تازہ ترین

شادی بیاہ کی تقاریب

رسمِ بد کا طنطنہ ہے اور ہے بدعت کاراج

28 جون 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

عبدالرافع رسول۔۔۔۔ اسلام آباد
  ایک طرف نیک جذبوں کاسیل رواں، تنگ طلبیاں،ستم کے تھپیڑے ،نالہ وفریاد،جوروجبرکے کوڑے ،زخم زخم وجود،آہنی قفس ،جیلیں،بے آبرویاں ،تذلیلیں ،ماریں ، بانام اور بے نام قبریں،آہیں اورسسکیاں،دوسری طرف وادی بھر میں شادیوں کی تقاریب میں اسراف وتبذیر ، رسومات و وفضولیات، نمودو نمائش، ناچ نغمے ، چراغاں و آتش بازیاں ، اختلاط مر د وزن ،اشیائے خوردنی کی ناقدریاں ، جہیزی لین دین جیسی طوفان بدتمیزی ہوںتو انہیں دیکھ کر آدمی کی زبان گنگ اور جگر پاش پاش ہونا فطری ردعمل ہے اور ہرایک باضمیر انسان کااس صورت حال پر انگشت بدنداں ہو جانا قابل فہم ۔سوال یہ ہے کہ آخریہ سب ہے کیا ؟ قوم کی اخلاقی زوال، دین سے بیزاری ،مقدس کاز سے بے گانگی یا فہم وشعور کی کمی اورکھلی جہالت ؟ آ پ یقین کرلیں کہ ایک غریب باپ ان حماقتوں کو خود پر طمانچے کہہ کر کہتا ہے کہ میں یہ سارا کچھ دیکھ کر پچھلے کئی سال سے اپنی جوان سال بیٹیوں سے آنکھیں ہی نہیں ملا پاتا کیونکہ لگتا ہے کہ ان کی آنکھیں مجھے اپنی سڑتی جوانیوں کا واسطہ دیتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔اس کاکہناہے کہ میں نے کئی بار باہر پٹاخوںں کی آواز سن کر اپنی چار چار بیٹیوں کو تکیوں میں اپنا منہ چھپاکر آنسو بہا تے دیکھا ہے۔دونوں انتہائی غریب و نادار باپ خون برساتی آنکھوں کی دھندلی بینائی سے اس ظالم سماج کو تاک رہے ہیں کہ یہ شادی بیاہ کا مرحلہ پار کرنا غریبوں کے لئے کس قدر دشوار بلکہ ناممکن بنارہا ہے ۔سچ یہ ہے کہ کشمیرمیںآج شادی بیاہ کے مواقع پر اسراف و تبذیرکی ایسی وبا پھیلائی جارہی ہے کہ جو معاشرے کی اخلاقی چولیں ہلا رہی ہے۔اگر معاشرے میں اس کے خلاف کوئی ارتعاش پیدانہ ہوتوسمجھ لیجئے کہ یہ تماشہ معاشرے کے لئے موت کاپروانہ ہے جومعاشرے کوفناکرکے ہی دم لے گا۔جب معاشرہ شادی بیاہ کے موقع پر خرافات اور فضولیات میں مبتلا ہوجاتاہے،تو یہ انسانوں کی شکل میں ایک جان لیوا ناسورکی شکل اختیارکر جاتاہے،حالانکہ جس دین کے ہم نام لیواہیں ، وہاں دیگرشعبہ ہائے زندگی کی طرح نکاح اور اس سے متعلقہ امور کے حوالے سے تعلیمات واحکامات واضح ہیں۔ ہمارے لئے دینی رہنمائی میں یہ بات طے ہے کہ سب سے بہتر رشتہ وہی ہوتا ہے جو کم خرچیلاہو ، حق حلال کمائی سے مزین ہو ، سادگی کا نومنہ ہو۔ اس اصول کے تحت جو رشتہ جوڑا جائے وہ پورے معاشرے کے لئے باعث رحمت ہے اورمعاشرے کے ہرفردخواہ مالدارہویامفلوک الحال سب کوزحمت سے نجات دلاتاہے ۔ 
 
آج جس موضوع کومیں نے چن لیااس کی دووجوہ ہیں :اول تمہیدمیں رُلادینے والی داستان ِالم اوردوسرایہ کہ وادی کشمیرمیں موسم خزاں کے شروع ہوچکاہے جس کے ساتھ ہی شہر ودیہات میںشادی بیاہ اور منگنی کی تقریبات اپنے عروج پرپہنچ جاتی ہیں ۔ جب ہم اپنے اردگردنظردوڑاتے ہیں توشادیوں کی تقریبات ہی تقریبات نظر آتی ہیںلیکن ان شادیوں میں بے شمار لایعنی تکلفات ،ناجائز رسومات اورکئی قسم کے گناہ شامل ہوچکے ہیں۔ یہ ایسے گناہ ہیں کہ جو اخروی تباہی و بربادی کے سبب ساتھ دنیوی زندگی بھی اجیرن بنادیتے ہیں۔ ان فضول اورمعصیت کے کاموں کے لیے آدمی کونہ صرف زندگی بھر کی پونجی کو لگادینا پڑجاتی ہے بلکہ دوسروںکامقروض بن کر اپنے آپ کو اور زیادہ مشکلات میں ڈالنا پڑتا ہے۔ جب کوئی اپنے بیٹے یابیٹی کی شادی کے لئے مقروض ہوا، سودی قرضے اور رشوت لینے جیسی لعنتوں میں مبتلا ہواتوپھراس کے گھرمیں جوکچھ پک رہاہے ، وہ کیاہے محتاج وضاحت نہیں۔’’اکھ کھوت گرس بیاکھ کھوت دوسہ‘‘کے مصداق آج کشمیرکے معاشرے میں شادی بیاہ کے تعلق سے دیکھادیکھی میںاور باہم د گر سبقت کیلئے دوڑیں لگ چکی ہیں ،نمود و نمائش اور دکھاوے کا شیطانی طریقہ شرفاء ،عام اورمتوسط طبقے اور غرباء کے لئے سوہان روح ہواہے۔ عروسی لباس کے نام پہ عریانیت خریدی جارہی ہے اور پر تعیش دعوتوں کااہتمام کرکے غریبوں کانوالہ چھیناجارہاہے ۔کیاہمارے معاشرے کے دولت مندوں کو یہ احساس ہے کہ ان کے پاس جوسرمایہ ہے اس میں رب الکریم نے غرباء ومساکین کاحق سرفہرست رکھاہے ؟ نہیں ،اکثر وبیشتر اس بارے میں معاشرے کے ہرفردپرایسی بے حسی طاری ہواور اس قدر غنودد گی چھائی ہوئی کہ لفظوں مین بیان نہیں ہوسکتی ۔
 
یہ دین سے بیزاری کے سوااورکچھ نہیں کہ سمجھایہ جارہاہے کہ کہ اگر ہم نے شادی بیاہ کی تقریب میں’’ کوئی کمی‘‘ چھوڑ دی تو پورے خاندان اور پوری برادری میں ہماری بے عزتی ہو جائے گی، ناک کٹ جائے گی۔آج کی دنیا میں رہنا ہے تو سب اچھی بری رسموں کو نبھانا ہو گا،دنیا سے کٹ کر تو نہیں رہا جا سکتا ،اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہیں بنائی جا سکتی۔عام طور پر شادی بیاہ یا اسی طرح کے ملتے جلتے معاملات میں کسی بھی اچھے سلجھے ہو ئے یا آسان مشورے کے جواب میں  اکثرلوگوں سے کچھ اسی قسم کی باتیں سننے کو ملتی ہیں ۔ کسی بھی گھر میں شادی کی تیاری یا شادی ہو نا طے پائی ہو تو وہاں ایک ہلچل مچ جاتی ہے کہ کیا ایسا کریں کہ خاندان میں واہ واہ ہو جائے۔کسی بھی طرح کہیں کو ئی کمی نہ رہ جائے کہ لوگ باتیں بنائیں ،لوگوں کی ’’باتیں ‘‘ہمارا اصل مسئلہ بن جاتا ہے۔چنانچہ یہی سوچ اور غلط خیال معصیت کے کاموں کی طرف راغب کرتا ہے ۔یہ کتنابڑاالمیہ ہے کہ جس قدر مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے ،اسی قدر لوگوں میں مال وذر کو پانی کی طرح بہانے، دکھاوے کر نے اورتصنع و تکلف کی بیماری میں مبتلا ہونے کا شوق بھی بڑھتا جارہا ہے۔ ہم صرف یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ لو گ باتیں نہ بنائیں ،ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ہمارادین ہماری کیا رہنمائی کرتاہے۔کسی بھی معاشرے میں تبدیلی اس وقت آنا شروع ہو تی ہے جب اس کے افراد تعلیم یافتہ ہوں اور ان میں شعور واخلاقی جرأت کی کمی نہ ہو ، وہ اپنے فرائض کو بخوبی پہچان کر انہیں ادا کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں ۔ ہمارامعاشرہ جتنالکھاپڑھاآج ہے پہلے کبھی نہ تھالیکن افسوس بیداری اورشعور و الے ہو نے کے علی الرغم ہم پڑھے لکھے جاہل بنتے چلے جارہے ہیں۔شادی بیاہ کی تقاریب روایتی حدود کو پھلانگ کر تام جھام ، ڈول تاشے اور نمود و نمائش کی ایسی منزل پر پہنچی ہیں جہاں جھوٹے سماجی مراتب کے اظہار کے لئے بے تحاشہ دولت لٹائی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جو دولت اصراف وتبذیر پر خرچ کی جائے، اس کے حصول کے ذرائع کیا ہوسکتے ہیں؟یہ کہنے کی شاید ضرورت نہیں ایسے گھمبیر حالات میں معاشرے کا وہ طبقہ ، جس کے پاس دولت کمانے کے آسان ذرائع میسر نہیں ہوتے، اپنے معاشرتی مرتبے کو برقرار رکھنے کے لئے قرضوں کے دلدل میں دھنس جاتے ہیں۔شادیوں میں ایک خرابی اور گناہ یہ بھی ہے کہ اس میں حقوق العباد کی رعایت نہیں ہوپاتی۔ ناچ گانا اور آتش بازی کی اس قدر گھن گرج ہوتی ہے کہ دوسروں کا جینا دوبھر ہوجاتا ہے، رات میں لوگوں کی نیند یں حرام ہوجاتی ہے۔بوڑھے، بیمار، بچے اور مجبوروں کا چین و سکون غار ت ہوجاتا ہے۔ جب نکاح کی برکت کم خرچ اور سادگی میں ہے تو امت برکت کیوں نہیں لیتی، کیوں زیادہ خرچ کرکے نام و نمود کرکے برکت سے محروم ہوتی ہے۔ 
 
 اس بیماری کا موثر علاج یہ ہے کہ ہمیں شادی بیاہ میں اسلامی اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنے کے ساتھ فضول رسومات سے بھی احتراز کرنا چاہیے۔کھانے کے مینو کا انتخاب اس قدربے تحاشہ نہ ہوناہے کہ بہت زیادہ پکوان ضایع ہوں ۔ کہتے ہیں کہ وازہ وان میں اب ایک تخمینے کے مطابق 35ڈشیں ہوتی ہیں۔اب ترامیوں پرنقد نوٹ بھی چسپاں ہوتے ہیں۔ نیزشادی کے جوڑے کا انتخاب کرتے ہو ئے یہ خیا ل کریں کہ بہت مہنگا جوڑا نہ خریدیں کیونکہ وہ شادی کے دن کے بعد شاذو نادر ہی پہننے میں آتا ہے ، شرارے غراروں کا انتخاب محض پیسوں کا زیاں ہے۔جوڑا ایسا ہو جو شادی کے بعد بھی بآسانی آپ کے پہناوا بن سکے۔کھانے اورپہننے پراس طرح بے حد و بے حساب خرچ کر نا اسراف ہی نہیں بلکہ انتہائی بے وقوفی بھی ہے۔ اس سے مذہب اسلام میں بھی منع کیا گیا ہے کیونکہ اس سے معاشرے میں صرف فضول خرچی کا کلچر پروان چڑھتا ہے جس کی بھینٹ چڑھ کرکر کتنی ہی لڑکیاں گھروں میں بیٹھی رہ جاتی ہیں اور کتنی لڑکیاں خود کشی کر لیتی ہیں کیونکہ ان کے والدین یا سرپرست ان کے شادی بیاہ کا بھاری بھر کم بوجھ اٹھانے سے قاصر ہوتے ہیں ۔ اس تناظر یہ بھی ایک انتہائی دل شکن حقیقت ہے کہ کشمیری سماج میں گزشتہ کچھ برسوں سے طلاقتیں ، رشتوں کی ناچاقیاں اور جہیزی اموات کا رحجان بڑھ کر پوری انسانیت کے لئے خطرناک ثابت ہو رہاہے۔
 
افسوس صد افسوس آج مسلمان اپنے دین سے دور ہوگئے۔ہندوانہ رسم ورواج کے خوگرہوچکے ہیں۔ غیروں کی طرح ہم نے بھی شادی کو تفریح اور رسم و رواج کا ذریعہ سمجھ لیا۔ اگر کسی کے پاس رقم کم ہے تو وہ شادی میں صرف فلمی گانوں کی ریکارڈنگ پر گزارا کرتا ہے اور جس کے پاس رقم کچھ زیادہ ہے تو وہ شادی کی بے حیائی سے بھرپور تقاریب کی مووی بھی بنواتا ہے اور اس سے زیادہ رقم والا بہت بڑے فنکشن کا اہتمام کرتا ہے جس میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں موسیقی کی دھنوں اور ڈھولک کے شور میں بے ڈھنکے پن سے ناچتے اور گاتے ہیں۔ تماشائی خوب اودھم مچاتے، بے ہودہ فقرے کستے، مزید اس پر ہنستے، قہقہے لگاتے اور زور زور سے تالیاں اور سیٹیاں بجاتے ہیں۔ اس قسم کی حرکتوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ گویا شرم و حیا بالکل ختم ہوچکی ہے۔ ڈھولکیوں کی بھرمار ڈھولکیوں کے نام پراختلاط مردوزن اور پھر رات رات بھر ناچ گانا ہو تا ہے۔سب سے پہلے کسی کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس اختلاط مردوزن سے کس طرح کے نتائج برآمدہوتے ہیں۔دوسرایہ ہے کہ ہمارے شوروغل سے ہمارے محلے دارکس نوعیت کی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ پڑوس میں کون بیمار ہے؟ کون تکلیف میں ہے ؟شادی میں رات بھر کے شور شرابے سے اس کے اوپر کیا گزر رہی ہے؟ کیادین کی کھلی رہنمائی نہیں ہے کہ ایسے اعمالِ قبیحہ اور ضرررساں سرگرمیوں سے گریز کیا جائے؟کچھ ایسے ادارے بھی ہمارے یہاں ہیں جو’’ آسان شادی ‘‘ کامشن چلانے کادعوی ٰ رکھتے ہیں تاکہ بقول ان کے معاشرے میں پائے جانے والی رسومات وبدعات کاقلع قمع ہوجائے مگر عملی طوریہ کام کم اور اپنی تشہیر زیادہ کر تے دکھائی دیتے ہیں ۔
 
 اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اسی معاشرے میں کچھ خاندانوں نے یہ قدم اٹھایا کہ اپنے بیٹوں کے لئے رشتے طے کئے لیکن جہیز کا سختی سے منع کر دیا ۔خود بھی بے جا خرچے سے گریز کیا اور لڑکی والوں کو بھی ان فضول خرچیوں سے منع کیا ۔اس کے علاوہ مہندی مایوں جیسی رسموں میں پیسہ خرچ کرنے کے بجائے نوبیاہتاجوڑے کواولین فہرست میں عمرہ کے لئے بھیجاتاکہ ان کی ازداوجی زندگی کاآغاز دین پرقائم ودائم رہنے سے ہوجائے۔یہ اسلامی شعورکہلاتاہے کہ جو پیسہ بہت محنت اور مشقت سے کمایا جارہا ہے اس کو اس طرح کی فضول رسموں میں لگا کر نہیں اڑایا جا سکتا ۔ ہمارے پاس ایسی قابل تعریف مثالیں ضرور موجود ہیں کہ موقع میسر ہونے پر بعض دین دار لوگ کفایت شعاری اورسادگی کو رواجات ورسومات پر مقدم رکھتے ہیں۔ 2016ء کے ایام پُر آلام میں منعقدہ شادیوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیںکہ ایجی ٹیشن کے بہ سبب شادیوں کی تقاریب کم و بیش سادگی سے انجام دی گئیں کہ تمام حلقوں نے ان پراطمینان کا اظہار کیا تھا لیکن اس سال ایسا کچھ نظر نہیں آتا۔ 
 
اسلام ایک آفاقی نظام حیات ہے جس میں مہد تالحد سے جڑے تمام مسائل کاحقیقت پسندانہ حل موجود ہے ۔ چونکہ انسانی ضروریات میں سے ایک اہم ضرورت نکاح ہے جو بنی نوع انسان کی بنیادی اور فطری ضرورت ہے لیکن ادیان باطل نے اسے صرف گندے رسوم و رواجات اور بے ہودہ تفریحات اک چیستان بناڈالا  ہے ۔اس کے برعکس اسلام نے نکاح اور رشتۂ ازدواج کے احکام کو نہ صرف حقوق الزوجین کی صورت میں بیان کیا ہے بلکہ اسے ایک عبادت اور قرب الہٰی پانے کے درجہ سے بھی سرفراز کیا۔نکاح عربی زبان کا لفظ ہے، اس کے معنی ملانا یا جوڑنا ہے۔ اس کا اصطلاحی مطلب یہ ہے کہ ایک مرد اور عورت جو باہم زوجین بن کر زندگی گزارنے کے لیے تیار ہیں، انہیں اس طرح جوڑ دیا جائے کہ وہ ایک مضبوط بندھن میں بندھ جائیں۔رب الکریم نے اسے ایک ایسا ازلی وابدی تعلق بنایا ہے کہ ایک دوسرے سے بالکل جدا وناآشنا مرد و عورت جو اکثر حالات میں ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہوتے ہیں وہ نکاح کے توسل سے پوری زندگی کے لیے ایک دوسرے کے شریک کار بن جاتے ہیں۔ قرآن انہیں ایک ودسرے کا لباس اور شریعت ایک دوسرے کا وارث بنا دیتی ہے۔ پھر اولاد کا تو ایسا تعلق ہے جو بابا آدم ؑ اور اماں حوا ؑسے لے کر آج تک قائم ودائم ہے اور آخرت میں بھی خدائی عدالت اسی نسبت سے ہی انسان کو پکارے گی۔ نکا ح کرنے والے کے لیے یہ مستحب ہے کہ وہ نکاح کرتے وقت سنت پر عمل اور اپنے دین و ایمان کی حفاظت کی نیت کرے۔علماء ،ائمہ مساجد،رضاکارتنظیموں،صحافیوں اوراہل دانش کی یہ منصبی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اہم ترین معاملے پر ایک ہمہ گیر اصلاحی مہم چلایں تاکہ عوام شادی بیاہ کے تئیں اسلامی معلومات اور سنجیدگی اختیارکریں ۔ ا س وقت اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ ہمارے معاشرے کی انتہائی بد نصیبی ہوگی۔ہمارے حسا س طبقات کواس امرکوخاص موضوعِ بحث بناکرعوام الناس کوارض کشمیرمیں المیوں کی مہیب داستانوں ،ظلم وبربریت کے دریائوں،خون کے سمندروں،ہرسوپھیلے شہداء کے مزاروں،پیلٹ متاثرین کی بے نورآنکھوں،گولیوںسے چھلنی جسموں اور اسیرزندان کا واسطہ دے کر لوگوںکو احساس دلاناہوگاکہ ہمیں کرناکیا چاہیے اورہم کرکیارہے ہیں؟؟؟
 
