تازہ ترین

کالے دیووں کی واپسی

افسانہ

24 جون 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر ریاض توحیدی
وہ گہری کھائی سے نکل کر جونہی پہاڑ کی بلند چوٹی پرپہنچاتو دھوپ بڑھنے کے ساتھ ساتھ پگھلتے گلیشرکی طرح یخ بستہ وجود بھی رفتہ رفتہ پگھلنے لگا۔ تھوڑی دیر تک حواس بحال ہوتے ہی بے قرار آنکھیں گہری کھائی کے پگھلتے گلیشر کو تکنے لگیں۔پانی کے بہاؤکی طرح جیسے اس کی منجمدیاداشت بھی بہنے لگی اور وہ ماضی کو یاد کرنے لگا لیکن اسے ابھی کچھ یاد نہیں آرہا تھا حتیٰ کہ وہ اس گلیشر میں کتنے دنوں‘ برسوں یا صدیوں تک پڑا رہا۔اس کی سوچ ابھی ان ہی گھتیوں کو سلجھانے میں الجھی ہوئی تھی کہ کہیں سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آنے لگیں۔اسے احساس ہوا کہ شاید اب پہاڑ پر بھی بستی بس گئی ہے لیکن اس کا شک جلد ہی دور ہوا کیونکہ وہ جب کھڑا ہوکر گردوپیش کاجائزہ لینے لگا تو دور دور تک کہیں پر کسی بستی کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔وہ سوچنے لگا کہ پھر کتوں کے بھونکنے کی آوازیں کہاں سے آرہی ہیں ؟وہ ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ اسے پہاڑ کے دامن میں بھیڑ بکریوں کا ایک بڑاریوڑ نظر آیا۔ریوڑ چوٹی کی جانب بڑھ رہا تھا اور دوپہر تک اس کے نزدیک پہنچ گیا۔ ریوڑ کے نذدیک پہنچتے ہی وہ ایک بڑے پتھر کے پیچھے چھپ گیا۔ ریوڑ میں گھوڑے‘ خچر اور کتے بھی تھے ۔ گھوڑے اورخچرسازوسامان سے لدے ہوئے تھے اور ان کی لگامیں چند گڈریوں کے ہاتھوں میں تھیں۔ گڈریوں میں بچے ‘جوان ‘عورتیں اور چندبوڑھے بھی تھے۔ بوڑھوں کا لباس تو روایتی انداز کا تھا لیکن بچوں اور جوانوں کے کپڑے کچھ نئے اسٹائل کے تھے ۔ ریوڑ جب پہاڑکے اوپر پھیل گیا تو ایک بزرگ نزدیکی چشمے پر پہنچ کرمنہ ہاتھ دھونے لگا۔اس نے پانی کے چند گھونٹ پی کر دوسرے لوگوں کو آواز دی کہ وہ یہاں آکر ٹھکانہ بنا لیں۔تھوڑی دیر میں نوجوانوں نے گھوڑوں اور خچروں سے سامان اتارا اور خیمے گاڑنے شروع کردیئے۔عورتوں اور بچوں نے پتھروں کے چولہے بنائے اور چشمے کے اردگرد زندگی کا آغاز ہوا۔ یہ سب دیکھ کراسے محسوس ہوا کہ شاید یہ لوگ اسی وادی کے مکین ہیں ۔سبھی لوگوں کو کام میں مشغول پاکر وہ دھیرے دھیرے بزرگ کی جانب بڑھنے لگا۔بزرگ کے نزدیک پہنچ کر جب اس نے بزرگ سے بات کرنا شروع کی تو وہ حیران ہوا کہ بزرگ اس ویرانے میں کسی اجنبی کو دیکھ کر خوف زدہ ہوا اور نہ ہی اس کی کسی بات کی طرف دھیان دیا۔وہ یہ سوچ کر کہ شاید بزرگ کو صاف دکھائی نہیں دیتاہے یا بہرے پن کا شکار ہے‘ایک نوجوان کی طرف بڑھ گیا۔لیکن یہاں پر بھی کسی قسم کی توجہ نہیں ملی۔ وہ تھوڑا سا پریشان ہوکر ادھر ادھر دیکھنے لگا لیکن کوئی بھی اس کی موجودگی کی طرف دھیان نہیں دے رہا تھا۔ وہ ابھی اسی کشمکش میں مبتلا تھا کہ چند کتے بڑی تیزی سے بھونکتے بھونکتے اس کی طرف بڑھنے لگے ۔ وہ ڈر کر وہاں سے ہٹا اور گھبراتے ہوئے جھاڑیوں میں گھس گیا۔ کتے اس کو نظرانداز کرکے دوسری جانب کسی بھیڑئے کی طرف دوڑ پڑے۔وہ تھوڑی دیر تک کتوں کو دیکھتا رہا لیکن وہ یہ دیکھ کر دوبارہ حیران ہوا کہ جاڑیوں میں گھسنے کے باوجود بھی اسے کسی قسم کی خراش تک نہیں آئی ہے۔
غروب آفتاب کے بعد خیموںمیں روشنی نمودار ہوئی۔ وہ جھاڑیوں سے نکل کر بزرگ کے خیمے میں داخل ہوا۔وہاں پر بزرگ کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے بچے اور چند نوجوان بیٹھے ہوئے تھے۔وہ بھی ایک طرف بیٹھ کر سوچنے لگا کہ وہ پھر بزرگ سے بات کرنے کی کوشش کرے ‘لیکن کئی بار اپنی بات دہرانے کے باوجود جب اسے کوئی توجہ نہیں ملی تو وہ خاموش ہوکر ہر چہرے کو تکنے لگا۔وہ لوگ تھوڑی دیر تک ادھر ادھرکی باتیں کرتے رہے اور پھر بچوں کے اصرار پر بزرگ نے کہانی سنانی شروع کی۔
’’وہ ایک ایسی وادی تھی جو ’ ستی سر‘کہلاتی تھی ۔ستی سرکی داستان صدیوں سے سینہ بہ سینہ سفرکرتی رہی۔۔۔۔۔‘‘
’’ستی سر۔۔۔۔۔؟‘‘ایک بچے کے منہ سے نکل پڑا۔
بزرگ بچے کی بات سن کر مسکراتے ہوئے کہانی آگے بڑھانے لگا۔
وادی کو’ ستی سر‘ اس لئے کہا جاتا تھا کہ ساری وادی میں پانی ہی پانی موجود تھا ‘جس کی وجہ سے لوگ کشتیوں میں رہائش پزیر تھے۔لوگوں کا زیادہ تربسیرا مچھلیوں اور سبزیوں پر ہوتا تھا۔لوگ تو زندگی کے ایام گزار تے رہتے لیکن ان کو ایک مصیبت نے گھیرے رکھا تھا۔ صبح جب وہ بیدار ہوتے تو کسی نہ کسی گھر سے کسی بچے کے غائب ہونی کی منحوس خبر پھیل کرلوگوں کے درمیان تشویش کی لہر دوڑ جاتی۔ یہ سلسلہ وادی میں کئی دہائیوں سے جاری تھا ۔ لوگ تو اس مصیبت سے چھٹکارا پانے کے لئے اَہ وفریادکرتے رہتے لیکن کالے دیوؤں پر کوئی اثر نہیں پڑتاتھا۔وہ جب اور جس وقت چاہتے ‘رات کے اندھیرے میں گھروں میں گھس کر بچوں کو اٹھالیتے۔
’’ستی سر‘‘ اور کالے دیوؤں کا ذکر سنتے ہی اس کے اندر ایک عجیب سی ہل چل مچ اٹھی۔اسے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ستی سر کے کالے دیو اس کا پیچھے کررہے ہیں اور وہ پہاڑ کی جانب بھاگے جارہا ہے۔
بزرگ نے حقے سے تمباکو کا کش لیا اور تھوڑا کھانس کراپنی بات جاری رکھی۔کالے دیوؤں کے عذاب سے چھٹکارا پانے کی کئی کہانیاں دہرائی جاتی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ ایک دن حضرت سلیمانؑ کا خبری پرندہ ’’ہدہد‘‘وادی کے اوپر پرواز کررہا تھا کہ وہ وادی کے خوبصورت نظاروں سے خوش ہوا لیکن جب اس نے ستم زدہ انسانوں کی فریاد سنی تو وہ سخت غمگین ہوا اور جاکرحضرت سلیمانؑ کو پوری داستان سنائی۔حضرت سلیمانؑ داستان غم سن کر وادی کی طرف روانہ ہوگئے اور کوہ سلیمانی پر اپنا تخت سجا کر کالے دیوؤں کو اپنے دربار میں بلوایا۔سارے دیو ڈرے سہمے حاضر خدمت ہوئے۔حضرت سلیمان نے لوگوں کو بھی بلوایا اور ان کی ساری دکھ بھری روداد سنی۔دیوؤں کے سردار ’کش دیو‘ کو سزا کے طور پر حکم دیا گیا کہ وہ وادی کا سارا پانی نکال کر یہاں سے نکل جائیں۔کش دیو نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے یہ شرط رکھی کہ اس کی شادی پری ’میری ‘سے کروائی جائے۔شرط منظور ہوئی اور کش دیو نے دریائے جہلم کے ذریعے سارا پانی نکال دیا اورپری ’میری ‘سے شادی کرکے وہاں کے لوگوں کو ستانا چھوڑ دیا۔کہا جاتا ہے کہ جب وادی کے لوگ مصیبت سے آزاد ہوگئے تو اس کی یادمیں وادی کا نام کشمیر پڑگیا۔
بزرگ کی زبان سے کہانی سن کر وہ ششدر رہ گیا۔اس کے اندر سے خیالات کا ایک طوفان سا اٹھنے لگا۔وہ  بیقراری سے صبح کا انتظار کرنے لگا اور صبح ہوتے ہی وہ جہلم کی طرف چل پڑا۔وہ کئی گھنٹوں تک اوبڑ کھابڑ اور تنگ پگڈنڈیوں پر چلتے چلتے دریائے جہلم کے کنارے پہنچ گیا۔اس پر بھوک و پیاس کا کوئی اثر نہ تھا ۔وہ صرف وادی کی گھٹن بھری فضا کے بارے میں سوچنے لگا۔جہلم کے پانی پر نظر پڑتے ہی اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔جہلم کا پانی سرخی مائل ہوچکا تھا اور اس کے اوپر بچوں کی کٹی ہوئی لاشیں تیر رہی تھیں۔اس کے اندر تشویش کی لہر دوڑگئی اور قدم جہلم کے منبع کی جانب بڑھنے لگے۔چلتے چلتے اسے ایک کنارے پر قبرستان دکھائی دیا‘جہاں پر گمنام قبروں کے درمیان غائب شدہ بچوں کا سوگ منایا جارہا تھا۔قبرستان کے ساتھ ہی خوبصورت بچوںکی اندھی آنکھیں ستم کا رونا رو رہی تھیں ۔تھوڑا اور چلنے کے بعد نوجوانوں کی لاشیں پیڑوں پر لٹکی ہوئی تھیںاور عورتوں کے کاٹے گئے بال سانپوں کی طرح پانی پر رینگ رہے تھے۔ جہلم کے سارے ماحول میںکہرام بپا تھا۔
وہ یہ اندوہ ناک صورت حال دیکھ کر سوچنے لگا کہ وادی کے اوپر یہ کونسی آفت آن پڑی ہے کہ ہر آنکھ سے مایوسی کے آنسو ٹپک رہے ہیں اور ہر دل سے ماتم کی آہیں نکل رہی ہیں۔یہاں کی فضا بھی تو ماتم کناں ہے اور یہاں کے خوبصورت نظارے بھی کالی دھند میںلپٹے ہوئے ہیں۔اس کے قدم دوبارہ دھندزدہ ماحول کا سراغ لگانے کے لئے منبع کی طرف چل پڑے۔چلتے چلتے وہ جب جہلم کے سرے تک پہنچ گیا تو وہ یہ دیکھ کر خوف زدہ ہوا کہ سرے کے اوپر منہ کھولے غاروں سے خون کے فوارے ابل رہے ہیں اور بچوں کے خون آلودسروں اور جسموں کو پانی میں پھینکا جارہا ہے ۔ غاروں کے اندر سے چیخنے اور قہقہوں کی دہشت ناک آوازیں آرہی ہیں جو غار کے اوپر لٹکے جادوئی پردوں پرمن پسند نگارخانے کی صورت میں تبدیل ہورہی ہیں ۔وہ ابھی ان ہی وحشت ناک چیخوں اور رنگ برنگی  تصویروںمیں کھویا ہوا تھا کہ ایک بچہ غار سے روتے بلکتے باہر کی جانب بھاگتا ہوا دکھائی دیا۔اس نے جونہی بچے کے پیچھے سے آگ کے شعلے چھوڑتے ہوئے ہیولوں کو دیکھا جونقارہ بجاتے ہوئے بھاگتے بچے کو امن امن کی صداؤں سے روکنے کی کوشش کررہے تھے تو اس کے منہ سے دلخراش چیخ نکل پڑی کہ کالے دیو تو پھر واپس آگئے ہیں اور چیخ کے ساتھ ہی سراسیمگی کے عالم میںاس کے قدم خودبخود دوبارہ کوہ سلیمانی کی جانب اٹھنے لگے۔
موبائل نمبر؛9906834877
ای میل؛drryaztawheedi77@yahoo.com