سہارا تھا بھری دُنیا میں 
کون ڈالے گا میرے تن پہ کفن تیرے بعد
مشعلیں لے کے میں پھرتا ہوں تجھے پانے کو 
تُم کو کیا علم کئے کِتنے جتن تیرے بعد 
سرحدیں توڑ دیں وحشت میں نہ جانے کِتنی
یاد بھی آتا نہیں اپنا وطن تیرے بعد 
ایک بھی پل مجھے غافل نہیں ہونے دیتا 
تیری یادوں کا یہ انمول رتن تیرے بعد 
رتجگے بن گئے جاوید ؔ مقدر میرا 
رات بھر رہتی ہے آنکھوں میں جلن تیرے بعد 
 
سردار جاوید خان ،مینڈھر،پونچھ
فون نمبر;9697440404
 
کبھی قفس کبھی مقتل میں لائے جاتے ہیں
ہزار طرح سے ہم ستائے  جاتے    ہیں
بہار  جاتے ہی گلشن  کے پھول مرجھائے
ہمارے  زخمِ  جگر    جلائے  جاتے ہیں
عذاب  ٹوٹا ہے  ہم پر چمن   پرستی   کا
ہماری  راہ میں  کانٹے سجائے جاتے ہیں
وہ  ہم کو  چوٹ لگا  کرہیں سخت حیرت میں
کہ چوٹ کھا کے بھی ہم گنگنائے جاتے ہیں
ہم آئنیوں سے سبق زندگی کا لیتے ہیں سالمؔ
شکستہ  ہوکے  بھی جو  چمکائے جاتے ہیں
 
سہیل سالمؔرعناواری سرینگر  ،ربطہ نمبر:9697330636 
 
 
ہر سو تیرا خیال ہوتا ہے 
دل یہ میرا بے حال ہوتا ہے 
ہر وہ لمحہ مثال ہوتا ہے 
جب ہمارا وصال ہوتا ہے 
ڈھونڈتا ہوں تجھے میں ہر سو جب
تیرا ملنا مْحال ہوتا ہے 
اس کا مہتاب چہرہ دیکھئے تو 
چودھویں کا ہلال ہوتا ہے 
آئے کب شہر میں مرا دلبر
ہر کسی کا سوال ہوتا ہے 
منتظر ہوں، چلے بھی آ یارا
جینا میرا محال ہوتا ہے 
آنسو بہتے ہیں کیا تیرے بسمل ؟
جب   تجھے کچھ ملال ہوتا ہے
 
سید بسمل مرتضٰی 
پیر محلہ شانگس،9596411285