تازہ ترین

جہیز

کہانی

26 مارچ 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

ساحل احمد لون
 
وہ دفتر میں ابھی داخل بھی نہیں ہوئی تھی کہ چپراسی فائلوں کا انبار اُس کے سامنے پڑی میز پر رکھ کر چلا گیا۔اُس نے کرسی سے ٹیک لگا کر ایک فائل ہاتھ میں اُٹھایا اور اُس کا سرسری جائزہ لے کر اُسے بند کردیا اور واپس میز پر رکھ دیا۔تبھی اُس کی نظر میز پر اُلٹی پڑی چھوٹی سی تختی سے جا ٹکرائی۔اُس نے تختی کو سیدھا کیا تو اُس پر لکھے الفاظ واضح ہوگئے،’ایس ایس پی پریا شرما‘۔اُسے دفتر آئے ابھی آدھا گھنٹا ہی ہوچکا تھا جب چپراسی نے باہر سے آواز دی ،’’May I come in mam‘‘۔
’’ہاں آجاو‘‘۔اُس نے دروازے کی طرف نگاہیں مرکوز کرتے ہوئے جواب دیا۔
’’میم !کوئی لیڈی آپ سے ملنا چاہتی ہیں‘‘۔چپراسی نے اندر داخل ہوتے ہی اُسے اطلاع دی۔
’’کس سلسلے میں؟‘‘
’’میم!اُس کی بیٹی کا اپنے خاوند کے ساتھ کسی بات کو لیکر جھگرا ہوگیا ہے اور اُس نے اس کی بیٹی کا شدید زدوکوب کیا ہے۔اسی سلسلے میں یہاں آئی ہے میم‘‘۔چپراسی نے اُسے مختصراً بات سمجھا دی۔
’’آنے دو اُسے‘‘۔
’’جیسا حکم میم‘‘۔
اور اس کے ساتھ ہی ایک عمر رسیدہ خاتون ایس ایس پی پریا شرما کے دفتر میں داخل ہوئی۔اُس نے ہاتھ کے اشارے سے خاتون کو بیٹھنے کے لئے کہا۔
’’جی بڑی بی فرمائیے کیا مسئلہ ہے؟‘‘
’’میڈم جی! دراصل میرے داماد نے میری لاڈلی بیٹی کا مار مار کر بُرا حال کردیا۔جہیز کا مطالبہ کر رہا ہے میری بیٹی سے۔ہم نے تو اُتنا دے دیا جتنی سکت تھی۔اب ہم غریب لوگ بھلا کہاں سے لائیں اتنے پیسے کہ اُس کے مطالبات پورے ہوجائیں۔۔۔۔‘‘
خاتون اپنی رودادِ غم بیان کرتی رہی اور وہ نہ جانے کن خیالوں میں غلطاں ہوگئی،اُسے شائد اپنی داستان یاد آگئی۔۔۔۔۔۔
تب وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔اُس کے والد نے دوکنال زمین فروخت کرکے اُسے کالج کی داخلہ فیس دے دی۔پریا کو کالج میں داخلہ لئے ہوئے ابھی سترہ دن کا عرصہ ہی گزر چکا تھا جب اُس کے دیارِ دل میں روہِت گپتا کی محبت آباد ہوگئی۔مالی حالت کے لحاظ سے اگرچہ وہ موہت کے لائق نہ تھی لیکن حُسن و جمال میں روہت کے مقابلے اُسی کا پلڑا بھاری تھا۔کشادہ پیشانی،بادامی آنکھیں، کتابی چہرہ، سفید رخسار پر دائیں اور بائیں جانب ہلکی گلابی رنگت،قد درمیانہ،غرض اگر اُسے حُسن کی ملکہ کہا جاتا تو ہر گز بیجا نہ ہوتا۔وہ کبھی بھی موہت گپتا سے محبت کرنے کی جرأت نہ کرتی اگر وہی اپنے دل کی بات بتانے میں پہل نہ کرتا۔۔۔۔۔۔
پریا اور موہت کی شادی کو تین مہینے ہی ہوچکے تھے جب پریا کے والد کی پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی،جو اُس نے پریا کی شادی سے کچھ عرصہ قبل کی تھی۔موہت گپتا اور اُس کے چند اقرباء اُن کے گھر پریا کا ہاتھ مانگنے آچکے تھے۔اب بس پریا کے اہلخانہ کی’ہاں‘ کی دیری تھی۔تبھی ایک دن پریا کے والد نے شام دیر گئے پریا اور خاندان کے دیگر افراد کو بُلایا اور کہا،’’مجھے یہ رشتہ قطعی منظور نہیں۔ان امیروں کا کوئی بھروسہ نہیں۔ہمیشہ سے غریبوں کا خون چوستے آئے ہیں۔پتا نہیں کل کو کب گرگٹ کی طرح رنگ بدلے اور میری بیٹی کا جینا حرام کردے‘‘۔پھر جس چیز نے اُسے شادی کیلئے ’ہاں‘ کہنے پر مجبور کردیا،وہ تھے پریا کے آنسو۔یہ آنسو بھی عجیب شے ہے۔کبھی کبھار ایسا کام کردیتے ہیں جو کروڑوں روپے خرچ کرنے سے بھی نہیں ہوسکتا۔دُنیاوی معاملات تو خیر آنسوؤں سے سلجھ جاتے ہیں،روٹھے رب کو منانے میں بھی کام آتے ہیں۔بس دو بوندیں گرادو ،اور برسوں سے ناراض خدا راضی ہوجاتا ہے۔پریا کے والد نے بیٹی کو کتنا سمجھایا کہ بیٹی امیروں کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا لیکن وہ محبت میں اندھی ہوچکی تھی۔محبت انسان کو واقعی اندھا بنا دیتی ہے۔پھر اگر کچھ نظر آتا ہے تو وہ ہے محبوب۔
موہت گپتا سے شادی کے تین ماہ بعد پریا کی زندگی پر خزاں کی زردیاںپھیلنے لگیں،شاید اب تک اُس نے صرف بہار ہی دیکھی تھی اور اب خزاں کا آنا یقینی امر تھا۔زندگی واقعی بدلتے موسموں کی طرح ہے،کبھی بہار تو کبھی خزاں۔پریا کی زندگی کی خزاں بھی کیسی خزاں تھی،صبح اور شام موہت کے ہاتھوں مارپیٹ،موہت چپ ہوا تو اُس کی ماں شروع ہوگئی۔مطالبہ دونوں کا ایک ہی تھا،’جہیز‘۔موہت کو کار چاہیے تھی اور اُس کی ماں کو سونے کے کنگن۔اُف خدایا!یہ جہیز بھی کتنا ظالم لفظ ہے،چار حروف کا جوڑ ہے اور آج تک چار کروڑ سے زائد جانیں لے چکا ہے۔کاش!اس لفظ سے ہماری لغت پاک ہوتی۔
پریا موہت کے گھر میں دن بھرنوکرانی کی طرح کام کرتی تھی۔پھر جب کبھی فراغت مل جاتی تو صحن میں کتابیں لئے بیٹھ جاتی تھی۔لیکن ابھی اُس نے کتاب کا ایک ورق بھی نہ پلٹا ہوتا کہ اُس کی ظالم ساس آجاتی اور اُس کے ہاتھ سے کتاب چھین کرکہتی،’’کام  کاج تو کرتی نہیں،بس افسروں کی طرح کتابیں پڑھنے بیٹھ جاتی ہو۔کیا ناگہانی آفت کی طرح ہمارے گھر پر نازل ہوگئی،وہ بھی مفت میں‘‘۔رہی سہی کسر موہت پوری کرتا تھا۔شراب کے نشے میں چور ہوکر وہ اُسے وحشیانہ طریقے سے پیٹتا تھا۔پریا نے کبھی اپنے دفاع میں زبان تک نہ کھولی۔وہ چپ چاپ موہت کی مار سہتی تھی۔اُس نے اپنے میکے والوں کے سامنے اپنی حالت بیان نہ کرنے کا عزم کیا تھا۔
پھر ایک دن جب فون پہ اُس کی ماں نے اُس کی حالت دریافت کی تو وہ اپنا ضبط کھو بیٹھی اور کچھ ہی دیر بعد اُس کی ماں ساری صورتحال سے واقف ہوچکی تھی۔پھر کیا تھا،کچھ ہی دیر بعد اُس کا والد اُسے ظالموں کے چنگل سے چھڑا لایا اور اپنے داماد اور اُس کے اہلخانہ کی خوب مرمت کی۔چار روز بعد اُسے طلاق مل گئی لیکن اُس کیلئے بھی اُس کے والد کو دولاکھ کا ’جہیز‘ دینا پڑا۔شائد بیٹیوں کی تقدیر ایسی ہی ہوتی ہے۔بیٹا گھر سے نکلے تو روشن خیال اور بیٹی نکلے تو بے حیا و بدکردار۔کاش!بیٹیوں کی تقدیر بدل جاتی۔
طلاق کے بعد پریا دُنیا سے بے نیاز ہوکر صرف کتابوں کی ہوکر رہ گئی۔شائد اُس نے کوئی بلند و بالا عزم باندھا تھا۔اُٹھتے،بیٹھتے،لیٹتے،غرض ہر وقت وہ صرف کتابیں ہی پڑھتی تھی۔اور پھر وہ دن بھی آپہنچا جب اُس کی محنت رنگ لائی،خزاں کے بعد اب بہار آچکی تھی۔۔۔وہ آئی پی ایس کے امتحان میں سرخرو ہوچکی تھی۔۔۔وہ اب پریا شرما سے ایس ایس پی پریا شرما بن چکی تھی۔
’’میڈم! آپ کہاں کھو گئیں‘‘۔دفتر میں اُس کے سامنے بیٹھی خاتون نے اُسے بُری طرح سے چونکا دیا۔
’’ہوں۔۔۔جی کچھ نہیں،بس کچھ پرانی یادیں تازہ ہوگئی‘‘۔
’’میڈم!وہ میں اپنے داماد کا کہہ رہی تھی کہ اُس نے میری بیٹی۔۔۔‘‘۔
’’او ہاں بڑی بی،کیا نام ہے آپ کے داماد کا؟‘‘
’’جی موہت گپتا!!!ایک شادی ہوچکی تھی کمینے کی پہلے۔پھر میری بیٹی کو ورغلا کر اُس سے شادی کرلی اور آج اُس کا بُرا حال کردیا‘‘۔
چند ہی گھنٹوں بعد موہت گپتا سلاخوں کے پیچھے تھا۔ایس ایس پی پریا شرما نے آج آفس کے پہلے ہی دن یہ کاروائی انجام دی تھی۔خاتون کو انصاف مل چکا تھا اور شائد خود پریا شرما کو بھی۔
 
برپور ہ پلوامہ کشمیر،lonesahilahmadkmr@gmail.com
Twitter@SahilAhmadlone2