تازہ ترین

غزلیات

5 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

فصل شعلوں کی پکنے والی ہے 
یہ زمیں پھر سُلگنے والی ہے 
 
روشنی ہورہی ہے تیز بہت 
شمع محفل کی بُجھنے والی ہے 
 
چاند سا وہ بدن لئے نکلا 
کس کی قسمت چمکنے والی ہے 
 
اب مری ہاں میں ہاں ملاتے ہیں 
پھول کی ڈالی جُھکنے والی ہے 
 
پیڑ پر چڑھ گئی تھکن دن کی 
شام ٹہنی پہ سونے والی ہے 
 
مسکراہٹ کسی کی اب عادل ؔ
تیرے ہونٹوں پہ کِھلنے والی ہے 
 
اشرف عادل 
کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر 
رابط 9906540315 
 
 
اب بھی تو اس بات سے انجان ہے؟
دل مرا بس تجھ پہ ہی قربان ہے
میں نے ہر اک زخم کی پائی دوا
جو ترے ہی درد کا  احسان  ہے
ہم نے جن سے عمر کا وعدہ لیا
کیا خبر تھی چار دن مہمان ہے
کیا خدائی ہے اُسی کے ہاتھ میں؟
وہ خفا ہے، شہر بھی ویران ہے
میں ترے در کا مسافر  بن گیا
 مجھ کو شہرت کا نہ اب  ارمان ہے
میں شکایت اُس خدا سے کیوں کروں
خود جو کہتا ہے کہ وہ رحمان  ہے
ہے حیات و موت تیرے ہاتھ میں
پھر ڈرائے کیوں مجھے انسان ہے
تم نے آتش سے نکالا عشق کو
عشق خود وہ دیکھ کر حیران ہے
صبر کر، دیوانگی ہے بے بسی
عاشقی کا صبر ہی سامان ہے
دیکھ شاہیؔ عشق مت کر، سوچ لے
 عشق سے تو موت بھی آسان ہے
 
شاہیؔ شہباز
وشہ بُک پلوامہ کشمیر،رابطہ؛7889899025
 
 
جون ایلیاء کے مشہور شعر
آپ اپنا غبار تھے ہم تو
یاد تھے یاد گار تھے ہم تو
    کی طرح میں 
عمر بھر بے قرار تھے ہم تو
اک ستم گر کے یار تھے ہم تو
چھوڑ کر وہ بھی چل دیا آخر
ہاں وہی جس کا پیار تھے ہم تو
پھر کبھی بھی پلٹ کے نا دیکھا
رہروِ انتظار تھے ہم تو
اپنی جانب ہی تیر سارے تھے
آپ اپنا شکار تھے ہم تو
ہم خوشی میں بھی خوش نہ رہ پائے
کس کے غم کا غبار تھے ہم تو
ایک لمحہ بھی ہاتھ نا آیا
 یعنی بے اختیار تھے ہم تو 
ہم نے خود کو ہی کھو دیا آخر
کتنے بے اعتبار تھے ہم تو
خود طلبگار تھے عقیلؔ اپنے 
کس قدر پُروقار تھے ہم تو
 
عقیل فاروق
طالبِ علم، شعبہ اُردو کشمیر یونیورسٹی سرینگر
موبائیل نمبر:-8491994633
 
 
مجھے میرے اصولوں پر عمل پیرا تو ہونے دے
مرے مُرجھے گلستان کے نئے پھولوں کو کِھلنے دے
بڑی مدّت سے یارو منتظر ہوں صحنِ متقل میں
ذرا ٹھہرو،ا بھی پہلے مجھے تو قتل ہونے دے
یہ اندازِ سخن اپنا ذراجانچو نئے ڈھنگ سے
وگرنہ لوگ سمجھیں گے کہ بچہ ہے کھلونے دے
جو رشتے کٹ گئے اب تک فقط اک ذات کی خاطر
شرافت کا تقاضا ہے کہ ان رشتوں کو جُڑنے دے
نظامِ زندگی میں کیوں یہاں ہلچل مچی ہے اب
میں آدم ہوں،جو کھویا ہوں ذرا کچھ دیر کھونے دے
مسافرؔ یاد آتے ہیں وہ لمحے ساتھ گذرے جو
نئی اِس سرزمین پر پھر وہ پہلے بیج بونے دے
 
وحید مسافرؔ
باغات کنی پورہ، موبائل نمبر؛9419064259
 
 
نگاہ چشمے اُبل رہی ہے
تو اے زمیں اب بدل رہی ہے
جو اپنے بچے تھے، کھا کے ناگن
ہر ایک شئے اب نگل رہی ہے
عجیب شئے ہے کھٹک سے جس کی
سدا مری جاں نکل رہی ہے
کھونوں سے جی بھرا ہے اب تو
مری طبیعت بہل رہی ہے
وفا کا سودا ہوا تھا راشک
کیوں تیری نیت بدل رہی ہے
 
راشک اعظمی
شعبہ اُردو کشمیر یونیورسٹی
فون نمبر:۔8825090381
 
 
مجھ کو ہر روز سخاوت میں مزہ آتا ہے
اپنے مولا کی عبادت میں مزہ آتا ہے
کوئلیں شاخ پہ کرتی ہیں صبح الله ہو
اور مجھ کو بھی تلاوت میں مزہ آتا ہے
اپنی عادت ہے کہ چلتا ہوں جھکا کر آنکھیں
اپنے تن من کی طہارت میں مزہ آتا ہے
اُن کا ہونے سے میرے دل میں خودی آتی ہے
آ لٕاحمد کی مؤدت میں مزہ آتا ہے
پونچھ کر اشک لگاتا ہوں انہیں سینے سے
ہاں یتیموں سے محبت میں مزہ آتا ہے
رزِق اچھے سے کمانا ہے جہادِ اکبر
اس ڈگر والی شہادت میں مزہ آتا ہے
اپنےگھر میں نہ اجازت ہے الگ چولہے کی
بھائی چارہ و اخوت میں مزہ آتا ہے
اجلے رنگوں سے سجائی ہے یہ تصویرِ جہاں
اس مصّوِر کی عقیدت میں مزہ آتا ہے
اپنے دشمن کو بھی سینے سے لگاتا ہے فلکؔ
ان کو ہرگز نہ عداوت میں مزہ آتا ہے
جس کا جو حق ہے وہاں جاکے اسے ملتا ہے
ہاں نبیؔ جیؐ کی عدالت میں مزہ آتا ہے
 
فلک ؔریاض 
حسینی کالونی۔چھترگام،فون۔9596414645
 
جب سے وہ مہربان ہو گیا ہے 
جینا بہت آسان ہو گیا ہے
جو میسر تھا ہر سو مجھ کو 
آج  کل  وہ  ارمان ہو گیا ہے
دل نکل گیا ہے مرے قابو سے 
اور  ذہن  بد گمان ہو گیا ہے
ایک شخص کے چلے جانے سے 
گھر سارا سنسان ہو گیا ہے
وہ ہے اب تک مجھ سے ناآشنا 
جس پر مرا دیوان ہو گیا ہے
نوچ ڈلا ہے وحشتوں کو بھی 
کتنا ظالم  انسان ہو گیا ہے
 
جس نے آنکھ لڑاہے تُجھ سے 
وہ شخص بے جان ہو گیا ہے
 
مل نہیں سکتے ،اُن سے خوشحال ؔ
اب فیصلہ درمیان ہو گیا ہے
  
میر خوشحالؔ احمد 
کرناہ دلدار
فون نمبر؛ 9622772188
 
 
ہر اِک شاخِِ تمنّا پر یہاں ہے رقص پُھولوں کا 
چلے آؤ ہمارے گاؤں میں موسم ہے جُھولوں کا
 
ہوائے شوخ کے جھونکے فضائے دِل کش و رنگیں
گَلا ایسے میں مت گھونٹو محبّت کے اُصولوں کا
 
اُداسی اور تنہائی بنی ہے جان کی دُشمن
مِرے احساس کا آنگن ہُوا جنگل ببُولوں کا
 
مِلن کے گیت گاؤ آکے چھیڑو ساز خوشیوں کے
کوئی قِصّہ نہ دہراؤ ہماری پِچھلی بُھولوں کا
 
نہیں تم تو مِری آنکھوں میں چُبھتا ہے ہر اِک منظر
جِدھر دیکھوں اُدھر اِک جال سا پَھیلا ہے شُولوں کا
 
چلے آؤ مِرے پردیسی مَیں بھی سج سنور جاؤں
لگا کر ماتھے پر ٹیکا تھکے قدموں کی دُھولوں کا
 
گُزرتا جائے ہے ساون نیازؔ آخر کوئی کب تک
تُمہارا راستہ دیکھے بنا کر ہار پُھولوں کا
 
نیاز جَیراجپُوری
۶۷؍ جالندھری،  اعظم گڑھ  ۔  ۲۷۶۰۰۱ 
 ( یُو۔پی۔) 
0091-9935751213/9616747576