تازہ ترین

کشمیریوں کا قومی مزاحمتی شعور پختہ :اعظم انقلابی

بھارت ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ دے

13 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 سرینگر// قومی محاذِ آزادی کے سینئر رکُن اعظم انقلابی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیر یوں کا قومی مُزاحمتی شعور ہر گز ر نے والے دن کے ساتھ پختہ ہوتا جارہا ہے۔ 11فروری 1984ء؁ کو جب شیر ترہگام بطلِ حریّت مقبول بٹ کو دہلی تہار جیل میں پھانسی دی گئی تو پوری کشمیری قوم دم بخود ہوئی اور فیصلہ نہیں کر سکی کہ ردِّعمل کے اظہار کا کونسا راستہ اختیار کیا جائے۔ پھر 1988ء؁ میں اشفاق مجید وانی جیسے انقلاب پسندوں نے ہمہ گیر عسکری مُزاحمتی تحریک کا بُگل بجا کر اپنے ردِّعمل کے اظہار کا اعلان کیا۔ اور جب اشفاق مجید صاحب 30 مارچ 1990ء؁ کو شہید ہوئے تو چار لاکھ لوگوں نے اُن کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ 8جولائی 2016ء؁ کو جب برہان وانی شہید ہوا تو اُس کی نمازِ جنازہ میں پانچ لاکھ لوگوں نے شرکت کی اور پانچ مہینے تک عوامی مُزاحمتی تحریک پوری شدّت اور حدّت کے ساتھ جاری رہی۔ کشمیرکے ہر ایک باسی نے کشمیری شہداء کے اسمائے گرامی اور ایام شہادت کی تاریخ کو از بر کیا ہے۔ کشمیریوں کے لیے ہر ایک وقیع اور ذی شان شہید دُرِ شہوار اور نَگین مُنیر ہی ہے۔ شہداء کی یاد ہی اس عالی حوصلہ قوم کی مُزاحمتی تحریک کے لیے زادِ راہ ہے، اور اسی زادِ راہ کے سہارے مُزاحمتی سفر جاری ہے۔ یہاں مزاحمتی کیلنڈر کا ہر دن کسی نہ کسی شہید کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ بھارت کی بدعہدی اور انتقاضِ معاہدہ کے خلاف کشمیریوں کے پرُ امن احتجاج کو کب تک استعماری ہتھکنڈوں اور حربوں سے روکتے رہیں گے؟ہم کشمیریوں کا اصرار ہے کہ بھارت اور پاکستان دونوں ہی ہمسایہ ممالک سرینگر سے مظفر آباد تک پھیلے ہوئے کشمیر سے اپنی فوجوں کو واپس بلائیں تاکہ متحدہ وادی کشمیر کے باسی اپنی پارلیمنٹ میں جمہوری انداز میں حقِ خودارادیّت کے اصول کے تحت کشمیر کے سیاسی مستقبل کا تعیّن کریں۔ برصغیر کو کسی بڑی جنگ اور تباہی سے محفوظ رکھنے کا یہی راستہ باقی ہے۔ اور یہ بات بھی یاد رکھیں کہ کشمیر میں جوں کی توں پوزیشن(Status quo)کے دوام سے یہاں unpredictabilityکا ایسا سماں بندھا رہے گا جس میں کسی بھی وقت مُعیرّالُعقول مگر alarmingصورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔