تازہ ترین

بے ہنگم افطار پارٹیاں!

عبادت خالص اللہ کے لئے

15 جون 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد ہاشم قادری مصباحی۔۔۔۔ جمشیدپور
  ماہِ رمضان اللہ کی طرف سے مسلمان عالم کے لئے عظیم تحفہ ہے۔ یہ مہینہ فضیلتوں و برکتوں کا ہی نہیں بلکہ انسانی صحت اور احتساب کا بھی آئینہ ہے ۔ طبی و سائنسی نقطہ نظر سے روزوں سے جو انسانی صحت کو فائدے ہیں اس کو دنیا تسلیم کر رہی ہے اور دینی لحاظ سے روزہ انسان کے کردار و عمل کو صالح اور مضبوط کرتاہے اور ایک محتسب کا رول ادا کرتا ہے ۔ روزے کا مقصد کیا ہے وہ کلامِ الٰہی میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے تاکہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔(القرآن ، سورہ البقرہ،آیت ۱۸۳،کنزالایمان)روزہ کا سب سے بڑا مقصد ہے تقویٰ (اللہ کا خوف رکھنا)۔تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حاصل ہونے کے بعد دل کو گناہوں سے جھجھک و شرم معلوم ہواور گناہوں سے بچنے اور نیک باتوں کی طرف اس کی تڑپ پیدا ہواور روزہ کا یہی مقصود ہے کہ انسان کے اندر یہ کیفیت پیدا ہو۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے روزہ کے مقاصد کے تین امورذکر کئے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ طبیعت کو عقل ِ سلیم کا مطیع بنانے کے لئے بسا اوقات عبادت و ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ روزہ اسی ریاضت کا نام ہے ۔ روزہ دار کی طبیعت اطاعت و بندگی کی خوگر بن جاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ گناہوں کے سرزد ہونے کی صورت میں نفس کو سزا دینے کے لئے کنٹرول کرنے کے لئے بھی روزہ ضروری ہوتا ہے ۔شدتِ شہوت کو کم کرنے کے لئے بھی روزہ اکسیر کا حکم رکھتا ہے۔ (حجتہ اللہ البالغہ)ْ۔روزہ کے بے شمار فوائد ہیں۔ اس کی فضیلت و عظمت کا اعلان رب تبارک و تعالیٰ قرآن مجید میں فرمارہا ہے اور شاہِ مدینہ حضور  ﷺ نے بے شمار فوائد اور فضیلت ارشاد فرمائے ہیں۔
 
روزہ اور ماہِ رمضان کی فضیلت : اس کی تشریح نبی اکرم  ﷺ کی اس طویل حدیث پاک سے ہوتی ہے جسے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ  ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! ایک بڑی عظمت والا، بڑی برکت والا مہینہ قریب آگیا ہے، وہ ایسا مہینہ ہے کہ جس کی ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں روزے رکھنا فرض قرار دیا ہے اور اس مہینہ کی راتوں میں قیام (تراویح کو غیر فرض یعنی سنت) کیا، جو شخص اس مہینے میں کوئی ایک نیک کام اپنے دل کی خواہش سے بطور خود کرے گا تو وہ ایسا ہوگا جیسا عام دنوں میں فرض اور جو اس مہینے میں فرض ادا کرے گا تو وہ ایسا ہوگا کہ جیسے رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں کسی نے ستر فرض ادا کئے۔ اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے اور یہ مہینہ حاجت مند بندوں کے ساتھ ہمدردی کا ہے ۔(طویل حدیث سے ماخوذ،بیہقی شعب الایمان، حدیث نمبر ۳۳۲۹)اس حدیث میں تمام چیزیں آگئی ہیں اور تمام فائدے بھی بتا دیئے گئے ہیں اور مقصد بھی واضح ہوگیا۔ روزہ دراصل بندے کو یہ احساس دلاتاہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں دو وقت کی غذا بھی صحیح طور سے میسر نہیں۔ روزہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم ان لوگوں کا خیال کریں ، ان کی مدد کریں۔ آج امت مسلمہ کو شدید ضرورت ہے کہ وہ اپنے اندر خیر خواہی ، ہمدردی کا جذبہ پیدا کریں۔
 
افطار کرانے کے فائدے: اس مہینہ میں روزہ دار کو افطارکرانے والے کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ صحابہؓ میں سے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ  ﷺ ہم میں اس کی استطاعت نہیں تو؟آپ ﷺ  نے فرمایا: ایک کھجور یا پانی سے ہی افطار کرادیا جائے۔ افطار کرنے کرانے کی بہت سی احادیث مبارکہ حدیث کے ذخیرہ میں موجود ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ روزہ دار کو افطار کرایا جائے یعنی مومن جس پر روزہ فرض ہے اور روزہ سے ہے نہ کہ ہر کس و ناکس کو افطار میں بلایا جائے ۔ افطار پارٹیوں کا نیا بے ہنگم سلسلہ چل پڑا ہے۔آج کل محلہ کی افطار پارٹی ہو یا دکانداروں کی یا سیاسی جماعتوں کی پارٹیاں ہوںسب جگہ سب صحیح ہے کے فارمولے پر افطار میں دھڑلے سے تصویر لی جارہی ہیں جو افطار کے تصور سے کوسوں دور عمل ہے۔ روزہ جیسی اہم فرض عبادت کی افطار تصویریں لے کر Facebookپر ڈالی جارہی ہیں ۔کیا اس کا جواز کہیں سے بنتاہے؟اب تو حال یہ ہے کہ تصویر کشی کی حرمت کا تصور بھی ذہنوں سے نکل گیا ہے : چلتے، پھرتے، اٹھتے، بیٹھتے ، شادی کی محفلوںمیں، ٹرینوں میں ، ہوائی اڈوں حتی کہ میت کی بھی تصویریں لئے جا رہے اور شیئر کئے جا رہے ہیں۔ ان بے ہودہ عملیوں کی مخالفت کرنے والا ہی مجرم سمجھا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ایک محدود حصہ کو چھوڑ کر تصویری نمائش کا ہر خاص وعام اسیر ہوچکا ہے۔افطار پارٹیوں میں کھلے عام رواداری کے نام پر غیر مسلم لوگوں کو بھی بلایا جارہا ہے اور اب تو غیر مسلم لوگ اپنے یہاں افطار پارٹی میں بلا رہے ہیں اور’’ اتحاد و محبت‘‘ کا عظیم پلیٹ فارم افطار پارٹیوں کو بتایا جارہا ہے ۔ یہ سراسر ریاکاری ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے یہاں جہاں حرام و حلال کی کوئی تمیز ہی نہ ہو ان کی افطاری سے روزہ کھولنا صیام سے کیا کوئی جوڑ کھاتا ہے ۔ اللہ ہم تمام مسلمانوں کو حلال وطیب کھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں چاہیے کہ دن بھر روزہ رکھ کر افطار صرف اور صرف رزق حلال سے کریں۔کہیںایسا نہ ہو کہ روزہ تو اللہ کے لئے رکھا اور اس کو مشکوک رزق سے افطار کر کے خراب کرڈالا۔ یہ کیساروزہ ہوا؟ یہ عبادت کی روح کا قتل  ہے اور افطار جیسی اہم اور فضیلت والی عبادت کے مقصد کو فوت کرتا ہے ۔ بدقسمتی سے اب گھروں کی افطار پارٹیوں میں تصویریں لی جارہی ہیں اور پھر یہ اپنے یار دوستوں کو دکھا نے کے لئے سوشل میڈیا میں پھیلا ئی جاتی ہیں۔روزہ بھی حج کی طرح بدنی عبادت ہے صرف اور صرف ایمان والوں پر فرض ہے اور اس کی جزویات سحری، نماز،افطارکرناکرواناوغیرہ صرف مسلمانوں کے لئے ہیں، اوورں کااسمیں کو ئی حصہ نہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ: اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کئے گئے۔(القرآن) خدارا عبادت کے معنی و مفہوم کو سمجھئے اور خشوع و خضوع کے ساتھ اس کی رعایت کے ساتھ عبادت کریئے نہ کہ نام ونمود کے لئے جس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔ اخوت و محبت ، رواداری کے لئے دوسرے مواقع کا استعمال کریں۔ افطار جیسی متبرک عبادت کو دکھاوا اور نام و نمود پر قربان نہ کریں۔ روزہ نہایت قیمتی اور بے مثال عبادت ہے۔ اس کا اجر و ثواب بے حساب ہے ۔ حدیث قدسی ہے۔ اللہ فرماتاہے:روزہ میرے لئے اور میں اس کی جزا دوں گا۔(حدیث کا مفہوم)۔اس لئے اس کی حفاظت کرنا بھی انتہا ئی ضروری ہے ۔ روزہ دار کو ایسے تمام امور اور چیزوں سے بچنا چاہئے جن سے اس کا روزہ خراب ہوتاہے اور اس کے اجرو ثواب میں کمی آتی ہے۔  اللہ ہم سب کو ہدایت کی توفیق دے اور خوفِ الٰہی عطا فرمائے۔آمین، ثم آمین!۔
  hhmhashim786@gmail.com