تازہ ترین

مناظرہ بازیاں وحدتِ اُمت کے منافی

تو برائے وصل کردن آمدی

13 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

سید آصف رضا.... ناربل کشمیر

عالم  اسلام عصر رواں میں نہایت ہی پریشان کن اور تشویشناک حالات سے دوچار ہے۔ امت مسلمہ ہر جگہ اغیار اور دشمنوں کی زد میں ہے ۔ فلسطین سے لے کر وطن عزیز تک کلمہ خوان ریشہ دوانیوں اور مار دھاڑ کے تختہ ٔ  مشق ہیں۔ ایک طرف اغیار کی سازشیں ہیں ، دوسری طرف اندرونی اختلافات اورسرپھٹول امت کو پارہ پارہ کرر ہے ہیں ۔اُمت کے فکری ، تہذیبی ، سیاسی ، معاشرتی ،اقصادی اور تعلیمی مسائل کے حل پر کمر کسنے کی بجائے سطحی اور فروعی مسائل میں الجھ کر اپنی توانائیاں ضائع کی جا رہی ہے اور ہر مکتبہ فکر اور جماعت صرف اپنے مسلک اور مشرب کی بالا دستی چاہتی ہے ۔ دین کی اصل بنیادوں کوچھوڑ کر جزئیات کو اصل دین تصور کیاجاتا ہے ، تفرقات اور تکفیر بازیاں بڑے پیمانے پر عام کی جارہی ہے،کوئی کسی کو خاطر میں نہیں لاتا ہے اور نہ ہی ایک دوسرے کو برداشت کیا جا رہا ہے۔ ان حوالوں سے ہمارے وطن عزیز کے حالات دوسرے مسلم ملکوں سے کچھ مختلف نہیں ۔ افوس کہ امت کا حال علامہ کے اس شعر کے عین مطابق ہورہاہے   ؎

وائے ناکامی متاع ِ کارواں جاتا رہا 
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا 
  اسلامی تعلیمات کی روشنی میںصورتِ حال تقاضا کرتی ہے کہ مسلمان اپنے فروعی اختلافات کو بھلا کر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں ۔ مسلمانوں کے درمیان بعض معامالات میں جو کچھ اختلاف رائے اصولی طور صدیوں سے چلا آرہاہے ،اُن کے باوجود ہمارے اکابرین، ائمہ و مجتہدین نے وحدتِ ملت کے مقصد سے ہمیشہ اتحاد و اتفاق کی جوت جگائی۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں حضرت علی و حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما میں بعض اختلافات دکھائی دیتے ہیں بلکہ جنگیں بھی نظر آتی ہیں۔ اس پس منظر ایک کافر حکمران حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پیغام بھیجتا ہے کہ اگر آپ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف فوجی امداد کی ضرورت محسوس تو میں کمک بھیجنے کے لئے تیار ہوں۔ اس کے جواب میں ہمیں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس کافر کو یہ پیغام دیتے ہیں: ’’تم اسلامی سرحد کی طرف دیکھنے کی کوشش بھی نہ کرنا، میں حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کی فوج میں ایک سپاہی کی حیثیت سے تم سے جنگ لڑوں گا۔‘‘ حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ واقعہ کربلا کے بعد (دورِ بنو امیہ میں) اُن دشمنان اسلام کے لئے بد دعا کرتے نظر آتے ہیں جو خلافت اسلامیہ پر حملے کے فراق میں تھے۔ ہم برصغیر کی تاریخ کا یہ زریں باب بھی پڑھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کے خلاف علمائے اہل سنت، علمائے اہل تشیع، علمائے دیوبند اور علمائے اہلحدیث ایک ہی پلیٹ فارم پر زیر قیادت حضرت پیر سید مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ صف آراء ہوئے۔اس طرح کی بے شمار قابل تقلید مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ہمارے یہاں بھی کچھ سال پہلے عیسائیت پھیلانے کے انکشافات کے بعد ایک ’’اتحاد ملت فورم‘‘ بنائی گئی جس میں یہاں کی ساری دینی جماعتیں شامل تھیں۔ایک متفقہ لائحہ عمل بھی مرتب کیا گیا ، پتہ نہیں دینی جماعتوں کے سربراہان نے اپنے اراکین کو اس لائحہ عمل پر عمل پیرا ہونے پر آمادہ بھی کیا کہ نہیں۔ بہر حال کچھ عرصہ سے ہمارے یہاں ایک مخصوص مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے ’’مناظرہ باز‘‘ اپنے مخالف مسلک والوں کو مناظرہ بازی کا چلینج دیتے ہیں۔ یہ جاہل لوگ خود کو برحق سمجھ کر دوسروںکے خلاف منبروں سے یاسوشل میڈیا کے ذریعہ نفرت آمیز اندازِ بیان اور غیر شائستہ زبان میں جنت نشین اکابرین کے خلاف بدزبانی تک کر گزرتے ہیں اور  علمائے اسلام کے خلاف قابل اعتراض اور اشتعال انگیز ریمارکس پاس کر تے ہیں۔ اس تفرقہ بازی سے کیا کچھ حاصل کرنے کی ناپاک کوشش کی جاتی ہے؟ یہ جہلا کس کے خاکوں میں رنگ بھر رہے ہیں؟ یہ احمق پہلے سے ہی مشکلات میں گھری مسلم اُمہ کی وحدت کو پارہ پارہ کر نے پر کیوں تُلے ہوئے ہیں ، شاید اس کا جواب کسی باشعور اور ملت کے درد خواہ مسلمان کے پاس نہیں ۔اگر اس اتحاد دشمنانہ مہم کو جلد از جلد نہ روکا گیا تو آنے والے وقت میں اللہ نہ کرے ہم خانہ جنگی کا شکار ہو سکتے ہیں! ضرورت اس بات کی ہے کہ اُمت کے تمام بہی خواہ اس منفی صورتِ حال کا نوٹس لے کر اس کو بطریق احسن روکنے کا عملی اقدام کریں اور جہلاء ومفسدین کی بے لگام سرگرمیوں کو لگام دیں۔ 
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خیر امت فرما کر عظیم ذمہ داری عطا فرمائی ہے اور وہ ذمہ داری ’’دعوتِ دین‘‘ہے۔ اللہ کے اُن بندوں تک دین حق کو پہنچایا جائے جو ابھی تک اس سے بے خبر ہیں۔آج جب کہ میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کی منفی شبیہ دنیا کے سامنے پیش کی جارہی ہے، اسلام کے ماننے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن وسنت پر عمل پیرا ہوکر اپنے اعمال و کردار سے دین حق کی صحیح تصویر پیش کریں۔ رسول اللہؐ ، اصحاب کرام ؓاور اولیاء کاملینؒ کے سیرت و کردار کا مطالعہ سنجیدگی سے کریں تو وہ ہمیں ہر وقت اور ہرحال میں انسانیت کے علمبردار، دین کے اتحاد پرورداعی اور مخلص وبے لوث انسان بننے کا راستہ دکھائیں گے ۔ اُن کے یہاں نفرت کے بجائے اپنائیت نظر آئے گی، اُن کے پاس ہر کوئی انسان بلا تفریق مذہب و ملت اپنے آپ کو محفوظ پاتا ہے۔ وہ توڑنے کے بجائے جوڑنے کا کام کرتے ہیں ۔جوں جوں ہم اُن کے عظیم مشن سے اور اُن کی تعلیمات سے دور ہوتے گئے ہم دین کے بجائے اپنے مکتب ومسلک اسیر بن کر رہ گئے۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اُمت کو جوڑنے کے بجائے ایک دوسرے سے دُور کیا گیا، فروعی اختلافات کو ایسی ہوا دی گئی کہ ایک دوسرے سے کلام کرنا تو دور سلام کرنا بھی تک ہوااور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے بجائے تشدد ، بغض ،عناد اور حسدکی بھٹیاں گرما دی گئیں۔ائمہ کرام اور اسلاف نے ہمیشہ تفرقہ بازی سے اجتناب کیا جس کی وجہ سے ہماری تاریخ تابناک بنی ۔ حضرت امام اعظم امام ابو حنیفہ ؒ سے کسی شخص نے سوال کیا کہ حضرت علی ؓ اور حضرت امیر معاویہ ؓ کی جنگ کے بارے میـں آپ کی کیا رائے ہے؟ امام اعظم ؒ نے تاریخی جواب فرمایا :’’ بھائی! مجھے تو ان باتوں کا ڈر لگا ہوا ہے جو قیامت میں مجھ سے پوچھی جائیں گی ان واقعات کے بارے میں اللہ تعالیٰ مجھ سے نہیں پوچھے گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ سے سوال کیا ہے ۔‘‘ماضیٔ قریب و بعید میں ہمارے یہاں بھی علمائے کرام میں فقہی اختلافات موجود تھے لیکن عوامی سطح پر ان مسائل کو نہیں چھیڑا گیا۔ انجمن تبلیغ الاسلام جموں و کشمیر کے سابق صدر امیر شریعت علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاری صاحب ؒ سے کسی صاحب نے ایک مخصوص مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے مولانا صاحب کے خلاف حکم ِکفر دینے کی درخواست کی۔ آپؒ نے نہایت عاجزی سے جواب دیا: ’’حکم ِکفر دینے کے لئے علمائے کے پاس جائیں۔‘‘ واضح رہے کہ یہ جواب دینے والے مفسر قرآن اور تقریباً ایک سو پندرہ کتابوں کے مصنّف اور برصغیر کے معروف عالم دین تھے۔لیکن آج کل چند کتابیں پڑھ کر بے دریغ دوسروں کے خلاف کفر کے فتوے صادر کئے جاتے ہیں۔اس تکفیر بازی میں کچھ نادان دوست بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ۔اس طبقہ نے کئی جگہ مناظرانہ ماحول ، طعن و تشنیع اور تکفیر بازی کا ماحول کو گرم کر رکھا ہے ۔یہ منہ پھٹ اب بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا کا سہارا لے کرہے ہیں اپنے فتنہ پرور اور غلیظ ویڈیوز آئے دن منظر عام پر لارہے ہیں ۔ اگر اس طرح کی منفی کارروائیوں سے ہمارے غیر مسلم دوست اسلام سیڈاکٹر امبید کر کی طرح دُور ہوجائیں تو کل قیامت کے روز جب اللہ ان مناظرہ بازوں سے یہ سوال کر ے گا کہ تم لوگوں کو جوڑنے کے لئے مسلمان پیدا ہوئے تھے یا لوگوں کو توڑنے کے لئے تو ان کاکیا جواب ہوگا؟ پھر دونوں مسلموں اور غیر مسلموں کے ہاتھ ہوں گے  اور ان کے گریبان اور اللہ کا گصب اس پر مستزاد۔ اسی نوع کی ایک ویڈیو دیکھنے کاسوئے اتفاق ہوا جس میں میں کسی صاحب کو یہ کہتے ہوئے سنا :’’ صاحب! میں ایک عام مسلمان ہوں اورمیری داڑھی بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی عرض کر رہا ہوں کہ ان ناگفتہ بہ حالات میں، جن میں اس وقت امت مسلمہ گھری ہوئی ہے، ایسا کچھ بھی نہ کریں جس سے یہاں پر فتنہ برپا ہو‘‘ شکر ہے باقی لوگ بھی اس کی تائید کرتے دکھائی دئے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مسلمان مکتبی برتری ، مسلکی عصبیت ، گروہی مفادات اور ذاتی انا پرستی کو بالائے طاق رکھ کر امت مسلمہ کی مجموعی تعمیر و ترقی کے لئے کوشش کریں ،لوگوں کو باہم دگر جوڑیں اور جو کوئی بھی بے اصل اختلافات کو ہو ادے کر مسلمانوں کو کسی بھی نام سے توڑنے کی کوشش کر ے، ا س کا سلیقہ مند طریقے اور امن پسندانہ عمل سے توڑ کریں ۔ اس ضمن میں یہ قرآنی بار بار اعلاناًوردزبان کی جائے : ’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو‘‘(آل عمران : ۱۰۳)
اندازِ بیاں گر چہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مرے بات 
syedasifraza11@gmail.com
9796525191