تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

22 جون 2018 (00 : 01 AM)   
(   صدر مفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیر احمد قاسمی
سوال: ساس، بہو کے درمیان اچھے تعلقات قائم کرنے کے لئے شرعی حدود اور ہدایات کیا ہیں۔ دونوں کو کن کن باتوں کا لحاظ رکھنا چاہئے اور کن باتوں سے بچنا چاہئے؟
جنید احمد
بمنہ سرینگر
 
ساس، بہو کے خوشگوار تعلقات کی بنیاد۔۔۔
جواب:ساس اور بہو کا رشتہ بہت اہم بھی ہے۔نازک بھی اور بہت سے بہتر یا بد تر احوال پیداہونے کا قوی سبب بھی ہے۔ کتنے ہی گھر سب کچھ ہونے کے باوجود تباہ حال ہیں اور وجہ صرف ساس بہوکے اختلافات اور نزاعات ہیں۔ اور کتنے ہی گھروں کے مرد ظلم کرنے کا جرم کرتے ہیں۔ اور وجہ ساس بہو کے سطحی اور چھوٹی باتوں کے جھگڑے۔ مرد کبھی بیوی کے حقوق ادا نہیں کرتا اور وجہ اسکی ماں ہوتی ہے۔ اور کبھی ماں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے اور اس کا سبب اُس کی بیوی ہوتی ہے۔ اس لئے ذیل میں ساس اور بہو دونوں کے لئے اہم ہدایت درج ہیں۔… پہلے ساس کیلئے ہدایات ملاحظہ ہوں۔
(۱) ساس اپنی بہو کو حقیقتاً اپنی بیٹی کا درجہ دے۔ صرف لفظی حد تک اور دکھلاوے کے حد تک ہی بیٹی نہ کہے بلکہ عملی برتائو ویسا ہی کرے جیسے وہ اپنی بیٹی کے ساتھ کرتی ہے۔
(۲) بہو کو اس طرح محبت اور شفقت سے رکھے کہ وہ اپنا میکہ بھول جائے۔
(۳) اُس کے آرام، صحت اور راحت اور خوش رکھنے کا خوب خیال رکھے۔
(۴) اُس پر حاکمانہ طرز عمل اختیار کرکے اُس کو تنگ دل نہ کرے۔
(۵) اُس کو کوئی غلطی ہو جائے تو اُس کو درگذر کرے۔ نہ طعنہ دے کہ تجھے کچھ نہیں سکھایا گیا ہے۔ نہ دوسروں سے شکایتی انداز میں اس غلطی کا افشا کرے۔ ضرورت ہو تو خود نرمی سے اصلاح کرے۔
(۶) گھر کی دوسری عورتوں یا ہمسایہ عورتوں اور رشتہ دارعورتوں سے ہر گز اپنی بہو کی کوئی شکایت نہ کرے۔ اگر غلطیاں حد سے زیادہ ہو جائیں تو صرف بہو کی ماں سے یا اُس کی بڑی بہن تک غلطی کے سدھار کے جذبہ سے بات پہونچائے۔ مگر بات کہنے کا اندازہ طنز آمیز ہو نہ افسوسناک ہو اور نہ مزید تلخی پید اکرنے والی ہو۔
(۷) بہو کے میکے والوں کا تذکرہ کسی بھی طرح برائی کے ساتھ نہ کرے نہ اُن کی غیبت کرے۔ نہ اُس کو میکے والوں کی کسی کمی کوتاہی کا طعنہ دے۔نہ اُن کی شکایت کرے۔
(۸) اپنی بہو کے ساتھ کھانے پینے میں ایسا ہی سلوک کرے جیسا اپنی اولاد کے ساتھ وہ کرتی ہے۔
(۹) اگر بہو کی صحت ناساز ہو یا طبیعت میں کہل اور سستی کی کیفیت ہو تو اُس وقت خود کام کرے اور اُسے کام کرنے سے منع کرے۔
(۱۰) اگر بہو بیمار ہوجائے تو ایسی خبر گیری کرے جیسے وہ بیٹی کی کرتی ہے۔ علاج، پرہیز احتیاط تمام باتوں کی خوب پابندی کرے۔
(۱۱) اگر کوئی بات سمجھانی ہو تو طنز کے لہجے میںنہیں بلکہ محبت اور شفقت کے لہجے اور کسی غلطی کا سدھا کرانا ہو تو وہ بھی ہمدردی اور محبت کے ساتھ نہ کہ نفرت اور نکتہ چینی کے ساتھ۔
(۱۲) بہو کے ہر ہر کام پر اُسے دُعائیں بھی دے۔ تعریفیں بھی کریں اور حوصلہ افزائی بھی کرے۔ بلکہ کبھی کوئی انعام بھی دے۔
(۱۳) اگر گھر میں زیادہ کام ہو تو خود بھی مدد کرے اور خوشی خوشی اُس کا تعاون کرے۔ اس کی صحت کا خیال رکھے۔
(۱۴) ہر ہر بات کی شکایت اُس کے شوہر، سسُر سے نہ کرے بلکہ زیادہ سے زیادہ چشم پوشی، عفو و درگذر کرے اگر کبھی گھر کا مرد کھود کرید تو صاف کہے مردوں کو چھوٹی موٹی باتوں میں دخل نہیں دینا چاہئے۔
(۱۵) اپنے بیٹے یعنی بہو کے شوہر کو بار بار نصیحت کرے کہ وہ اپنی بیوی کا اچھی طرح خیال رکھے۔ اس کو خوش رکھے۔ اس کی ضروریات پوری کرے۔ س سے بہو کے دل میں ساس کی عظمت پید اہوگی۔
(۱۶) اپنی بیٹیوں کو اچھی طرح سمجھائیں کہ وہ بہو کے ساتھ بے جا سلوک ، حاکمانہ طرز عمل ہر گز اختیار نہ کرے۔ اور دوسرے گھر سے  میکے آکر ہر چیز میں مداخلت نہ کریں۔ یہ بیٹیاں اگرعمر میں بہو سے چھوٹی ہوں تو احترام کا وہ رویہ اپنائیں جو وہ اپنے بھائی اور بڑی بہن کے ساتھ اپناتی ہیں۔
(۱۷) بہو سے جہیز کاتذکرہ بھی جرم ہے مطالبہ کرنا یا کم لانے کا طعنہ دینا تو زیادہ ہی جرم ہے۔ اس سے بہت زیادہ پرہیز کریں۔
(۱۸) بہو کے میکے کی ہمیشہ تعریف کریں۔ جو سامان وہاں سے آئے اُس میں کیڑے نہ نکالے۔ بلکہ اُس کی تعریف بھی کرے اور شکر گذار بھی رہے۔
(۱۹) دوسرے کسی بھی عورت نے اگر بہو کے متعلق پوچھا تو نمک مرچ لگانے سے بہت پرہیز کرے اور تعریف ہی کرے۔
اگر کوئی کمی ہو تو وہ ہر گز نہ بتائیں۔ بلکہ یوں کہہ کر مرنے تک سیکھنا ہوتا ہے بہو بھی سیکھ جائیگی۔
(۲۰) بہو کی نماز تلاوت،تسبیحات، طہارت و صفائی کے معاملات میں خبر گیری بھی کرے اور تلقین بھی کرے۔ مجموعی طور پر گھر کا ماحول خوشی اور ہنس مکھ رہنے کا بنائیں، تنائو ، کشیدگی، تلخی ،گٹھن اور ایک دوسرے سے روٹھے رہنے کا ماحول پیدا نہ ہونے دیں اور گھر میں ہر ہر کام میں دُعائوں کا اہتمام کرائیں کھانے پینے اور خاص کر صبح و شام کی دُعائوں کا خوب اہتمام کرائیں۔
 
(ب) اس کے بعدبہو کے لئے 
چند اہم ہدایات درج ذیل ہیں
(۱) بہو اپنی ساس کو حقیقتاً اپنی ماں کا درجہ دے۔ صرف لفظوں میں یا صر ف دکھلاوے کی حد تک ماں نہ کہے۔ بلکہ اپنے پورے طرز عمل میں اُسے ماں کا مقام دے کر سلوک کرے۔
(۲) ساس کی خدمت، راحت، خوشی کا پورا خیال رکھے حتیٰ کہ اگر وہ ڈانٹ ڈپٹ بھی کرے تو یہ سوچنے کہ جیسے اپنی ماں کی ڈانٹ ڈپٹ سننے کے باوجود اُس کے ساتھ اپنا رویہ اختیار و محبت کا ہوتا ہے ویسا ہی ساس کے ساتھ ہونا چاہئے۔
(۳) اگر کسی غلطی پرساس ناراض ہو جائے تو اس کی ناراضگی پر ہر گز ناگواری اور روٹھنے کا رویہ نہ اپنائیں نہ ہی ناک منہ چڑھائیں اگروہ بے قصور ناراض ہو جائے تو غصہ ٹھنڈا ہونے پر صحیح صورت حال نرمی سے عرض کردیں۔ مگر طنز اور غصہ سے نہیں۔
(۴) گھر کا جو بھی کام کرنا پڑے خوشی سے کریں اور جو کریں مشورے سے کریں۔ من مانی یاہٹ دھرمی سے پرہیز کرے۔
(۵) اپنی ساس کی کوئی برائی نہ اپنے میکے والوں سے نہ سہیلیوں سے اور نہ پڑوسیوں سے کہا کریں۔ بلکہ صبرو برداشت کریں اور جب بہت ہی مجبو ہو جائیں تو صرف شوہر سے کہہ دیں ۔
(۶) اگر کسی جگہ جانا ہو تو اصل اجازت شوہر سے لینا کافی ہے مگر ساس سے ضرور اجازت لیں اور واپس آئیں تو پہلے اُس کوسلام کریں۔
(۷) جس پڑوسی گھر میں ساس کو جانا پسند نہ ہو وہاں ہر گز نہ جائیں۔ اسی طرح اگر کسی پڑوس عورت کو گھر میں آنا ساس کو پسند نہ ہو تو اُس ایسا رویہ اپنائیں کہ وہ آنا بند کر دے۔ زبان سے کچھ نہ کہیں۔
(۸) ساس کی معمول اور چھوٹی موٹی باتوں کی شکایت نہ اپنے شوہر سے کرے نہ اپنے میکے والوں سے کر ے۔
(۹) اگر شوہر والدین اور بہن بھائیوں کی خدمت کرتا ہے تو اس خوش ہوں نہ کہ ناراض۔ بلکہ اگر شوہر کو تاہی کرے تو اُسے والدین کی خدمت کی ترغیب دیں۔
(۱۰) ساس کو ان پڑھ ہونے ، پرانی وضع والی ہونے۔، سادہ ہونے یاکمتر پسماندہ ہونے کا طعنہ ہر گز نہ دیں۔
(۱۱) ساس کی خدمت کو سعادت سمجھے اور یہ سوچے کہ ساس کی خدمت کرکے میں دراصل اپنے  شوہر کا بوجھ کم کرتی ہوں ۔اس سے میرا شوہر بھی خوش ہوگا تو میرا رشتہ کامیاب ہوگا۔
(۱۲) اگرساس کسی بات پر ناراض ہو جائے توچاہئے غلطی اُسی کی وہ پھر اس کے بڑے ہونے کا خیا ل کرکے یہاں سے ہی معافی مانگ لیں۔
(۱۳) ساس کی بیٹیوں سے اچھا رویہ اور حسن سلوک کا معاملہ کریں خاص کر جب وہ سسرال سے میکے آئی ہوں تو ساس کو اس سے خوشی ہوگی۔
(۱۴) ساس کے کپڑوں، دوائی، پرہیز وغیرہ کا پورا خیال رکھیں۔ خاص کر بیماری میں بہت خدمت کرے۔
(۱۵) ساس سے جب بھی بات کرنی ہو توا حترام باقی رکھیں ایسی بے تکلفی جیسی سہیلیوں سے ہوتی ہے ہر گز نہ اپنائیں۔
(۱۶) اگر کبھی ساس کو ضرورت ہو کہ اس کا بیٹا اُس کی خدمت کے لئے رات ماں کے کمرے میں گذارے تو شوہر کو خوشی سے اس کی اجازت دیں۔
(۱۷) گھر کا خرچہ خصوصاً کچن میں ہر چیز بہت احتیاط اور قناعت سے استعمال کریں۔ فضول خرچی سامان ضائع کرنے کھانا خراب کرنے سے بہت پرہیز کریں۔
(۱۸) اگر سا س نے تعلیم نہ پڑھی ہو یا اُسے نماز ، تسبیح دُعائیں وغیرہ نہ آتی ہوں تو اُس کی نماز درست کرائیں دُعائیں یاد کرائیں۔ اور طہارت و نجاست کی ضروری باتیں اُن کو سکھائیں۔
(۱۹) ساس کی طرف سے ظلم وزیادتی ہو تو اولاً صبر و برداشت کریں اپنی طرف سے رویہ اچھے سے اچھا اپنائیں اور جب برداشت سے باہر ہو تو صرف شوہر سے کہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیں کہ آپ بھی خود اس بات پر نظر رکھیں پھر جب آپ کو واضح طور پر لگے کہ آپ کی ماں غلطی کر رہی ہے تو نرمی سے اُن کو سمجھا دیں۔
(۲۰) ساس کے بڑھاپے اور ڈوبتے سورج کا خیال کرکے یہ سوچ کر اُن کو آرام پہونچائیں کہ ایسا ہی آرام خود آپ کی والدہ کومیسر ہو۔ اور اس بارے میں ہی اپنے شوہر سے بھیپووچھتی رہیں کہ کوئی کوتا ہی ہو تو بتلادیں تاکہ ا س کی تلافی ہو۔
 
 
سوال: خاندان کی بنیاد اعلیٰ ہونے کی بنیاد پر رشتہ کرنے سے انکار کرنا کیسا ہے ؟ کچھ لوگ سید ہونے کی بنا پر غیر سید گھرانوں سے رشتہ کرنے سے ناکار کر دیتے ہیں کیا یہ صحیح ہے ، رہنمائی فرمائیں۔ ؟
 نکاح میں خاندانی تفاوت کا خیال کرنا؟
 
جواب :۔خاندانوں میں شرافت ، تقویٰ اور مختلف اوصاف کی بنا پر اعلیٰ و ادنیٰ ہونا شرعاً اور عقلاً ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔ مگر خاندانوں کی بنا پر فخر و غرور کرنا بھی سراسر غیر شرعی ہے۔ حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ اپنے آباء و خاندانوں پر فخر کرتے ہیں اُ ن کو اس جھوٹے تفاضہ سے رک جانا چاہئے۔ ترمذی، ابو دائود۔ مشکوۃ، خاندانی فخر و غرور کا ایک شعبہ یہ بھی ہے کہ سید خاندان کی لڑکی کا نکاح کسی غیر سید سے ناجائزہ سمجھا جاتا ہے ۔ حالانکہ والدین کو اگر یہ محسوس ہو جائے کہ فلاں غیر سید لڑکا اپنے علم، تقویٰ ، شرافت، کردار اور خوبیوں کی بنا پر ہ ہماری بیٹی کیلئے بہت مناسب ہے اور وہ رضامند ہو کر اپنی سید زادی کا نکاح اس غیر سید نوجوان کے ساتھ کریں تو شرعاً یہ نہ صرف جائز بلکہ بہتر و مستحسن ہے۔
والدین کی رضامندی کے بغیر از خود کسی خاتون کا رشتہ کرنا شرعاً اور عقلاً دونوں اعتبار سے بہت ساری خرابیوں کا سبب ہوتا ہے اس لئے اگر کسی سید زادی اپنے والدین کی اجازت کے بغیر خود کسی غیر سید سے نکاح کر لیا تو ایسا کرنا شرعی طور پر درست نہیں۔ ہاں کسی سید زای کا نکاح جب اس کے والدین کسی غیر سید سے کرنا چاہیں اور وہ اس سے رشتہ کرنے پر مطمئن ہوں اور مطلوبہ بہترین اوصاف اس میں اُن کو نظر آئیں تورشتہ کرنا جائز ہوگا۔ حدیث میں دینداری کو رشتہ میں ترجیح دینے کا حکم ہے۔
حضرت نبی کریم ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن( زینب ؓ) کا نکاح ایک غلام ( زید ؓبن حارثہ) کے ساتھ کر دیا تھا ۔ حضرت زین العابدین ؒ نے اپنے غلام سے اپنی ہمشیرہ کا نکاح، او رخود اپنا نکاح ایک باندی کے ساتھ کیا تھا۔ بہر حال کوئی سید اپنی دختر سید زادی کا نکاح کسی غیر سید سے کرنے پر از خود رضامند ہو تو شرعاً درست ہے۔
