تازہ ترین

شہری ہلاکتوں کے خلاف لال چوک میں تاجروں کا دھرنا

11 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: مبشرخان    )

بلال فرقانی
سرینگر/کشمیر کی ہر گلی کو شہری ہلاکتوں سے خون میں غلطان کرنے کے عمل کو انسانیت کی قبا چاک کرنے سے تعبیر کرتے ہوئے کشمیر اکنامک الائنس نے لالچوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کھڈونی،شوپیاں اور بارہمولہ میں تازہ شہری ہلاکتوں کے خلاف کشمیر اکنامک الائنس نے لالچوک میں گھنٹہ گھر کے پاس احتجاجی دھرنا دیا۔احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں کتبے اور بینئر اٹھا رکھے تھے،جن پر ’’شہریوں کی ہلاکتوں کے چکر کو بند کرئو،سرکاری دہشت گردی کو بند کرئو،معصوموں کا قتل عام بند کرو‘‘ کی تحریر درج تھی ۔احتجاجی تاجروں نے دو ٹوک الفاظ میں شہری ہلاکتوں کو مسترد کرتے ہوئے گورنر انتظامیہ پر زور دیا کہ معصوم اور نہتے عوام کے خلاف کاروائیاں بند کی جانی چاہئے۔ الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈارنے اعداد شمار بتاتے ہوئے کہا کہ2008میں80کے قریب شہریوں کو جان بحق کیا گیا، جبکہ 2010 میں قریب 140 اور گزشتہ3برسوں لگاتار شہری ہلاکتوں کے گراف میں اضافہ ہو رہا ہے۔ڈار کا کہنا تھا کہ2016میں بھی115شہریوں کو ابدی نیند سلا دیا گیا،جبکہ گزشتہ برس65کے قریب شہری اور امسال اب تک60کے قریب شہریوں کو بھی مکرو و فریب زدہ ذہن اور سوچ کی عکاسی ہے۔انہوںنے کہا کہ لدھو، چاڈور، سریگفورہ، نادی ہل، مشی پورہ اور جنگلات  منڈی کے زخموں سے ابھی لہو ہی ٹپک رہا تھا کہ شوپیاںکو پھر ایک بار لہولہان کیا گیا،اور گزشتہ3ہفتوں کے دوران 11شہریوں کو ابدی نیند سلا دیا گیا۔ ڈارنے موجودہ صورتحال کو غلط پالسیوں کا نتیجہ قرار دیتے کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومت کے پاس کشمیر پالیسی کے حوالے سے کوئی مثبت لایحہ عمل نہیں ہے جس کے نتیجے میں پوری ریاست میں افرا تفری کا ماحول بپاء ہوا ہے اور اگر حالت کا فوری طور پر تدارک نہیں کیا گیا تو اس کے بھیانک نتائج بھگتنے ہوں گے ۔