تازہ ترین

خواب اور آنسو

26 مارچ 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی
 میت بیڈ پر دراز پڑی ہوئی تھی۔ اس کا رنگ پیلا ، گال پچکے ہوئے اور ہونٹ زرد تھے۔ اس کی دونوں آنکھیں اندر کی طرف دھنسی ہوئی نیم واتھیں۔ گردن ایک طرف کو جھکی ہوئی تھی۔ ناک سے تھوڑی سی رطوبت خارج ہورہی تھی۔ بائیں آنکھ سے ایک آنسو ڈھلک کرموتی کی طرح اُس کے گال پر اٹکا ہوا تھا۔ اُس کا جسم سفید کپڑے سے  ڈھکا ہوا تھا اور میں کھڑا کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا۔ میری حالت ایک لاچار جسم کی سی تھی۔ میری زبان اور ہونٹ خشک تھے اور آنکھوں سے لگاتار  آنسوئوں کی جھڑی لگی ہوئی تھی، جنہیں پونچھنے کی مجھ میں ہمت نہ تھی۔ میں اُسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔ مگر وہ مجھے۔۔۔۔
اس کمرے میں  کافی لوگ جمع تھے۔ عورتیں بھی اور مرد بھی۔ کچھ اس کے پلنگ کے ارد گرد کھڑے اور کچھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اپنے اور پرائے سب زاروقطار رو رہے تھے۔ کچھ اس کے اوصاف حمیدہ اور اخلاق بیان کر رہے تھے۔ میں یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہا تھا مگر مجھے ان سب سے قطعی کوئی دلچسپی نہ تھی۔ میں اپنے ہی خیالوں میں گم صرف اُسے دیکھ رہا تھا۔ 
جب لوگوں کے ہجوم میں اضافہ ہوگیا تو میں نے ہمت کرکے کمرے میںموجود سب لوگوں سے بڑی عاجزی کے ساتھ گزارش کی ’’ اگر آپ برانہ مانیں تو چند منٹ کیلئے کمرے میں مجھے اکیلا چھوڑدیں یہ بڑی مہربانی ہوگی‘‘۔میری بات کا فوری اثر ہوا اور سب لوگ باہر چلے گئے۔ اب کمرے میں وہ تھی، میںتھا اور گہری خاموشی۔ 
میں رورہا تھا مگر میرے آنسو پونچھنے والا کوئی نہ تھا۔ نجمہ پلنگ پر بے حس و حرکت پڑی گویا سورہی تھی۔ میں نے اسے گلے لگایا۔ اُس کے ٹھنڈے اور سردماتھے کو بار بار چوما۔ اس کی بلائیں لیتے ہوئے اس سے جی بھر کر باتیں کیں۔ میں بول رہا تھا اور وہ خاموش تھی۔’’نجمہ میں تجھ سے ہمیشہ کہا کرتا تھا تم ہی میری دُنیا ہو تمہیں دل میں بسایا ہے اب میں کیا کہوں اور کس سے کہوں۔ مجھے پتہ ہے تم صرف سن سکتی ہو اس کا جواب نہیں دے
 سکتی۔ اس لئے میں اب وہیں آؤں گا جہاں تو جارہی ہے۔ وہاں بس ہم دوہوں گے اور کوئی نہیں ہوگا۔ وہاں نہ بحث ہوگی اور نہ تکرار، نہ گلے نہ شکوے، نہ روٹھنا اور نہ منانا۔ بس پیار ۔ ایک نہ ختم ہونے والا پیار اور خاموشی۔ فقط خاموشی‘‘۔’الصواۃ خیرومن النوم‘ موذن کے ان الفاظ سے میری نیند کھلی اور خواب کا سلسلہ ٹوٹ گیا اور میں خوابوں کی دنیا سے حقیقت کی دنیا میں لوٹ آیا۔ میں نے اللہ کا شکریہ ادا کیا کہ یہ صرف ایک خواب تھا۔ خواب۔ 
نجمہ میرے سامنے لیٹی ہوئی تھی اور میں جاگ کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔ میرا دل دھڑک رہا تھا، سانس پھولی ہوئی تھی۔ مؤذن نے دوبارہ کہا ’ ’’الصواۃ خیرومن النوم‘‘  اور میں کھڑا ہوا اور نجمہ کو جگانے کیلئے آواز دی۔ ایک بار دو بار تین بار مگر وہ نہ جاگی۔ وہ گہری نیند میں تھی۔ ااب میں نے اُسے جگانا مناسب نہ سمجھا تاکہ وہ تھوڑی دیر نیند کرلے۔ میں نے اُسے آہستہ سے گلے لگایا آہستہ سے اُسکا ماتھا چوما۔ خوشی سے میری دائیں آنکھ سے نکلا ہوا ایک موٹا سا آنسواس کے خوبصورت گال پر گرا ۔ وہ جاگ اُٹھی ۔ وہ محبت آمیز خواب آلودہ نگاہوں سے میری طرف دیکھنے لگی اور میں دل ہی دل میں ’’تم ہی تو  میری دنیا، تمہیں ہی دل میں بسایا ہیــ‘‘ کہتے ہوئے مسجد کی طرف چل پڑا، جس کے بلند مینار سے اذان کے یہ الفاظ سنائی دے رہے تھے۔ اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الااللہ۔  
 
9419131207