تازہ ترین

’’میائوں‘‘

افسانہ

2 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

سوتنتر دیو کوتوال(ایڈوکیٹ)
 میرے گھر کے کشادہ صحن میں اِدھر اُدھر سے قسم قسم کے جانور وں اور پرندوں کا آنا جانا سال کے سال لگا ہی رہتا ہے۔ میں نے اپنے چار کنال کے صحن کو ایک بھر پور گھنے جنگل کا نمونہ جو بنا رکھا ہے۔ خصوصاً گلی محلے کے آورہ کتوں سے بچتی بچاتی آوارہ بلیوں کی تو یہ محفوظ ترین پناہ گاہ ہے۔ صحن کے چاروں طرف سات فٹ اونچی چہار دیواری ہے، جسے عبور کرنا کتوں کے لئے ممکن نہیں۔ بہرکیف بلیوں نے کہیں نہ کہیں سے اندر باہر کے راستے ضرور بنا رکھے ہیں۔ موسموں کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ طرح طرح کے انوکھے انوکھے رنگ برنگے و بیحد دلکش پرندوں کا یہاں چہچہانا و بسیرا کرنا مجھے انتہائی اچھا لگتا ہے۔ بھیڑ بھاڑ والے اس شہر میں پُرسکون ماحول سے لبریز صحن ہوبہو جنت کی تصویر ہے۔ محلے بھر کی نظریں اس ہرے بھرے صحن پر ٹکی رہتی ہیں۔ لوگ مجھے تعریفی نگاہوں سے تک تک کے میرے شوق کی داد دیتے ہیں۔
رواں سال موسم گرما میں نہ جانے کہاں سے ایک کالی و سفید دورنگی بلی نے یہاں آکر ڈیرہ جما لیا۔ صحن کے ایک کنارے پر میں نے ٹائیگر کے لئے چند آدھی پونی اینٹوں کو چُن چُن کر ایک کوٹھو بنایا ہوا تھا۔ مگر دو سال قبل ایک مہلک بیماری کے باعث وہ موت کے منہ میں چلا گیا۔ تب سے ٹائیگر کا یہ کوٹھو خالی پڑا ہوا تھا۔ مگر گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی یہ بلی، جسکو میں دورنگی کہتا ہوں، نہ جانے کہاں سے آئی اور ٹائیگر کے ویران کوٹھو پر قابض ہوگئی۔ وہ بھی بلا اجازت۔ جب میری نظر اس بن بلائے مہمان پر پڑی، جو اب جانے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا، تو مجھے دل ہی دل ازحد مسرت ہوئی۔ میں نے سوچا …’چلو اچھا ہوا…اسی بہانے ٹائیگر کا اُجاڑ گھر پھر سے بس گیا۔
لیکن دوسری جانب اپنی سخت قدامت پسند بیوی کی ناک بھنوں چڑھی دیکھی تو مجھے آخر کار اسے زبان دینی پڑی…’’دیکھو بھئی جو نہی مجھے بلی کے مسلمان، سیکھ، عیسائی، ہندو، بودھ، جین، پارسی، دین دار، بے دین، متبرک، مکروہ، شیطان کی خالہ یا کچھ اور ہونے کا علم ہوگا تو میں تمہیں آگاہ کروں گا۔ پھر اسکے یہاں رہنے نہ رہنے کا فیصلہ تمہارا ہوگا۔ تب تک تو خدا کی بندی اسے اپنے آنگن میں رہنے دے‘‘۔وہ دانت پیستی پیر پٹختی اندر چلی گئی۔ 
چند روز بعد ایک صبح میں نے دیکھا کہ دورنگی کی آغوش میں دو چھوٹے چھوٹے بلے چوں چوں مائوں مائوں کرکے اُسکا دودھ پی رہے تھے۔ دورنگی ماں بن چکی تھی۔ یہ نظارہ دیکھ کر میں پھولے نہیں سمایا۔ ٹائیگر کے کوٹھو کی چہل پہل سے میرا دل میرے سینے میں قلابازیاں مارنے لگا۔
دن رات صبح شام بیتنے لگے۔ دورنگی کے بچے دھیرے دھیرے بڑے ہونے لگے۔ دورنگی عالم بے فکری میں اُنکو صحن کے چپے چپے میں گھماتی۔ جہاں دل کرتا وہیں لیٹ کر اُنہیں دودھ پلاتی، چاٹتی، پیار کرتی، دُلارتی، اپنے منہ میں دبا کر اُٹھاتی، کوٹھو کے اندر باہر و چھت پر لیجاتی۔ مگر میں نے محسوس کیا دورنگی کافی کمزور ہوچکی ہے۔ شکار پر بھی نہیں جاسکتی۔ اس پر طرہّ یہ کہ بچوں کی نگرانی اور ان کو بھر پیٹ دودھ پلانا اُس کی اہم ذمہ داری ہے۔ یہ کھانا کہاں سے کھاتی ہوگی۔ اگر یہ مزید کمزور ہوگئی تو اسکے بچوں پر بُرا اثر پڑے گا۔ اس کا دودھ سوکھنے لگے گا۔ بچے مریل ہوجائیںگے۔ لہٰذا میں نے اپنی ایک پرانی تھالی و کٹوری لی اور کوٹھو کے دروازے پر رکھ کر اُن میں صبح دوپہر شام دودھ پانی کھانا ڈالنا شروع کردیا۔ دو تین دن وہ ان برتنوں کے قریب جانے سے بھی کتراتی تھی۔ کیونکہ بنیادی طور پر وہ گھریلو نہ ہوکر آوارہ تھی۔ وہ انسانی نزدیکیوں سے قطاً مانوس نہ تھی۔ بہرحال وہ آہستہ آہستہ برتنوں کے نزدیک جانے لگی اور دودھ، پانی، کھانا لینے لگی۔اسی دوران ڈیڑھ دو ماہ گذر گئے۔ ایک روز غور کرنے پر میں نے محسوس کیا کہ دورنگی کا سفید بلو کالے کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہے۔ وہ اسکی طرح بھاگ دوڑ کھیل کود نہیں کرتا۔ ماں کے دودھ میں بھی رغبت کم ہے۔ میرا ماتھا ٹھنکا… ’’کہیں یہ بھی ٹائیگر کی طرح …… ٹائیگر بھی تو اسی طرح دھیرے دھیرے ناتواں ہونے لگا تھا۔ کھانے پینے میں دلچسپی گھٹنے لگی تھی۔ بعد ازاں میں سینکڑوں کوششوں و ڈاکٹری علاج کے باوجود اُسے موت کے منہ میں جانے سے روک نہیں پایا تھا…!‘‘
ٹائیگر میری زندگی کا تیسرا کتا تھا۔ دراصل کتا پالنے کی عادت مجھے میرے مرحوم دوست شبیر خان نے ڈالی تھی۔ ایک بار وہ اپنے گنگیڑہ والے مرغی خانے سے ٹائیگر نامی چھوٹا سا کتا لاکر زبردستی مجھے تھما گیا تھا۔ یہ میرا پہلا کتا تھا۔ میں نے اسکے لئے صحن کے کونے میں ایک کوٹھو بنایا اور اُسے بڑے لاڑ وپیار سے پالنے لگا۔ وہ دھیرے دھیرے میرے دل میں اُترتا چلا گیا۔ مگر تین ماہ بعد اچانک اُس پر سستی و کمزوری چھانے لگی۔ قبل اس کے میں کچھ سمجھتا اور کچھ کر پاتا وہ مر گیا۔ مجھے بیحد دکھ ہوا۔ محبت کسی جانور سے ہو یا انسان سے اُس سے بچھڑنے پر اتنہائی تکلیف ہوتی ہے۔ شبیر مجھے افسردہ دیکھ کر ایک اور کتا لے آیا۔ میں نے اسکا نام بھی ٹائیگر رکھا۔ یہ ڈیڑھ سال کی عمر پاکر ایک دن اچانک مر گیا۔ تیسرا کتا مجھے میرے ایک ٹھیکیدار دوست نے منالی (ہماچل) سے لاکردیا۔ میں نے اس کا نام بھی ٹائیگر رکھا۔ میرا اور اس کا ساتھ دو برس تک رہا۔ اس کی فوت ہونے کے بعد میں نے عہد کرلیا کہ اب کتا نہیں پالوں گا کیونکہ ان کی جدائی بھی جان لیوا ہوتی ہے۔ آج بھی ٹائیگر کی یاد آتی ہے ،اُسکا کوٹھویا خالی پڑی لوہے کی زنجیر دیکھتا ہوں تو آنکھ بھر آتی ہے۔
جب تک ٹائیگر تھا کوئی بھی جانور صحن میں پھٹکتا نہیں تھا۔ لیکن اب یہاں پر دورنگی اور اس کے دو معصوم بچوںکی حکومت تھی۔ 
میں نے سفید بلو کی ناساز حالت دیکھ کر اُس پر نظر رکھی۔ وہ دن بہ دن لاغر ہورہا تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ بچے کے نزدیک جائوں، اُسے اُٹھائوں اور ڈاکٹر کے پاس لے جائوں مگر ہمیشہ ناکام رہا۔ دورنگی اس خدمت کے لئے قطعی تیار نہ تھی۔ میں جونہی اُنکی جانب قدم بڑھاتا دورنگی شیرنی کی مانند کمر کس کر حملہ آور ہوجاتی یا بچوں کو اپنے منہ میں دبا کر اِدھر اُدھر چھپ جاتی۔ شاید دورنگی کو انسانوں کی انسانیت پر بھروسہ نہیں تھا۔ ہوتا بھی کیسے؟ اُس نے زندگی بھر اپنے لئے نسلِ آدم کی زباں سے بُری بُری صلواتیں، پھٹکاریں، تہمتیں، گالیاں، نفرتیں، بددعائیں اور نجانے کیا کیا سُنا اور جھیلا تھا۔…’’موئی بلی راستہ کاٹ لیا…یہ منحوس میرا ہی راستہ کاٹنے کو بیٹھی تھی… یہ مردود اب میرا دن خراب کر گئی… اس بدذات کی بدولت بنا بنایا کام بگڑ جائے گا… اس کے نظر آنے سے بدشگنی ہوگئی… آج کوئی نہ کوئی حادثہ یا انہونی ضروری ہوگی… تُھو تُھو تُھو… یہ راستہ کاٹے تو اسے دیکھ کر زمین پر تھوک دینا چاہئے، اسکی بدشگنی کا اثر ذائل ہوجاتاہے… کم بخت تمام محلے کی جان لیکر رہے گی… اسے گائوں شہر سے ہی باہر نکال دینا چاہئے…اس کو دیکھتے ہی اس پر گاڑی چڑھا دینی چاہئے یا اسکو گولی مار دینی چاہئے… !!! کبھی کبھی تو اس پر پتھر و لاٹھیاں بھی برسائی جاتیں۔ یہ دردناک، شرمناک و انسانیت کے بلند مقام سے گری ہوئی داستان ایک دورنگی کی ہی نہیں بلکہ تمام بلی سماج کی ہے۔ خدا کی بنائی اس مخلوق سے انسان نے اس طرح کا غیر انسانی رویہ صدیوں سے روا رکھا ہے اور آج بھی جاری ہے۔ دورنگی کو انسان پر بھروسہ ہو بھی تو کیسے؟‘‘
بدقسمتی سے ایک صبح میں نے دیکھا دورنگی کالے بلو کے ہمراہ اپنی سفید بلو کے بیجان جسم کے پاس بیٹھی میائوں میائوں کرکے چیخ و پکار کررہی ہے۔ دراصل وہ سوگ منا رہی تھی۔ اُس شب اُس کا کمزور بچہ اُس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہوگیا۔ وہ مرگیا۔ میرے دل کو شدید دھچکا لگا۔ میں کافی دیر اُن تینوں کے قریب بیٹھک کر اُنہیں ہمدردی سے تکتا رہا۔ میری آنکھیں بھر چھلک چھلک گئیں۔ سامنے منظر ہی ایسا تھا۔ آج دورنگی مجھ پر غرائی نہیں۔ حملہ آور نہیں ہوئی۔ بھاگی بھی نہیں۔ برعکس وہ مجھے پُراُمید نظروں سے تکتی رہی۔ مگر اب کوئی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ میں کافی دیر تک چُپ چاپ بے بسی سے اپنی آنکھوں کے سامنے ممتا کے اس روپ کے دلخراش میائوں میائوں کو دیکھتا رہا… سنتا رہا۔
اس اثناء میں نے خود کو سنبھالا اور اپنا آخری فرض نبھانے کے لئے ارادہ بھی باندھا ۔ میں نے اندر جاکر الماری سے سفید کپڑے کا گز بھر ٹکڑا لیا اور دھیرے دھیرے اُن تینوں کی جانب بڑھنے لگا۔ آج دورنگی نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ میںجونہی انکے قریب پہنچا تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دورنگی نے اپنے بے جان پڑے بچے کو خود سے جدا کردیا اور دو چار چھ قدم پیچھے ہٹ کر کھڑی ہوگئی۔ میں نے اسکی لاچار آنکھوں میں جھانکا تو میرا دل مانو سینہ چیر کر باہر آنے لگا۔ ممتا کے آنسوئوں سے لبریز آنکھیں مجھے چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں…’’تجھے خدا کا واسطہ، ہوسکے تو میری جان کے بدلے میرے لخت جگر کی سانسیں لوٹا دے۔ تو خدا کی بنائی ہوئی اشرف المخلوق ہے۔ تیری تو خدا ضروری سنتا ہوگا۔ میرا بچہ مجھے زندہ کرکے دے دے۔‘‘ میں اسکی نظروں کی تاب نہ لاسکا۔میں نے گردن جُھکا کر چپ چاپ اُس کے بچے پر سفید کفن ڈالا، بلاتاخیر اپنی موٹر سائیکل نکالی اور شہر سے پانچ کلومیٹر دور ایک گھنے جنگل میں اُسے لیجا کر دفن کردیا۔ 
میں واپس آکر دورنگی سے نظریں چرانے لگا کیونکہ اُس کی نظر میرے چہرے پر گڑھی مجھ سے بار با ر پوچھ رہی تھی…’’کہاں ہے میرا بچہ…کہاں ہے میرا لال… میرے جگر کا ٹکڑا… کہاں چھوڑ آئے تم اُسے …؟؟؟‘‘ میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ دورنگی کا غم رفتہ رفتہ کم ہوتا گیا۔ اسکے میائوں میائوں کا غمگین لہجہ بدلتا گیا۔ ٹائیگر کے کوٹھو میں دھیرے دھیرے ہنسی خوشی بھری اٹھکھیلیاں و شرارتیں پھر لوٹنے لگیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے ساون کا آغاز ہوا۔ ہر شئے پر ہریالی چھانے لگی۔ دو رنگی اپنے ایک بچے کے حصے کے تمام آنسو بہا چکی تھی اور اب وہ دوسرے بچے کالو کے حصے کی تمام خوشیاں اُس پر نچھاور کررہی تھی۔ شائد ایک ماں کے پاس اپنا غم بُھلانے کا اس سے بہتر راستہ اور نہیں ہوسکتا۔
ماہِ رمضان کے جمعتہ الوداع کے سحر جب میری آنکھ کھلی تو صحن میں دورنگی کی میائوں میائوں قیامت برپا کررہی تھی۔ وہ دیوانہ وار یہاں وہاں بھاگ رہی تھی۔ اسکی پُر درد میائوں میائوں میں چھپی ہوئی آہ و فریاد میں فوراً پہچان گیا۔ مجھے جسکا خدشہ تھا وہی بات ہوئی تھی۔ کالو کہیں کھو گیا تھا۔ دورنگی اسے لمحہ بھر بھی تنہا نہیں چھوڑتی تھی۔ گو اب وہ کافی بڑا ہوگیا تھا، پھر بھی ماں نے اُس کا دودھ نہیں چھڑایا تھا۔ وہ اب بھی ودرنگی کیساتھ زبردستی کرتا تھا۔ اُسے لٹا کر اُس کی چھاتی سے چمٹ جاتا تھا۔ اس کے معصوم لمس سے دورنگی کے سینے میںممتا کے سمندر اُمڈ اُمڈ جاتے۔ 
لیکن آج اچانک کالو…؟ وہ ایک بار پھر مجھے اُمید بھری نگاہوں سے تکنے لگی۔ میرے سینے میں پھر گھبراہٹ و خدشات کے سیاہ بادل اُٹھنے لگے…’’کہیں گلی کے آوارہ کتوں نے …؟‘‘ آج کل دورنگی اُسے گلی محلے میں بے دھڑک شکار پر بھی اپنی ساتھ لیجاتی تھی۔ …’’یا کوئی شخص اُسے اُٹھا کر تو نہیں لے گیا؟ کمبخت تھا بھی بے حد خوبصورت…!‘‘ لیکن اس خیال کو میں نے خود ہی مسترد کردیا۔ دورنگی کے تیز دھار دانت، نوکیلے ناخون اور وحشتناک گرج کسی کا بھی حوصلہ پست سکتے تھے۔
میں نے گھر آنگن کے علاوہ محلے بھر کا کونہ کونہ چھان مارا۔ کالو کا کہیں کوئی سُراغ نہ ملا۔ اُدھر دورنگی کا رونا تڑپنا بڑھتا ہی رجارہا تھا۔ دن گذرا…رات گذری… صبح ہوئی… پھر رات ہوئی۔ دورنگی کا اس طرح دھاڑیں مار مار کر رونا محلے والوں کو کاٹ رہا تھا۔ اُس کی میائوں میائوں انکی برداشت سے باہر ہورہی تھی…’’بلی کا اس طرح رونا چلانا بیحد منحوس ہوتا ہے… اسے مار مار کر محلے سے باہر نکال دو… کہیں ایسا نہ ہو یہ نحوست کسی کی جان لے لے… یہ منحوس تو اس طرح پورا محلہ کھا جائے گی…!!!‘‘
چاروں طرف سے طرح طرح کی آوازیں میرے کانوں میں پڑ رہی تھیں۔ ان آوازوں میں نمایاں میری بیوی کی تھی۔ مگر میں اپنے خیالات پر اٹل تھا…’’ماں انسان کی ہو یا چرند وپرند کی، ماں ہر حال میں ماں ہوتی ہے۔ اس بے چاری کا بچہ کھو گیا ہے۔ اسکے ساتھ ہمدردی کے بجائے۔ ہم اس ماں پر ستم ڈھانے کی ترکیبیں ایجاد کررہے ہیں۔ شرم آنی چاہئے ہمیں۔ اسے میرے گھر آنگن سے کوئی نہیں نکال سکتا۔ اگر اس کا رونا کسی کو چبھ رہا ہے تو وہ اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لے…!!!‘‘
جواباً میں نے بھی دل کی بھڑاس نکالی۔ مجھے کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ نتیجتاً اپنی عادت و فطرت سے مجبور میں اپنے تئیں محلے والوں کی ناراضگیاں بٹورتا رہا۔ ہوتے ہوتے چار دن گذر گئے۔ کالو کا کوئی اتہ پتہ نہ تھا۔ بھوکی پیاسی دورنگی کی المناک صدائوں کا نہ کوئی اثر ہوا اور نہ ہی ان میں کوئی کمی ہی آئی۔ 
پانچویں دن مبارک عید کی صبح جب میں اُٹھا تو دنگ رہ گیا۔ دورنگی کی میائوں میائوں میرے کانوں میں نہیں پڑی۔ میرا دل خوشی سے ناچ اُٹھا۔ ’’شائد کالو لوٹ آیا…!‘‘ میرے دل سے آواز آئی۔ میں نے پُھرتی سے بستر چھوڑا اور باہرکی جانب لپکا۔ جونہی دروازہ کھولا تو بھونچکا رہ گیا۔ میں سامنے کا منظر دیکھ کر سکتے میں آگیا۔ دروازے کے عین سامنے برامدے میںدورنگی اپنے کالو کا خون میں لت پت اد مرا جسم رکھ کر اُسے بے تحاشہ چاٹ رہی تھی۔ تبھی گلی میں کتوں کے بھونکنے، غرّانے و چلچلانے کی ملی جُلی بھیانک آوازوں نے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا۔ میں نے دیکھا محلے کے آوارہ کتوں کا دندناتا ہوا بھاری غول میرے گھر کے آہنی گیٹ پر جمع سلاخوں سے اندر جھانک رہا تھا۔ کئی کتنے اپنی اگلی ٹانگیں گیٹ کے سہارے اُٹھا کر سیدھے کھڑے تھے۔ وہ اپنی لال ٹپکاتی لمبی لمبی سُرخ زبانیں منہ سے باہر لٹکائے ہاپنتے ہوئے بپھر بپھر کر بھونکے جارہے تھے۔ وہ اپنی فلک شکاف آواز و طاقت ور پنجوں سے لوہے کے دواڑھائی کوئنٹل وزنی گیٹ کو یوں ہلا رہے تھے مانو ابھی اسے توڑ کر اندر گھس آئیں گے اور اپنے زخمی شکار کو ایک بار پھر خونی جبڑوں میں دبوچ لیں گے۔ 
میں سارا ماجرا سمجھ گیا۔ کالو گلی محلے میں کہیں انکے ہتھے چڑھ گیا تھا۔ 
اُدھر کتوں کے ڈراونے شور و غل سے قطاً بے نیاز دورنگی پاگلوں کی طرح بلک بلک کر کالو کو چاٹ رہی تھی۔ اسکے لہو اگلتے زخمو کو سہلا رہی تھی۔ میں لاٹھی لیکر کتوں کی جانب دوڑا۔ 
میری واپسی تک کالو ایک بے جان ٹھنڈا جسم بن چکا تھا۔ دورنگی اب بھی اُسے چاٹ رہی تھی۔ البتہ میری جانب دیکھ کر اُس نے شدید غم میں ڈوبی ہوئی آوازمیں تین مرتبہ …میائوں……میائو…ں…… میا…ئو…ں… کیا۔ گویا کہہ رہی ہو… ’’میرا کالو بھی مر گیا…میری گود اُجڑ گئی… میں بے اولاد ہوگئی…!‘‘
مجھے دو رنگی کے حالِ زار پر بے انتہا ترس آرہا تھا۔ مگر میں اُس کی تقدیر کے گرداب سے لڑ نہیں سکتا تھا۔ اُس کی حالت ناقابل برداشت تھی۔ میں دم سادھے جھٹ سے اندر گیا اور ایک سفید تولیہ لاکر کالو پر ڈال دیا۔ چار قدم ہٹ کر کھڑی دورنگی آج پھر بے بسی سے مجھے تک رہی تھی۔ آخری رسمیں نبھاتے ہوئے جونہی میں نے کالو کو موٹر سائیکل پر رکھا اور آہنی گیٹ کی جانب بڑھنے لگا تو وہ میائوں میائوں کرتی کرتی لڑکھڑاتی میرے ساتھ گیٹ تک آئی اور اپنے کالو کو ہمیشہ کے لئے الوداع کہہ کر وہیںکھڑی رہ گئی۔ تاہم گلی کا تیسرا موڑ مُڑنے تک اُس کی دلخراش میائوں میائوں میرا تعاقب کرتی رہی۔ میں نے شہر سے باہر جاکر اُسی گھنے جنگل میں ماہ ڈیڑھ قبل کا عمل دہرایا اور اپنا فریضہ ادا کیا۔ کالو اپنے بھائی کے بغل میں مٹی کی بھاری تہہ اوڑھ کر ابدی نیند سوگیا۔ 
لگ بھگ ڈیڑھ دو گھنٹے بعد جب میں لوٹا تو دورنگی اب بھی گیٹ پر کھڑی میرا انتظار کررہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی اُس نے گُھٹی ہوئی آواز میں میائوں …میائوں …میا…ئو…ں کیا۔ مانو پوچھ رہی ہو …’’میرے دونوں بچے ٹھیک تو ہیں نا؟…تم نے انکے پاس دودھ پانی کھانے کی تھالی و کٹوری رکھی ہے نا… میرے لاڈلے وہاں محفوظ تو ہیں نا… انہیںوہاں گرمی سردی تو نہیں …!‘‘ میرے پاس اُس کی بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ میرا سینہ غم کی شدت سے آتش فشاں ہوگیا تھا۔ میں اُس سے نظرچُرا کر چُپ چاپ اندر چلا آیا۔ 
دورنگی اب ایک بے جان لاش کی مانند صحن میںگم سُم یہاں وہاں اپنے بچوں کو ڈھونڈتی پھرتی ہے اور جب تھک کر چُور ہوجاتی ہے تو کسی کونے میں نڈھال پڑی رہتی ہے۔ اُسکی میائوں میائوں اسکی ہر سانس کیساتھ اب بھی جاری ہے۔ مگر مکمل طور بے آواز ۔ گویا اُس کی آواز اسکے حلق میں دفن ہوکر رہ گئی ہو۔ تاہم جب وہ مجھے دیکھتی ہے تو ڈگمگاتی ہوئی آکر میری ٹانگوں سے لپٹ جاتی ہے۔ ہاں اُس وقت اُسکی بے آواز میائوں میرے کانوں میں ضرور پڑتی ہے۔ مگر کیسے میں نہیںجانتا۔ کیونکہ اُس کے ہونٹ تو اب سدا سدا کے لئے سل چکے ہیں۔ 
رابطہ؛1/226، سبھاش نگر، ادھمپور، جے اینڈ کے پن کوڈ 182101