تازہ ترین

واپسی

افسانہ

26 مارچ 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

ڈاکٹر مشتاق احمد وانی
 
دیا رام کو اپنے گہرے دوست رمیش بھاردواج کی شادی میں اس بات کی  بہت خوشی ہوئی تھی کہ بھاردواج نے جہیز لینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔اس کے اس غیر متوقع فیصلے پر لڑکی والے حیران رہ گئے تھے اور رمیش بھاردواج کے والدین کے چہروں پہ مایوسی چھا گئی تھی۔رمیش بھاردواج نے لڑکی والوں کو سب کے سامنے کہہ دیا تھا
   "مجھے جہیز نہیں چاہئے۔  میں آپ کی لڑکی سے شادی کررہا ہوں؛ جہیز سے نہیں"
دیارام کو اپنے دوست کی شادی پہ بڑی تھکان اور کوفت سی محسوس ہوئی تھی کیونکہ رات بھر شادی کا جشن چلتا رہا تھا۔ اس نے  دلہے اور دلہن کو پنڈت جی کے منتروں کے اُچارن کے مطابق اذدواجی رشتے میں بندھتا دیکھا تھا۔تب اسے اس بات کا احساس ہوا تھاکہ شادی مریاداوں کا انت ہے۔
رمیش بھاردواج کی شادی کو ابھی پندرہ ہی دن ہوئے تھے کہ ایک دن دیارام کو یہ مایوس کن خبر سننے کو ملی کہ اسکے دوست کا ایک سڑک حادثے میں انتقال ہوگیا۔دیا رام وقتی طور پر حواس باختہ سا ہوگیا تھا۔ اس نے اپنے دوست کی دائمی جدائی کے غم میں دیر تک آنسو بہائے تھے۔پھر وہ فورا" اسکے گھر کی طرف دوڑپڑا تھا۔رمیش بھاردواج کے گھر پر لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہوگیا تھا۔اس کی بیوی ،جس کے ہاتھوں دلہن روپ نے ماتمی صورت اختیار کرلی تھی؛ وہ اپنے جیون ساتھی کی لاش پہ دھاڑیں مارمار کر رورہی تھی۔دیکھتے دیکھتے رمیش بھاردواج کی ارتھی اٹھی تھی۔موت نے زندگی پہ قابو پالیا تھا۔دیارام نے اپنی آنکھوں کے سامنے رمیش بھاردواج کی لاش کو چتا میں جلتا ہوا دیکھا تھا۔اس کا وجود یہ بھیانک منظر دیکھ کے کانپ گیا تھا۔پھر وہ دیر تک یہ بات سوچ کے رہ گیا تھا کہ آخر یہ انسان کہاں سے اس روئے زمین پہ آتا ہے اور پھر کہاں چلا جاتا ہے؟شمشان گھاٹ سے کچھ دوری پر نچلی جانب ایک اور لاش جل رہی تھی۔ دیاردام کی نظر اچانک ایک بورڑپہ پڑی اس پہ لکھا تھا یہ دلتوں کا شمشان گھاٹ ہے۔اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ جیتے جی، یہاں تک کہ مرنے کے بعد بھی، آدمی نے یہ نفرت وتعصب؛اونچ نیچ کی دیواریں آخر کس بنیاد پہ کھڑی کی ہیں؟
ایک روزدیارام کی بہن نیلم کماری نے  پانی سے بھری گگریا اپنے سر سے اتاری اور گھڑونچی پر رکھی ؛ پھر ایک طرف بیٹھ گئی اور پھپھک پھپھک کر رونیلگی۔اس کا باپ درباری لال؛ماں رکمنی؛بہو جھانجھری؛نیلم کا اکلوتا بھائی دیارام اور اس کے دو چھوٹے چھوٹے گل گوتھنے سے بیٹے نیلم کماری کے آس پاس آکے حیرت ذدہ سے کھڑے ہوگئے۔ماں نے پوچھا
"بیٹی کاہے کو رووت ہوے۔کیا ہوا؟"
نیلم نے کوئی بھی جواب نہیں دیا۔وہ مسلسل روئے جارہی تھی۔لگتا تھا اس کی ہچکی بندھ جائے گی۔باپ نے بھی رونے کی وجہ پوچھی تو وہ نہیں بولی۔ پھر اس نے جھڑک کر کہا
"بولتی کیوں نہیں ہے کیا ہوا؟ ماروں زور سے جھاپڑ "
تب نیلم کماری سسکیاں لیتی ہوئی بولی
"کہاروں کے محلے کی دو عورتوں نے باولی پہ میری گگریا پٹخ دی؛ بولیں تو پہلے پانی نہیں بھرے گی۔تم اچھوت؛ شودر لوگ ہو۔پہلے ہم پانی بھریں گی"
رکمنی نے کہا
"اے بھگوان اس دور میں بھی چھوت چھات۔ بھاڑ میں جائیں ایسے لوگ؛ تو چپ کر"
نیلم کماری کے بھائی دیا رام کا خون کھول اٹھا ؛ تب اس نے کہا
"میرا جی چاہتا ہے کہ تبر اٹھاوں اور ان دلالنوں کو کاٹ ماروں۔ آخر کیا سمجھ رکھا ہے ان لوگوں نے اپنے آپ کو۔ گھور پاپی ہیں مگر پھر بھی اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں"
درباری لال نے اپنے بیٹے کو سمجھاتے ہوئے کہا
"ابے دھیرج سے کام لے بیٹا؛ جوش میں ہوش کھونا اچھی بات نہیں ہے۔بھگوان دیکھ رہا ہے۔بات رفع دفع کردو"
دیارام نے کہا
"بات رفع دفع کرنے کی نہیں ہے بابا۔اینٹ کا جواب پتھر سے دینا سیکھئے"
شہر سے تقریباًچار کیلو میٹر دور دلتوں کے کچھ گھرآباد تھے۔ دیارام کا تعلق دلت طبقے سے تھا۔وہ سماجیات میں ایم اے کر نے کے کچھ ہی عرصہ بعد محکمئہ خوراک رسانی میں انسپکٹر کی پوسٹ پہ تعینات ہوگیا تھا۔اس کا باپ درباری لال خود زمین کا سینہ چیر کے گنے کی کھیتی کیا کرتا تھا۔درباری لال کا ایک بیٹا اور تین بیٹیاں تھیں۔ دو کی شادی ہوچکی تھی۔نیلم کماری سب سے چھوٹی تھی۔بارہویں کلاس کا امتحان دے چکی تھی۔
دیارام کافی ذہین تھا اور حساس بھی۔بھونڈے رسم ورواج سے اسے سخت نفرت تھی۔لیکن آج بہن کے آنسووں نے اس کے دل میں آگ سی لگا دی تھی۔ذات پات؛چھوت چھات؛رنگ ونسل؛ بھید بھاو؛علاقائیت اور فرقہ پرستی کو وہ ملک وقوم کے لیے ناسور سمجھتا تھا۔ وہ آدمیت سے زیادہ انسانیت کو اہمیت دیتا تھا۔وہ جب عید کے دن عیدگاہ میں امام صاحب کے پیچھے مسلمانوں کو نماز پڑھتے یا نماز جنازہ میں صفوں میں ایک ساتھ کھڑے دیکھتا تو اسے بہت اچھا لگتا۔ کبھی کبھی اس کا دل چاہتا کہ وہ اسلام قبول کرے  مگر پھر نہ جانے وہ کیا سوچ کے خوابوں اور خیالوں کی دنیا میں کھوجاتا۔لیکن آج جب اس نے اپنی بہن کے بہتے ہوئے آنسو دیکھے تو اس نے یہ مصمم ارادہ کرلیا کہ وہ نہ صرف خود بلکہ بمعئہ اہل وعیال اسلام قبول کرے گا۔ اسی نیک ارادے کے ساتھ دیارام ؛ مفتی نورالعین کے پاس چلا گیا۔مفتی صاحب پورے علاقے میں نہایت باوقار؛  نیک سیرت اور روحانی امراض کے معالج کے طور پر مشہور تھے۔دور دور سے لوگ ان کے پاس اپنا اپنادرد لے کرآتے تھے۔خاص طور پر ویروار کو ان کے گھر پر لوگوں کا تانتا سابندھا رہتا تھا۔
جب دیارام مفتی صاحب کے گھر پر پہنچا تو اسے ایک الگ کمرے میں بیٹھنے کو کہا گیا۔ کچھ وقت کے بعد  نوکر چائے پانی لے کر آگیا۔چائے پیتے ہوئے دیارام نے نوکر سے کہا
"میں مفتی صاحب سے ایک خاص مسلے کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔آپ ان سے کہہ دیجیے کہ مجھے  اندر بلا لیں"
نوکر نے کہا
"جی میں ان سے کہتا ہوں" یہ کہتے ہوئے وہ مفتی صاحب کے کمرے میں چلاگیا۔ چند لمحوں کے بعد مفتی صاحب خود ہی دیارام کے پاس آئے ،دیارام فوراًکھڑا ہوگیا۔پھر اس نے آداب بجالاتے ہوئے مفتی صاحب کے پاوں کو ہاتھ لگانا چاہا لیکن مفتی صاحب نے اسے روک لیا اور کہنے لگے
"ارے  یہ کیا کررہے ہیں آپ؟" مفتی صاحب نے دیارام کو گلے لگایا۔پھر اُس سے پوچھنے لگے
" بتایئے میرے لائق کیا حکم ہے؟"
دیا رام بولا
   "مفتی صاحب حکم نہیں؛عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔ اسی لیے آپ کے پاس آیا ہوں"
مفتی صاحب حیران رہ گئے۔انھوں نے دیارام سے پوچھا
"آپ کیوں اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں۔؟"
"مفتی صاحب اس لئے کہ اسلام میں مجھے آفاقیت؛صداقت اور یکسانیت نظرآتی ہے۔ہمارا سماج چونکہ فرقوں اور ذاتوں میں بٹ چکا ہے۔مجھے فرقہ پرستی اور فرقہ بندی پسند نہیں ہے۔مفتی صاحب میں آپ سے یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ کیا مسلم سماج میں بھی اسلام کے نام پہ فرقہ بندی ہے یا نہیں؟"
مفتی صاحب کے وجود میں صداقت پسند دل ودماغ موجود تھا۔ پاسداری اور پردہ داری ان کے وجود کو چھوکر بھی نہیں گزری تھی۔ ان سے رہا نہیں گیا۔انھوں نے کہا
"سنیے ---ہمارے یہاں بھی ا سلام کے نام پہ مختلف فرقے وجود میں آچکے ہیں۔مثلا"سنی؛شعیہ ؛ مالکی؛حنبلی؛شافعی؛غیر مقلد؛دیوبندی اور بریلوی"
مفتی صاحب کی باتیں سن کر دیارام مایوس ہوگیا۔اس نے ایک  ٹھنڈی آہ بھری۔لمحہ بھر تک اس نے خاموشی کے ساتھ فرش پر دیکھا اور پھر اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا
  "اچھا مفتی صاحب؛ میں چلتا ہوں"
  مفتی صاحب نے پوچھا
"ارے آپ تو اسلام قبول کرنے آئے تھے۔کس سوچ میں پڑ گئے۔فورا" واپس چل پڑے؟"
دیارام نے جواب دیا
"مفتی صاحب؛میری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے  کہ میں کون سا مسلمان بنوں۔سنی بنوں؛شعیہ بنوں؛ مالکی بنوں؛حنبلی بنوں؛شافعی بنوں؛غیر مقلد بنوں؛دیوبندی بنوںیا بریلوی ؟"
یہ کہتے ہوئے دیا رام کمرے سے باہر آیا اور تیز تیز قدم بڑھاتے ہوئے کافی آگے نکل گیا۔مفتی صاحب نے اسے پیچھے سے آواز دی
"او میرے بھائی؛ ٹھہر جایئے؛ آپ پڑھ لیجیے کلمہ طیبہ لا الہ اللہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ یہاں تک ہی اپنے آپ کو محدود
رکھیں۔ فرقوں میں نہ پڑیں"
   لیکن دیکھتے دیکھتے دیارام ؛ مفتی صاحب کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
 
رابطہ;  اسسٹنٹ پروفیسر بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی
فردوس آباد، سنجواں، جموں 
، موبائل نمبر:  09419336120