تازہ ترین

پاکیزہ حقیقت

افسانہ

16 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

سوتنتر دیو کوتوال(ایڈوکیٹ)
 
برسہا برس کا دراز عرصہ تو ہو ہی چکا ہے ہمیں آپس میں بات چیت بھی کئے ہوئے۔ اُن دنوں ایک ایک کرکے تمہارے سبھی دوست تم سے دور ہوتے چلے گئے۔ تم سب کے ہوتے ہوئے بھی تنہا رہ گئے۔ اس کے باوجود تمہیں قطعی پرواہ نہیں تھی کہ تمہاری زندگی میں کون آرہا ہے اور کون جارہاہے۔ تم پر تو فقط جائز و ناجائز طریقوں سے اپنی آمدنی بڑھانے کا جنون سوار تھا۔ تم نے ابھی روپے کی ہلکی سی جھلک ہی دیکھی تھی کہ تم کس قدر مغرور، بدزبان، بداخلاق و بدچلن ہوگئے، تمہیں یاد ہی ہوگا۔ تم دولت کے نشے میں اس قدر غرق ہوتے چلے گئے کہ تمہیں احساس تک نہ ہوا کہ کب یہ بدعتیں تمہاری فطرت میں سرائیت کرکے لہو کی طرح تمہارے وجود و حواس میں دوڑنے لگیں۔ تمہیں لگنے لگا کہ سبھی تمہاری ترقی سے جلتے ہیں۔ تم سب سے افضل ہوگئے ہو لہٰذا تم دوسروں سے کنی کاٹنے لگے۔ تمہارا روکھا پن روزبروز بڑھتا گیا اور ایک دن تمہیں مکمل طور پر دوستی کی ہریالی سے خالی کرکے بنجر کر گیا۔ 
تمہیں پھر بھی احساس نہیں ہوا۔ تم ایک مکڑی کی مانند اپنے ہی بُنے جالے میں مست تھے۔ تمہیں دوستوں سے دوری کا رتی بھر بھی افسوس نہیں تھا۔ صرف میں تم سے دور نہیں جاسکا کیونکہ میں تمہارا مالک مکان تھا اور تم میرے کرائے دار۔
تم صرف اپنی غربت اور پسماندگی سے اُوپر اٹھنا چاہتے تھے، ذہنیت سے نہیں۔ بدقسمتی سے تمہاری پڑھائی لکھائی بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔البتہ تمہاری جان پہچان چند ایسے لوگوں سے ہوئی جو روئیس زادے تو نہ تھے مگر اوسط درجہ کے محنتی و خود دار لوگ ضرور تھے۔ دھیرے دھیرے یہ جان پہچان دوستی میں بدل گئی۔ وہ تم پر جان چھڑکنے لگے مگر جوں جوں تمہارے پاس روپیہ آنے لگا تمہارے مزاج میں اُن کے تئیں روکھا پن پیدا ہونے لگا۔ اُن کی جانب تمہارا جذبہ سرد اور رویہ کرخت ہونے لگا۔ تمہارا اخلاق جانے لگا۔ تم اپنی نظر میں اُٹھنے لگے اور دوستوں کی نگاہوں میں گرنے لگے۔ میں سمجھنے سے قاصر تھا کہ آخر تمہیں کس بات کا فتور ہے۔ صورت یہ تھی کہ تم اپنا ذہنی توازن کھو رہے تھے۔ بڑا بننے کی چاہ میں تم وہ بھی نہیں رہے جو تھے۔ تمہاری سوچ صرف خود تک ہی محدود تھی۔ تم خود سے آگے کچھ سوچ ہی نہیں سکتے تھے۔
اسی اثناء میں تمہاری شادی انجنا سے ہوئی۔ انجنا بھابھی بے حد خوش اخلاق، ملنسار و نیک سیرت عورت تھی مگر تمہاری نظر میں یہ اوصاف کوئی معنی نہیں رکھتے تھے۔ تمہاری آنکھوں پر تو ایک ایسی پٹی چڑھ چکی تھی جو تیزی سے تہہ در تہہ موٹی ہوتی جارہی تھی۔ تم چھوٹے بڑے اچھے بُرے کی تمیز تک بھول گئے۔ خود غرضی، خود پرستی اور دولت کی ہوس تمہیں اندھا کرچکی تھی۔ چند ہی دنوں میں تمہارا دل انجنا بھابھی سے اُوب گیا۔ اُس کے ساتھ تمہارا سلوک رفتہ رفتہ بد سے بدتر ہونے لگا۔ تم کئی کئی روز متواتر گھر سے غائب رہنے لگے۔ وہ اکیلی پڑی پڑی بے بسی سے تڑپتی رہتی۔ مگر وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔ باپ کا سایہ بچپن میں ہی سر سے اُٹھ گیا تھا۔ ماں نے محنت مزدوری کی۔ لوگوں کے برتن مانجھے اور بیٹی کو دوچار جماعتیں پڑھا کر سلائی کڑھائی سکھائی اور نیک اعمال کے درس و تربیت سے آراستہ کرکے ایک دن سُرخ جوڑے میں تمہارے ہمراہ ڈولی میں رُخصت کردیا۔ ایک بوڑھی لاچار و بیوہ ماں اس سے زیادہ کربھی کیا سکتی تھی۔ مگر تمہیں تو ان چیزوں کی قدر ہی نہیں تھی۔
بیچاری انجنا بھابی پر تمہاری من مانیاں و ظلم دن بدن بڑھنے لگے۔
دراصل کامنی سے تم نے کبھی تعلق توڑا ہی نہیں تھا۔ تم نے انجنا بھابھی کو اس بابت دھوکے میں رکھا۔ مگر اب پرت در پرت راز افشا ہورہا تھا۔ تم اب بھی کامنی کے شہر جاکر ہفتوں اُس کے ساتھ رہتے۔ ہم سب تمہیں سمجھاتے۔ اپنی دوستی کا واسطہ دیتے مگر تم پر کسی بات کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا تھا۔ تم نے جاہلوں کی مانند نہ کسی کی سُنی نہ کچھ سمجھا۔ انجنا بھابھی زبان کھولتی تو اُس کی جان پر بن آتی۔ تم درندگی پر اُترآتے۔ اُس سے گالی گلوچ تو کرتے ہی تھے اُس کا زدوکوب کرنے سے بھی احتراز نہ کرتے۔ سبھی دوست تمہارے اس نازیبا اور غیر انسانی وطیرے سے ازحد پریشان و شرمسار تھے۔ اُنکی تمام تر کوششیں ناکام ہوگئیں۔ لہٰذا انہوں نے تم سے دوری بنانی شروع کردی۔ شائد تم بھی یہی چاہتے تھے کہ تمہیں کوئی روک ٹوک نہ ہو اور تمہاری کرتوتوں پر پردہ پڑا رہے۔ تم نے اپنے والدین، بھائی بہن و دیگر سبھی رشتہ داروں سے بھی تمام تر تعلقات شروع سے ہی توڑ دیئے تھے۔ تم ہر طور ہمیشہ سے ہی بے سروپیر و بے لگام رہے۔ تم یہاں بھی کامیاب ہوگئے۔ باری باری سبھی دوست تمہاری حرکتوں کے باعث تمہاری زندگی سے رُخصت ہوگئے مگر تب تک تم نے اُنکا جی بھر فائدہ اُٹھالیا تھا۔ 
انجنا بھابھی تمہاری قید میں رو پیٹ کے جیسے تیسے اپنے شب و روز کاٹنے لگی۔ تم نے اُس پر ہر طرح کی پابندی عائد کر رکھی تھی۔ میں اُس پر ترس کھانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا۔ وہ تو شکر کر میرے گھر کے لوگ اپنے پُرانے گھر میں رہائش پذیر تھے اور میں یہاں… ورنہ…!
اُنہیں دنوں میری زندگی میں ایک پُردرد موڑ آیا، جس نے مجھے توڑ کر رکھا دیا۔ میری تعلیم مکمل ہوئی۔ میں نے پی ایچ ڈی کرلی۔ میں انتہائی خوش تھا کہ کالج کے دنوں میں میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر سائمہ نے مجھ سے پی ایچ ڈی کرنے کا جو وعدہ لیا تھا آج میں نے پورا کرلیا۔ اب میرے اور میری سائمہ کے درمیان کوئی دیوار نہیں تھی۔ وعدہ نبھانے کی خاطر میں پورے پانچ سال سائمہ سے دور رہا جبکہ اُس سے ایک پل کی دوری بھی مجھ پر سو سو قیامتیں ڈھاتی تھیں۔ جس دن میرا پی ایچ ڈی کا نتیجہ آیا تو اُسی دن عالم مسرت میں میں بن ٹھن کر تیار ہوا اور جونہی سائمہ سے ملنے اُس کے گھر کے لئے اپنے کمرے سے نکلنے لگا تو تم ایک دلدوز خبر کیساتھ اندر داخل ہوئے…’’مبارک ہو، آج شام تمہاری سائمہ کی بارات آ رہی ہے!‘‘۔ تمہارے ہونٹوں کی زہریلی مسکراہٹ سے یوں ظاہر ہورہا تھا مانو تم مجھ سے کسی پُرانے اور بہت بڑے گناہ کا انتقام لے رہے ہو۔ تمہاری مُبارک باد سے میرے سر پر ساتوں آسمان یک مُشت آگرے۔ میں چکرا کر فرش پر ڈھیر ہوگیا۔ جب ہوش آیا تو میرے سرہانے انجنا بھابی بیٹھی میرا ماتھا سہلا رہی تھی۔ میرے خوابوں کی دُنیا اُجڑ چکی تھی۔ میرے لئے اب ہر سو اندھیرا ہی اندھیراتھا۔ کوئی راستہ کوئی منزل نہیں تھی۔ بہت ممکن تھا کہ میں خود کو ختم کرلیتا مگر انجنا بھابھی نے میرے ٹوٹے ہوئے دل پر مرہم رکھا اور مجھے زندگی کی جانب پھر راغب کیا۔ اپنی اپنی جگہ ہم دونوں بے حد غمزدہ تھے۔ یہی غم ہم دونوں کو نزدیک لایا۔ ہمیں ایک دوسرے سے دلی ہمدردی ہوگئی۔ ایک دوسرے کو اپنی روداد سُنانا، رونا دھونا، ایک دوسرے کے آنسو پونچھنا ہم دونوں کی تاریک زندگیوں کا حصہ بن گیا۔ 
تمہیں اس نازک و مقدس رشتے کی عظمت کا احساس تک نہ تھا۔ ہوتا بھی کیسے؟ تم تو ایک کیڑے کی مانند سرتا پیر گندگی میں دھنسے پڑے تھے۔ متعدد بار تمہاری آنکھوں میں میں نے ہم دونوں کی نسبت شک و شبہات کے سیاہ بادل تیرتے دیکھے تھے۔ یہ تو قدرتی امر تھا۔ تمہیں اپنی طرح ہر کوئی غلیظ و ناپاک لگنا ہی تھا۔ 
ایک دوز تم کامنی کو گھر میں لے ہی آئے۔ اس طرح تم نے تمام حدیں پار کرلیں۔ انجنا بھابھی پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ کامنی اس طرح آئی کہ یہیں کی ہوکر رہ گئی۔ وہ جوان بیوہ ہوکر بھی سمجھ نہ پائی کہ اُس عورت کے دل پر کیا گزرتی ہے جس کا شوہر اُس کی آنکھوں کے سامنے دوسری عورت کی آغوش میں گُم ہوجائے۔ انجنا بھابھی لڑ جھگڑ کر، چیخ چلا کر، ظلم و ستم کا شکار ہوکر بلاآخر تم دونوں کے آگے ہار گئی۔ اُس کی آہ و فریاد اُس کے حلق میں دفن ہوکر رہ گئی۔
میں دنوں ہفتوں مہینوں و برسوں پر پھیلے ہوئے اس شرمناک منظر کو خاموشی کیساتھ ایک دردناک کہانی بنتے دیکھ رہا تھا۔ آخر کار انجنا بھابھی کی تکلیف میری برداشت سے باہر ہوگئی۔ میں اُس کی نیکی و ہمدردی کا قرض چُکانا چاہتا تھا۔ لہٰذا ہم دونوں نے تمہیں صحیح راہ پر لانے کی غرض سے ایک ترکیب سوچی۔ میں نے اپنے ایک عزیز و قابلِ اعتبار دوست، جو اب اس دُنیا میں نہیں ہے، کو اپنی تدبیر میں شامل کیا۔ اُس دوست کو جب تمام تر حقیقت کا علم ہوا تو انجنا بھابھی سے پہلے اُس نے اپنی کلائی پر راکھی بندھوائی تاکہ یہ نیک کام نیک نظر و نیک نیت سے سر انجام ہو۔ ہم دونوں نے اُس سے کیمرے میں کچھ ایسے تصویریں کھنچوائیں جن سے میرے اور انجنا بھابھی کے درمیان تعلقات ناجائز ظاہر ہوں۔ پھرایک دن وہ تصوریریں میں نے خود ہی تمہیں دکھا دیں تاکہ تمہارے دل کو بھی درد محسوس ہو۔ تم بھی حسد کی آگ میں جلو اور دوسرے کی تکلیف کو سمجھو۔مگر تم پر اس کا اثر خلافِ توقع ہوا۔ تم تو جیسے اسی طرح کے کسی موقع کی تلاش میں تھے۔ اب تو تمہیں انجنا بھابھی پر تہمتیں لگانے کا حق مل گیا۔ تبھی ایک دن اچانک تم نے اپنی رہائش گاہ بدل ڈالی۔ تم نے میرا گھر تو چھوڑا مگر اپنی بدکرداری ترک نہیں کی۔ 
اب تک تمہارے پاس کافی روپیہ جمع ہوچکا تھا۔ تم نے اسی شہر میں اپنے گھر کے ساتھ ساتھ کامنی کو بھی ایک مکان بنوا کر دے دیا۔ سبھی کچھ پہلے جیسا کھلے بندوں ہوتا رہا۔ انجنا بھابھی نے تھک ہار کر حالات سے سمجھوتہ کرلیا۔ تمہاری اوباشی کے آگے ہتھیار ڈال کر خود ایک گنہگار کی صورت سر جُھکا لیا۔ میرے اور تمہارے بیچ کبھی نہ بھرنے والی خلیج پیدا ہوگئی۔ ایک ہی شہر میں رہنے کے باعث کبھی کبھار آمنے سامنے آبھی جاتے تو تم تکبر و نفرت سے منہ پھر لیتے اور میں دل ہی دل میں تم پر خوب ہنستا۔ 
وقت اپنی چال چلتا رہا۔ لگ بھگ تیس برس کا لمبا عرصہ گذر گیا۔ لیکن اس دوران بھی مجھے تمہارے گھر کی خبر ملتی رہی۔ سُن کر دل پاش پاش ہوجاتا۔ ایک دن پتہ چلا کامنی سخت بیمار ہے۔ اُسے بے شمار بیماریوں نے ایک ساتھ جان لیوا حد تک جکڑ لیا ہے۔ حالت بے حد نازک ہے۔ اُس کا بچ پانا ممکن نہیں۔ ڈاکٹروں نے بھی جواب دے دیا ہے۔ وہ زندگی کے آخری مقام پر کھڑی تڑپ تڑپ کر موت کو پُکار رہی ہے۔ زندگی اُس سے دامن چُھڑا رہی ہے اور موت آنکھ مچولی کھیل رہی ہے۔ ایسے اذیتناک وقت میں کامنی کے قریب اُس کی تیمارداری کے لئے صرف ایک ہی شخص موجود تھا اور وہ تھی انجنا بھابھی۔ وہ دن رات آنکھ جھپکائے بغیر کامنی کی بے لوث خدمت کررہی تھی۔
وقت یہاں بھی ہفتوں و مہینوں میں بدل گیا۔ مگر انجنا بھابی نہ بدلی اور نہ ہی ہاری۔ وہ کامنی کی بیماری اور موت سے مسلسل جنگ لڑتی رہی اور اُسے مات دیتی رہی۔ لیکن ایک رات کامنی نے اُس کی گود میں آخری سانس لیکر اچھے بُرے سبھی تعلقات ہمیشہ ہمیشہ کے لئے توڑ ڈالے۔ انجنا بھابھی اس قدر روئی کہ مانو اُس کی اپنی روح اُس کے جسم سے جدا ہوگئی تھی۔ کامنی کی آخری رسومات بھی اُس نے اپنے فرائض میں لے کر اپنے ہاتھوں کئی روز تک حسبِ رواج ادا کیں۔
انجنا بھابھی کے اس ناقابل یقین و بے غرض ایثار و انسانیت سے لبریز روپ کا مجھے علم ہوا تو میری گردن احترام و عقیدت سے اُسکی عظمت کے سامنے جُھک گئی اور سینہ فخر سے تن گیا۔ اسی سرور میں ڈوبے ڈوبے میرا ہاتھ خود بخود قلم کی جانب بڑھا اور دھیرے دھیرے ایک کورے کاغذ کی شفاف چھاتی پر رینگنے لگا…۔’’انجنا بھابھی میں تمہارے مقدس جذبے و قربانی کو اپنے قلب و جگر سے سلام کرتا ہوں۔ تم ہمالیہ کی طرح بُلند اور آبِ گنگا کی مانند پاک ہو۔ اسی طرح ہم دونوں کا رشتہ بھی بلند و پاک تھا۔ اگر رضائے رب ہوئی تو کسی روز یہ پاکیزہ حقیقت اس بے مروت شخص کے روبرو آکر ضرور کھڑی ہوگی‘‘۔
ہ؛1/226سبھاش نگر، اُدھمپور، جے اینڈ کے 182101