تازہ ترین

عبید منظور کی موت کا اصل سبب کیا ہے؟

حقوق کمیشن کا میڈیکل کالج اور صدر اسپتال انتظامیہ کیخلاف نوٹس

12 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

پرویز احمد
سرینگر //بشری حقوق کے ریاستی کمیشن نے فورسز کی گولی سے جان بحق 11ویں جماعت کے طالب علم عبید منظور کے علاج و معالجہ میں مبینہ طور پر معالجین کی لاپرواہی سے متعلق عرضی کا نوٹس لیتے ہوئے پرنسپل میڈیکل کالج سرینگر کے علاوہ میڈیکل سپرانڈنٹ صدر اسپتال سرینگر  کے نام نوٹس جاری کرتے ہوئے14اگست تک مکمل تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ عبید منظور لون کے لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ عبید منظور لون صدر اسپتال سرینگر میں ڈاکٹروں کی لاپرواہی کی وجہ سے مارا گیا ہے۔ عبید کے لواحقین کا کہنا ہے کہ صدر اسپتال میں ڈاکٹروں نے عبید منظور کو فوری طبی امداد دینے کے بجائے مختلف بہانے بناکر وقت ضائع کیا۔ ریاستی انسانی حقوق کمیشن میں عرضی گزار محمد احسن اونتونے اپنی درخواست میں عبید منظور لون کے اہلخانہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عبید منظور کو نادی ہل بارہمولہ میں 25جون کو  بی ایس ایم کی 149ویں بٹالین کی جانب سے طالب علموں پر کی گئی فائرنگ میں زخمی ہوا تھا اور واقعہ کے فوراً بعد عبید کو پہلے ضلع اسپتال بارہمولہ منتقل کیا گیا جہاں سے ڈاکٹروں نے عبید کو اسی دن صدر اسپتال سرینگر منتقل کردیا ۔ ریاستی انسانی حقوق کمیشن مین درخواست جمع کرنے والے محمد احسن انتو نے عبید منظور لون کے بڑے بھائی ندیم منظور کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست میں لکھا ہے کہ صدر اسپتال پہنچنے کے بعد ڈاکٹروں نے عبید کی طرف کوئی توجہ نہیں دی اور تین گھنٹے تک لگاتار خون ضائع ہونے کے بعد صدر اسپتال سرینگر کے ایک جونیئر ڈاکٹر نے عبید منظور لون کو بون اینڈ جوئنٹ اسپتال منتقل کردیا ۔ندیم نے بتایا کہ بون اینڈ جوئنٹ اسپتال میں عبید کی جراحی جونیئر ڈاکٹروں نے انجام دی اور نہیں ایسی کو نس نہیں ملی جہاں سے خون باہر آرہا تھا مگر بعد میں ڈاکٹروں نے ہمیں ایک مرتبہ پھر سے صدر اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا ۔ ندیم منظور نے احسن انتو کے ذریعے دی گئی درخواست میں لکھا ہے کہ صدر اسپتال میں ایک قریبی دوست نے بتایا کہ عبید کے جسم سے خون باہر آنا بند نہیں ہوا ہے جبکہ بعد میں ڈاکٹروں نے عبید کو سکمز صورہ منتقل کیا ۔ ندیم منظور نے لکھا ہے کہ زخمی عبید کو ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال منتقل کرنا اسکی موت کی وجہ بنا ہے۔ ریاستی انسانی حقوق کمیشن میں3جولائی2018کو ریاستی انسانی حقوق کمیشن میں درخواست زیر نمبرSHRC /217/SGR/2018  کے بعد دو بارہ دائر کی گئی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ریاستی انسانی حقوق کمیشن کی ممبر دلشادہ شاہین نے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ صدر اسپتال سرینگر اور جی ایم سی سرینگر کے نام ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں انہیں عبید منظور لون کے موت کی مفصل رپوٹ 14اگست  2018تک جمع کرنے کی ہدایت دی ہے۔