تازہ ترین

محکمہ پی ایچ ای کے عارضی ملازمین کی ہڑتال

جنوبی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں پانی کی سپلائی متاثر ،حالات سنگین

13 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
 
سرینگر // محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں عارضی طور کام کررہے ملازمین کی کام چھوڑ ہڑتال کی وجہ سے جنوبی کشمیر کے وچی علاقے سمت دیگر علاقوں میں پانی سپلائی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ، وہیں عارضی ملازمین نے دھمکی دی ہے کہ اگر اُن کے جائز مطالبات کو حل نہ کیا گیا تو ہڑتال میں مزید شدت لائی جائے گی۔جنوبی کشمیر کے شوپیاں اور پلوامہ علاقے کے کئی ایک دیہات جن میں درباغ ، وچی ، بابا پورہ ، نکلورہ پلوامہ سگن اور دیگر علاقوں میں لوگ جمعرات صبح سے پانی کی بوند بوند کیلئے ترس رہے ہیں ۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہیں استعمال میں لانے کیلئے پانی میسر نہیں ہے اور وہ کئی کلو میٹر دور سے پانی لانے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ مقامی لوگوں کے مطابق انہوں نے اس حوالے سے محکمہ کے اعلیٰ حکام سے بھی رابطہ قائم کیا تاہم محکمہ نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ محکمہ کے عارضی ملازمین ہڑتال پر ہیں جس وجہ سے پانی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکار عارضی ملازمین کے مسائل حل نہیں کر سکتی تو اُس کا خمیازہ کیوں لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔اس کے علاوہ وادی کے دیگر علاقوں میں بھی لوگوں نے پانی سپلائی کے بند ہونے کی شکایت کی ہے ،لوگوں کی مانگ ہے کہ انہیں پانی فراہم کیا جائے ۔ معلوم رہے کہ محکمہ پی ایچ ای نے زمین کے عوض جن لوگوں کو عارضی طور پر  محکمہ میں تعینات کیا تھا وہ اب اپنے مطالبات کو لیکر سڑکوں پر ہیںجس سے وادی کے کئی ایک علاقوں میں پانی کی سپلائی متاثر ہو کر رہ گئی ہے ۔کشمیر لینڈ اونرس ایسوسی ایشن کے صدر بشیر احمد یتو نے اس حوالے سے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ کئی برس قبل محکمہ پی ایچ ای نے اُن سے زمینیں خریدیں اور اُن پر نہ صرف ٹنکیاں بنائی گئیں بلکہ فلٹریشن پلانٹ ، ریزروراور ڈرین ہینڈل تعمیر کئے گے اور زمین حاصل کرنے کے بعد انہیں محکمہ میں بطور عارضی ملازم تعینات کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ 24گھنٹوں تک لوگوں کو پانی بحال رکھنے کا کام انجام دینے کے باوجود بھی سرکار کشمیر ڈویژن کے 878نیڈ بیسز ملازمین کے مطالبات کو حل کرنے میں ناکام ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ انہیں صرف سرکار کی طرف سے ڈیڑھ سو روپے دہاڑی دی جاتی ہے جو آج کے مہنگائی کے دور میں کافی کم ہے اور یہ پیسہ بھی پچھلے 24ماہ سے نہیں دیا گیا ہے ۔یتو نے کہا کہ سرکار سے انہوں نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ انہیں اب 18برس بعد مستقل کیا جائے لیکن آج تک جتنی بھی سرکاریں آئیں انہوں نے انہیں نظر انداز کیا ۔انہوں نے کہا کہ سال2012.13میں نیڈ بیس آڈر محکمہ کی طرف سے دیا گیا جس کے بعد اُن سے 24گھنٹے ڈیوٹی لی گئی ۔انہوں نے کہا کہ تنخوائوں کی عدم دستیابی کے نتیجے میں وہ اور اُن کے اہل خانہ کو مشکلات کا سامنا ہے ۔یتو نے کہا کہ اُن کے بچوں کو سکولوں سے باہر کیا گیا ہے جبکہ گھروں میں موجود بیماروں کیلئے دوائی لانے کیلئے بھی اُن کے پاس پھوٹی کوڑی نہیں ہے ۔انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر سرکار اُن کے جائز مطالبات کو حل نہیں کرتی تو وہ احتجاج میں مزید شدت لائیں گے جس کی ساری کی ساری زمہ داری حکام پر عائد ہو گئی اس دورا ن انہوں نے ریاستی گورنر اور اُن کے مشیروں سے اپیل کی ہے کہ اُن کے مسائل زاتی طور پر حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں تاکہ انہیں اور اُن کے اہل خانہ کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔کشمیر عظمیٰ نے اس حوالے سے جب چیف انجینئر پی ایچ ای کشمیر عبدالواحد سے بات کی تو انہوں نے اعتراف کیا کہ نیڈ بیسز ملازمین ہڑتال پر ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ اُن کے مسائل محکمہ نے حکومت کی نوٹس میں لائے ہیں اور اب جو کرنا ہے حکومت نے ہی کرنا ہے ۔چیف نے کہا کہ ہر کام میں وقت لگتا ہے اور بعد میں اُس کے نتائج بھی اچھے ثابت ہوتے ہیں ۔کئی علاقوں میں پانی کی سپلائی متاثر ہونے کے حوالے سے چیف نے کہا کہ جن علاقوں سے یہ شکایت تھی وہاں کے ایگزن سے کہا گیا ہے کہ وہ پانی سپلائی لوگوں تک پہنچائین تاکہ انہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے