تازہ ترین

مبینہ طورناجائزتعلقات کاشاخسانہ ،لڑکی کے اہل خانہ کااحتجاجی مظاہرہ

ایم ایل اے اوراس کی اہلیہ بی جے پی کی انضباطی کمیٹی کے روبروپیش

13 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 جموں //بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے ممبراسمبلی آرایس پورہ گگن بھگت جس پرایک سابق فوجی کی بیٹی کومبینہ طور پراغواکرنے کا  الزام ہے ،جموں میں لڑکی کے داداکی قیادت میں کیے گئے احتجاجی مظاہرے کے کچھ ہی گھنٹوںبعدپارٹی کی پارٹی کی ڈسپلنری کمیٹی کے روبروہوئے۔اس سے پہلے بی جے پی کی ڈسپلینری کمیٹی نے مذکورہ ممبراسمبلی کووجہ بتائونوٹس جاری کیاتھا۔واضح رہے کہ 24 جون کولڑکی کے والد راجندرجوکہ سابق فوجی اہلکارہے نے ایک احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بی جے پی کے ایم ایل اے پر پنجاب یونی ورسٹی سے اس کی بیٹی کو اغوا کرنے کا الزام عائدکیا تھا ۔اس نے مزیدبتایاتھاکہ میری بیٹی مناکشی بھگت ،دیش بھگت یونی ورسٹی منڈی گوبند گڑھ پنجاب میں بی اے ایم ایس کے پہلے سال کی طالبہ ہے جبکہ لڑکی اورایم ایل اے نے الزامات کی تردیدکرتے ہوئے کہاتھاکہ یہ سیاسی ساکھ خراب کرنے کیلئے لگائے گئے ہیں۔اسی روزلڑکی نے کہاتھاکہ مجھے اپنے پریوارسے جان سے خطرہ ہے کیونکہ وہ میری مرضی کے خلاف شادی کرواناچاہتے ہیںاوریہ بھی کہاتھاکہ میں آپ کے سامنے ہوں ،مجھے کسی نے اغوانہیں کیااورالزامات بے بنیادہیں۔لڑکی نے مزیدکہاتھاکہ ایم ایل اے ایک اچھے شخص ہیں اورمیرے پریواروالے پی ڈی پی کے حمایتی ہیں اورمیری اس شخص کے ساتھ شادی کرواناچاہتے ہیں جوبارہویں پاس بھی نہیں ہے جبکہ میں بی اے ایم ایس کوررہی ہوں۔قریب ایک ہفتہ بعدیعنی 4جولائی کوبی جے پی کی انضباطی کمیٹی نے ممبر اسمبلی آر ایس پورہ ڈاکٹر گگن بھگت کو ان الزامات کے حوالہ سے صفائی دینے اور لڑکی کے ساتھ مبینہ تعلقات کے بارے میں جواب دائر کرنے کے لئے کہا کیونکہ لڑکی کے باپ جو کہ ایک سابق فوجی ہے ، نے الزام لگایا تھا کہ گگن بھگت نے اس کی بیٹی کو اغوا کر لیا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر ممبر اسمبلی آر ایس پورہ اور لڑکی کے قابل اعتراض فوٹوگردش کرنے لگے تھے۔ گذشتہ روز ممبراسمبلی گگن بھگت سنیل سیٹھی کی صدارت میں بھاجپا کی تین رکنی انضباطی کمیٹی کے روبروہوئے اورالزامات کومستردکرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ مخالفین نے ان کے خلاف یہ سازش رچی ہے ۔اس سے پہلے ممبراسمبلی کے اہلیہ مونیکابھی ڈسپلینری کمیٹی کے سامنے پیش ہوئیں اورکہاکہ تصویریں خود ہی وائرل نہیں ہوگئی ہیں کچھ نہ کچھ سچائی ہے ،اس لیے مجھے اپنے اوربچے اوربچی کیلئے انصاف چاہیئے۔ایم ایل اے نے اہلیہ کے بیان کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ،وہ ایسے بول رہی ہیں جیسے ہماری طلاق ہوچکے ہیں ۔میں اسے ہرمہینے 1لاکھ روپے دیتاہوں ۔حسب سابق بھگت نے کہاکہ میرالڑکی سے تعلق نہیں ہے اورمیںنے پولیس کے سائبرسیل میں تصویریں سوشل میڈیاپروائرل ہونے کی شکایت دائرکردی ہے۔لڑکی کے داداگوری شنکرنے بی جے پی ہیڈکوارٹرکے باہرکچھ دیگرحمایتیوں کے ہمراہ احتجاج کرتے ہوئے ممبراسمبلی کے خلاف کارروائی کامطالبہ کیا۔انہوں نے کہاکہ اگرہمیں انصاف نہیں دیاگیاتوہم وزیراعظم نریندرمودی سے اپیل کریں گے۔انہوں نے الزام لگایاکہ ایم ایل اے نے جان بوجھ کی تصاویروائرل کی ہیں جس کامقصدہمارے پریوارکودبائومیں لانااورشبیہ کومسخ کرناہے۔انہوں نے کہاکہ ہم شرم سے خودکوماردیناچاہتے ہیں ،ہم گھرسے اپنے بچوں کوباہرنہیں بھیج سکتے ہیں کیونکہ سکول میں دیگربچے ان پرفقرے کستے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پولیس نے شکایت درج کرنے کے باوجود،بی جے پی ایم ایل اے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔انہوں نے کہاکہ لڑکی اورایم ایل اے کوعلیحدہ علیحدہ پولیس تحویل میں لیاجائے ،تاہم ایم ایل اے نے الزامات کومستردکرتے ہوئے کہاکہ سچائی سب کے سامنے آئے گی۔