تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

15 جون 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

مفتی نذیر احمد قاسمی
(۱) صدقہ فطر کیاہے؟
(۲) اس کی کیا مقدارہے؟
(۳) اور اس کی ادائیگی کا کیا وقت ہے؟
(۴) جواور گندم میںکیا فرق ہے؟
                        شوکت احمد 
 صدقہ فطر،مقداراور وقت ِ ادائیگی
 
جواب: ایک مسلمان جب شوق و جذبہ سے روزہ رکھتا ہے تو وہ محض اللہ کی رضا کے لئے دن بھر کی بھوک و پیاس برداشت کرتا ہے۔ممکن ہے اس عظیم عمل میں کوئی کمی رہی ہو تو اس کی تلافی ضروری ہے تاکہ روزہ کا عظیم عمل بہتر سے بہتر بن سکے۔ اسی غرض کیلئے صدقہ فطر لازم کیا گیا چنانچہ حدیث میں صدقہ فطر کے متعلق ارشاد ہوا ہے کہ یہ غرباء کیلئے کھانے پینے کا انتظام اور روزے داروں کے لئے روزوں کی نقائص کی تلافی ہے۔ صدقہ فطر کی ادائیگی میں کشمش، کھجور، جو کا آٹا یا اس کا ستو پنیر کی مقدار ایک صاع اور گندم یا اس کے آٹے کے مقدار نصف صاع ہے۔ صاع ایک پیمانہ تھا جو عہدرسالت میںرائج تھا، جیسے آج کل کلو اور کوئنٹل ایک مروّج پیمانہ ہے اس صاع کو جب آج کے رائج پیمانوں میں تبدیل کیا گیا تو وہ احتیاطاً سوا تین کلو قرار پایا۔
 
دراصل ایک صاع تین کلو ایک سو پچاس گرام ہے ، یہ علماء  برصغیر کا فیصلہ ہے اور موسوعہ فقہ کویت کی تحقیق کے مطابق تین کلو باون گرام آٹھ ملی گرام ہے۔ موسوعہ فقہیہ اس صدی کا عظیم کارنامہ ہے جو ضخیم چالیس جلدوںمیں ہے۔ عہدرسالت میں صدقہ فطر کی ادائیگی میں مندرجہ بالا اشیاء دی جاتی تھیں، اب آج اگر کوئی شخص اْن اشیاءکی قیمت دنیا چاہئے تو درست بلکہ اور زیادہ بہتر ہے۔ قیمت کا تعین کرنے کیلئے کسی بھی چیز کی کثیر الاستعمال نوع کو منتخب کیا جائے گا اور قیمت بھی عام بازار کی معیار بنائی جائے گی۔ اگر کوئی مسلمان صدقہ فطر کی ادائیگی کیلئے کھجور یا کشمش کو معیار قرار دے تو یہ بہت زیادہ فضیلت اور باعث اجروثواب ہوگا۔ اس لئے جتنا زیادہ دیں گے اتنا بہتر ہوگا۔ صدقہ کی ہر زائد مقدار بہرحال افضل ہے وہ اہل ایمان جن کو اللہ نے مالی وسعتوں سے نوازا ہے وہ جب عید کے موقعہ پر طرح طرح کی غیر ضروری اشیاء پر ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں تو اگر صدقہ فطر کے لئے بھی برتر مقدار کا انتخاب کریں تو اس کے افضل ہونے میں کیا شک ہے۔ اس میں کسی قسم کی فضیلتیں اور حقوق اللہ و حقوق العباد کی انجام دہی کی کئی انواع شامل ہیں۔ چنانچہ اعلیٰ قسم کی کشمش کی بنیاد پر ایک شخص کا صدقہ فطر اس کشمش کی قیمت ہوگی جو بازار میں دستیاب ہے۔ اسی طرح کھجور کا معاملہ کہ اس کی مقدار بھی ایک صاع ہے،لہٰذا ایک صاع یعنی تقریباً سوا تین کلو کھجور کی قیمت ایک صدقہ فطر ہوگی، پھر چاہے کشمش کی قیمت دے یا کھجور کی قیمت دے۔
 
صدقہ فطر کی ادائیگی عید الفطر سے پہلے پہلے ضروری ہے۔ اس صدقہ کے مستحق وہی افراد ہونگے جو زکوٰۃ کے مستحق ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ صدقہ واجبہ میں سے ہے اور اس کے مستحق غرباء ہی ہیں۔ جو ادارے صدقہ فطر جمع کرتے ہیں وہ بھی عیدالفطر سے پہلے مستحقین تک پہنچا دیں۔ حضور اکرم ؐکے عہد مبارک میں عمومی غذا میں استعمال ہونے والا اناج چونکہ جو تھا اس لئے اس جو کی مقدار بھی ایک صاع تھی۔بخاری شریف میں صدقہ فطر کے بیان میں ہے کہ حضرت امیر معاویہ ؓ کے عہد میں ملک شام سے آنے والا عمدہ گندم مدینہ کی عمومی غذا بن گیا۔ اس لئے جب گندم کو پیمانہ بنایا گیا تو حضراتِ صحابہ نے اس کی مقدار نصف صاع مقرر کی اور صحابہ کے فیصلے چونکہ اسی طرح دین کا حصہ ہے جس طرح خود ارشادِ نبوی ؐ ہوتا ہے۔ اس لئے طے ہوگیا کہ گندم نصف صاع (تقریباً پونے دو کلو) اور جو، کشمش کھجور ایک صاع ہے ،یا ان کی قیمت ہوگی۔پھر کشمش اور کھجور کی مختلف انواع بازاروں میں دستیاب ہیں۔ جس قسم کی کھجور یا کشمش کی قیمت ادا کریں شرعاً اجازت ہوگی۔ البتہ اعلیٰ سے اعلیٰ قسم کی قیمت زیادہ ہوگی حتیٰ کہ کشمش کی سب سے معیاری قسم سے صدقہ فطر ادا کریں تو دوہزار روپے ہوجاتے ہے۔ ظاہر اس میں انفاقِ فی سبیل اللہ اور غریب پروری کا برتر مظاہرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے تم نیکی کے اونچے مرتبے کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو۔(القرآن)
 
سوال: اسلام میں عید منانے کا طریقہ کیا ہے؟ کیا عید مسلمانوں کے لئے ایسا ہی تہوارہے جیسے دوسری قوموں کے اپنے مذہبی تہوار ہواکرتے ہیں ، ایک مسلمان کو عید میں کیا کرنا چاہئے۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اچھے کپڑے پہننے ، اچھے کھانے کھانے اور دوستوں رشتہ داروں سے ملنے جلنے کا نام عیدہے۔ نئی نوجوان نسل کا حال تو معلوم ہی ہے کہ کس طرح ان کی عید ہوتی ہے۔ کچھ فلمیں دیکھتے ہیں ، کچھ جو اکھیلتے ہیں ، کچھ سڑکوں میں ہی کھیل کود میں مگن ہوتے ہیں۔ بہر حال آپ عیدکے متعلق صاف اور تفصیلی جواب بتائیں۔
 
عبدالکریم خان
عید تہوار نہیں بلکہ عبادت ہے
 
جواب: عیدکو تہوار کہنا ہرگز درست نہیں ہے۔عیدکودوسری اقوام کے ان تہواروں کی طرح جن میں صرف ناچ گانا ، صرف کھانا پینا اور کھیل تماشے کے سوا کچھ بھی نہیںہوناقرار دینا ہرگز صحیح نہیں اور یہ عید کی حقیقی عظمت سے لاعلمی ہے ،عید عبادت ہے اور اس عبادت میں فرحت ومسرت بھی شامل کردی گئی ہے۔ اس لئے اسلام نے عید کے دن کے لئے تمام امور طے کر دئیے ہیں۔ چنانچہ عید کے دن یہ امور انجام دیئے جائیں تو شرعی طور پر عید حقیقی ہوگی۔
۱ شریعت کے ضوابط اور حدود کے مطابق آرائش وزیبائش کرنا۔ کپڑے اور وضع قطع میں اسلام کی حدود ملحوظ رکھ کر بناؤ سنگار کرنا اور شکر کے جذبات کے ساتھ تزئین کرنا۔
۲ غسل کرنا ، نہانے میں عبادت کا تصور رکھنا بھی ضروری ہے۔
۳ مسواک کرنا ، برش وپیسٹ اگر اس نیت سے کیا جائے تو منھ کی صفائی بھی ہوگی اور مسواک کی سنت بھی ادا ہوسکتی ہے۔ لیکن مسواک کا درجہ متعد د وجوہ سے نہایت ارفع ہے۔
۴ اچھے سے اچھا کپڑا پہننا ، چاہے کپڑا نیاہو یا دھلا ہوا ہو۔ مگر اچھا کپڑا پہننے میں نمائش اور دکھلاواہرگز ملحوظ خاطر نہ ہو بلکہ یہ سوچ کر اچھے کپڑے پہنے کہ یہ اسلام کا حکم ہے۔ ہمارے نبی کی سنت ہے اور اللہ کے عطا کردہ مال کا شکر کے ساتھ استعمال ہے۔
۵ خوشبو یعنی عطر استعمال کرنا۔ لیکن ایسا پرفیوم جس میں الکحل ہو اس سے پرہیز کیا جائے۔
۶ صبح سویرے نیند سے بیدار ہونا۔۷ عید گاہ سویرے سویرے جانا۔
۸ عید گاہ جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھانا اور اس میٹھی چیزکے کھانے میں یہ تصوررکھنا کہ یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
۹ عیدگاہ جانے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا۔
۱۰ عید کی نماز عیدگاہ میں جاکر پڑھنا۔ ہاں کوئی عذر ہو تو پھر دوسری بات ہے۔
۱۱ عید گاہ جانے اور واپسی میں راستہ بدل دینا۔ اگر عملاً اس میں کوئی دشواری نہ ہو۔ 
۱۲ پیدل چل کر عید گاہ جانا۔ ہاں اگر پیدل چلنے میں کوئی بھی مشکل ہوتو سواری پر جانے میں مضائقہ نہیں۔
۱۳ راستے بھر یہ تکبیر پڑھتے ہوئے جانا۔
اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبروللہ الحمد
 ۱۴ عید کی رات میں زیادہ سے زیاد ہ عبادت کرنا۔ روز ے قبول ہونے اور ہدایت پر ثابت قدم رہنے کی دعائیں مانگنا۔ رمضان میں جس طرح ان چیزوں سے بھی پرہیز کیا جو حلال تھیں یعنی کھانا پینا، اب رمضان کے بعد حرام امور سے بچنے کا عہد کرنا۔
 ۱۵ عید کی نماز ادا کرنا۔ نماز عید میں خطبہ ضرور سننا اور عید گاہ سے یہ عزم کرکے واپس ہونا کہ حقیقی مسلمان کی حیثیت سے زندگی گذارنے کا عہد کرتاہوں۔
  نیز عید کے دن باربار یہ تصور باندھے کہ آج خود اپنے ہاتھوں سے غسل کیا ، خود نئے کپڑے پہننے ، خود عطر استعمال کیا اور خود چل کر عید گاہ کو گئے۔ لیکن ایک دن ایسا آنے والا کہ غسل ہوگا مگر دوسروں کے ہاتھوں سے ، نیا کپڑا پہننا ہوگا مگر پہنانے والے دوسرے لوگ ہونگے۔ اس روز بھی عطر و خوشبو استعمال ہوگی مگر وہ بھی دوسروں ہی کے ہاتھوں سے اور آخر میں اس روز بھی گھر سے روانگی ہوگی مگر خود چل کرنہیں۔ بلکہ تابوت میں لیٹے ہوئے دوسروں کے کندھوں پر۔ آج کی روانگی عید گاہ کو ہے اس روز کی روانگی جنازہ گاہ کو ہوگی۔ آج عید کے دن گھر سے روانگی خوشیوں اور فرحتوں کے ساتھ ہے۔ جب کہ اس دن کی روانگی ماتم اور آہ وبکاہ کے ساتھ ہوگی۔ وہ موت کا دن ہے۔ بس آج عید کے دن سے موت کے دن کا تصور ابھر جائے اور اس کی تیاری کا عزم پیدا ہو جائے تو یہ عید کا حقیقی سبق ہے۔مختصر یہ کہ عید کے دن یہ عہد کیا جائے کہ اب زندگی گزاری جائے گی رمضان کی طرح …تو انشاء اللہ موت آئیگی عید کی طرح۔
.................
 
سوال : کیا عیدالفطر کی نماز کے فوراً بعد تکبیرات تشریقات پڑھنی چاہئیں ؟۔اگر پڑھنی ہو تو کتنی بار پڑھیں ؟۔قبل از خطبہ فوراً نماز کے بعد پڑھنی سنت ،واجب یا مستحب ہیں۔؟واضح طور بیان فرمائیں۔
مبشر حسین 
 تکبیرات تشریق یوم عید
 
جواب:تکبیرات تشریق نماز عید سے پہلے بھی سنت ہیں اورنماز عید کے بعد بھی سنت ہیں۔تعداد اور مقدار کوئی مقرر نہیں ہے۔فرض نماز کے فوراًبعد اگر دعا کی اور اس کے بعد خطبہ پڑھا جائے تو خطبے کے بعد پھر تکبیرات تشریقات پڑھ سکتے ہیں،البتہ مقدار یا تعداد شریعت نے طے نہیں کی ہے ۔شریعت نے بس یہ ترغیب دی ہے کہ زیادہ سے زیادہ تکبیرات تشریقات پڑھی جائیں۔
