تازہ ترین

مطالبات کے حق میں اساتذہ پھر سڑکوں پر آگئے

رنگین پانی کی بوچھاڑیں،قیوم وانی سمیت 100سے زائد گرفتار

10 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
 سرینگر //پولیس نے سروسکھشا ابھیان( ایس ایس اے) اساتذہ کے سیول سیکریٹریٹ گھیرائو کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ایک سو سے زیادہ مدرسین کی گرفتاری عمل میں لائی ۔ایس ایس اے اساتذہ اپنے دیرنہ مطالبات کے حق میں ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی (ایجیک ) کے بینر تلے ایک بار پھر سڑکوں پر آگئے اور پولیس نے جمعرات کو شیر کشمیر پارک میں جمع ہو ئے ایس ایس اے اساتذہ کے سکریٹریٹ مارچ کو ناکام بناتے ہوئے رنگین پانی کی بوچھار کی۔ پولیس نے قیوم وانی سمیت سو سے زائد اساتذ ہ کو حراست میں لیا ۔ ایس ایس اے، رمسا اور ہیڈ ٹیچرس نے7ویں پے کمیشن کی مانگ کرتے ہوئے حکومت کو متنبہ کیا کہ اُن کی فراغ دلی کو کمزروری نہ سمجھا جائے ۔ ایس ایس اے  اساتذہ نے پروگرام کے مطابق شیر کشمیر پارک میں جمع ہو کر سکریٹریٹ گھیرائو کا پروگرام بنایا تھا،احتجاجی اساتذہ نے جیسے ہی پارک سے نکل کر سکریٹریٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی تو پولیس کی بھاری جمعیت نے انہیں روکا اور پیش قدمی کی اجازت نہیں دی ،اس بیچ مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں جم کر نعرہ بازی کی۔پولیس نے اساتذہ کو تتر بتر کرنے کیلئے رنگین پانی کا استعمال کرتے ہوئے قیوم وانی سمیت 100 افراد کو حراست میں لے کر پولیس سٹیشن کوٹھی باغ پہنچایا۔معلوم رہے کہ ریاست میں پچھلے 3ماہ سے ایس ایس اے، رمسا اور رہبر تعلیم اساتذہ احتجاج پر ہیں اُن کا مطالبہ ہے کہ ایک تو اُن کی تنخوائوں کو ڈی لنک کیا جائے اور ساتھ ہی انہیں 7ویں پے کمیشن کے دائرے میں لایا جائے ۔گرفتاری سے قبل عبدالقیوم وانی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُس میں کوئی دورائے نہیں کہ ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن کشمیر ،سیکریٹری ایجوکیشن ایس ایس اے اور رمسا کے ڈائریکٹر کے علاوہ گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں تاہم انہوں نے ریاستی گورنر این این ووہرا ، چیف سیکریٹری اور مشیر منصوبہ بندی اور خزانہ بی بی ویاس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایس ایس اے، رمسا اور ہیڈٹیچرس کے حق میں 7ویں پے کمیشن کو لاگو کریں۔انہوں نے کہا کہ 7ویں پے کمیشن کے معاملے پر کس بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیچرس جوائنٹ ایکشن کمیٹی آئندہ صلاع ومشورہ کر کے نئی حکمت عملی کے بعد کوئی فیصلہ لے گئی ۔انہوں نے کہا کہ ہم پچھلے تین ماہ سے اپنے مطالبات کے حق میں لڑ رہے ہیں احتجاج کے دوران ابھی تک ہم اُس حد تک نہیں گئے کیونکہ انہیں اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر تھی لیکن اب بات حد سے بڑھ رہی ہے ۔انہوں نے سرکار سے کہا کہ ہماری فراغ دلی کو ہماری مجبوری نہ سمجھا جائے ۔انہوں نے گورنر سے کہا کہ وہ اس حساس معاملے کی طرف فوری توجہ دے کر اقدامات کریں ۔