تازہ ترین

گمشد گان کے افراد خانہ کا خاموش احتجاج

عالمی برداری سے انسانی معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ

11 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: حبیب نقاش    )

بلال فرقانی
سرینگر// گمشدہ افراد کے لواحقین کی تنظیم ائے پی ڈی پی نے مطالبہ کیا ہے کہ حراست کے دوران گمشدہ ہوئے افراد کا پتہ لگا کر انہیں اپنے کنبوں کو واپس سپرد کیا جائے۔پرتاپ پارک سرینگر میںلاپتہ افراد کے لواحقین اور عزیز واقارب نے ماہانہ احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا ۔احتجاجی مظاہرین نے خاموش دھرنا دیا کہ مظاہرے میں بیشتر خواتین اپنے لخت ہائے جگروں کی تصویر کو سینے سے لگا کر دیدہ تر ہو رہی تھیں۔احتجاج کے دوران رقعت آمیز منا ظربھی دیکھنے کو ملے۔احتجاجیوں نے  عالمی برداری پر زوردیا کہ وہ اس انسانی معاملے کا نوٹس لے اورکشمیر میں لاپتہ کئے گئے شہریوں کو بازیاب کرنے میں اپنا رول ادا کرے ۔اس موقع پر اے پی ڈی پی کی سربراہ پروینہ آہنگر نے دوران حراست لاپتہ کئے گئے افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان وردی پوشوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جانی چاہئے جو اس انسانیت سوز عمل میں ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی اور بھارتی حکمرانوں کو اپنے لخت جگروں کا پتہ بتاناہوگا ،کہ وہ آخر کہاں ہیں ؟ان کا کہناتھا کہ اُن کے بچوں کو فو ج وفورسز اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں نے اُن کے سامنے لیا اور پھر لاپتہ کردیا ۔پروینہ آہنگر نے بتایا ’ہمیں بتایا جائے ہمارے بچے کہاں ہیں ؟زندہ ہیں یا مارے گئے ،کہاں دفن کیا گیا ،ہمیں وہ سب بتایا جائے ‘۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق شعبہ کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے پروینہ آہنگر نے کہا عالمی برادری نے بھی تسلیم کیا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں ہوئیں اور ہورہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کے اُس موقف پر مہر ثبت کی کہ فوج وفورسز کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی مرتکب ہوچکی ہے اور ہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہند اپنے لوگوں کو گمراہ کرسکتی ہے ،لیکن دنیا کو وہ زیادہ دیر اندھیرے میں نہیں رکھ سکتی ہے ،کیونکہ اب عالمی سطح پر کشمیریوں کے انسانی حقوق کے حوالے سے آواز بلند ہونے لگی ہے ۔