تازہ ترین

آئی لَو یُو۔۔۔پاپا

کہانی

29 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

سہیل سالمؔ
اس دن میں نے خود کو بہت کم زور محسوس کیا کیونکہ تنگ دستی نے میرے گرد گھیرا سخت کردیا تھا اور بیٹا مجھ سے ہفتہ وار جیب خرچ کا تقاضاکررہا تھا۔ پچھلا ہفتہ بہت خرا ب گزرا تھا۔کارخانوں میں کھالوں کی صفائی پر بندش کی وجہ سے کام بند پڑا تھا۔میرا کام بھی ٹھیکے کا تھا۔ یعنی کام جتنا کرلیتا اتنی اجرت مل جاتی ۔کوئی تنخواہ یا لگی بندھی آمدنی نہ تھی۔اگر کام مستقل چلتا تو خرچ کے علاوہ بچت بھی ہوجاتی تھی۔میرا چھوٹا بیٹا پانچ سال کا تھا۔ظاہر ہے وہ ان معاملات کو نہیں سمجھ سکتا مگر بڑا وامق نویں جماعت میں پڑھتا تھا اور دوسرے بچوں کے مقابلے میں ذہین اور سمجھ دار تھا ۔گھر کے حالات اس کے سامنے تھے ۔اس دن جب اس نے معمول کے مطابق اپناہفتہ وار خرچ مانگا تو مجھے حیرت ہوئی بلکہ قدرے دکھ ہو ا کہ میرا سمجھ دار بیٹا گھر کے حالات کومحسوس نہیں کر رہا ۔۔۔میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ وامق بڑا ہو کر میرا دست بازو بنے گا لیکن اس دن مجھے لگا کہ میں اکیلا ہوں اور مرتے دم تک مجھے روزگار کے لئے جدو جہد کرنا پڑے گی۔میں نے ٹھیکیدار سے دو دن پہلے تین ہزار روپے ایڈوانس لئے تھے۔میں نے جیب سے پچاس کا نوٹ نکال کروامق کی طرف بڑھایا تو اس نے ایک دم سے نوٹ لے لیا۔اس کی انکھیں چمکنے لگیں اور وہ بولا :میرے اچھے پاپا‘‘۔۔۔۔۔
’’مجھے پتہ ہے آپ کے پاس کم پیسے ہیں لیکن جب بالکل نہیں ہوں گے تومیں آپ سے پیسے کبھی نہیں مانگوں گا۔۔‘‘۔۔جب تک  میرے پاس ہیں لے لیا کرو۔۔میں نے بے دلی سے کہا۔۔‘‘آنےدنوں میں مشکلات میں مزید اضافہ ہوا کیونکہ ٹھیکیدار خود مالی مشکلات کا شکار تھا اوراس لئے وہ چپکے سے غائب ہوگیا۔اس نے اپناموبائل فون بھی بند کردیا۔۔میرے گھر میں نوبت فاقوں تک آن پہنچی۔۔ کارخانوں میں کام کررہے مجھ جیسے ہزاروں لوگوں کے گھروں میں چولہے ٹھنڈے ہوچکے تھے۔۔۔۔
مزدور طبقہ سڑکوں پر نکل آیا۔۔۔میں بھی اس احتجاج کا حصہ بنا۔۔۔ہم اپنے حق کے لئے مظاہرے کرنے لگے۔۔۔پھر ان مظاہروں میں تشدد ہوا۔۔۔پولیس نے جلوس کو روکنے کی کوشش کی ۔مظاہرین مشتعل ہوئے تو پولیس ان پر ٹوٹ پڑی۔مجھے اس کے بعد صرف بس اتنا یاد ہے کہ میرے سر پر بھاری ڈنڈا پڑا اور میں بے ہوش ہو کر سڑک پر گر پڑا۔
جب مجھے ہوش آیا میں تو اہسپتال میں تھا۔ان مظاہروں کے نتیجے میں مزدور یونین وجود میں آئی تھی۔وہی لوگ میر ا علاج کروارہے تھے۔میرے سرکا زخم  بہت گہرا تھا۔ جنکے علاج کے لئے مجھے ہفتوں اہسپتال میں رہنا تھا۔۔۔میں سوچتا تھا کہ گھر کے اخراجات کس طرح پورے ہو رہے ہونگے۔ڈاکٹروں نے زیادہ ملاقاتوں اور بات چیت سے منع کیا تھا اور گھر والوں سے کہا تھا کہ ایسی کوئی بات نہ کریں جس سے میں پریشان ہوجائوں۔شاید اسی لئے میری بیوی اپنی پریشانیوں کا ذکر مجھے سے نہیں کرتی تھی۔جب تین مہینے بعد مجھے اہسپتال سے فارغ کیاگیا تو میں ایک دوست کے ساتھ گھرآگیا۔ میں اپنے بیوی بچوںکو حیران کرناچاہتا تھا۔
جب گھر میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ میری بیوی گھر کے صحن میں سلائی کی مشین پر کام کر رہی ہے۔ مجھے بہت حیرت ہوئی ۔۔وہ اکثر کہا کرتی تھی کہ مجھے ایک سلائی کی مشین دلوادیں،میں بچوں کے کپڑے سی کے کچھ ایسے کما لوں گی۔۔۔ مگر میں ہمیشہ منع کر دیتا تھا کہ ایک تو اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے کہ مشین خریدی جاسکے اور یہ کہ مجھے یہ بات پسند نہ تھی۔۔اب جب کہ میری بد حالت ہوچلی تھی ۔۔۔تو مجھے اسمیں کوئی غلطی نہ لگی۔ مگر یہ ہوا کیسے؟یہ جانا ضروری تھا۔میرا اچانک آمد اور مکمل صحت یابی میرے گھر والوں کے لئے خوشی کی خبر تھی ۔۔۔باتیں اتنی تھی کہ ختم ہی نہیں ہو پا رہی تھیں۔ایک دفعہ میں نے بیوی سے پوچھا بھی کہ یہ سلائی کی مشین کب اور کیسے لی مگر وہ ٹال گئی۔رات کو کھانے کے بعد میرا بیٹا وامق بے فکری کی نیند سور رہا تھا۔لیکن اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی ۔میں نے سوالیہ انداز میں بیوی کی طرف دیکھا ۔۔وہ بولی ۔۔آپ دیکھ رہے ہیں میرے بچے کو۔۔۔
ہاں ۔۔۔میں نے آہستگی سے کہا ،،مجھے افسوس ہے کہ میں اپنی اولاد کی تو قعات پوری نہ کرسکا ۔یہ اپنے ہفتہ واری خر چے کے لئے توتمہیں بہت تنگ کرتا ہوگا۔۔
’’ نہیں  !میری بیوی نے فخر یہ لہجے میں کہا:’’آپ کے زخمی ہوجانے کے بعد اس نے مجھے بالکل تنگ نہیں کیا بلکہ یہ اپنی عمر سے بڑا اور سمجھ دار نظر آنے لگا۔آپ پوچھ رہے تھے نا کہ میں نے سلائی کی مشین کیسے لی۔۔پیسے وامق نے دیئے تھے‘‘
وامق نے ؟‘‘میرے لہجے میں حیرت تھی ۔’’ہاں!آپ اسے جو جیب خرچ دیتے تھے وہ بالکل خرچ نہیں کرتا تھا۔ اس نے دو سال تک ایک رپیہ بھی خرچ نہیں کیا تھا ۔آخر جب اس نے ساری جمع پونجی میرے سامنے ڈھیر کردی ۔۔تو تب مجھے پتا چلا کہ ہمارا  بچہ کتنا سمجھ دار ہیں۔وہ گھر کے حالات سے باخبر تھا اور چپکے چپکے کسی برے وقت کا مقابلہ کرنے کی تیار ی کر رہا تھا۔میری بیوی بتائے جارہی تھی اور میں ایک عجیب سی کیفیت کا شکار ہو رہا تھا۔میں سمجھتا تھا کہ وامق کو میرے حالات کا اندازہ نہیں ہے، جبکہ درحقیقت وہ میرا دست و بازو بننا چاہتا تھا اور آخر اس نے  اپنی عمر سے بڑھ کر اس بات کو ثابت کردیا تھا۔بیوی نے بتایا اس نے وامق کی جمع پونجی سے مشین لے لی۔۔بازار سے کپڑوں کے ٹکڑے مل گئے، جن سے اس نے بچوں کے کپڑے تیار کرکے فروخت کرنے شروع کردیئے اور اس طرح گھر کی گرز بسر ہونے لگی ہے۔۔۔میری آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے۔۔۔ میں نے آہستگی سے اپنے بیٹے کے ماتھے پر پیار کیا۔واقعی میرا بیٹا میرا ننھا سہارا بن چکا تھا۔ اب میں چاہتی ہوں کہ آپ میرے تیار کردہ کپڑوں کو بازار میں فر وخت کیا کریں۔اپنی صحت یابی کے بعد دونوں باپ بیٹےتیار شدہ کپڑوں کو فر وخت کرنے کے لئے بازار گئے۔کپڑوں کے دس پندر سیٹ فروخت کرنے کے بعد وہ گھر جانے کی تیاری کررہے تھے کہ اچانک بازار میں بم پھٹ گیا۔ گولیاں برسنے لگیں۔ لوگ دونوں طرف سے ہونے والی گولی باری میں پھنس گئے۔وامق نے کپڑوں کی گھٹری اٹھا کر ایک طرف بھاگنے کی کہ گولی اس کے سینے میں پیسوت ہوگئی۔’’وامق زور زور سے چلا نے لگا ۔۔۔پا یا! ابھی آپ کو میرے ننھے سہارے کی ضرورت ۔۔پاپا! میں آپ کو چھوڑ کے نہیں جاسکتا۔۔۔پاپا! آئی لو یو ۔۔آئی لو یو۔۔‘‘
رابطہ:رعناواری سرینگر، نمبر9697330636