تازہ ترین

مکڑی کا قتل

کہانی

26 مارچ 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

راجہ یوسف
 
احساس ہے کیا؟  تہہ دارسوچ میںفکر کے دھاگوںسے بنا مکڑی کاجالا۔اورمکڑی؟  دھاگوں کی الجھتی گرہیں سلجھانے اور سلجھی گرہوں کو الجھانے کا ہنر۔  جو کبھی احساس کو جگانے کا کام کرجاتی ہے اور کبھی اسے گہری خاموشیوں کے سپرد کرکے میٹھی نیند سلادیتی ہے ۔  ہنرنچوڑ ہے۔ سوچ،  فکر اور احساس کی تکمیل کا۔  ہنرسے فعل لازم ہے اور جو فعل سرذد ہوجاتا ہے،  اُسی کی سرزنش ہوتی ہے یا ستائش  ۔    
مکڑی جب الجھائو اور سلجھائو کی الجھن میں پھنس جاتی ہے  وہ دھاگے بُننا بھول جاتی ہے ۔  ہنرکے تخلیقی پرزوں کو زنگ لگ جاتا ہے۔ وہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ تخلیقی عمل رک جائے تو سوچ منجمد ہوجاتی ہے ۔ سوچ کا منبع  توعقل ہے  اور عقل کے سوتے خشک ہوجاتے ہیں۔ 
میں اس الجھن اور سلجھن کی چکی کے دو پاٹوں میں پِس رہا تھا۔ میرا احساس شاید مرچکا تھا ۔ اگرمرا نہیں تھا تومیری، ہنرکی، چابی کسی طرح  زنگ آلودہ ضرور ہو چکی تھی ۔ میں کیا تھا ؟  میں کیوں تھا؟؟  میں کون تھا؟؟؟  میرے ساتھ ایساکچھ بھی نہیں تھا جس سے ایک ایسی شخصیت ابھر کے سامنے آجاتی ہے، کام جس کی پہچان بن جاتی ہے۔  میری پہچان گم تھی۔  نہ میری سوچ کا آکار ٹھیک تھا نہ ہی میرا کام میری پہچان تھی۔ میںہونے کے باوجود بھی جیسے تھا ہی نہیں ۔  جیسے میرے وجودکا کوئی معنیٰ ہی نہیں تھا۔ کوئی مقصد ہی نہیں تھا  ۔۔۔
وہ بھی یہ سب جان چکی تھی۔ وہ  مجھے بے کارکی شئے سمجھ کربے اعتنائی کا شکار بنارہی تھی۔ میرے اپاہچ پن کا بھر پور فایدہ اٹھا رہی تھی۔ وہ میری سوچوں میں اپنی مکڑی کے جالے بننے کی کوشش کرتی رہی اور کامیاب بھی ہوگئی تھی۔ میرے تخلیقی پرزوں میں زنگ کا محرک بھی وہی  تھی۔  ساتھ ہی میرے احساس کو کچوکے بھی لگائے جا رہی تھی کہ دیکھ میں جو کررہی ہوں تمہارے سامنے کررہی ہوں اور ڈنکے کی چوٹ پر کررہی ہوں ۔ میں تو پہلے پہل اسے اپنا وہم سمجھ کر ٹالنے کی کوشش کرتا رہا۔ پھر ایسا کرنا اس کا بھولپن لگا ۔  لیکن جب سوچ کے  تانے بانے بکھیرنے میں اس کی سیدھی مداخلت دیکھی تو یقین ہوگیا کہ یہ اس کی ضد تھی ۔ وہ جان بوجھ کر میرے ٹوٹے پھوٹے وجود کے ساتھ ساتھ میری ذہنی حس کو بھی اپاہچ بنانا چاہتی تھی۔۔۔ ہا ں یہ اس کا بھولاپن نہیں تھا۔ میری سوچ کا بکھرائو بھی نہیں تھا ۔  بلکہ یہ اس کی ضد تھی۔ مجھے میرے جسم کے ساتھ ساتھ مجھے ذہنی طور بھی اپاہچ بنانے کی ضد ۔۔۔  
اس کے لچھن ان کو ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔ یہی بولے تھے وہ۔  اس کی غزالی آنکھیں ۔ اس کے دراز گیسو۔ اس کا سجنے سنورنے کا دلکش اندازاور اس کا بے باک رنگ ڈھنگ۔ وہ کسی کو خاطر میں بھی تو نہیں لا تی تھی۔  ان کو بھی نہیں جن کے ہاتھ بہت لمبے تھے ۔ صرف لمبے ہی نہیں بلکہ ان کے ہاتھ بارود بھرے تھے۔ جس کی گھونج دور دور تک سنائی دیتی تھی۔ یہ لوگ جب کسی کے دشمن ہوجاتے تھے  تو اس کی پشت پر پورا گائوں ہی کھڑاکیوں نہ ہوتا ، یہ پورے کا پوراگائوں بارود کی ہلکی چٹکی سے راکھ کا ڑھیر بنا دیتے تھے  ۔ویسے بھی ان کے سامنے ہر کوئی جھکتا تھا۔۔۔  وہ طاقتورتھے اور طاقت ور کے سامنے ہر کمزور شخص جھکا رہتا ہے۔  طاقت ور بھی خود کو وقت کا خدا سمجھتاہے۔ اسے جھکے ہوئے لوگ اچھے لگتے ہیں۔ ۔۔ یہ سارے بارود کے سودا گر اس غزالہ کے دیوانے تھے ۔ ہر کوئی سب سے آنکھ بچا کر اسے آنکھ بھر کر دیکھنا چاہتا تھا۔اسے اپنی عیاشیوں کے لئے ننگا کرنا چاہتا تھا۔وہ بھی کسی کو کانوں و کان خبر کئے بغیر۔۔۔لیکن وہ میری دیوانی تھی ۔ دیوانی ۔۔۔۔ ؟؟؟  ہاں تب مجھے یہی لگتا تھا۔ صرف لگتا نہیں تھا بلکہ مجھے اس پر یقین تھا۔ جبھی تو وہ کسی کی پروا کئے بغیر میری ہوگئی تھی ۔ ہمارے دن سہانے اور راتیں رنگین تھیں کہ وہ سب کود پڑے۔ ان سب نے اپنی اپنی جگہ مضبوط اور چست پلان بنا لیاتھا۔  لیکن یہ ان کی بدنصیبی تھی۔ سب سے پہلے میں آگیا تھا۔   ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں ہم نے ایک دوسرے کی نیت پہچان لی ۔ میں پہلا  باغی بناتھا ۔ پھر ہم سبھی ایک دوسرے کے باغی بنے  لیکن میں کوئی پروا کئے بغیر ان سے بھڑ گیا۔  ناکامی ان کی موت بنتی ۔ وہ کہاں برداشت کرتے۔سارا سیسہ پگھلا پگھلا کر  انہوں نے میرے شریر میں اتار دیا۔  لیکن انہیںپھر بھی بھاگنا پڑا۔ اسے خراش تک بھی نہ آنے دی ۔ وہ سلامت تھی اور اس کی عزت بھی محفوظ تھی ۔ میں تواسے اپنا فرض سمجھ کر بھول بھی جاتا لیکن  وہ میری  اور بھی زیادہ دیوانی ہوگئی تھی۔ میں بچ تو گیا لیکن میرا آدھا شریر بے کار ہوکے رہ گیاتھا۔۔۔  تب وہ دیر تک مجھے سہلاتی رہتی تھی ۔ مجھے اپنا محسن ، اپنا پیار بتاتی رہتی تھی۔  میں بھی اس کے جھانسے میں آگیا ۔  نہیں وہ جھانسہ تھوڑی ہی تھا، وہ تو میری خود غرضی تھی۔ ۔۔  میرا لالچ تھا ۔۔۔  ایک اپاہچ کی خودغرضی۔۔۔  یااسے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کہئے ۔۔۔ جو بھی تھا لیکن اسے لالچ سے مبرا تو نہیں کہاجا سکتا  ۔۔۔ 
جج میرا کیا فیصلہ سناتا ۔  وہ مجھے کیا سزا دے دیتا۔  مجھے اس پر ہنسی آرہی تھی۔  لیکن میں خوش بھی ہورہا تھا۔  میں دیکھنا چاہتا تھا جج  مجھے کیا سزا سنائے گا۔  تب مجھے جج کی سوچ،  اس کی عقل پر بہت ہنسی آرہی تھی ۔  میں بہت دیر تک اس پر ہنستا رہا ۔  اس کے فیصلے پر قہقہے مارتا رہا۔۔۔  اس نے مجھے پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ یہ بھی کوئی سزا تھی ۔ پھانسی پر تو میںبہت پہلے چڑھ چکا تھا ۔ پھر کئی بار قسطوں میںچڑھا تھا ۔  جب میں اپاہچ ہوگیا اور وہ میری دیوانی ۔ سب سے پہلے میںغفلت کی سولی چڑھا اور اپنی فکر کے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈلوادیاتھا۔   میری سوچ کے ہاتھ پائوں باندھ دیئے گئے  اور میری حس کے بے رونق چہرے پر کالا ماسک چڑھا دیا تھا ۔جس دن وہ میرے سامنے میرا مذاق اڑاتی ساتھ والے کمرے میں  ۔۔۔۔۔  میری محبت کے ساتھ کھلواڑ کررہی تھی۔۔۔ مجھے جذبات کے سلگتے توے پر لٹاکر خود  واسنا کے ٹھنڈے شاور سے نہایاکرتی تھی۔  وہی تو دن تھا جب میری سوچ منجد ہوگئی تھی ۔  میرا تخلیقی ہنر زنگ آلودہوگیا تھا۔اور میں نے دونوں کا قتل کردیا ۔۔۔ لیکن  تب میں زندہ کہاں تھا  اوروہ ان کا قتل کہاں تھا ۔  میں نے کب کسی کو مارا  تھا ۔  و ہ میری سوچ کی مکڑی کا قتل تھا۔ جس نے جھالے بنانے چھوڑ دئے تھے۔ جو مجھے میرے احساس تلے ہی مار دینا چاہتی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ مکڑی مجھے مار دیتی  ۔  میں نے اس کا قتل کردیا ۔۔۔  اب جسے جج نے موت کی سزا سنائی تھی وہ اس مردہ مکڑی کا مردہ احساس تھا۔ احساس کو بھی کبھی پھانسی لگی ہے کیا؟ باربار کون مرتا ہے۔ احساس بھی نہیں ۔۔۔!
 
رابطہ؛ اسلا م آباد،فون نمبر9419734234